مندرجات کا رخ کریں

پرتیہ بھگیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

پرتیہ بھگیا[1] (سنسکرت: प्रत्यभिज्ञा، نقل حرفی: پَرَتْیَ بِھگّیا، معنیٰ: دوبارہ پہچاننا) کشمیری شیو مت کا ایک مثالی، وحدت الوجودی اور خدا پرست فلسفیانہ دبستان ہے جس کا آغاز نویں صدی عیسوی میں ہوا۔[2] دبستان کا نام خود اسی دبستان کی مشہور ترین تصنیف "ایشور پرتیہ بِھگیا کارِکا" (ईश्वरप्रत्यभिज्ञाकारिका) سے ماخوذ ہے جسے اتپل دیو نے مرتب کیا تھا۔[3]

اس فلسفے کا مرکزی مقدمہ یہ ہے کہ ہم دراصل "شیو" ہیں اور ہمیں محض اس حقیقت کو "دوبارہ پہچاننا" ہے۔[4] اس طرح ایک غلام ("پشو": انسانی حالت) اپنی زنجیروں ("پاش") کو توڑ کر آقا ("پتی": الوہی حالت) بن جاتا ہے۔[3]

وجہ تسمیہ

[ترمیم]

اس دبستان کا نام "ایشور پرتیہ بھگیا کارِکا" سے ماخوذ ہے، جسے اتپل دیو نے تحریر کیا تھا۔[3] لغوی اعتبار سے "پرتیہ بھگیا" تین اجزا سے مل کر بنا ہے: "پرتی" (دوبارہ یا باز)، "ابھی" (قریب سے یا گہرائی سے)، "گیا" (جاننا)، لہٰذا اس کے معنی "اپنی ذات کی براہ راست معرفت" یا "دوبارہ پہچاننے" کے ہیں۔[5][4]

ہندوستان کے بقیہ خطوں میں کشمیری شیو مت کے پورے فلسفے کو بسا اوقات "پرتیہ بھگیا شاستر" کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ ابھینوگپت نے لفظ تریکا کو کشمیری شیو مت کے پورے فلسفہ کو بیان کرنے یا پرتیہ بھگیا نظام کے لیے استعمال کیا تھا۔[2]

تاریخ

[ترمیم]

نویں اور گیارھویں صدی عیسوی کے درمیانی عہد میں "پرتیہ بھگیا" نظام نے غیر معمولی فکری و علمی ترقی کی،[6] اور اس عہد میں اساتذہ اور تلامذہ کے ایک ایسے تسلسل نے جنم لیا جنھوں نے مابعد الطبیعیاتی مقالات اور وجدانی و صوفیانہ شاعری کے شاہکار تخلیق کیے۔

سوم آنند (875ء–925ء) نے "شیو درشٹی" تصنیف کی جسے "ترِکا" روایت کی پہلی باقاعدہ علمی و فلسفیانہ تالیف تسلیم کیا جاتا ہے۔[7] ان کے شاگرد اتپل دیو (900ء–950ء)[8] نے "ایشور پرتیہ بھگیا کارِکا" کے نام سے "شیو درشٹی" کی شرح تحریر کی۔[9][3] یہ ایک ایسا عالمانہ رسالہ ہے جس میں اس مکتبِ فکر کے بنیادی عقائد پر بحث کی گئی ہے اور اس کا موازنہ حریف دبستانوں سے کرتے ہوئے "بدھ منطق" کے اسلوب میں ان کے اختلافات کا تجزیہ اور ابطال کیا گیا ہے۔

اتپل دیو کے پوت شاگرد ابھینوگپت اس دبستان کے دوسرے سب سے زیادہ بااثر شارح مانے جاتے ہیں۔[7] انھوں نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف "تنترلوک" میں کشمیری شیو مت کے مختلف سلسلوں کو یکجا کر کے ایک جامع فکر پیش کی۔[9] ابھینوگپت نے "ایشور پرتیہ بھگیا کارکا" کی بھی دو شرحیں بھی لکھی ہیں۔[10][8] ابھینوگپت کے شاگرد شیم راج نے پرتیہ بھگیا فلسفے کا ایک خلاصہ "پرتیہ بھگیا ہردیم" کے نام سے تحریر کیا، جس کے معنیٰ ہیں "دوبارہ پہچاننے کا جوہر"۔[9][11]

عقائد

[ترمیم]

"آبھاس واد" اور "سواتنتریہ واد"

[ترمیم]

"آبھاس" (آ یعنی معمولی اور بھاس یعنی ظہور، لہذا آبھاس کے معنی ہوئے محدود طریقے سے ظاہر ہونا یا "شیو کا جزوی ظہور")[12][13] پرتیہ بھگیا کا نظریۂ ظہورِ کائنات ہے۔[14] اس میں برتر شعور ("سموِت") ایک آئینے کی مانند ہے اور کائنات اس میں نظر آنے والے عکس کی طرح ہے۔[15] آئینے کی تمثیل اکثر "آبھاس" کی وضاحت کے لیے استعمال کی جاتی ہے کیونکہ آئینہ، شعور کی طرح، خود متاثر ہوئے بغیر مختلف لامتناہی تصاویر کو اپنے اندر سمو سکتا ہے۔

پرتیہ بھگیا اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ کائنات برتر شعور ("سموِت") کے آئینے میں ایک "آبھاس" کے طور پر نمودار ہوتی ہے، لیکن مادی آئینے کے برعکس جسے عکس بنانے کے لیے کسی بیرونی شے کی ضرورت ہے، "سموِت" کے آئینے میں موجود تصویر خود "سموِت" ہی کی تخلیق ہوتی ہے، اس عمل کو "سواتنتریہ" (قوتِ ارادی) کہا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کائنات "سموِت" کے اندر اس لیے ظاہر ہوتی ہے کیونکہ شیو ایسا چاہتے ہیں۔

