پتھیر پانچالی (فلم)
| پتھیر پانچالی | |
|---|---|
پتھیر پانچالی کا پوسٹر | |
| ہدایت کار | ستیہ جیت رائے |
| منظر نویس | ستیہ جیت رائے |
| ماخوذ از | پتھیر پانچالی از ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے |
| ستارے | سبیر بنرجی کانو بنرجی کرونا بنرجی اُما داس گپتا چنی بالا دیوی تلسی چکرورتی |
| موسیقی | روی شنکر |
| سنیماگرافی | سبھراتا مترا |
| ایڈیٹر | دولال دت |
پروڈکشن کمپنی | |
| تقسیم کار | اروڑا فلم کارپوریشن (1955ء) ایڈورڈ ہیریسن (1958ء) مرچنٹ آئیوری پروڈکشنز سونی پکچرز کلاسکس (1995ء)[ا] |
تاریخ نمائش |
|
دورانیہ | 112–126 منٹ[ب] |
| ملک | بھارت |
| زبان | بنگالی |
| بجٹ | ₹70،000–1،50،000[پ] (امریکی $ 14،600–31،300)[ت] |
پتھیر پانچالی (بنگلہ: পথের পাঁচালী، یعنی: ”چھوٹی راہ کا گیت“) ستیہ جیت رائے کی ہدایت کاری میں بننے والی سنہ 1955ء کی بنگالی زبان کی ڈرامائی فلم ہے جو ان کی بطور ہدایت کار پہلی فلم تھی۔ یہ فلم ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے کے 1929ء کے مشہور بنگالی ناول پتھیر پانچالی پر مبنی ہے۔ فلم میں مرکزی کرداروں میں سبیر بنرجی، کانو بنرجی، کرُونا بنرجی، اوما داس گپتا اور چُنی بالا دیوی شامل ہیں۔ یہ فلم اپو تَرئی (Apu Trilogy) کی پہلی قسط ہے اور اس میں اپو نامی لڑکے اور اس کی بڑی بہن درگا کے بچپن کے دُکھوں اور دیہی غربت کے کٹھن حالات کو پیش کیا گیا ہے۔ فلم پتھیر پانچالی کو شاہکار کے طور پر سراہا جاتا ہے اور بھارتی سنیما کی تاریخ کی عظیم ترین اور موثر ترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
فلم کو حقیقی مقامات پر محدود بجٹ کے ساتھ فلمایا گیا نیز زیادہ تر اداکار نا تجربہ کار تھے ور فلمی عملہ بھی نو خیز تھا۔ مالی مشکلات کے باعث اس کی تیاری میں وقفے آتے رہے جس کی وجہ سے فلم کی تکمیل تقریباً تین برس میں ہوئی۔ تاہم مغربی بنگال کی حکومت نے 60،000 امریکی ڈالر کے برابر رقم میں فلم خرید کر نہ صرف ستیہ جیت رائے کو قرض سے نکالا بلکہ سنہ 1980ء تک اس فلم سے 700،000 ڈالر منافع بھی حاصل کیا۔ موسیقار روی شنکر نے اس فلم کی موسیقی ترتیب دی جو کلاسیکی ہندوستانی راگوں پر مبنی تھی۔ سُبھراتا مِترا نے فلم کی عکس بندی کی جب کہ تدوین (ایڈیٹنگ) دولال دت نے سر انجام دی۔
یہ فلم 3 مئی 1955ء کو نیویارک کے میوزیم آف ماڈرن آرٹ میں نمائش کے دوران پہلی بار پیش کی گئی اور اسی سال کلکتہ میں جاری کی گئی جہاں اسے بے حد سراہا گیا۔ اس کی ایک خصوصی نمائش میں مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ اور بھارت کے وزیر اعظم بھی شریک ہوئے۔
تنقید نگاروں نے فلم کے حقیقت پسندانہ انداز، انسانی جذبے اور دل کو چھو لینے والی خوبیوں کی تعریف کی ہے گرچہ بعض نے اس کی سست رفتاری کو خامی بھی قرار دیا۔ محققین نے فلم کے شعری انداز، اس کے اطالوی نیورئلزم سے متاثرہ طرز، روز مرہ کی چھوٹی خوشیوں اور غربت کی عکاسی اور ”epiphany of wonder“ جیسے رجحانات پر تبصرہ کیا ہے۔
اپو کی زندگی کی کہانی کے اگلے مراحل کو مزید دو فلموں میں دکھایا گیا ہے جن کا نام اپراجیت (یعنی نا قابلِ شکست، 1956ء) اور اپور سنسار (یعنی اپو کی دنیا – 1959ء) ہے۔ اور یہ دونوں فلمیں بھی ببھوتی بھوشن بندوپادھیائے کے ناول ”اپراجیت“ پر مبنی ہیں۔
پتھیر پانچالی کو بھارتیہ سنیما میں ایک انقلابی موڑ لانے والا قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ان اولین فلموں میں شمار ہوتی ہے جنھوں نے ’سَمانانتر سِنیما‘ (متوازی سنیما) تحریک کی بنیاد رکھی جو حقیقت پسندی اور سماجی سچائی کی حمایت کرتی تھی۔ آزاد بھارت کی وہ پہلی فلم تھی جس نے بین الاقوامی سطح پر نمایاں تنقیدی توجہ حاصل کی۔ سنہ 1955ء میں اس نے قومی اعزاز برائے بہترین فیچر فلم حاصل کیا جب کہ سنہ 1956ء میں کان فلمی میلہ میں اسے ”بہترین انسانی دستاویزی فلم“ (بیسٹ ہیومن ڈاکومنٹ) کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی اس فلم کو کئی اہم اعزازات حاصل ہوئے جنھوں نے ستیہ جیت رائے کو بھارت کے سب سے ممتاز فلم سازوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ یہ فلم اکثر دنیا کی عظیم ترین فلموں کی فہرستوں میں شامل کی جاتی ہے۔
