پاک بھارت جنگ 1965ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پاک بھارت جنگ 1965ء
Indo-Pakistani War of 1965
حصہ پاک بھارت جنگیں
India disputed areas map.svg
متنازع علاقے
تاریخ اگست – 23 ستمبر 1965
مقام جنوبی ایشیاء
نتیجہ اقوام متحدہ لازمی جنگ بندی۔[1] کوئی مستقل علاقائی تبدیلیاں نہیں (دیکھیے اعلامیہ تاشقند
متحارب گروہ
Flag of India.svg بھارت Flag of Pakistan.svg پاکستان
سالار ورہنما
Flag of بھارت رادھا کرشنن
(صدر بھارت)
Flag of بھارت لال بہادر شاستری
(وزیر اعظم بھارت)
جویانتو ناتھ چودھری
(چیف آف آرمی سٹاف)
لیفٹیننٹ جنرل ہوبکش سنگھ
(مغربی فوج کمان)
ایئر چیف مارشل ارجن سنگھ
(چیف آف ایئر اسٹاف)
میجر جنرل گر بخش سنگھ
(جی او سی، 15واں انفنٹری ڈویژن)
ایوب خان
(صدر پاکستان)
جنرل محمد موسى خان
(رئیسِ عملۂ پاک فوج)
وائس ایڈمرل سید محمد احسن
(چیف آف نیول اسٹاف)
ایئر مارشل نور خان
(چیف آف ایئر اسٹاف)
میجر جنرل ٹکا خان
(جنرل آفیسر کمانڈنگ، 12واں رجمنٹ آرٹلری)
میجر جنرل اختر حسین ملک
(جنرل آفیسر کمانڈنگ، 12واں انفنٹری ڈویژن )
میجر جنرل افتخار جنجوعہ
بریگیڈیئر جنرل عبدل علی ملک
(24واں آرمی انفینٹری)
کموڈور ایس. یم. انور
(کمانڈر, 25واں بحریہ گروپ)
طاقت
720 ٹینک[2]

628 توپ خانہ[3]

700,000 پیادہ فوج[2]

150 ہوائی جہاز

756 ٹینک[3]

  • 352 پیٹن[3]
  • 308 شرمن[3]
  • 96 چافی[3]

552 توپ خانہ[3]

  • 72x105mm How[3]
  • 234X25pdr[3]
  • 126x155mm How[3]
  • 48x8" How[3]
  • 72x3.7" How[3]
  • POK Lt Btys[3]

260,000 پیادہ فوج[2]

نقصانات
غیر جانبدار دعوے[4][5]
  • 3,000 افراد[4]
  • 150[6]-190 ٹینک[4]
  • 60–75 ہوائی جہاز[4]
  • 540 کلومیٹر2 (210 mi2) کھوئے ہوئے علاقے (بنیادی طور پر رن کچھ)[7][8]

بھارتی دعوے

  • 75 ہوائی جہاز تباہ [9]
  • 322 کلومیٹر2 علاقہ کھو دیا[10]

پاکستانی دعوے

  • 8,200 افراد ہلاک یا گرفتار[10]
  • 110,[11] 113[10] طیارے تباہ
  • 500 ٹینکوں پر قبضہ یا تباہ [10]
  • 2602,[12] 2575 کلومیٹر2[10] فتح
غیر جانبدار دعوے[4]

پاکستانی دعوے

  • 19 ہوائی جہاز تباہ

بھارتی دعوے

  • 5259 افراد ہلاک یا گرفتار [10]
  • 43,[14] 73 طیارے تباہ [10]
  • 471 ٹینک تباہ [10]
  • 1920,[15] 1078 کلومیٹر2 [10] فتح

بھارت اور پاکستان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان ہونے والی یہ پہلی بین الاقوامی جنگ تھی جس میں ایک فریق (بھارت) نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے فریق ثانی(پاکستان) پر جنگ مسلط کی۔ آپریشن جبرالٹر اس کی بنیادی وجہ تھی۔ 17 روزہ اس جنگ میں دونوں فریق اپنی اپنی کامیابی کا دعوی کرتے ہیں۔

جنگ سے پہلے کشیدگی[ترمیم]