ادویت ویدانت بھی اسی سے ملتا جلتا نظریہ پیش کرتا ہے جس کے مطابق یہ شعور پر مسلط کردہ ایک واہمہ (Illusion) ہے۔ پرتیہ بھگیا میں فرق یہ ہے کہ اس ظہور کی علت جہالت کا کوئی ابدی اور الگ اصول ("اودیا") نہیں ہے، بلکہ یہ "شیو" کی مرضی ہے اور تخلیق بذاتِ خود مابعد الطبیعیات کی رو سے حقیقی ہے، محض ایک واہمہ نہیں۔[16] یہ "آبھاسوں" سے بنی ہے، جو شیو کے فکری تصورات کے سوا کچھ نہیں اور جو تجرباتی اشیا کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔[17]

چنانچہ تمام اشیا "آبھاس" ہیں: مٹی، پانی، آگ وغیرہ۔ ان کی تمام خصوصیات بھی "آبھاس" ہیں۔[18] پیچیدہ "آبھاس" سادہ تر "آبھاسوں" سے مل کر بنتے ہیں، جن کا نقطۂ کمال یہ پوری دنیا ہے۔[19][20]

یہ ایک تضاد معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ "آبھاس" کی حقیقت شعور ہی ہے، لیکن شیو کی قوتِ اخفا ("مایا") کے ذریعے ظاہر کیے جانے کی وجہ سے ان کا خارجی وجود بھی ہے۔[21] ایک اعلیٰ درجے کا مراقبہ کرنے والا دنیا کو "آبھاس" کے طور پر، یعنی شعور ("چت") اور سرور ("آنند") کی ایک ایسی جھلک کے روپ میں دیکھنے کے قابل ہوتا ہے جو اس کی اپنی ذات ("آتما") کے عین مطابق اور غیر ممیز ("ابھید") ہوتی ہے۔ بالفاظ دیگر شعور کی روشنی ادراک کی شے کے اندر سے ایک وجدان کی صورت میں چمکتی ہے، جو ایک بلا واسطہ مافوق الفطرت بصیرت ہے۔[22]

اگر کائنات کو ظہور کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ "آبھاس" نظر آتی ہے، لیکن جب اسے حقیقت مطلقہ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ "سواتنتریہ" معلوم ہوتی ہے۔ "سواتنتریہ" دراصل "آبھاس" کا تکمیلی تصور ہے جو ظہور کے ابتدائی ابھار (Impulse) کی وضاحت کرتا ہے۔ "سواتنتریہ" کا نظریہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ "شیو"، جو بنیادی حقیقت ہے، مختلف ذوات (Subjects) اور اشیا (Objects) میں ظاہر ہوتا ہے، لیکن یہ عمل اس کی اصل فطرت کو پوشیدہ نہیں رکھتا۔[23] چنانچہ "شیو" کا آزاد ارادہ، جو وحدتِ مطلق ہے، کثرت کو ظاہر کرنا اور تخلیق کرنا ہے۔[13] تخلیق کا یہ جذبہ شیو کی شوخ فطرت یا کھیل ("لیلا") ہے۔

کائنات

[ترمیم]

"آبھاس" کا تصور ظہور کی جوہری فطرت پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اشیا کی ماہیت ("تتو" جس کے لفظی معنیٰ "وہ ہونا" کے ہيں) کا تفصیلی تجزیہ کرنے کے لیے پرتیہ بھگیا نظام نے سانکھیہ کے 25 تتووں پر مبنی مابعد الطبیعیات کو اپنایا اور بالائی تتووں کی توسیع کر کے اسے بہتر بنایا۔ روح ("پُرُش") اور فطرت ("پراکرِتی") کی بجائے کشمیری شیو مت میں پانچ "خالص تتو" ہیں جو حقیقت مطلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں اور پھر مزید چھ تتو اخفا کے عمل ("مایا") کی نمائندگی کرتے ہیں جو غیر ثنوی خالص حقیقت کو زمان و مکان میں محصور دنیا اور اس کی مخلوقات میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

روح

[ترمیم]

روح ("جیواتما") ظہور کی دنیا میں شیو کا پرتو ہے۔ جب لامتناہی روح پانچ تحدیدات ("کنچک") کو قبول کرتی ہے تو وہ زمان و مکان میں مقید ہو کر عمل و علم کی محدود قوتوں اور ادھورے پن کے احساس کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔

یہ پانچ تحدیدات ایک آلائش کا نتیجہ ہیں جسے "آنَو مَل" (आणवमल) کہا جاتا ہے۔ اس کا کام لامحدود کو محدود ظاہر کرنا اور اسے کُل سے الگ کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ "جیواتما" محدود ہے، بلکہ وہ محض جہالت کی وجہ سے ایسی نظر آتی ہے۔[24] "جیواتما" نہ تو تخلیق ہوتی ہے اور نہ پیدا، بلکہ اس کا وہی مقام ہے جو شیو کا ہے اور یہ چھوٹے پیمانے پر وہی افعال سر انجام دیتی ہے جو شیو کائناتی سطح پر انجام دیتے ہیں یعنی تخلیق، بقا، خاتمہ، اخفا اور فضل و کرم۔[25] تاہم اس کی قوتیں "مَل" (آلائشوں) کی وجہ سے محدود ہوتی ہیں۔[26]

"جیواتما" کو خارجی اشیا کی طرف مائل کرنے کے لیے اسے لطیف جسم کے اندر رکھا جاتا ہے، جسے ذہنی آلہ یا "پُر یَشٹَک" (روح کا آٹھ دروازوں والا قلعہ) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ آٹھ دروازے پانچ عناصر — مٹی، پانی، آگ، ہوا، اثیر— نیز حسی ذہن ("منس")، انا ("اہنکار") اور عقل ("بُدھی") پر مشتمل ہیں۔[27]

