پرمار بھوج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پرمار بھوج
Statue of Raja Bhoja 02.jpg 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1000[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات صدی 11  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دھار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
دیگر معلومات
پیشہ بادشاہ،  شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان سنسکرت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

بھوج پرمار یا پوار خاندان کے نویں راجا تھے۔[2] پرمار خاندان کے راجاؤں نے مالوا کی دارالسلطنت دھارانگری (دھار) سے آٹھویں صدی سے لے کر چودھویں صدی کے پہلے تک حکومت کی تھی۔ بھوج نے بہت سی جنگیں لڑیں اور اپنی شہرت قائم کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ غیر معمولی قابلیت کے حامل تھے۔ اگرچہ ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ میدان کارزار میں گزرا ہے تاہم انھوں نے اپنی سلطنت کی ترقی میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ آنے دی۔انھوں نے مالوا کے گاؤں اورشہروں میں بہت سے مندر تعمیر کرائے تاہم اب ان میں سے بہت کم کاپتہ ملتاہے۔ کہاجاتاہے کہ موجودہ مدھیہ پردیش کے دارالسلطنت بھوپال کو راجا بھوج نے ہی بسایا تھا اس وقت اس کانام بھوجپال نگر تھا، جو بعد میں بُھوپال (واو معروف کے ساتھ) اور پھر بھوپال ہو گیا۔ راجا بھوج نے بھوجپال نگر کے پاس ہی سمندر کی مانند ایک بڑا تالاب تعمیر کرایا تھا جو مشرق اور جنوب میں بھوج پور کے عالیشان شیو مندر تک جاتا تھا۔ آج بھی بھوج پور جاتے ہوئے راستے میں شیو مندر کے پاس پتھروں سے بنی ہوئی اس تالاب کی فصیل نظر آتی ہے۔اس زمانہ میں اس تالاب کا پانی بہت بابرکت اور بیماریوں کو دور کرنے والا گمان کیا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ راجا بھوج کو چرم روگ ہو گیا تھا تب کسی بزرگ یا حکیم نے انھیں اس تالاب کے پانی میں غسل کرنے اور اسے پینے کا مشورہ دیا تھا جس سے ان کی کھال کی بیماری دور ہو گئی تھی۔ اس بڑے تالاب کے پانی سے شیو مندر میں نصب بھاری شیولنگ کا ابھیشیک بھی کیا جاتا تھا۔ راجا بھوج خود ایک بہت بڑے گیانی تھے اور کہا جاتا ہے کہ انھوں نے مذہب، فلسفہ، آرٹ، تعمیرات، شاعری، دواسازی وغیرہ مختلف موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں جو اب بھی موجود ہیں ۔ان کے زمانے میں شاعروں کو حکومت کی طرف سے اعزازی مقام ملا تھا۔ انھوں نے سنہ 1000 عیسوی سے سنہ 1055 عیسوی تک زمام حکومت سنبھالی۔ ان کی علمی قابلیت کی وجہ سے عوام میں ایک محاورہ رائج ہوا "کہاں راجا بھوج کہاں گنگو تیلی"۔ بھوج بہت بڑے بہادر، عالی ہمت اور خوبیوں کے مالک تھے۔ انھوں نے متعدد ملکوں پر فتح حاصل کی۔ اور مختلف موضوعات پر متعدد گرنتھ تحریر کیے۔راجا بھوج ایک اچھے شاعر، فلسفی اور جیوتشی تھے۔ سرسوتی کنٹھابھرن، شرنگارمنجری، چمپورامائن، چاروچریا، تتوپرکاش، ویوہارس موچے۔ وغیرہ متعدد گرنتھ ان کے لکھے ہوئے بتائے جاتے ہیں۔ ان کی مجلس ہمیشہ بڑے بڑے پنڈتوں سے آراستہ رہتی تھی۔ ان کی بیوی کا نام لیلاوتی تھا جو ایک بہت بڑی عالمہ تھی۔ جب بھوج زندہ تھے تو کہا جاتا تھا:

ادھ دھارا سدا دھارا سدالمباسرسوتی۔
پنڈتا منڈتا: سروے بھوج راجے بھووی استھتے۔

(آج جب بھوج راج زمین پر موجود ہیں تو دھارانگری سدادھار {خوبیوں سے بھرپور} ہے۔ سرسوتی کو ہمیشہ حمایت حاصل ہے۔ سبھی پنڈت خوش حال ہیں۔)

پھر جب ان کا انتقال ہوا تو کہا گیا:

ادھ دھارا نرا دھارا نرالمباسرسوتی۔
پنڈتا خنڈتا: سروے بھوج راجے دیونگتے۔

(آج بھوج راج کے وفات پا جانے کی وجہ سے دھارا شہر ناقابل اطمینان ہو گیا ہے اور سرسوتی بنا حمایت کے رہ گئی اورپنڈت بکھر گئے۔)

تعارف[ترمیم]

بھوج دھارانگری کے 'سندھول' نامی راجا کے بیٹے تھے، ان کی والدہ کا نام 'ساوتری' تھا۔ جس وقت راجا بھوج کی عمر پانچ سال تھی اس وقت ان کے والد اپنی سلطنت اور بھوج کے پرورش کی ذمہ داری اپنے بھائی مونج کے سپرد کرکے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ مونج بھوج کو قتل کرنا چاہتا تھا اس لیے اس نے بنگال کے 'وتس راج' کو بلاکر ان کے قتل کی ذمہ داری اسے سونپی۔ 'وتس راج' انھیں بہانے سے دیوی کے سامنے بلی دینے کے لیے لے گیا۔ وہاں پہونچنے پر جب بھوج كو معلوم ہواكہ یہاں میں بلی چڑھایا جاؤں گا تو انھوں نے اپنی ران چیر كر اس كے خون سے بڑكے پتے پر دو جملے لكھ كر ‘وتس راج كو دئےاور كہا كہ یہ ‘مونج’ كو دے دینا۔ اس وقت ‘وتس راج’ كو انھیں قتل كرنے كی ہمت نہ ہوئی اور اس نے انھیں اپنے یہاں لے جاكر چھپا دیا۔ جب وتس راج بھوج كا مصنوعی كٹا ہوا سر لیے ہوئے مونج كے پاس گیا اور بھوج كے اشلوک اس نے اسے دئے ،تب مونج كو بہت پشیمانی ہوئی۔ جب ‘وتس راج’ نے مونج كوبہت زیادہ افسوس میں مبتلادیكھاتواصل حقیقت اس كے سامنے بیان كی اور بھوج كواس كے روبرولا كھڑا كیا۔ مونج نے ساری سلطنت بھوج كے حوالے كی اورخودجنگل كی طرف نكل گیا۔

كہاجاتاہے كہ بھوج بہت بڑے بہادر،بلندہمت، پنڈت اورخوبیوں كے حامل تھے۔ان كازمانہ 10ویں اور 11ویں صدی ماناگیاہے۔ انھوں نے متعدد ملکوں پر فتح حاصل کی۔ اور مختلف موضوعات پر متعدد گرنتھ تحریر کیے۔راجا بھوج ایک اچھے شاعر، فلسفی اور جیوتشی تھے۔رسوتی کنٹھابھرن، شرنگارمنجری، چمپورامائن، چاروچریا، تتوپرکاش، ویوہارس موچے۔ وغیرہ متعدد گرنتھ ان کے لکھے ہوئے بتائے جاتے ہیں۔ ان کی مجلس ہمیشہ بڑے بڑے پنڈتوں سے آراستہ رہتی تھی۔ ان کی بیوی کا نام لیلاوتی تھا جو ایک بہت بڑی عالمہ تھی۔