تقسیم ہند کے بعد ہی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان خاصی کشیدگیاں رہیں۔ اگرچہ تمام مسائل میں مسئلہ کشمیر سب سے بڑا مسئلہ رہا مگر دوسرے سرحدی تنازعات بھی چلتے رہے مثلا Rann of Kutch کا مسئلہ جس نے 1956ء میں سر اٹھایا۔ رن آف کچھ بھارتی گجرات کا ایک بنجر علاقہ ہے، اس مسئلے کا اختتام بھارت کے متنازع علاقے پر دوبارہ قبضے سے ہوا۔[16] کچھ اخبارات کے مطابق جنوری 1965ء میں پاکستانی سرحدی محافظوں نے بھارتی علاقے میں گشت شروع کر دیا جس کے بعد 8 اپریل 1965 کو دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرحدی پوسٹوں کے اوپر حملے شروع کر دئیے۔[16][17] ابتدا میں دونوں ممالک کی سرحدی پولیس کے درمیان یہ تنازع چلتا رہا مگرجلد ہی دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے آگئیں۔ جون 1965ء میںBritish Prime Minister مسٹر Harold Wilson نے دونوں ممالک کوقائل کر لیا کہ کشیدگی کم کر کے اپنے مسائل ایک ٹریبونل کی مدد سے حل کریں۔ فیصلے کے مطابق جو بعد میں 1968ء میں آیا پاکستان کو رن آف کچھ کا 350 square miles (910 km2) کا علاقہ دیا گیا جبکہ پاکستان نے 3,500 square miles (9,100 km2).[18] کے علاقے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس کے بعد آپریشن جبرالٹر مزید کشیدگی کا باعث بنا۔جس کا پس منظر یہ ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے درگاہ حضرت بل کی بے حرمتی نے کشمیری مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہوا تھا۔ وادی کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارتی پارلیمان میں پیش ہونے والے قانون کی وجہ سے بھی کشمیری مسلمانوں میں شدید اضطراب کی سے کیفیت تھی اور وہ آزادی کے لیے مستعد نظر آتے تھے، کشمیر کی یہ وہ صورتحال تھی جس سے پاکستان نے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ آپریشن جبرالٹر کے نتائج خاصے خطرناک نکلے اور اسی آپریشن کے بطن سے 1965ء کی پاک بھارت جنگ نے جنم لیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "Indo-Pakistani War of 1965". Global Security. http://www.globalsecurity.org/military/world/war/indo-pak_1965.htm.
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 2.3 2.4 2.5 Rakshak، Bharat. "Page 15". Official History. Times of India. http://www.bharat-rakshak.com/LAND-FORCES/Army/History/1965War/PDF/1965Chapter01.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 July 2011.
  3. ^ 3.00 3.01 3.02 3.03 3.04 3.05 3.06 3.07 3.08 3.09 3.10 3.11 3.12 3.13 3.14 3.15 3.16 3.17 SIngh، Lt.Gen Harbaksh (1991). War Despatches. New Delhi: Lancer International. p. 7. ISBN 81-7062-117-8.
  4. ^ 4.0 4.1 4.2 4.3 4.4 4.5 4.6 4.7 Thomas M. Leonard (2006). Encyclopedia of the developing world. Taylor & Francis. pp. 806–. ISBN 978-0-415-97663-3. http://books.google.com/books?id=pWRjGZ9H7hYC&pg=PA806۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 April 2011.
  5. ^ "Indo-Pakistan Wars". archived پر 2009-11-01۔ خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=، you must also specify |archiveurl= . http://www.webcitation.org/query?id=1257038004976878.
  6. ^ Tucker، Spencer (2004). Tanks: An Illustrated History of Their Impact. ABC-CLIO. p. 172. ISBN 978-1-57607-995-9. http://books.google.com/books?id=N481TmqiSiUC&pg=PA172.
  7. ^ 7.0 7.1 Praagh، David. The greater game: India's race with destiny and China. McGill-Queen's Press – MQUP, 2003. ISBN 0-7735-2639-0.
  8. ^ 8.0 8.1 Johnson، Robert. A region in turmoil: South Asian conflicts since 1947. Reaktion Books, 2005. ISBN 1-86189-257-8.
  9. ^ "Official History of IAF in 65 War" (PDF). http://www.bharat-rakshak.com/LAND-FORCES/Army/History/1965War/PDF/1965Chapter09.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-07-27.
  10. ^ 10.0 10.1 10.2 10.3 10.4 10.5 10.6 10.7 10.8 O' Nordeen، Lon (1985). Air Warfare in the Missile Age. Washington, D.C.: Smithsonian Institution Press. pp. 84–87. ISBN 978-0-87474-680-8.
  11. ^ 1965 War: A Different Legacy: ALL THINGS PAKISTAN. Pakistaniat.com (1965-09-06). Retrieved on 2011-04-14.
  12. ^ 1965 War. Pakistan army (2009-09-01). Retrieved on 2011-04-14.
  13. ^ Tucker، Spencer (2004). Tanks: An Illustrated History of Their Impact. p. 172. http://books.google.co.in/books?id=N481TmqiSiUC&pg=PA172&lpg=PA172&dq=pakistan+tank+losses+1965&source=bl&ots=O9UCZHbyUs&sig=-oILZn-csKxRzDXKPkNF3-dGEPY&hl=en&sa=X&ei=rZsOUPWhENHirAfzuIDoBg&ved=0CFUQ6AEwBzgK#v=onepage&q=pakistan%20tank%20losses%201965&f=false.
  14. ^ The Sunday Tribune – Spectrum. Tribuneindia.com. Retrieved on 2011-04-14.
  15. ^ Rakshak، Bharat. "Page 22". Official History. Times of India. http://www.bharat-rakshak.com/LAND-FORCES/Army/History/1965War/PDF/1965Chapter11.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 July 2011.
  16. ^ 16.0 16.1 Brecher، Michael; Wilkenfeld، Jonathan (November 1997). A study of crisis. University of Michigan Press. pp. 171–172. ISBN 978-0-472-10806-0. http://books.google.com/books?id=GjY7aV_6FPwC&pg=PA171۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 November 2011.
  17. ^ Press Trust of India, Islamabad bureau (14 September 2009). "Pak's intrusions on borders triggered 1965 war: Durrani". Times of India. http://timesofindia.indiatimes.com/news/world/Pakistan/Paks-intrusions-on-borders-triggered-1965-war-Durrani/articleshow/5009969.cms۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 November 2011.
  18. ^ Bhushan, Chodarat. "Tulbul, Sir Creek and Siachen: Competitive Methodologies"[مردہ ربط]. South Asian Journal. March 2005, دائرۃ المعارف بریطانیکا and Open Forum – UNIDIR