پتنجلی
| پتنجلی | |
|---|---|
![]() | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | بھارت |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | ماہرِ لسانیات ، ریاضی دان ، فلسفی ، مصنف |
| درستی - ترمیم | |
| مضامین بسلسلہ |
| ہندو فلسفہ |
|---|
پتنجلی (سنسکرت: पतञ्जलि؛ جنھیں گونَردِیہ یا گونیکا پتر بھی کہا جاتا ہے)[ا] تاریخ ہند میں ایک یا ایک سے زائد مصنفین، صوفی منش بزرگوں اور فلسفیوں کا نام تھا۔ ان کا نام متعدد سنسکرت تصانیف کے مصنف اور مرتب کی حیثیت سے ملتا ہے۔[3] ان میں سب سے اہم یوگ سوتر ہے، جو یوگا کی ایک کلاسیکی کتاب ہے۔ اس تصنیف کے تجزیے پر مبنی اندازوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مصنف (یا مصنفین) دوسری صدی قبل مسیح اور پانچویں صدی عیسوی کے درمیان گذرے ہوں گے۔[3]
اسی نام کے ایک مصنف کو سنسکرت گرامر (صرف و نحو) کی کلاسیکی کتاب مہابھاشیہ کی تصنیف کا سہرا بھی دیا جاتا ہے، جس کا زمانہ قطعی طور پر دوسری صدی قبل مسیح متعین ہے؛ نیز طب کے بعض متون بھی ان سے منسوب ہیں جو غالباً آٹھویں سے دسویں صدی عیسوی کے ہیں۔[4][5] یہ دونوں تصانیف مہابھاشیہ اور یوگ سوتر موضوع کے اعتبار سے باہم مختلف ہیں اور ماہرِ ہندیات لوئی رینو نے ثابت کیا ہے کہ ان کی زبان، گرامر اور ذخیرۂ الفاظ میں بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔[6] پرمار بھوج (گیارھویں صدی) کے عہد سے قبل ایسا کوئی متن دستیاب نہیں ہے جو ان دونوں مصنفین کی شناخت کو ایک ہی شخصیت میں مدغم کرتا ہو۔[4]
اس بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں کہ آیا رشی پتنجلی ہی ان تمام تصانیف کے مصنف ہیں جو ان سے منسوب ہیں، کیونکہ تاریخ میں اسی نام کے کئی دیگر مصنفین کا ذکر ملتا ہے۔ بیسویں صدی میں اس مصنف یا ان مصنفین کی تاریخی حیثیت اور شناخت کے مسئلے پر بڑی علمی تحقیقات کی گئی ہیں۔[7] مغربی محققین اب عام طور پر اس نظریے کو قبول کرتے ہیں کہ یہ غالباً مختلف مصنفین تھے، لیکن روایتی حلقوں اور یوگا کلچر میں پتنجلی کو (یوگا، گرامر اور طب کی کتابوں) کا تنہا مصنف سمجھا جاتا ہے اور ان حلقوں میں یہ نظریہ اب ایک "بار بار دہرائے جانے والے عقیدے" کی شکل اختیار کر چکا ہے۔[5]
شناخت
[ترمیم]پتنجلی کے نام سے منسوب اہم ترین شخصیات درج ذیل ہیں:[9][10][11]
- مہابھاشیہ کے مصنف: یہ سنسکرت گرامر (صرف و نحو) اور لسانیات پر ایک قدیم اور جامع مقالہ ہے جو پانینی کی "اشٹادھیائی" پر مبنی ہے۔ مغربی اور بھارتی دونوں محققین اس پتنجلی کا دورِ حیات دوسری صدی قبل مسیح کا وسط قرار دیتے ہیں۔[12][13][14][15] اگرچہ پتنجلی نے اس کتاب کو کاتیایَن اور پانینی کی تصنیف کی ایک "بھاشیہ" (شرح) قرار دیا تھا، لیکن بھارتی روایات میں اسے اتنی عزت و تکریم حاصل ہے کہ یہ صرف "مہابھاشیہ" (عظیم شرح) کے نام سے مشہور ہے۔ گنیش سری پاد ہپاریکر کے مطابق قدیم نحوی شارحین میں پیش پیش رہنے والے پتنجلی نے اپنی پوری "مہابھاشیہ" میں تشریح کا اشتقاقی اور جدلیاتی طریقہ اپنایا۔ ان کی یہ کتاب اتنی جاندار، مدلل اور وسیع ہے کہ پچھلے 2000 برسوں سے زائد عرصے سے کلاسیکی سنسکرت کے آخری مستند نحوی کے طور پر پتنجلی کی اتھارٹی تسلیم کی جاتی ہے۔ زبان کی ساخت، قواعد اور فلسفہ سے متعلق ان کے خیالات نے دیگر بھارتی مذاہب مثلاً بدھ مت اور جین مت کے دانش وروں کو بھی متاثر کیا ہے۔[16][17]
- یوگ سوتر کے مرتب: یہ یوگا کے نظریات اور عملی مشقوں پر مبنی تصنیف ہے،[18] اور اس کے مرتب ہندو فلسفے کے مدرسۂ فکر سانکھیہ کے ایک جلیل القدر عالم تھے۔[19][20] ان کے عہد کے بارے میں مختلف اندازے ہیں جو دوسری صدی قبل مسیح سے چوتھی صدی عیسوی تک محیط ہیں، تاہم بیشتر محققین اس مدت کو دوسری اور چوتھی صدی عیسوی کے درمیان محدود کرتے ہیں۔[21][18][22] یوگ سوتر بھارتی روایت کے اہم ترین متون میں سے ایک اور کلاسیکی یوگا کی بنیاد ہے۔[23] یوگا پر لکھی گئی اس تصنیف کا قرونِ وسطیٰ میں سب سے زیادہ (تقریباً چالیس) ہندوستانی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔[24]