پہلی آلائش "آنو مل" (جوہری تحدید) کے علاوہ "جیواتما" مزید دو آلائشوں سے گھری رہتی ہے۔ اگلی آلائش "مایی مل" (मायीय) کی وجہ سے اشیا ثنوی یا جداگانہ نظر آتی ہیں۔[24] محدود ذات "جیواتما" خارجی اشیا سے بھری ہوئی ایک ایسی دنیا میں غرق ہو جاتی ہے جہاں اپنی ذات اور غیر (Self and non-self) کے درمیان ایک بنیادی ثنویت قائم ہوتی ہے۔

مزید برآں تیسری آلائش "کرم مَل"—کے ذریعے ذات کو یہ مغالطہ ہوتا ہے کہ وہ خود فاعل ہے، اگرچہ اس کی طاقت محدود ہے۔ اس کے برعکس "آتما" جب عمل کرتی ہے تو وہ شیو کے ساتھ متحد ہوتی ہے اور شیو کے ایک جز کے طور پر کام کرتی ہے۔[24]

یہی وجہ ہے کہ محدود روح کو "غلام" ("پشو") کہا گیا ہے جبکہ شیو "آقا" ("پتی") ہے۔ ان تینوں آلائشوں کی تطہیر کے بعد محدود روح بھی اپنی اصل فطرت کو پہچان (پرتیہ بھگیا) سکتی ہے اور خود "پتی" بن سکتی ہے۔[26]

آلائش (مَل)

[ترمیم]

"مَل" (جس کا مطلب "میل" یا "ناپاکی" ہے) [28] کا نظریہ بیان کرتا ہے کہ لامتناہی ذات یعنی آتما کو شیو کی پیدا کردہ تین قوتیں کم اور محدود کر دیتی ہیں۔ شیو، اپنے آزاد ارادہ —"سواتنتریہ"— کو استعمال کرتے ہوئے، اپنے اوپر انقباض (Contraction) طاری کر لیتے ہیں اور شعور کے بے شمار جوہروں ("چت انو" شعور کے ذرات) کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں۔[29] یہ "چت انو" مادی غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں۔[30]

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، "مَل" تین ہیں: "آنو مل" (کمی کی تحدید)، "مایی مل" (واہمے کی تحدید) اور "کرم مل" (عمل کی تحدید)۔[31] "کرم مل" مادی جسم میں، "مایی مل" لطیف جسم میں اور "آنو مل" سببی جسم میں موجود ہوتی ہے۔[32] "آنو مل" روح کو متاثر کرتی ہے اور ارادے کو سکیڑ دیتی ہے، "مایی مل" ذہن کو متاثر کر کے ثنویت پیدا کرتی ہے اور "کرم مل" جسم کو متاثر کر کے اچھے اور برے اعمال تخلیق کرتی ہے۔ یہ انفرادیت ذہن اور جسم کے مطابق ہیں۔[33]

ان تین تحدیدات میں سے صرف پہلی یعنی "آنو مل" کو، جو باقی دونوں کی بنیاد ہے، فضل خداوندی ("شکتی پات") کے بغیر محض اپنی کوشش سے عبور کرنا ناممکن ہے۔[34] "آنو مل" سببی جسم (تحت الشعور) میں موجود باقی ماندہ نقوش کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔[35] یہ پانچوں تحدیدات ("کنچک") کا مجموعی اثر ہے،[36] جو محدود سے لامحدود کی طرف، انا کی خالص و غیر خالص ("بھید ابھید") دنیا سے پہلے پانچ تتووں کی خالص حقیقت کی طرف جانے کا راستہ ہے جس کا نقطۂ کمال شیو اور شکتی ہیں۔

"مایی مل" ذہن کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔[36] پرتیہ بھگیا میں ذہن کو واہمے کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔[37] یہاں ذہن کا تصور بدھ مت سے مختلف ہے۔ بدھ مت میں ذہن آگاہی کے پہلوؤں کو یکجا کرتا ہے۔ یہاں اس کا تعلق صرف افکار، جذبات، انا اور پانچ حواس کی سرگرمی سے ہے۔ چنانچہ تمام ادراکات حقیقت مطلقہ کے محدود مشاہدات ہونے کی وجہ سے ثنویت کا احساس رکھنے کے باعث واہمہ ہیں۔

"کرم مل" مادی جسم کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کا جوہر عمل کی قوت کی تحدید اور انفرادی فاعلیت کا واہمہ ہے، جس کے اثر سے سببی جسم میں کرم کا اجتماع ہوتا ہے۔[36]

کسی شخص کے "مل" کی پختگی کا تعلق فضل ("شکتی پات") کی اس سطح سے ہے جو وہ وصول کرنے کے قابل ہوتا ہے۔[30] مستقل ریاضت سے "کرم مل" اور "مایی مل" کو عبور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے بعد سالک کو اپنا مقدر شیو کے سپرد کر دینا چاہیے، کیونکہ صرف شیو ہی "آنو مل" کو اٹھانے اور اسے اس کی اصل فطرت کو پہچاننے ("پرتیہ بھگیا") میں تعاون سے سرفراز کر سکتے ہیں۔

نجات

[ترمیم]

پرتیہ بھگیا میں نجات ("موکش") کا تصور اپنی اصل اور فطری آگاہی کو دوبارہ پہچاننا ("پرتیہ بھگیا") ہے جس میں یہ پوری کائنات شیو کے شعور کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ نجات یافتہ ہستی وہ مقام بھی حاصل کر لیتی ہے جسے "چت آنند" (شعور کا سرور) کہا جاتا ہے۔ اپنی اعلیٰ ترین شکل میں یہ سرور "جگت آنند" کہلاتا ہے، جس کا لفظی مطلب پوری دنیا ("جگت") کا سرور ("آنند") ہے۔[38]