‘روہک’ نامی شخص ان كا وزیر اعظم اور‘بہوون پال’ ان كا وزیر تها۔ ‘كلچندر’ ‘ساٹھ’اور‘ترادتیہ’ ان كے فوجی كمانڈر تھے، جن كے تعاون سے بھوج نے آسانی كے ساتھ ریاستی اموركوانجام دیا، اپنے چچا مونج كی طرح یہ بهی مغربی بھارت میں اپنی ریاست قائم كرناچاہتے تتے، اوراس خواہش كوپوراكرنے كے لیے انھیں اپنے پڑوس كی ریاستوں سے جنگ كرناپڑی، مونج كی اچانک موت ہوجانے كی وجہ سے پرماربہت بے چین تهے اور اسی لیے بھوج ‘‘چالوكیوں’’سے بدلہ لینے كے ارادہ سے جنوب كی طرف چڑهائی كرنے كے پرآمادہ ہوئے۔

انھوں نے ‘داھل’ كے ‘کلبری گانگوئی دیو’ نیز ‘تنجور’تنچیاوُر كے ‘راجندرچول’ سے معاہدہ كیااورساتھ ہی جنوب پرحملہ بھی كردیا، لیكن فورا ہی راجا چالکیہ جے سنگھ دتیے سولنكی نے بہادری سے سامناكیااوراپناراج بچالیا، 1044؁ء كےكچھ مدت كے بعدجے سنگھ كے بیٹے سومیشوردتیے نے پرماروں  سے پھردشمنی كرلی اورمالوا سلطنت پرحملہ كركے بھوج كو بھاگنے پرمجبوركردیا، دھارانگری پرقبضہ كرلینے كے بعداس نے آگ لگادی، لیكن كچھ دنوں كے بعد‘سومیشور’ نے مالوا چھوڑدیااور بھوج نے راجدھانی میں لوٹ كرپھرسلطنت حاصل كرلی۔

1018؁ء كے كچھ ہی پہلے بھوج نے اندررتھ نامی ایك شخص كوجوشاید‘كالنگ’ كے گانگ راجاؤں كانواب تھاشكست دی تھی۔

جے سنگھ دتیےاوراندررتھ كے ساتھ جنگ ختم كرلینے پر بھوج نے اپنی فوج بھارت كی مغربی سرحدسے متصل ملكوں كی طرف بڑھائی اورپہلے لاٹ نامی سلطنت پرجس كی وسعت جنوب میں بمبئی سلطنت كے تحت سورت تك تھی؛حملہ كردیا، وہاں كے راجا كیرتیراج نے خودسپردگی كرلی اوربھوج نے كچھ عرصہ تك اس پرقبضہ جمائے ركھا، اس كے بعد تقریباً 1020؁ء میں بھوج نے لاٹ كے جنوب میں واقع تھانہ ضلع سے لے كرمالاگارسطح سمندر تك پھیلے كونكڑ پرحملہ كیا اورشِلاہاروں كے اری كیشری نامی راجاكوشكست دی، كونكڑ كو پرماروں كی حكومت میں ملالیاگیا، اوران كے نوابوں كی حیثیت سے شلاہاروں نے حكومت كی۔