- طبی متن "پتنجلا تنتر" کے مصنف: طب و صحت سے متعلق قرونِ وسطیٰ میں لکھی جانے والی بہت سی کتابوں میں اس کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے اور پتنجلی کو سنسکرت کے کئی طبی متون (جیسے "یوگ رتناکر" اور "پدارتھ وگیان") میں طب کا مستند ماہر تسلیم کیا گیا ہے۔[4] ایک چوتھے ہندو عالم کا نام بھی پتنجلی ملتا ہے جو غالباً آٹھویں صدی عیسوی میں گذرے اور انھوں نے چرک سنہتا کی شرح لکھی جسے "چرک ورتیکا" کہا جاتا ہے۔[25] پی وی شرما جیسے بعض جدید بھارتی محققین کے مطابق طب سے وابستہ یہ دونوں پتنجلی ایک ہی شخصیت ہو سکتے ہیں، لیکن وہ "مہابھاشیہ" لکھنے والے پتنجلی سے مکمل طور پر مختلف شخص تھے۔[25]
نام
[ترمیم]مونیر مونیر ولیمز کے مطابق لفظ "پتنجلی" سنسکرت کا ایک اسم مرکب ہے،[27] جو "پتَ" (سنسکرت: पत، "گرنا، اڑنا")[28] اور "اَنج" (अञ्ज्، "اعزاز، جشن، خوبصورت") یا "انجلی" (अञ्जलि، "احترام، ہاتھ جوڑنا") سے مل کر بنا ہے۔[29][30] اس کا مطلب ہے "عقیدت یا احترام سے سرشار"۔
زندگی
[ترمیم]لوئی رینو سمیت کئی محققین نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ یوگا پر لکھنے والے پتنجلی اُس پتنجلی سے مختلف تھے جنھوں نے پانینی کی گرامر کی شرح لکھی تھی۔[6][31] 1914ء میں جیمز ووڈ نے لکھا کہ وہ دونوں ایک ہی شخص تھے۔[32] 1922ء میں سریندر ناتھ داس گپتا نے متعدد دلائل پیش کیے تاکہ عارضی طور پر یہ تجویز دی جا سکے کہ قواعد کی مشہور کتاب اور یوگا متن کے مصنف ایک ہی ہو سکتے ہیں۔[33]
تاہم دو مختلف مصنف ہونے کا نظریہ عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے،[34][5] لیکن بعض مغربی محققین انھیں ایک ہی ہستی گردانتے ہیں۔[35][36]
بھارتی روایت میں بعض کا ماننا ہے کہ ایک ہی پتنجلی نے گرامر، طب اور یوگا پر مقالے لکھے تھے۔ اس نظریے کو پرمار بھوج نے گیارھویں صدی میں یوگ سوتر کی اپنی شرح "راج مارتنڈا" کے آغاز میں ایک شعر کے ذریعے یادگار بنا دیا ہے اور یہی شعر شیوراما کی اٹھارھویں صدی کی کتاب میں بھی ملتا ہے:[37]
योगेन चित्तस्य पदेन वाचां मलं शरीरस्य च वैद्यकेन। योऽपाकरोत्तं प्रवरं मुनीनां पतञ्जलिं प्राञ्जलिरानतोऽस्मि॥
اردو ترجمہ: میں ہاتھ جوڑ کر اس جلیل القدر رشی پتنجلی کے آگے سرِ تسلیم خم کرتا ہوں، جنھوں نے یوگا کے ذریعے ذہن کی، گرامر کے ذریعے کلام کی اور طب کے ذریعے جسم کی آلائشوں کو دور کیا۔
اس روایت پر میولن بِلڈ نے بحث کی ہے[4] اور انھیں اس "نسبتاً بعد کے" خیال کا سراغ پرمار بھوج (11ویں صدی) کے یہاں ملا ہے، جو شاید بھرتری ہری (تقریباً 5ویں صدی) کے ایک شعر سے متاثر تھے جس میں یوگا، طب اور گرامر کے ایک ماہر کا ذکر ہے، تاہم وہاں نام درج نہیں ہے۔ 10ویں صدی سے پہلے کا کوئی بھی معلوم سنسکرت متن یہ نہیں کہتا کہ ایک ہی پتنجلی ان تینوں مقالوں کے مصنف تھے۔[38]
کہا جاتا ہے کہ رشی پتنجلی نے تمل ناڈو، بھارت کے مقام تروپاتور میں واقع برہما پوری شور مندر میں یوگ مراقبہ کے ذریعے سمادھی حاصل کی تھی۔ رشی پتنجلی کی "جیو سمادھی"، جو اب ایک بند مراقبہ ہال ہے، برہما پوری شور مندر کے احاطے میں برہما کے مزار کے قریب دیکھی جا سکتی ہے۔[39]
نحوی روایت
[ترمیم]لسانیاتی اور نحوی روایت میں یہ مانا جاتا ہے کہ پتنجلی دوسری صدی قبل مسیح میں گذرے ہیں۔[40] انھوں نے پانینی کے "سوتروں" کی ایک "مہابھاشیہ" لکھی، جس کی ہیئت ایسی ہے کہ اس میں کاتیایَن کے "ورتِکاؤں" کی شرح کے اقتباسات شامل ہیں۔ سنسکرت گرامر اور لسانیات پر یہ ایک انتہائی اہم اور کلیدی تصنیف ہے۔[12] پتنجلی اور ان کی "مہابھاشیہ" کے زمانے کا تعین مختلف شواہد کے اشتراک سے کیا گیا ہے جن میں موریا سلطنت کا عہد، وہ تاریخی واقعات جن کا ذکر انھوں نے اپنے خیالات کی وضاحت کے لیے بطور مثال کیا، قدیم کلاسیکی سنسکرت متون کی ترتیبِ زمانی جو ان کی تعلیمات کا احترام کرتے ہیں اور قدیم بھارتی ادب میں ان کے متن یا نام کا تذکرہ شامل ہے۔[41][42] تین قدیم ترین نحویوں میں سے پتنجلی کا دورِ حیات (دوسری صدی قبل مسیح کا وسط) مرکزی دھارے کی علمی دنیا میں "کافی حد تک درست" تسلیم کیا جاتا ہے۔[43]