"جگت آنند" میں کائنات اپنی ذات ("آتما") کی شکل میں نظر آتی ہے۔[39] عملی طور پر اس کی تعریف یہ ہے کہ جب "سمادھی" کے لیے مراقبہ میں بیٹھنے کی ضرورت باقی نہ رہے تو وہ "جگت آنند" ہے،[40] کیونکہ تب برتر شعور ("سموِت") کے سوا کچھ محسوس نہیں ہوتا۔ ذہن لامحدود شعور میں آرام پاتا ہے،[41] باطن ظاہر بن جاتا ہے اور ظاہر باطن اور اتصال و فنائیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔[42] نجات یافتہ ہستی اپنے تمام افعال میں (کھانا پینا، چلنا پھرنا، یہاں تک کہ سونا بھی) انتہائی ترین درجے کا سرور محسوس کرتی ہے۔[43]

روحانی ریاضتیں

[ترمیم]

پرتیہ بھگیا کا نصب العین دنیا (اور خود اپنی ذات) کی "شیو" فطرت کو دوبارہ پہچاننا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے "شکتی" کے وسیلے سے شعور کی ایک بدلی ہوئی حالت پیدا کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ "شکتی" جسے بالعموم توانائی کا ہم معنی تصور کیا جاتا ہے، دراصل شیو کا وہ متحرک پہلو ہے جو محدود (انسانی ذات) اور لامحدود (شیو) کے درمیان ایک کڑی کا کام دیتا ہے۔ چنانچہ یہی وہ بنیادی اصول ہے جس کے مطابق "شکتی کی مدد کے بغیر پرتیہ بھگیا کا حصول ناممکن ہے"۔[44]

شکتی کو بیدار کرنے کے لیے "وسط کے اظہار" (unfoldment of the middle) کی ریاضت تجویز کی جاتی ہے۔ یہاں "وسط" کے کئی مفہوم ہیں۔ اپنی بنیادی شکل میں یہ اس باطنی گزرگاہ (نالی) کی طرف اشارہ ہے جو ریڑھ کی ہڈی سے گزرتی ہے ("سُشُمنا ناڑی") اور جسمانی طور پر بدن کا مرکزی محور ہے۔ سشمنا ناڑی میں اظہار کا یہ عالم صعودی سانس ("پران") اور نزولی سانس ("اپان") کو اس کے اندر مرکوز کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح جب دو متضاد میلانات یکجا ہو کر متحد ہو جاتے ہیں تو غیر امتیازی (وحدت) کیفیت پیدا ہوتی ہے اور کنڈلنی کی توانائی اوپر کی جانب صعود کرتی ہے۔[45][46]

"وسط" کا ایک دوسرا مفہوم خلا یا شونیہ (خالی پن) ہے، مگر اس سے مراد ادراک کا فقدان نہیں بلکہ ادراک میں "ثنویت" (دوئی) کا خاتمہ ہے۔ انسانی جسم میں اس خلا کے ظہور کے تین اہم مقامات ہیں: ادنیٰ مقام جو دل کا خلا ہے اور اسے اناہت چکر سے منسوب کیا جاتا ہے، دوسرا درمیانی خلا ہے جس کا تعلق "سشُمنا ناڑی" سے ہے اور تیسرا "اعلیٰ ترین" خلا ہے جو سہسرار چکر (سر) سے وابستہ ہے۔ ان تینوں خلاؤں کو کھولنے کے لیے شعور کو ان مقامات پر مرکوز کرنے اور خود کو کلی طور پر سپرد کرنے کی ریاضتیں کی جاتی ہیں۔

"وسط" کا تیسرا مفہوم وہ کیفیت ہے جو "دو ادراکوں کے درمیان" اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک خیال ختم ہو چکا ہو اور دوسرا ابھی شروع نہ ہوا ہو۔ ان لمحات کو ذہن کی اصل فطرت کے انکشاف کے لیے کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اس کے لیے عام طور پر جو ریاضتیں رائج ہیں ان میں ثنوی خیالات کی بیخ کنی ("وِکلپکشے")، ادراکی توانائیوں کو دل میں سمیٹنا ("شکتی سنکوچ")، بیرونی مشاہدات میں غیر ثنوی آگاہی کی توسیع ("شکتی وکاس") اور فکر کے تسلسل میں ایسے وقفے پیدا کرنا شامل ہیں جن میں ذات کی خالص آگاہی کو گرفت میں لانا ("وَہ چھید") آسان ہو۔[47]

چند اہم ریاضتوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

"پنچ کرتیا" – پانچ افعال کا مراقبہ

[ترمیم]

"پنچ کرتیا" ایک عمومی ریاضت ہے جو تمام دیگر مشقوں کی بنیاد ہے۔ کشمیری شیو مت کی ایک نمایاں خصوصیت برتر شعور کے اندر "سرگرمی" کا تصور ہے۔ شیو متحرک ہے اور اس کے پانچ اہم ترین افعال یہ ہیں: تخلیق، بقا، فنا، اخفا اور فضل و کرم۔ چونکہ شیو کے سوا کسی شے کا وجود نہیں، اس لیے محدود وجود (انسان) بھی حقیقت میں شیو کا عین ہے، چنانچہ وہ بھی محدود پیمانے پر یہی پانچ افعال سر انجام دیتا ہے۔

یہ پانچ افعال ہی مراقبے کا موضوع ہیں اور ان کا تعلق ادراک کے تمام مراحل سے ہے۔ تخلیق سے مراد کسی مشاہدے یا خیال کا آغاز ہے، بقا اس خیال میں ٹھہراؤ ہے اور فنا شعور کا اپنے مرکز کی طرف لوٹ جانا ہے۔ بقیہ دو افعال کا تعلق ثنویت اور وحدت (غیر ثنویت) کی طرف مائل ہونے سے ہے۔[48]