1008؁ء میں جب محمود غزنوی نے پنجابِ شاہی نامی سلطنت پرحملہ كیاتوبھوج نے بھارت كی دیگرریاستوں كے ساتھ اپنی فوج بھی حملہ كوروكنے اورشاہی آنندپال كا تعاون كرنے كے لیے بھیجی، لیكن ہندوں ریاستوں كے اس اتحادكاكوئی نتیجہ نہ نكلااوراس موقع پران كی ہارہوگئی۔1043؁ء میں بھوج نے اپنے چنندہ بہادر فوجیوں كو پنجاب كے مسلمانوں كے خلاف لڑنے كے لیے دلی كے راجاكے پاس بھیجا، اس وقت پنجاب غزنی ریاست كاہی ایك حصہ تھا، وہاں محمودغزنوی كے ورثاء حكومت كر رہے تھے، دلی كے راجاكو بھارت كے دوسرے حصوں كاتعاون ملااوراس نے پنجاب كی طرف كوچ كركے مسلمانوں كوہرایااوركچھ دنوں تك اس ملک كے كچھ حصے پرحكومت كی ، لیكن اخیرمیں غزنی كے راجانے اسے شكست دے كراپناكھویاہواحصہ واپس اپنی سلطنت  میں ملالیا۔ بھوج نے ایک بار"داہل"کے 'کلچری گنگوئ دیو' کے خلاف چڑھائی کردی جس نےجنوب پر حملے کے وقت بھوج کا ساتھ دیا تھا۔ گنگوئ دیوکوشکست ملی لیکن اسے خودسپردگی کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ سنہ 1055عیسوی کے کچھ ہی پہلے گنگوئ دیو کے بیٹے کرن نے گجرات کے چالکیے بھیم پرتھم کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا اور مالوہ پر مشرق اور مغرب کی طرف سے حملہ کر دیا بھوج اپنی سلطنت بچانے کا انتظام کر ہی رہا تھا کہ بیماری سے اچانک اس کی موت ہو گئی اور ریاست آسانی سے حملہ آوروں کے قبضہ میں چلی گئی۔ شمال میں بھوج نے چندیلوں کے ملک پر بھی حملہ کیا تھا جہاں ودھادھارنامی راجا حکومت کرتا تھا،اس حملے سے بھوج کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا، بھوج کی گوالیر پر فتح پانے کی کوشش کا بھی کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا کیونکہ وہاں کے راجا کچھپ گھاٹ کیرتی راج نے بھوج کے حملے کا ڈٹ کر سامنا کیا۔ ایسا بتایا جاتا ہے کہ بھوج نے کچھ وقت کے لیے قنوج پر فتح حاصل کر لی تھی۔ بھوج نے راجستھان میں شاکمبھری کے چاہ مانوں کے خلاف بھی جنگ کا اعلان کیا تھا اور ان کےراجہ چاہ مان ویر راج کو شکست دی اس کے بعد اس نے چاہ مانوں کے ہی نسل کے ایک راجا انہل کے زیر انتظام ندل نامی ریاست کو جییتنے کی دھمکی دی لیکن جنگ میں پرمار ہارگیا اور اس کا پردھان سیناپتی ساڈھ کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ بھوج نے گجرات کے چولکیوں سولنکیوں سے بھی جنہوں نے اپنی راجدھانی انہل پنا میں بنائی تھی کافی دنوں تک جنگ کی۔ چالکیے سولنکی نریش مولراج پرتھم کے بیٹے چمندراج کو وارانسی جاتے وقت مالوا میں پرمار بھوج کے ہاتھوں بے عزت ہونا پڑا تھا۔اس پراس کےکا بیٹے اور جانشین، بلبھ راج کو بڑا غصہ آیا اور اس نے اس بے عزتی کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا. اسں نے بھوج کے مقابلے میں ایک بڑی فوج تیار کی اور بھوج پر حملہ کر دیا، لیکن بدقسمتی سےوہ راستے میں ہی چیچک کے سبب مر گیا. اس کے بعد ولبھ راج کے چھوٹے بھائی درلبھ راج نے زمام اقتداراپنے ہاتھوں میں لےلی. کچھ عرصے بعد بھوج نے اسے بھی جنگ میں شکست دی. درلبھ راج کے جانشین بھیم کے زمانہ اقتدار میں بھوج نے اپنے فوجی سربراہ کولچندر کو گجرات کے خلاف جنگ کرنے کے لیے بھیجا. کلچندر نے پوری ریاست فتح کی اور اس دار الحکومت انہلپٹنا کو لوٹ لیا. بھیم نے ایک بار آبو پر حملہ کرکے اس کے بادشاہ پرمار ڈھنڈو کو شکست دی تھی، اس وقت اس نے بھاگ کرچترکوٹ میں بھوج کی پناہ لی تھی. جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ 1055 ء سے پہلے بھیم نے کلچری کرن کے ساتھ معاہدہ کرکے مالوا پر حملہ کردیاتھا، لیکن بھوج کی زندگی میں وہ اس ریاست پر قبضہ حاصل نہیں کر سکے.

