پرتاپ سنگھ، ستارا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پرتاپ سنگھ
پرتاپ سنگھ
Pratap Singh of Satara.png
پرتاپ سنگھ
Flag of the Maratha Empire.svg مرہٹہ سلطنت کے آٹھویں چھترپتی
معیاد عہدہ 3 مئی 1808 – 5 ستمبر 1839
پیشرو شاہو دوم
جانشین شاہ جی
خاندان بھوسلے
والد ستارا کا شاہو دوم
والدہ گرجا بائی راجے بھوسلے
پیدائش 18 جنوری 1793
قلعہ اجنکیتارا، ستارا ضلع، مرہٹہ سلطنت
وفات 14 اکتوبر 1847(عمر 54)
وارانسی، ریاست بنارس
مذہب ہندو مت

پرتاپ سنگھ بھوسلے (18 جنوری 1793ء – 14 اکتوبر 1847ء) مرہٹہ سلطنت، ستارا کے برائے نام حکمران تھے۔ سنہ 1808ء سے 1819ء تک حکمران رہے لیکن اصل اختیارات 1839ء تک پیشواؤں اور راجا ستارا کے پاس رہے اور بعد ازاں برطانویوں نے انہیں معزول کر دیا۔[1] پرتاپ سنگھ مرہٹہ سلطنت کے بانی چھترپتی شیواجی بھوسلے کی اولاد میں سے تھے اور ستارا کے شاہو دوم کے بڑے بیٹے تھے، اپنے والد کے بعد تخت پر بیٹھے۔[1]

کار ہائے نمایاں[ترمیم]

پرتاپ سنگھ نے پونہ ستارا شاہراہ بنائی اور رجواڑہ کے نام سے ایک نیا محل تعمیر کروایا جو آخری 150 برس تک دربار کے طور پر استعمال ہوتا رہا (اور اب چھترپتی ادین راجے بھوسلے کی ملکیت میں ہے)۔ اسی رجواڑے میں سنہ 1851ء میں اسکول شروع ہوا جس کا نام پرتاپ سنگھ ہائی اسکول تھا۔ اسی اسکول میں چوتھی جماعت تک بابا صاحب امبیڈکر نے تعلیم حاصل کی۔ نیز پرتاپ سنگھ نے ستارا میں ایک کتب خانہ بھی بنوایا تھا جسے 1851ء میں ان کی بیوی نے عوامی کر دیا۔ اس لائبریری کا نام چھترپتی پرتاپ سنگھ مہاراج نگر واچنالیہ ستارا ہے اور نگر واچنالیہ کے نام سے مشہور ہے۔

اسی طرح انہوں نے ستارا، میدھا، مہابلیشور شاہراہ تعمیر کروائی۔ مہابلیشور میں جو برطانویوں کی سیاحت گاہ تھا میلکم پیٹھ بنوایا اور اس کا نام اس وقت کے گورنر بمبئی کے نام پر رکھا۔ نیز انہوں نے انگریزی، فارسی، مراٹھی اور سنسکرت کی تعلیم کے لیے ستارا میں دو اسکول قائم کیے۔

جدید ستارا کی تعمیر بھی پرتاپ سنگھ کا کارنامہ ہے۔ رنگ محل جل کر خاکستر ہو گیا تھا تو انہوں نے اپنے اور اپنے اہل خاندان کی سکونت کے لیے جل مندر کے نام سے ایک محل تعمیر کروایا جہاں آج ادین راجے بھوسلے قیام پزیر ہیں۔ 1839ء میں انہیں معزول کرکے ان کے املاک سے محروم کر اور بنارس جلاوطن کر دیا گیا تھا جہاں گزارے کے لیے انہیں بھتا دیا جاتا۔ ان کے ایک وفادار رنگو باپوجی گپتے نے ان کے لیے سخت قانونی لڑائیاں لڑیں حتیٰ کہ لندن تک پہنچ گئے لیکن سب بے سود ثابت ہوئیں۔

پرتاپ سنگھ کے بعد ان کے بھائی اپا صاحب جانشین ہوئے اور شریمانت مہاراج راجا چھترپتی ستارا کا لقب اختیار کیا۔ اپا صاحب راجا شاہ جی کے نام سے بھی معروف تھے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Sumitra Kulkarni۔ The Satara Raj, 1818–1848: A Study in History, Administration, and Culture۔ Mittal Publications۔ صفحات 21–24۔ آئی ایس بی این 978-8-17099-581-4۔

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • Veena Naregal۔ "The Mutiny in Western India: The 'Marginal' as Regional Dynamic"۔ بہ Crispin Bates۔ Mutiny at the Margins: New Perspectives on the Indian Uprising of 1857۔ SAGE Publications India۔ صفحات 169–188۔ آئی ایس بی این 978-8-13211-336-2۔
ماقبل 
شاہو دوم
مرہٹہ سلطنت کا چھترپتی
1808–1819
مابعد 
اختتام
ماقبل 
شاہو دوم
ستارا کا راجا
1808–1839
مابعد 
شاہ جی