پانچ افعال کے مراقبے کا مقصد انھیں "خلا" میں تحلیل کر دینا ہے۔ اس عمل کو "ہٹھ پاک" (ایک ہی لقمے میں نگل لینا) اور "اَلَنگراس" (تجربے کا مکمل استعمال) جیسے استعاروں میں بیان کیا جاتا ہے۔[49][50]

عملی طور پر روزمرہ زندگی کے عام ادراکات پر غیر ثنویت کی ایک برتر کیفیت (تریا) غالب آ جاتی ہے۔[51] پرتیہ بھگیا کا محور صرف رسمی عبادت نہیں بلکہ یہ زندگی کا ایک فلسفہ ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ "پنچ کرتیا" کی مشق کے لیے موزوں ہے، کیونکہ ہر ادراک ذات کے انکشاف کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ جیسے جیسے تجربات انسان کے اندر جمع ہوتے ہیں، انھیں "یکسانی" کی آگ میں جلا دیا جاتا ہے۔[52] اس طریقے سے انسان کے اعمال سے کرمی عنصر ختم ہو جاتا ہے یا بالفاظِ دیگر تجربات سے ثنویت کو "ہضم" کر کے نکال دیا جاتا ہے۔[53]

یہ عمل ہر لمحہ تجربات کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے اور انھیں غیر ثنوی ذات کے تناظر میں ڈھالنے کا نام ہے۔[54] تمام تجربات خاص طور پر منفی تجربات، تحت الشعور میں نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے تجربات "بیج" کی صورت اختیار کر لیتے ہیں تاکہ یادوں یا رویوں کے روپ میں دوبارہ جنم لے سکیں۔[55] زندگی میں جب بھی کوئی رکاوٹ آئے تو انسان کو جان لینا چاہیے کہ یہ محض اس کے شعور کے اندر ہے، چنانچہ "ہٹھ پاک" کے ذریعے اسے تحلیل کر دینا چاہیے۔[56]

یہ عمل کسی بھی طور پر خشک یا صرف منطقی سرگرمی نہیں ہے۔ جیسے جیسے یہ ریاضت آگے بڑھتی ہے، ایک خود بخود پیدا ہونے والی مسرت ("چمتکار") کا احساس بیدار ہوتا ہے، جو کسی فنی تجربے کی طرح مشاہدے کی شے کو ظہور پاتے ہی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔[57] جسم خود سرور کی ایک شدید کیفیت سے سرشار ہو جاتا ہے اور شعور ثنویت کی حدود سے باہر پھیل جاتا ہے۔ اسی حالت میں سالک کے پاکیزہ جسم اور ذہن کے اندر "پرتیہ بھگیا" کا مقصد پورا ہوتا ہے۔

"وِکلپکشے" – ثنوی خیالات کی تحلیل

[ترمیم]

"پنچ کرتیا" کا سب سے براہ راست اطلاق "وِکلپَکشے" ہے، جس کا لفظی مطلب "خیالات کی تحلیل" ہے۔[58] یہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے ادراک کے ثنوی مواد کو "آتما" میں تحلیل کر دیا جاتا ہے جو اپنی اصل میں غیر ثنوی ہے۔[59] اس کے بعد جو باقی بچتا ہے اسے "اوِکلپ" یعنی خالص آگاہی کہا جاتا ہے۔[60]

ایک ملتا جلتا تصور "چت ورتّی نرودھ" بھی ہے،[61] جس کا مطلب ذہنی انتشار کا خاتمہ ہے۔ یہ پتنجلی کے یوگ سوتر میں یوگا کی مشہور تعریف ہے۔ اس میں وپاسنا[62]، زین بدھ مت اور زوگ چین (Dzogchen) کی روایات سے بھی مشابہت پائی جاتی ہے۔[63]

خارجی اشیا کی بجائے ادراک کی بنیاد یعنی خالص آگاہی پر توجہ مرکوز کرنے سے سالک روحانی بصیرت (تنویر) تک پہنچ جاتا ہے۔ ثنوی فکری ساختوں کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی جگہ خالص آگاہی کا نور اور سرور ادراک کی اصل فطرت کے طور پر چمک اٹھے۔[45]

ہر خیال کے ساتھ "وِکلپکشے" کی مشق دہرانے سے تحت الشعور (سببی جسم) کی سطح پر بتدریج تبدیلی آتی ہے جو شیو کے ساتھ اتحاد کی طرف لے جاتی ہے۔[62] چنانچہ یہ عمل کسی باغ میں جڑی بوٹیوں کی کانٹ چھانٹ سے مشابہ ہے۔

"وِکلپکشے" مضطرب ذہن کو پرسکون کرنے کی ایک کلاسیکی تکنیک بھی ہے۔ شعور کی اس تہ کو پکڑنے کے لیے جس کی سطح پر "وکلپ" (خیالات) اپنا کھیل رچاتے ہیں، یوگی خود سپردگی یا "باخبر مجہولیت" (alert passivity) کی کیفیت میں داخل ہوتا ہے، کیونکہ اس معاملے میں طاقت کا استعمال صرف ذہنی اضطراب میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔[64]

جیسے جیسے شعور کی روشنی میں خیالات فنا ہوتے ہیں، "آنند" (سرور) نمودار ہونے لگتا ہے۔ سرور کی کیفیت میں آتما کے ساتھ اتحاد کے متواتر تجربات ہی مستحکم "سمادھی" کی بنیاد بنتے ہیں۔[65][66]

پرتیہ بھگیا کے متون میں کئی عملی مشورے بھی دیے گئے ہیں، مثلاً "دوادَشانت" (سر سے اوپر) پر توجہ مرکوز کرنا،[67] ایک خیال کے ختم ہونے اور دوسرے کے شروع ہونے کے درمیانی وقفے میں داخل ہونا،[67] یا اسی طرح سانس لینے اور نکالنے کے درمیانی وقفے پر توجہ دینا[60] اور کسی شدید فنی یا جمالیاتی جذبے میں غرق ہو جانا وغیرہ۔[67]