کہانی
[ترمیم]انیس سو دس کے عشرے کے اواخر میں بنگال کے ایک پسماندہ گاؤں نشچندی پور میں ہری ہر رائے نامی ایک پُجاری بمشکل گذر بسر کرتا ہے۔ وہ اگرچہ مندر کا خدمت گزار ہے مگر دل میں ایک شاعر اور تمثیل نگار بننے کا خواب بسائے ہوئے ہے۔ اس کی شریکِ حیات سربجایا نہ صرف اپنے دو بچوں، دُرگا اور اپُو کی پرورش کرتی ہے بلکہ ہری ہَر کی ضعیف العمر کزن اندیر ٹھاکرن کی بھی تیمار داری پر مجبور ہے۔ اندیر جو پیٹ کی ماری ہے اکثر چپکے سے ان کے خالی باورچی خانے سے کچھ نہ کچھ کھا لیتی ہے جس پر سربجایا جلتی کڑھتی ہے۔ دُرگا کو اندیر ٹھاکرُن سے بہت انسیت تھی اور وہ اکثر اُسے آسودہ حال ہمسائے کے باغ سے چُرائے ہوئے پھل لا کر دیتی تھی۔ ایک روز اُس ہمسائے کی بیوی نے دُرگا پر موتیوں کا ایک ہار چُرانے کا الزام عائد کیا (جسے دُرگا نے ردّ کر دیا) اور ساتھ ہی سربجایا پر الزام لگایا کہ وہ دُرگا کی چوری کی عادت کو بڑھاوا دیتی ہے۔
درگا اپنے ننھے بھائی اپو سے بے حد محبت کرتی ہے۔ دونوں بہن بھائی غربت کے باوجود بچپن کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں مگن رہتے ہیں کبھی درختوں تلے بیٹھے، کبھی کسی خانہ بدوش کی سنیما دیکھتے ہوئے، تو کبھی گُڑ بیچنے والے کے پیچھے بھاگتے ہوئے۔ شام کو دور سے آتی ریل گاڑی کی سیٹی کی آواز اُن کے لیے کسی فرحت بخش خواب کی مانند ہوتی۔
مگر اندیر کی موجودگی سے سربجایا کی بے چینی بڑھتی جاتی ہے۔ ایک دن وہ جھنجھلا کر اندیر کو گھر سے نکال دیتی ہے اور اندیر مجبوری میں کسی اور رشتہ دار کے ہاں چلی جاتی ہے۔ کچھ ہی دن بعد جب درگا اور اپو ٹرین دیکھنے گئے ہوتے ہیں، اندیر بیمار ہو کر واپس آتی ہے اور جب بچے لوٹتے ہیں، وہ اُسے مردہ پاتے ہیں۔
گاؤں میں حالات دن بہ دن بگڑتے جا رہے تھے۔ ہری ہر شہر چلا جاتا ہے تاکہ بہتر روزگار تلاش کرے۔ جاتے ہوئے وہ وعدہ کرتا ہے کہ جلد پیسوں کے ساتھ لوٹے گا اور ٹوٹتے بکھرتے گھر کی مرمت کروائے گا۔ مگر وہ تاخیر کر بیٹھتا ہے۔ پیچھے گھر میں فاقہ زدہ خاموشی چھا جاتی ہے۔ سربجایا کے چہرے سے صبر اور دل سے حوصلہ چھننے لگتا ہے۔ ایک روز برسات کے موسم میں درگا بارش میں کھیلتی ہے۔ سردی لگ جاتی ہے اور بخار چڑھتا ہے اور تیز آندھی و بارش کے طوفان میں اس کی حالت بگڑتی چلی جاتی ہے۔ اگلی صبح وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہوتی ہے۔
ہری ہر آخرکار لوٹتا ہے۔ وہ خوشی خوشی اپنے شہر سے لائے ہوئے تحفے نکالتا ہے مگر سربجایا خاموش رہتی ہے۔ پھر اچانک وہ شوہر کے قدموں میں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر روتی ہے۔ ہری ہر کو جیسے بجلی کا جھٹکا لگتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اُس کی بیٹی اُس کی درگا اب نہیں رہی۔ وہ صدمے میں نڈھال ہو جاتا ہے۔ اس غم کے طوفان کے بعد وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ گاؤں چھوڑ کر بنارس چلے جائیں۔ رختِ سفر باندھتے ہوئے اپو کو ایک پرانا ہار ملتا ہے وہی ہار جس پر کبھی درگا پر چوری کا الزام لگا تھا۔ اپو خاموشی سے اُسے اٹھا کر قریبی تالاب میں پھینک دیتا ہے۔
بیل گاڑی پر سوار تینوں اس اجڑے گاؤں سے روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے پیچھے وہ بوسیدہ گھر خالی ہو جاتا ہے اور اس کے ویران آنگن میں ایک سانپ آہستہ آہستہ سرکتا ہوا داخل ہوتا ہے۔
اداکار
[ترمیم]- کانو بنرجی بطور ہری ہر رائے
- کرونا بنرجی بطور سربجایا رائے