اس کتاب نے بدھ مت کے نحوی ادب کو بھی متاثر کیا،[44] اور بھارت آنے والے سیاحوں کے مشاہدات پر بھی گہرے اثرات چھوڑے۔ مثال کے طور پر چینی زائر یی جنگ تذکرہ کرتے ہیں کہ بھارت میں "مہابھاشیہ" کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور دانش وران اسے تین سال کے عرصے میں سیکھتے ہیں۔[45]
یوگا روایت
[ترمیم]مطالعۂ ذات (سوادھیائے) کی مشق کرو،
تاکہ اپنے منتخب کردہ معبود (اشٹ دیوتا) سے
رابطہ استوار کر سکو۔
یوگا کی روایت میں پتنجلی ایک نہایت ہی معتبر اور محترم نام ہے۔ اس پتنجلی کے علمی مجموعے (oeuvre) میں یوگا کے بارے میں سوتر اور ان سوتروں کی لازمی شرح شامل ہے، جسے بھاشیہ کہا جاتا ہے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ سوتروں اور بھاشیہ کے مصنفین الگ الگ تھے اور شرح کا انتساب ایک "مرتب" (سنسکرت: "ویاس") کی طرف کیا جاتا ہے۔ تاہم فلپ ماس کے مطابق پتنجلی نامی ایک ہی شخص نے یہ سوتر اور بھاشیہ نامی شرح تحریر کی تھی۔[48]
رادھا کرشنن اور مور نے اس متن کو نحوی پتنجلی سے منسوب کیا ہے اور اس کا زمانہ دوسری صدی قبل مسیح متعین کیا ہے، جو موریا سلطنت (185-322 ق م) کا دور تھا۔[49] دوسری طرف فلپ ماس نے سنہ عیسوی کے پہلے ہزارے میں شائع ہونے والی شروحات کے سراغ کی بنیاد پر پتنجلی کے یوگ سوتر کا زمانہ تقریباً 400 عیسوی بتایا ہے۔[18] ایڈون برائنٹ نے یوگ سوتر کے اپنے ترجمے میں بڑے شارحین کا جائزہ لیا ہے۔[50] وہ بیان کرتے ہیں کہ "بیشتر محققین اس متن کا زمانہ عیسوی تقویم کے آغاز کے فوراً بعد (تقریباً پہلی سے دوسری صدی) بتاتے ہیں، لیکن اسے اس سے بھی کئی صدیاں قبل کا قرار دیا جاتا رہا ہے۔"[51] برائنٹ کا نتیجہ ہے کہ "کئی محققین نے یوگ سوتر کا زمانہ چوتھی یا پانچویں صدی عیسوی جتنا بعد کا بتایا ہے، لیکن ان تمام دلائل کو چیلنج کیا گیا ہے" اور پتنجلی اور ان کی کتاب کے لیے اس قدر متاخر ترتیبِ زمانی (Late chronology) مسائل پیدا کرتی ہے۔[52]
تمل شیومت کی روایت
[ترمیم]
پتنجلی کے ابتدائی سالوں کے بارے میں تقریباً 10ویں صدی عیسوی کی تمل شیو سدھانت روایت یہ کہتی ہے کہ پتنجلی نے سات شاگردوں کے ہمراہ عظیم یوگی گرو نندی دیو سے یوگا سیکھا تھا، جیسا کہ تھیرومولر کی تصنیف تھیرومندیرم (تنتر 1) میں بیان کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی سمادھی رامیشورم کے شیو مندر میں ہے اور مندر میں اب بھی ان کی ایک عبادت گاہ موجود ہے۔
Nandhi arulPetra Nadharai Naadinom
Nandhigal Nalvar Siva Yoga MaaMuni
Mandru thozhuda Patañjali Vyakramar
Endrivar Ennodu (Thirumoolar) Enmarumaame
ترجمہ[53]
ہم نے اس خدا کے قدموں کو تلاش کیا جس نے نندی کیشور پر فضل کیا تھا
چار نندی،
شیو یوگا منی، پتنجلی، ویاگھرا پاد اور میں (تھیرومولر)
ہم یہ آٹھ (شاگرد) تھے۔
تصانیف
[ترمیم]
آیا یہ دو تصانیف یوگ سوتر اور مہابھاشیہ ایک ہی مصنف کی تخلیق ہیں یا نہیں، یہ ایک طویل بحث کا موضوع رہا ہے۔ ان دونوں کتابوں کے مصنف کو پہلی بار بھوج دیو کی "راج مارتنڈا" میں ایک ہی شخصیت قرار دیا گیا، جو یوگ سوتر کی دسویں صدی کی ایک نسبتاً متاخر شرح ہے،[54] اور اس کے بعد کی کئی دیگر کتابوں میں بھی یہی دعویٰ ملتا ہے۔ جہاں تک خود ان کتابوں کا تعلق ہے، یوگ سوتر (iii.44) میں ایک سوتر کا حوالہ پتنجلی کے نام سے دیا گیا ہے، لیکن یہ سطر بذاتِ خود "مہابھاشیہ" میں موجود نہیں ہے۔ ایک ہی مصنف ہونے کی یہ دسویں صدی کی روایت مشکوک معلوم ہوتی ہے۔ یوگ سوتر اور مہابھاشیہ کے ادبی اسلوب اور مندرجات مکمل طور پر مختلف ہیں اور طب پر پتنجلی سے منسوب واحد تصنیف اب ناپید ہو چکی ہے۔ شک کی وجہ یہ ہے کہ ان متون کے درمیان باہمی حوالوں (Cross-references) کی کمی ہے اور یہ ایک دوسرے سے لاعلم ہیں، لیکن (بعد کے) سنسکرت مصنفین کی متعدد تصانیف کے معاملے میں یہ وجہ نظر نہیں آتی۔ اس کے علاوہ یوگ سوتر کے کچھ اجزا چوتھی صدی عیسوی جتنے بعد کے ہو سکتے ہیں،[11] لیکن ایسی تبدیلیاں مصنفین کے فرق کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں یا بعد میں ہونے والے اضافوں کا نتیجہ ہو سکتی ہیں جو زبانی روایت میں غیر معمولی نہیں ہیں۔ بیشتر محققین دونوں تصانیف کو "پتنجلی کی تخلیق" قرار دیتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک ہی مصنف مراد لے رہے ہیں۔