"وَہ چھید" – باطنی توانائی کے دھاروں کا انقطاع

[ترمیم]

"وہ چھید" (حیاتیاتی دھاروں یعنی "پران" اور "اپان" کو کاٹنا) دل میں صعودی اور نزولی وایو کو ساکن کر کے روشن خیالی کی طرف لے جاتا ہے۔[68] پران اور اپان کی ثنوی سرگرمی کو روک کر توازن حاصل کیا جاتا ہے اور اس برتر حالت میں دل کی اصل فطرت آشکار ہوتی ہے۔[69] اس کا ایک پراسرار طریقہ یہ ہے کہ ذہنی طور پر حروفِ صحیح جیسے "ک" کو بغیر کسی سہارے یا حرکت (جیسے "ا") کے ادا کیا جائے۔ یہ معما نما تصور ذہنی سرگرمی میں ایک لمحاتی تعطل پیدا کرنے کا طریقہ ہے جس سے تناؤ اور تکلیف دور ہو جاتی ہے۔[70] یہ تکنیک "آنووپائے" (کشمیری شیو مت میں تکنیکوں کے تین درجات میں سے ادنیٰ ترین) سے تعلق رکھتی ہے۔[48]

"شکتی سنکوچ" – حسی توانائیوں کا دل میں انقباض

[ترمیم]

"شکتی سنکوچ" حصول بصیرت کی ایسی تکنیک ہے جس کی بنیاد توانائیوں کو ان کے منبع کی طرف واپس سمیٹ کر دل (آتما کے پرتو کا مقام) کو متحرک کرنے پر ہے۔ حواس کو بیرونی اشیا تک پہنچنے دینے کے بعد انھیں دوبارہ دل کی طرف لوٹا کر پانچوں حواس کی تمام توانائیاں باطن میں جمع کر لی جاتی ہیں (پرتیہ ہار[58] جس طرح ایک خوفزدہ کچھوا اپنے اعضا کو خول کے اندر سمیٹ لیتا ہے، اسی طرح یوگی کو اپنی "شکتیوں" (حواس کی توانائیوں) کو آتما میں سمیٹ لینا چاہیے۔[71] حواس کا یہ الٹ پلٹ دل کی اصل حقیقت کی پہچان بیدار کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔[72]

"شکتی وکاس" – حسی اشیا میں ذات کی پہچان

[ترمیم]

"شکتی وکاس" حسی مشاہدات کے بہاؤ سے ثنویت کو ختم کرنے ("وِکلپکشے") کا ایک طریقہ ہے۔ حسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہوئے بھی یوگی کو اپنی ذات (اپنے دل) سے غافل نہیں رہنا چاہیے تاکہ وہ بیرونی ادراکات کو اپنے روشن دل کی روشنی کے اوپر منطبق کر سکے۔[71] اس ذہنی رویے کو "بھیروی مدرا" بھی کہا جاتا ہے۔[72] اس کے اثر سے تمام ادراکوں میں ایک ہی جوہری فطرت (آتما یا شیو) کو پہچان کر خارجی حقیقت کی غیر ثنویت کا ادراک ہوتا ہے۔ اس طرح یوگی باقاعدہ ریاضت کے ذریعے اپنے غیر ثنوی مشاہدے کو استحکام بخشتا ہے۔ "شکتی سنکوچ" اور "شکتی وکاس" دونوں کو "شکتوپائے" تکنیکوں میں شمار کیا جاتا ہے جو ذہن کے درمیانی درجے کی ریاضتیں ہیں۔[48]

"آدیانت کوٹی نبھالن" – سانسوں کے درمیانی وقفے پر مراقبہ

[ترمیم]

تکنیکوں کی ایک ایسی قسم بھی ہے جو اپنی فطرت کی پہچان حاصل کرنے کے لیے سانس کے چکر میں دو خاص لمحات کا استعمال کرتی ہے۔ اگر ہم اوپر کی طرف جانے والے دھارے ("پران") کو مثبت اور مخالف دھارے ("اپان") کو منفی تصور کریں تو باطنی توانائی کے دھاروں کی قطبیت سانس لینے اور نکالنے کے درمیانی وقفوں میں "صفر" یعنی توازن کی حالت کو پہنچ جاتی ہے۔ ان لمحات کو "اَجَپا منتر" یعنی "سو ہم" یا "ہم سا" کے دو حرفی الفاظ کی ذہنی تکرار کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔[70] توجہ کا مرکز دل (اناہت) اور سر کے اوپر (دوادشانت) کے مقامات ہونے چاہئیں۔[73] ان دو مراکز کے درمیان آگاہی کی مسلسل آمد و رفت جن کا تعلق خلا کے دو مظاہر (دل کا خلا اور خلائے اعلیٰ یعنی شونیہ کی کیفیت) سے ہے، مرکزی گزرگاہ (سشُمنا ناڑی) کو متحرک کرتی اور غیر ثنویت کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔

دیگر ہندوستانی روایات سے رشتۂ فکر

[ترمیم]

کشمیری شیو مت کے مکاتبِ فکر

[ترمیم]

کشمیری شیو مت کے تناظر میں پرتیہ بھگیا کی درجہ بندی کبھی "شامبھوپائے" (شامبھو یعنی شیو کا راستہ) [74] کے روپ میں کی جاتی ہے اور کبھی اسے "انوپائے" (وہ راستہ جس میں کسی خاص طریقے کی ضرورت نہ ہو) قرار دیا جاتا ہے۔[75] شامبھوپائے اور انوپائے ایسی ریاضتیں ہیں جن کا براہِ راست تعلق شعور سے ہے؛ اس کے برعکس ریاضتوں کے دو ادنیٰ درجات "شکتوپائے" (شکتی کا راستہ، جس کا تعلق ذہن سے ہے) اور "آن ووپائے" (محدود وجود کا راستہ، جس کا تعلق مادی جسم سے ہے) ہیں۔ چنانچہ پرتیہ بھگیا کو نجات کا مختصر ترین اور سب سے سیدھا راستہ مانا جاتا ہے، جو صرف شعور پر مبنی ایک فکری ارتقا ہے۔