- سبیر بینرجی بطور اپورب ”اپو“ رائے
- رُنکی بنرجی بطور درگا رائے (طفل)
- اُما داس گپتا بطور درگا رائے (نو عمر)
- چنی بالا دیوی بطور اندیر ٹھاکرن (بوڑھی پھوپھی)
- تُلسی چکرورتی بطور پرسنّا (اسکول استانی)
- ہرن بینرجی بطور چِنی باس (مٹھائی فروش)
حواشی
[ترمیم]- ↑ اروڑا فلم کارپوریشن فلم کی تقسیم کار تھی جیسا کہ فلم کے صلوں میں ظاہر کیا گیا ہے۔ میوزیم آف ماڈرن آرٹ (MoMA) اور تقسیم کار ایڈورڈ ہیریسن نے MoMA میں فلم کی نمائش اور بعد ازاں امریکا میں اس کی ریلیز میں اہم کردار ادا کیا۔[1](Bee, Hellczer & McFadden 2013, p. 204) A DVD review in dvdbeaver.com listed Artificial Eye Entertainment as the distributor of Region 2 and Columbia Tri-Star as the distributor of Region 1 format DVDs.[2]
- ↑ Different sources identify different running times for the film. A Museum of Modern Art anthology states 112 minutes.(Bee, Hellczer & McFadden 2013, p. 204) An LA Weekly notice states 115 minutes.[3] Stuart Jeffries of The Guardian states 125 minutes in a 2010 report.[4] Rovi Hal Erickson of The New York Times states 126 minutes in a review summary in NYT Critics' Pick.[5] In 2005 Doug Pratt states 125 minutes but mentions that most references list the running time at about 10 minutes less than that. (Pratt 2005, p. 908) The British Board of Film Classification lists separate running times for film (110 minutes 55 seconds) and video (119 minutes 31 seconds) versions.[6]
- ↑ Satyajit Ray wrote in My Years with Apu: A Memoir (1994) that the budget was ₹70,000, (Ray 1996, p. 36) and the loan from the government of West Bengal was ₹70,000. (Ray 1996, p. 60) During an interview in 1970, in reply to the question "How much did the production of Pather Panchali cost in all, if you count in the value of the rupee today?", Ray said, "In those days it cost a little over ₹150,000, whereas an average film now costs twice that much." (Isaksson 2007, p. 40)
- ↑ The exchange rate in 1955 was ₹4.79 per 1 US dollar (US$). (Kalra 2012, p. 408)
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Chandak Sengoopta (16 Nov 2009). "Apu-In-The-Word". Outlook (بزبان انگریزی). p. 2/5. Archived from the original on 2014-04-24. Retrieved 2014-04-22.
- ↑
- ↑ "Pather Panchali". LA Weekly (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2013-12-03. Retrieved 2013-12-02.
- ↑ Stuart Jeffries (19 Oct 2010). "Pather Panchali: No 12 best arthouse film of all time". The Guardian (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2013-10-17. Retrieved 2013-12-02.
- ↑
- ↑ "Pather Panchali (1957)" (بزبان انگریزی). British Board of Film Classification. Archived from the original on 2014-04-27. Retrieved 2014-04-21.
- 1955ء کی فلمیں
- 1950ء کی دہائی کی ڈراما فلمیں
- بنگالی زبان کی فلمیں
- بھارتی آرٹ فلمیں
- بھارتی رزمیہ فلمیں
- بھارتی سیاہ و سفید فلمیں
- بھارتی فلمیں
- بھارتی ڈراما فلمیں
- بھارت میں غربت کے بارے میں فلمیں
- 1955ء کی ڈراما فلمیں
- ہندوستان میں سیٹ فلمیں
- بھارتی ناولوں پر مبنی فلمیں
- ستیہ جیت رائے کی ہدایت کاری میں بننے والی فلمیں
- بنگالی زبان کی بھارتی فلمیں
- بافٹا فاتحین (فلمیں)
- ایشیائی سنیما بلحاظ ملک
- کان فلم فیسٹیول
- مغربی بنگال میں ہونے والے واقعات پر فلمیں
- 1920ء کی دہائی میں سیٹ فلمیں
- مغربی بنگال میں عکس بند فلمیں
- ڈراما فلمیں
- سیاہ و سفید فلمیں
- کتابوں پر مبنی فلمیں