مہابھاشیہ اور یوگ سوتر کے علاوہ گیارھویں صدی کے بنگالی عالم چکرپانی دتہ کی چرک کی شرح اور سولھویں صدی کے متن "پتنجلی چرتا" میں پتنجلی سے طب کی ایک کتاب "چرک پرتسنسکرتہ" (جو اب ناپید ہے) منسوب کی گئی ہے، جو بظاہر چرک کے طبی مقالے کی ایک نظرِ ثانی (پرتسنسکرتہ) ہے۔ اگرچہ "چرک سنہتا" (از چرک) نامی طبی کتاب میں یوگا پر ایک مختصر مقالہ موجود ہے (شریراستھانا نامی باب کے آخر میں)، لیکن یہ یوگ سوتر سے زیادہ مشابہت نہیں رکھتا۔ درحقیقت وہاں آٹھ ارکان والے یوگا کی جو شکل پیش کی گئی ہے وہ پتنجلی کے یوگ سوتر اور شرح "یوگ سوتر بھاشیہ" میں بیان کردہ یوگا سے مکمل طور پر مختلف ہے۔
یوگ سوتر
[ترمیم]پتنجلی کے یوگ سوتر یوگا پر مبنی 196 ہندوستانی سوتروں (اقوالِ زریں) کا مجموعہ ہے۔ یہ قرونِ وسطیٰ میں سب سے زیادہ ترجمہ ہونے والا قدیم بھارتی متن تھا، جس کا تقریباً چالیس بھارتی زبانوں اور دو غیر بھارتی زبانوں: قدیم جاوانی اور عربی میں ترجمہ کیا گیا۔[24] یہ متن 12ویں سے 19ویں صدی تک تقریباً 700 سال تک گمنامی میں رہا اور 19ویں صدی کے آخر میں سوامی ویویکانند اور دیگر افراد کی کوششوں سے دوبارہ منظرِ عام پر آیا۔ 20ویں صدی میں ایک کلاسیکی شاہکار کے طور پر اس نے دوبارہ عالمی شہرت اور اہمیت حاصل کی۔[55]
20ویں صدی سے قبل کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہندوستان کے یوگا منظر نامے پر دوسری کتابوں بھگود گیتا، یوگ وششٹھ اور یوگ یاگیہ ولکیہ وغیرہ کا غلبہ تھا۔[56] ماہرین پتنجلی کے یوگ سوتر کی تشکیل کو ہندومت کے کلاسیکی یوگا فلسفے کی بنیادوں میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔[57][58]
مہابھاشیہ
[ترمیم]پانینی کی اشٹادھیائی پر پتنجلی کی مہابھاشیہ ("عظیم شرح")، کاتیایَن کے قدرے قدیم "ورتیک" کے ساتھ، پانینی کی کاوش کی ایک اہم ابتدائی تشریح ہے۔ پتنجلی کا تعلق اس بات سے ہے کہ الفاظ اور معنی کیسے جڑے ہوئے ہیں – پتنجلی کا دعویٰ ہے کہ "شبد پرمان" یعنی الفاظ کی شہادتی قدر ان کے اندر ہی موجود ہوتی ہے اور یہ باہر سے حاصل نہیں کی جاتی[59] – لفظ اور معنی کا تعلق فطری ہے۔ لفظ اور معنی کے تعلق (علامت) کے یہ مسائل سنسکرت کی لسانی روایت میں اگلے پندرہ سو سالوں تک میمانسا، نیائے اور بودھی مکاتبِ فکر کے درمیان ہونے والی بحثوں میں مزید تفصیل سے بیان کیے گئے۔[حوالہ درکار]
اسپھوٹ
[ترمیم]پتنجلی نے "اسپھوٹ" کا ایک ابتدائی تصور بھی پیش کیا، جس کی بعد میں بھرتری ہری جیسے سنسکرت ماہرینِ لسانیات نے وضاحت کی۔ پتنجلی کے ہاں "اسپھوٹ" (لفظی معنی: پھٹنا/نکلنا) کلام کی وہ صفت ہے جو تبدیل نہیں ہوتی۔ شور کا عنصر (دھونی یعنی آواز کا سنائی دینے والا حصہ) لمبا یا چھوٹا ہو سکتا ہے، لیکن اسپھوٹ بولنے والے کے انفرادی فرق سے متاثر نہیں ہوتا۔ چنانچہ ایک حرف یا 'آواز' (ورن) جیسے کہ 'ک'، 'پ' یا 'ا' ایک تجرید (abstraction) ہے، جو اصل ادائیگی میں پیدا ہونے والی مختلف آوازوں سے ممتاز ہے۔[59] اس تصور کو جدید لسانیات کی اصطلاح فونیم (phoneme) سے جوڑا گیا ہے، جو معنی کے فرق کو واضح کرنے والی سب سے چھوٹی صوتی اکائی ہے۔ تاہم بعد کی تحریروں، خاص طور پر بھرتری ہری (6 ویں صدی عیسوی) میں اسپھوٹ کا تصور بدل کر ایک ذہنی کیفیت بن گیا جو اصل ادائیگی سے پہلے پیدا ہوتی ہے، جسے لیما (lemma) کے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
پتنجلی کی تحریروں میں صرفیات (morphology) یعنی "پکیریا" کے کچھ اصولوں کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ پانینی کے مقولوں کی تشریح کے دوران ميں وہ کاتیایَن کی شرح پر بھی بحث کرتے ہیں، جو خود بھی مقولوں اور سوتروں کی طرح مختصر ہے؛ بعد کی روایت میں یہ کاتیایَن کے جملے پتنجلی کی بحث کے اندر ہی شامل ہو کر منتقل ہوئے۔ عام طور پر وہ پانینی کے بہت سے ان موقفوں کا دفاع کرتے ہیں جن کی کاتیایَن نے قدرے مختلف تشریح کی تھی۔