اگرچہ یہ مرکزی گزرگاہ ("سشُمنا ناڑی") میں کنڈلنی کے صعود سے متعلق یکساں ریاضتیں رکھتی ہے، مگر پرتیہ بھگیا کا دعویٰ ہے کہ اس میں روحانی پیش رفت "آنِ واحد" میں ہوتی ہے، جبکہ "کرم" مکتبِ فکر اس میں "تدریجی" ترقی کا قائل ہے۔[76]

جہاں تک "اسپندا" مکتبِ فکر کا تعلق ہے، پرتیہ بھگیا اس کے مقابلے میں زیادہ فلسفیانہ ہے اور حقیقت مطلقہ کی فوری پہچان (دوبارہ پہچان) پر زور دیتا ہے، جبکہ اسپندا دبستان اپنے بنیادی متن "اسپندا کارِکا" کے مطابق زیادہ عملی ہے اور شعور کی "تھرتھراتی توانائی کے پہلو" (Vibrating energy) کو اہمیت دیتا ہے۔[77]

بدھ مت

[ترمیم]

پرتیہ بھگیا اور بدھ مت کے درمیان سب سے اہم فرق حقیقت مطلقہ کی ماہیت سے متعلق ہے جہاں بدھ مت روح ("آتما") اور خدا ("ایشور") کے تصورات کو مسترد کرتے ہیں، وہیں کشمیری شیو نوازوں نے اپنے خاکۂ کائنات میں ان کو بلند ترین مقام پر رکھا ہے۔[78]

اُتپل دیو نے اپنے فلسفیانہ مقالے "ایشور پرتیہ بھگیا کارِکا" میں بدھ فلسفے کے "سَوترانتِک" مکتبِ فکر کے نظریۂ واسنا (دنیا کا خواب نما تصور) کو بھی رد کیا ہے؛ وہ عینیت پسندی کے لیے ایک دوسرا راستہ تجویز کرتے ہیں: شیو، جو خالص شعور ہیں، اپنے آزاد ارادے ("سواتنتریہ") کی بدولت تمام اشیا کو "باطنی" طور پر ظاہر کرتے ہیں اور یہ اشیا محدود وجود کو حقیقی اور "خارجی" نظر آتی ہیں۔ وہ اس ضمن میں اعلیٰ درجے کے یوگیوں کی اس مشہور مادی تخلیق کی مثال دیتے ہیں جو وہ محض اپنی باطنی قوتوں کے استعمال سے سر انجام دیتے ہیں۔[79]

ادویت ویدانت

[ترمیم]

تخلیق کائنات کے مسئلے پر اتپل دیو نے ادویت ویدانت کی ابدی اور خود مختار جہالت ("اودیا") کے نظریے کو مسترد کیا ہے،[78] جو اس امر پر زور دیتا ہے کہ "برہم" (مطلق شعور) پر جہالت کا ملمع چڑھ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں غیر متحرک اور موضوعی شعور دنیوی زندگی کا اسیر ہو جاتا ہے۔ کشمیری شیو مت میں جہالت ("اودیا") اور اس کا کائناتی پہلو "مایا" (واہمہ) کچھ اور نہیں بلکہ "شکتی" یعنی شیو کی قوت ہی ہیں؛ شکتی کی شکل میں یہ محدود وجود کے لیے حقیقی ہیں، لیکن شیو کے لیے یہ شعور کا محض ایک سادہ سا اظہار ہیں۔[80]

ادویت ویدانت میں محدود روح ("جیو") کے حوالے سے تمام سرگرمیوں کا تعلق عقل ("بدھی") سے ہے؛ کشمیری شیو مت میں سرگرمی کی نسبت "آتما" کی جانب بھی کی جاتی ہے، جو غیر متحرک نہیں ہے بلکہ تخلیق، بقا، فنا، اخفا اور فضل و کرم کے پانچ گنا افعال کی مالک ہے۔ ادویت ویدانت میں ایک نجات یافتہ روح کائنات سے آزاد ہو جاتی ہے لیکن یہاں یعنی کشمیری شیو مت میں کائنات ایک حقیقی "شعورِ ذات" یعنی شعور اور سرور کے ایک مجموعے کے روپ میں نظر آتی ہے۔[80]

