پتھیر پانچالی
ظاہری ہیئت
| مصنف | ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے |
|---|---|
| اصل عنوان | পথের পাঁচালী |
| مترجم | یونس احمر (1958ء) اقبال کرشن (1991ء) |
| ملک | |
| زبان | بنگالی |
| سلسلہ | بچیتر |
| صنف | بلڈنگزرومان، المیہ، فیملی ڈراما |
| ناشر | رنجن پرکاشالائے، بنگالی سال 1336 |
تاریخ اشاعت | بنگالی سال 1336 (بہ مطابق 1929ء) 1958ء (اردو ترجمہ) 1991ء (اردو ترجمہ) |
| بعد ازاں | اپراجیت |
| ریختہ ای بکس | پتھیر پانچالی |
پتھیر پانچالی (بنگالی: পথের পাঁচালী، یعنی: چھوٹے راستے کا گیت) ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے کا 1929ء میں تحریر کردہ ایک بنگالی ناول ہے جسے 1955ء میں ستیہ جیت رائے نے اسی نام سے فلمایا بھی تھا۔ اسے دیہی بنگال کی زندگی پر مبنی عظیم ترین ادبی تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے۔ سنہ 1991ء میں اقبال کرشن نے اسے پتھیر پانچالی کے عنوان اردو قالب میں ڈھالا۔ اس سے قبل سنہ 1958ء میں یونس احمر ”کھنڈر“ کے عنوان سے اردو میں اس کا ترجمہ کرچکے تھے۔[1]
ناول بنیادی طور پر رائے خاندان کی کہانی بیان کرتا ہے جو ابتدا میں اپنے آبائی گاؤں کی غربت اور فطری سادگی کے ماحول میں زندگی گزارتے ہیں اور بعد ازاں بہتر زندگی کی تلاش میں وارانسی (بنارس) منتقل ہوتے ہیں۔