گرامر کے محرک کے طور پر مابعد الطبیعیات
[ترمیم]پانینی کی "اشٹادھیائی" کے برعکس جس کا مقصد درست اور غلط اشکال اور معنی کے درمیان فرق کرنا ہے (شبد انوشاسن)، پتنجلی کے مقاصد زیادہ مابعد الطبیعیاتی ہیں۔ ان میں صحائف کی درست تلاوت (آگم)، متون کی پاکیزگی کو برقرار رکھنا (رکشا)، ابہام کو دور کرنا (اَسندیہ) اور آسان سیکھنے کا طریقہ فراہم کرنے کا تعلیمی مقصد (لگھو) شامل ہیں۔[59] اس مضبوط مابعد الطبیعیاتی رجحان کو بعض محققین نے یوگ سوتر اور مہابھاشیہ کے درمیان ایک مشترکہ بنیاد کی حیثیت سے پیش کیا ہے، لیکن جب ووڈز (Woods) نے سنسکرت کے اصل استعمال کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو زبان یا اصطلاحات میں ایسی کوئی مماثلت نظر نہیں آئی۔
مہابھاشیہ کے متن کو پہلی بار 19 ویں صدی کے مستشرق فرانز کیل ہورن نے تنقیدی طور پر مرتب کیا، جنھوں نے کاتیایَن کے جملوں کو پتنجلی کی تشریح سے الگ کرنے کے لیے لسانیاتی معیار بھی وضع کیے۔ اس کے بعد کئی دیگر ایڈیشن شائع ہوئے، جن میں 1968ء کا ایس ڈی جوشی اور جے ایچ ایف روڈبرگن کا متن اور ترجمہ اکثر حتمی سمجھا جاتا ہے، تاہم بدقسمتی سے یہ کاوش نامکمل ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ پتنجلی نے قدامت پسند برہمنی (آستک) گروہوں اور غیر روایتی ناستک گروہوں (بدھ مت، جین مت اور ملحدین) کے درمیان دشمنی کو نیولا اور سانپ کی دشمنی سے تشبیہ دی تھی۔[60] تاہم ناتھن میک گورن کا استدلال ہے کہ پتنجلی نے کبھی نیولے اور سانپ کی یہ تشبیہ استعمال نہیں کی۔[61]
پتنجلی اپنے عہد کے واقعات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں اور یونانی حملوں اور برصغیر کے شمال مغربی علاقوں میں آباد کئی قبائل کے بارے میں تبصرہ کرتے ہیں۔
پتنجل تنتر
[ترمیم]پتنجلی ایک طبی کتاب کے بھی نامور مصنف ہیں جسے "پتنجلہ" (Patanjalah) کہا جاتا ہے، اسے "پتنجل" (Patanjala) یا "پتنجل تنتر" (पतञ्जलतन्त्र) کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔[4][62] اس متن کے حوالے یوگا اور صحت سے متعلق کئی ہندوستانی تحریروں میں ملتے ہیں۔ متعدد سنسکرت متن جیسے "یوگ رتناکر"، "یوگ رتنا سموچیہ"، "پدارتھ وگیان" اور "چکر دت بھاشیہ" میں پتنجلی کو ایک مستند طبی شخصیت قرار دیا گیا ہے۔[4] ان میں سے کچھ اقتباسات صرف "پتنجلہ" میں ملتے ہیں، لیکن دیگر اقتباسات ہندوؤں کے بڑے طبی رسائل جیسے "چرک سنہتا" اور "سشروتہ سنہیتا" میں بھی پائے جاتے ہیں۔[4]
ایک چوتھے عالم بھی پتنجلی نامی گذرے ہیں، جو غالباً آٹھویں صدی میں رہتے تھے اور انھوں نے "چرک سنہتا" کی ایک شرح لکھی تھی، جسے "چرک وارتک" کہا جاتا ہے۔[25] یہ ممکن ہے کہ طب کے یہ دونوں عالم پتنجلی ایک ہی شخصیت ہوں، لیکن عام طور پر انھیں اس پتنجلی سے بالکل مختلف شخصیت تسلیم کیا جاتا ہے جنھوں نے سنسکرت گرامر کی شاہکار کتاب "مہا بھاشیہ" (महाभाष्य) لکھی تھی۔[25]
وراثت اور اثرات
[ترمیم]جدید دور کے یوگا کے بعض مکاتبِ فکر بشمول "آئینگر یوگا" اور "اشٹانگ ونیاس یوگا" میں پتنجلی کو دعائیہ کلمات اور مندروں کے ذریعے خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔[63][64] یوگا کے ماہرِ تعلیم ڈیوڈ گورڈن وائٹ لکھتے ہیں کہ یوگا کے اساتذہ کی تربیت کے نصاب میں اکثر "یوگا سوتر" (योगसूत्र) کی لازمی تعلیم شامل ہوتی ہے۔[65] گورڈن وائٹ اس امر کو "کم از کم حیران کن" قرار دیتے ہیں،[65] کیونکہ ان کی رائے میں یہ کتاب "آج کے دور میں سکھائے جانے والے اور رائج یوگا" کے لیے بنیادی طور پر غیر متعلق ہے۔[65] وہ مزید تبصرہ کرتے ہیں کہ "یوگ سوتر" نشستوں (postures)، کھچاؤ (stretching) اور سانس لینے کی مشقوں (breathing) کی بحث سے "تقریباً خالی" ہے۔[66]
مزید دیکھیے
[ترمیم]- بھرتری ہری (भर्तृहरि)
- یوگا سوتر (योगसूत्र)
- یوگ وششٹ (योगवासिष्ठ)
- یوگ یاگیہ ولکیہ (योगयाज्ञवल्क्य)
- ویدانگ (वेदाङ्ग)
حواشی
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Monier Williams (1899ء). A Sanskrit–English Dictionary. Oxford: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس.
