پاک چین تعلقات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پاکستان–چین
نقشہ مقام پاکستان اور چین

پاکستان

چین
سفارت خانے
چینی سفارتخانہ، اسلام آباد پاکستانی سفارتخانہ، بیجنگ
مندوب
سفیر مسعود خالد سفیر سن ویدونگ

پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات انتہائی اچھے ہیں۔ دونوں ممالک نہ صرف معاشی بلکہ اقتصادی، اسلحہ اور توانائی میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے رہے ہیں۔

پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے اُونچی[ترمیم]

پاک-چین تعلقات کو چینی وزیر اعظم نے یو بیان کی:

اگر چین سے پیار کرتے ہو تو پاکستان سے بھی پیار کرو
لیقی چیانگ،چینی وزیراعظم


اسی طرح وزیر اعظم پاکستان نے بھی کہا:

پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ کی طرح اونچی ہے
وزیراعظم پاکستان

پاکستان اور چین دوستی کا آغاز[ترمیم]

پاکستان 1947ء میں قائداعظم کی قیادت میں آزاد ہوا جبکہ چین 1949ء میں مائوزے تنگ کی عظیم قیادت اور اُن کے لانگ مارچ کے ثمرات کے نتیجہ میں آزاد ہوا۔ 1949ء میں چین کی آزادی کے ساتھ ہی پاکستان اور چین کے تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہونا شروع ہو گئے تھے۔ پاکستان نے چین کی آزادی کو تسلیم کیا۔ یہ پاکستان اور چین کی دوستی کا نقطہ آغاز تھا یا اسے اِس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ پاکستان اور چین کی دوستی کی ابتدا تھی۔

ہندستان اور چین کا سرحدی تنازع[ترمیم]

1962ء میں بھارت اور چین کے سرحدی تنازع کا آغاز ہوا اور دونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ کھڑی ہوئیں اور ہندوستان اور چین میں سرحدی جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ اُس وقت چین عالمی برادری سے کٹا ہوا تھا لیکن پاکستان نے اِس موقع پر چین کا بھرپور ساتھ دیا جس کی وجہ سے چین کی نظر میں پاکستان کا وقار بلند ہوا اور پاکستان اور چین کے تعلقات میں زیادہ بہتری کی طرف گامزن ہونا شروع ہو گئے۔ پاکستان اور چین دوستی کے مضبوط رشتے میں بندھنا شروع ہو گئے۔ اِس موقع پر پاکستان اور چین نے اپنے سرحدی مسائل احسن طریقے سے حل کرلیے اور یہ پاکستان اور چین کی دوستی کا کامیابی کی طرف سفر کا آغاز تھا۔

1965ء کی پاک بھارت جنگ اور چین کا کردار[ترمیم]

1965ء میں پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں چین نے پاکستان کا ہر طرح ساتھ دیا اور پاکستان کی بھرپور مدد کی اور اپنی سچی دوستی کا حق نبھایا اِس جنگ میں چین نے پاکستان کی حمایت میں جو کردار ادا کیا وہ مثالی تھا اور پاکستان اور چین کی دوستی ایک مثالی دوستی میں تبدیل ہو گئی۔

1971ء کی پاک بھارت جنگ اور چین کا کردار[ترمیم]

1971ء میں بھارت اور پاکستان کی تاریخی جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں بھارت نے مشرقی پاکستان میں بنگالی زبان بولنے والوں کا ساتھ دیا جو پاکستان سے آزاد ہونا چاہتے تھے کیونکہ لسانی طور پر شیخ مجیب الرحمٰن کی قیادت میں الگ مملکت کی کوشش شروع کر چکے تھے۔اس کے نتیجے میں دُنیا میں ایک نیا ملک بنگلہ دیش کی صورت میں وجود میں آیا۔ اِس نازک اور مشکل مرحلے پر چین نے ایک بار پھر اپنی دوستی کا حق نبھایا اور پاکستان کی بھرپور مدد کی جس کی وجہ سے پاکستان اور چین ایک دوسرے کے اور قریب آ گئے۔

چین امریکا تعلقات کی بہتری میں پاکستان کا کردار[ترمیم]

جب 1949 میں چین آزاد ہوا تو امریکا اور چین کے تعلقات اتنے بہتر نہیں تھے بلکہ کشیدگی کی طرف مائل تھے لیکن پاکستان کی کئی سالوں پر مشتمل مسلسل کوشش اور مخلصانہ جدوجہد کے نتیجہ میں اُس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے چین کا دورہ کیا۔ اس طرح امریکا اور چین کے تعلقات بہتر ہونا شروع ہو گئے اور چین کا عالمی برادری میں ایک مقام پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ چین کو اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت مل گئی اور چین کو اقوام متحدہ میں ویٹو پاور کا حق مل گیا۔ پاکستان کے اِس کردار کی وجہ سے چین کی نظر میں پاکستان کا وقار بہت بلند ہو گیا۔

اسلحہ سازی اور اٹیم بم اور چین[ترمیم]

چین نے ہر موقع اور ہر مرحلے پر پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی کو نبھایا ہے۔ چین نے سالماتی بم بنانے میں پاکستان کی دُنیا کی تمام مخالفتوں کے باوجود مدد کی۔ اس کے علاوہ چین نے پاکستان میں ٹینک سازی اور طیارہ سازی میں بھرپور مدد کی جس کی وجہ سے پاکستان کی اسلحہ سازی کی صنعت نے بہت ترقی کی اس کے علاوہ چین پاکستان کی مختلف دفاعی منصوبہ جات میں بھرپور مدد کر رہا ہے جس کی وجہ سے چین اور پاکستان کے تعلقات میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے۔

توانائی اور دیگر منصوبہ جات میں چین کی مدد[ترمیم]

چین توانائی اور دیگر بہت سے منصوبہ جات میں جن میں سینڈک کا منصوبہ، گوادر پورٹ کا منصوبہ پاکستان کو ریلوے انجن کی فراہمی اور دیگر بے شمار ایسے منصوبہ جات ہیں جن میں پاکستان کو چین کی بھرپور مدد حاصل ہے جس سے پاکستان اور چین دوستی کے ایک ایسے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔

مثالی دوستی[ترمیم]

پاکستان اور چین دو ایسے ملک ہیں جو دوستی کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ یہ دوستی برسوں پر محیط ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ [1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]