ادویت ویدانت میں شعور ("چت") محض نور ("پرکاش") ہے، لیکن پرتیہ بھگیا میں یہ فعالیت اور فاعلیت بھی ہے۔[81]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Lalla 1924, p. 111
  2. ^ ا ب Olson 2007, p. 237
  3. ^ ا ب پ ت Kapoor 2004a, p. 254
  4. ^ ا ب Shankarananda 2016, p. 45
  5. Singh 1982, p. 117
  6. Kapoor 2004b, p. 409
  7. ^ ا ب Lawrence
  8. ^ ا ب The Trika Saivism of Kashmir – M.L. Pandit, p. 27
  9. ^ ا ب پ Singh 1982, p. 3
  10. Siva Sutras – Jaideva Singh, p.
  11. Kapoor 2004b, p. 305
  12. Singh 1982, p. 18
  13. ^ ا ب The Pratyabhijna Philosophy – G.V. Tagare, p. 37
  14. The Trika Saivism of Kashmir – M.L. Pandit, p. 189
  15. Sakti the Power in Tantra – P.R. Tigunait, p. 65
  16. The Trika Saivism of Kashmir – M.L. Pandit, p. 190
  17. Singh 1982, p. 19
  18. Doctrine of Divine Recognition – K.C. Pandey, p. 159
  19. The Himalayan mysticism – R. Nataraj, p. 186
  20. The Trika Saivism of Kashmir – M.L. Pandit, p. 188
  21. Doctrine of Divine Recognition – K.C. Pandey, p. 115
  22. The Isvarapratyabhijnakarika of Utpaladeva – R. Torella, p. 136
  23. Singh 1982, p. 17
  24. ^ ا ب پ The Pratyabhijna Philosophy – G.V. Tagare, p. 32
  25. The Pratyabhijna Philosophy – G.V. Tagare, p. 18
  26. ^ ا ب Saivism Some Glimpses – G. V. Tagare, p. 12
  27. Saivism – G.V. Tagare, p. 13
  28. Saivism – G.V. Tagare, p. 14
  29. The Philosophy of Sadana – D.B. Sen Sharma, p. 107
  30. ^ ا ب The Philosophy of Sadana – D.B. Sen Sharma, p. 108
  31. Meditation Revolution – D.R. Brooks, p. 433
  32. Meditation Revolution – D.R. Brooks, p. 439
  33. Shankarananda 2016, p. 128
  34. Meditation Revolution – D.R. Brooks, p. 437
  35. The Philosophy of Sadana – D.B. Sen Sharma, p. 127
  36. ^ ا ب پ Shankarananda 2016, p. 131
  37. Shiva Sutras – Swami Lakshmanjoo, p. 18
  38. Singh 1982, p. 27
  39. Siva Sutras – Jaideva Singh, p. 244
  40. Mysticism In Shaivism And Christianity — B. Baumer, p. 253
  41. Kapoor 2004b, p. 354
  42. Possession, Immersion, and the Intoxicated Madnesses of Devotion in Hindu Traditions – Marcy Goldstein, p. 234
  43. Miracle of Witness Consciousness – Prabhu, p. 124
  44. Mysticism In Shaivism And Christianity – B. Baumer, p. 183
  45. ^ ا ب The Stanzas on Vibration – M.S.G. Dyczkowski, p. 207
  46. The Pratyabhijna Philosophy – G.V. Tagare, p. 125
  47. Singh 1982, p. 4, 30
  48. ^ ا ب پ Singh 1982, p. 30
  49. Shankarananda 2016, p. 327
  50. The Awakening of Supreme Consciousness – J.K. Kamal, p. 60
  51. The Shiva Sutra Vimarsini of Ksemaraja – P.T.S. Iyengar, p. 50
  52. The Pratyabhijna Philosophy – G.V. Tagare, p. 90
  53. Shankarananda 2016, p. 147
  54. Shankarananda 2016, p. 146
  55. Shankarananda 2016, p. 145
  56. Shankarananda 2016, p. 262
  57. Shankarananda 2016, p. 144
  58. ^ ا ب Shankarananda 2016, p. 305
  59. The Pratyabhijna Philosophy – G.V. Tagare, p. 34
  60. ^ ا ب Shankarananda 2016, p. 173
  61. The Secret of Self Realization – I.K. Taimni, p. 63
  62. ^ ا ب The Pratyabhijna Philosophy – G.V. Tagare, p. 124
  63. Shankarananda 2016, p. 174
  64. Singh 1982, p. 31
  65. Shankarananda 2016, p. 174"
  66. The Pratyabhijna Philosophy – G.V. Tagare, p. 105
  67. ^ ا ب پ The Pratyabhijna Philosophy – G.V. Tagare, p. 104
  68. The Pratyabhijna Philosophy – G.V. Tagare, p. 103
  69. Introduction to Kasmir Shaivism, p. 82
  70. ^ ا ب Shankarananda 2016, p. 179
  71. ^ ا ب The Pratyabhijna Philosophy – G.V. Tagare, p. 102
  72. ^ ا ب The Pratyabhijna Philosophy – G.V. Tagare, p. 101
  73. Shankarananda 2016, p. 306
  74. Introduction to Kasmir Shaivism, p. 53
  75. Introduction to Kasmir Shaivism, p. 89
  76. Kapoor 2004b, p. 362
  77. The Trika Saivism of Kashmir – M.L. Pandit, p. 25
  78. ^ ا ب Abhinavagupta and His Works – V. Raghavan, p. 28
  79. The Dreamer and the Yogin, On the relationship between Buddhist and Saiva idealisms – Isabelle Ratie, p.
  80. ^ ا ب Singh 1982, p. 25
  81. Singh 1982, p. 24

مآخذ

[ترمیم]
  • S. Kapoor (2004aء)۔ The Philosophy of Saivism Vol.1۔ Cosmo Publications۔ ج 1 {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |سال= (معاونت)
  • S. Kapoor (2004bء)۔ The Philosophy of Saivism Vol.2۔ Cosmo Publications۔ ج 2 {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |سال= (معاونت)
  • Lalla (1924ء). The Word of Lalla the Prophetess, being the Sayings of Lal Ded or Lal Diddi of Kashmir (بزبان انگریزی). CUP Archive.
  • David Peter Lawrence۔ "Kashmiri Shaiva Philosophy"۔ انٹرنیٹ انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی
  • Carl Olson (2007ء)۔ The Many Colors of Hinduism۔ Rutgers University Press۔ ISBN:978-0-8135-4068-9
  • N. Rastogi (1979ء)۔ The Krama Tantricism of Kashmir۔ Motilal Banarsidass
  • Shankarananda (2016ء)۔ The Yoga of Kashmir Shaivism: Consciousness is Everything۔ Motilal Banarsidass
  • Jaideva Singh (1982ء)۔ Pratyabhijñāhrdayam۔ Motilal Banarsidass۔ ISBN:8120803221

مزید پڑھیے

[ترمیم]