- ↑ Mahamahopadhyaya Kashinath Vasudev Abhyankar (1961ء). A Dictionary of Sanskrit Grammar. Maharaja Sayajirao University of Baroda.
- 1 2 "Patanjali | Hindu author, mystic, and philosopher | Britannica". Encyclopædia Britannica (بزبان انگریزی). Retrieved 2022-03-26.
- 1 2 3 4 5 6 7 G. Jan Meulenbeld (1999)۔ History of Indian Medical Literature, vol. I part 1۔ Groningen: E. Forsten۔ ص 141–44۔ ISBN:978-9069801247
- 1 2 3 David Gordon White (2014ء)۔ The "Yoga Sutra of Patanjali": A Biography۔ Princeton University Press۔ ص 34–38۔ ISBN:978-1-4008-5005-1
- 1 2 Louis Renou (1940ء)۔ "On the Identity of the Two Patañjalis"۔ در Narendra Nath Law (مدیر)۔ Louis de La Vallée Poussin Memorial Volume۔ Calcutta۔ ص 368–73
{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: مقام بدون ناشر (link) - ↑ V. Raghavan (1968)۔ New Catalogus Catalogorum۔ Madras: University of Madras۔ ج 11۔ ص 89–90
{{حوالہ کتاب}}: نامعلوم پیرامیٹر|مصنفین کی نماش=رد کیا گیا (معاونت) میں "پتنجلی" نام کے دس الگ الگ مصنفین کی فہرست دی گئی ہے۔ - ↑ David Frawley (2014ء)۔ Vedic Yoga:The Path of the Rishi۔ Lotus Press۔ ص 147۔ ISBN:978-0-940676-25-1
- ↑ Ganeri, Jonardon. Artha: Meaning, Oxford University Press 2006, 1.2, p. 12
- ↑ Radhakrishnan, S.; Moore, C.A., (1957). A Source Book in Indian Philosophy. Princeton, New Jersey: Princeton University, ch. XIII, Yoga, p. 453
- 1 2 Flood 1996
- 1 2 Sures Chandra Banerji (1989ء)۔ A Companion to Sanskrit Literature: Spanning a Period of Over Three Thousand Years, Containing Brief Accounts of Authors, Works, Characters, Technical Terms, Geographical Names, Myths, Legends and Several Appendices۔ Motilal Banarsidass۔ ص 233۔ ISBN:978-81-208-0063-2
- ↑ Peter M. Scharf (1996)۔ The Denotation of Generic Terms in Ancient Indian Philosophy: Grammar, Nyāya, and Mīmāṃsā۔ American Philosophical Society۔ ص 1–2۔ ISBN:978-0-87169-863-6
- ↑ George Cardona (1997)۔ Pāṇini: A Survey of Research۔ Motilal Banarsidass۔ ص 267–268۔ ISBN:978-81-208-1494-3
- ↑ "Approximate Chronology of Indian Philosophers"۔ Stanford Encyclopedia of Philosophy۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-02-21
- ↑ Hartmut Scharfe (1977)۔ Grammatical Literature۔ Otto Harrassowitz Verlag۔ ص 152–154۔ ISBN:978-3-447-01706-0
- ↑ Harold G. Coward؛ K. Kunjunni Raja (2015)۔ The Encyclopedia of Indian Philosophies, Volume 5: The Philosophy of the Grammarians۔ Princeton University Press۔ ص 3–11۔ ISBN:978-1-4008-7270-1
- 1 2 3 Philipp A. Maas (2006). Samādhipāda: das erste Kapitel des Pātañjalayogaśāstra zum ersten Mal kritisch ediert (بزبان جرمن). Aachen: Shaker. ISBN:978-3832249878.
- ↑ Dasgupta, Surendranath (1992). A History of Indian Philosophy, Volume 1, p.229 Motilal Banarsidass Publications. ISBN 8120804120
- ↑ Phillips, Stephen H.,(2013). Yoga, Karma, and Rebirth: A Brief History and Philosophy, Columbia University Press. ISBN 0231519478
- ↑ Bryant 2009, pp. xxxiv, 510 with notes 43–44
- ↑ Michele Desmarais (2008), Changing Minds: Mind, Consciousness and Identity in Patanjali's Yoga Sutra, Motilal Banarsidass, ISBN 978-8120833364, pages 16–17 with footnotes
- ↑ Michele Marie Desmarais (2008)۔ Changing Minds : Mind, Consciousness And Identity in Patanjali'S Yoga-Sutra And Cognitive Neuroscience۔ Motilal Banarsidass۔ ص 15–16۔ ISBN:978-81-208-3336-4, Quote: "یوگ سوتر کو ہندوانہ روایت کے اہم ترین متون میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے اور اسے کلاسیکی یوگا کو سمجھنے کے لیے بنیادی اور ناگزیر متن کی حیثیت حاصل ہے۔"۔
- 1 2 White 2014, p. xvi
- 1 2 3 4 G. Jan Meulenbeld (1999)۔ History of Indian Medical Literature, vol. I part 1۔ Groningen: E. Forsten۔ ص 143–144, 196۔ ISBN:978-9069801247
- ↑ Georg Feuerstein۔ "Yoga of the 18 Siddhas by Ganapathy"۔ Traditional Yoga Studies۔ 2019-09-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-03-17
- ↑ Monier Monier Williams, Patañjali, Sanskrit English Dictionary with Etymology, Oxford University Press, page 582
- ↑ Monier Monier Williams, pata, Sanskrit English Dictionary with Etymology, Oxford University Press, pages 580–581
- ↑ Monier Monier Williams, añjali, Sanskrit English Dictionary with Etymology, Oxford University Press, page 11
- ↑ B.K.S. Iyengar (2009)۔ Yoga: Wisdom & Practice۔ Penguin۔ ص 71۔ ISBN:978-0-7566-5953-0
- ↑ P. V. Sharma (1970ء)۔ charak-chintan (Charakasamhita ka aitihasik adhyayan)۔ Varanasi: Caukhamba Samskrit Sansthan۔ ص 23–43; P. V. Sharma (1992ء)۔ History of Medicine in India۔ New Delhi: Indian National Science Academy۔ ص 181–82; Yogendra Kumar Tripathi (1987ء)۔ Nyayasutra evam Charaka-Samhita۔ Varanasi: Trividha Prakashan۔ ص 26–27; James Haughton Woods (1914ء)۔ The Yoga-system of Patanjali: or, the ancient Hindu doctrine of Concentration of Mind Embracing the Mnemonic Rules, called Yoga-sutras, of Patanjali and the Comment, called Yoga-bhashya, attributed to Veda-Vyasa and the Explanation, called Tattvaisharadi, of Vachaspati-mishra۔ Cambridge, Massachusetts: Harvard University Press۔ ص xv–xvii.
- ↑ James Haughton Woods (1914ء)۔ The Yoga-system of Patanjali: or, the ancient Hindu doctrine of Concentration of Mind Embracing the Mnemonic Rules, called Yoga-sutras, of Patanjali and the Comment, called Yoga-bhashya, attributed to Veda-Vyasa and the Explanation, called Tattvaisharadi, of Vachaspati-mishra۔ Cambridge, Massachusetts: Harvard University Press۔ ص introduction
- ↑ Surendranath Dasgupta (1992ء)۔ A History of Indian Philosophy۔ Reprint: Motilal Banarsidass (Original: Cambridge University Press, 1922)۔ ص 230–238۔ ISBN:978-81-208-0412-8
- ↑ James G. Lochtefeld (2002ء)۔ The Illustrated Encyclopedia of Hinduism: N-Z۔ The Rosen Publishing Group۔ ص 506–507۔ ISBN:978-0-8239-3180-4
- ↑ Diane Collinson؛ Kathryn Plant؛ Robert Wilkinson (2013ء)۔ Fifty Eastern Thinkers۔ Routledge۔ ص 81–86۔ ISBN:978-1-134-63151-3
- ↑ Michael Edwards (2013ء)۔ The Oxford Handbook of Civil Society۔ Oxford University Press۔ ص 273–274۔ ISBN:978-0-19-933014-0
- ↑ Patanjali؛ James Haughton Woods (transl.) (1914ء)۔ The Yoga Sutras of Patanjali۔ Published for Harvard University by Ginn & Co.۔ ص xiv–xv
- ↑ Chandramouli S. Naikar (2002ء)۔ Patanjali of Yogasutras۔ Sahitya Akademi۔ ص 13–14۔ ISBN:978-81-260-1285-5
- ↑ "Maharshi Patanjali Siddhar Jeevasamadhi, Brahmapureeswarar temple, Thirupattur, Tamil Nadu"۔ Sannidhi.net۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-11-06
- ↑ Giridhar Mishra (1981ء). "Prastavana" [Introduction]. Adhyatmaramayane'paniniyaprayoganam vimarshah [Deliberation on non-Paninian usages in the Adhyatma Ramayana] (پی ایچ ڈی) (بزبان سنسکرت). Varanasi, India: Sampurnanand Sanskrit University. Archived from the original on 2014-03-11. Retrieved 2013-05-21.
- ↑ Bart Dessein؛ Weijin Teng (2016ء)۔ Text, History, and Philosophy: Abhidharma across Buddhist Scholastic Traditions۔ Brill Academic۔ ص 32–34۔ ISBN:978-90-04-31882-3
- ↑ George Cardona (1997ء)۔ Pāṇini: A Survey of Research۔ Motilal Banarsidass۔ ص 262–268۔ ISBN:978-81-208-1494-3
- ↑ Peter M. Scharf (1996ء)۔ The Denotation of Generic Terms in Ancient Indian Philosophy: Grammar, Nyāya, and Mīmāṃsā۔ American Philosophical Society۔ ص 1 with footnote 2۔ ISBN:978-0-87169-863-6
- ↑ Hartmut Scharfe (1977ء)۔ Grammatical Literature۔ Otto Harrassowitz Verlag۔ ص 163–166, 174–176 with footnotes۔ ISBN:978-3-447-01706-0
- ↑ Hartmut Scharfe (1977ء)۔ Grammatical Literature۔ Otto Harrassowitz Verlag۔ ص 153–154۔ ISBN:978-3-447-01706-0
- ↑ David Carpenter؛ Ian Whicher (2003ء)۔ Yoga: The Indian Tradition۔ Routledge۔ ص 34۔ ISBN:978-1-135-79606-8
- ↑ Stephen Phillips (2009), Yoga, Karma, and Rebirth: A Brief History and Philosophy, Columbia University Press, ISBN 978-0231144858, pages 151, 209, 215, 263
- ↑ Philipp. A. Maas (2006ء)۔ Samādhipāda: das erste Kapitel des Pātañjalayogaśāstra zum بار اول kritisch ediert۔ Aachen: Shaker۔ ISBN:978-3832249878
- ↑ Radhakrishnan & Moore 1957, p. 453
- ↑ Bryant 2009, p. [صفحہ درکار]
- ↑ Bryant 2009, p. xxxiv
- ↑ Bryant 2009, p. 510, notes 43–44
- ↑ Balasubrahmanya (trans.) Natarajan (1979ء). Tirumantiram = Holy hymns : with introduction, synopsis, and notes (بزبان انگریزی). Madras: ITES Publications. OCLC:557998668.
- ↑ The Yoga Sutras of Patanjali, ed. James Haughton Woods, 1914, p. xv
- ↑ White 2014, p. xvi–xvii
- ↑ White 2014, p. xvi–xvii, 20–23
- ↑ Ian Whicher (1998), The Integrity of the Yoga Darsana: A Reconsideration of Classical Yoga, State University of New York Press, ISBN 978-0791438152, page 49
- ↑ Stuart Sarbacker (2011), Yoga Powers (Editor: Knut A. Jacobsen), Brill, ISBN 978-9004212145, page 195
- 1 2 3 The word and the world: India's contribution to the study of language (1990ء)۔ Bimal Krishna Matilal۔ Oxford۔ ISBN:978-0-19-562515-8
- ↑ رومیلا تھاپر (1992ء): Interpreting Early India, Oxford University Press, p. 63
- ↑ Nathan McGovern (2019ء): The Snake and the Mongoose. The Emergence of Identity in Early Indian Religion, Oxford University Press, p. 3
- ↑ Surendranath Dasgupta (1992)۔ A History of Indian Philosophy۔ Reprint: Motilal Banarsidass (Original: Cambridge University Press)۔ ص 231۔ ISBN:978-81-208-0412-8
- ↑ "Invocation to Patanjali"۔ Iyengar Yoga (UK)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-08-31
- ↑ "Sharath Jois"۔ Kpjayi.org۔ 2018-01-10 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-08-31
- 1 2 3 White 2014, p. 1
- ↑ White 2014, p. 4
کتابیات
[ترمیم]- Edwin F. Bryant (2009)، The Yoga Sūtras of Patañjali: A New Edition, Translation and Commentary، New York: North Point Press، ISBN:978-0865477360
- Gavin Flood (1996)۔ An Introduction to Hinduism۔ Cambridge University Press۔ ISBN:978-0-521-43878-0
- Gerald James Larson (1998)۔ Classical Sāṃkhya: An Interpretation of Its History and Meaning۔ London: Motilal Banarasidass۔ ISBN:978-81-208-0503-3
- Gerald James Larson (2008)۔ The Encyclopedia of Indian Philosophies: Vol. 12 Yoga: India's philosophy of meditation۔ Motilal Banarsidass۔ ISBN:978-81-208-3349-4
- S. Radhakrishnan؛ C. A. Moore (1957)۔ A Source Book in Indian Philosophy۔ Princeton, New Jersey: Princeton University Press۔ ISBN:978-0-691-01958-1 پرنسٹن پیپر بیک، بارھواں ایڈیشن، 1989ء۔
- David Gordon White (2011)۔ Yoga, Brief History of an Idea (Chapter 1 of "Yoga in practice") (PDF)۔ Princeton University Press
- David Gordon White (2014)، The Yoga Sutra of Patanjali: A Biography، Princeton University Press، ISBN:978-0691143774
بیرونی روابط
[ترمیم]| ویکی اقتباس میں پتنجلی سے متعلق اقتباسات موجود ہیں۔ |
| ویکی ماخذ میں پتنجلی سے متعلق وسیط موجود ہے۔ |
- پتنجلی کی تصنیفات منصوبہ گوٹنبرگ پر
- انٹرنیٹ آرکائیو پر پتنجلی کی کاوشیں
- لیبری واکس (دائرہ عام صوتی کتب) پر
پتنجلی کی تصنیفات - جیمز فیزر؛ بریڈلی ڈاؤڈن (مدیران)۔ "The Yoga Sutras of Patanjali"۔ انٹرنیٹ دائرۃ المعارف برائے فلسفہ۔ ISSN:2161-0002۔ OCLC:37741658
- مضامین مع بلا حوالہ بیان از جنوری 2017ءء
- انٹرنیٹ آرکائیو کے روابط پر مشتمل مضامین
- انٹرنیٹ انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی کے روابط کے حامل مضامین
- قدیم سنسکرت کے ماہرین نحو
- ہندوستان کے سنسکرت محققین
- فلاسفہ عقل
- سنسکرت زبان کے نام
- یوگا
- ہندوستانی ریاضی دان
- بھارتی فلسفی
- کشمیری شخصیات
- تیسری صدی ق م کے مصنفین
- تیسری صدی ق م کی وفیات
- بھارتی ہندو
- بھارتی لغت نویس
- تیسری صدی ق م کی پیدائشیں
- بھارت کے مذہبی رہنما
- یوگی
- ہندو
- دوسری صدی ق م کی شخصیات
- ہندومت
- بھارتی مصنفین
- ہندو فلاسفہ
- قدیم ہندوستانی مصنفین
- سنسکرت مصنفین