تصنیفات[ترمیم]

راجابھوج بہت بڑے بہادر، عالی ہمت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑے پنڈت اور جیوتشی بھی تھے انہوں نے مختلف موضوعات پر کی گرنتھ تخلیق کیے ہیں ۔ راجا بھوج ایک اچھے شاعر، فلسفی اور جیوتشی تھے۔ سرسوتی کنٹھابھرن، شرنگارمنجری، چمپورامائن، چاروچریا، تتوپرکاش، ویوہارس موچے۔ وغیرہ متعدد گرنتھ ان کے لکھے ہوئے بتائے جاتے ہیں۔ ان کی مجلس ہمیشہ بڑے بڑے پنڈتوں سے آراستہ رہتی تھی۔ ان کی بیوی کا نام لیلاوتی تھا جو ایک بہت بڑی عالمہ تھی۔ مختلف علوم اور فنون میں راجا بھوج کی تخلیقات موجود ہیں تقریبا 84 گرنتھ راجا بھوج کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں ان میں سے نمایاں یہ ہیں: .راج مارکنڈ (پتنجلی کے یوگ سوترکاتذکرہ) .سرسوتی کنٹھابھرن (قواعد) .شرنگارپرکاش (شاعری اور ادب) .تتوپرکاش (شیوآگم) .ورہرداج مارتنڈ (دھارمک کتاب) .راج مرگانگ (طب) .ودھاونود .یوکتی کلپترو یہ گرنتھ راجا بھوج کے تمام گرنتھوں میں منفرد ہے۔ اس ایک گرنتھ میں متعدد موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ سیاست جغرافیہ، جوهر آزمائی، مختلف احکامات گھوڑا، ہاتھی، سانڈھ، بکرا، بھالو،کتا،وغیرہ دوپائے،چوپائے اور آٹھ پاؤں والے، ناؤ اور جہاز وغیرہ کے عناصرترکیبی اجمالاً مذکور ہیں۔ مختلف پالکیوں اور کشتیوں کی تفصیلات اس گرنتھ کا خصوصی امتیاز ہے۔ متعدد ہتھیاروں کی سب سے زیادہ تفصیل اسی کتاب میں پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر مہیش سنگھ نے ان کی تالیفات کو متعدد موضوعات کے تحت منقسم کیا ہے۔ .تصنیف و تالیف: سبھاشت پربندھ .دستکاری: سمرنگان سوتردھار .علم نجوم اور جیوتشی: آدتیہ پرتاپ سدھانت، راجمارتنڈ، راج مرگانگ، وددگیان ولبھ۔ .مذہب، سلطنت اور سیاست: بهوجبل، بهوپال پدهتی، بهوپال سموچے یاكرتیسموچے۔ .تعزیرات: ویاوهارسموچے، یوكتی كلپترو، پورتمارتنڈ، راجمارتنڈ، راجنیتی۔ .قواعد: شبدانوشاسن۔ .لغت: نام مالكا۔ .علم طب: آیورویدسروسو، راجمارتنڈیایوگ سارسنگره راج مرگاركا، شالیہوتر، وشرانت ودھاونود۔ .موسیقی: سنگیت پرکاش۔ .فلسفہ: راجمارتنڈ(یوگ سوترکاتذکرہ)، راجمارتنڈ (ویدانت) سدھانت سنگرہ، سدھانت سارپدھتی، شیوتتو یاشیوتتوپرکاشکا۔ .فطری شاعری: کورمارثٹک۔ .سنسکرت نظم و نثر: چمپورامائن،مہاکالی وجے، شرنگارمنجری، ودھاونود۔

راجابھوج کے زمانہ میں ہندوستانی ٹیکنالوجی[ترمیم]

جنید احمد راحت: سمرانگڑن سوتردھار کا 31واں باب میکانکی سے متعلق ہے. اس باب میں میکانکی، اس کے اسرار و رموز اور تفصیل کے ساتھ میکانائزیشن کے متنوع نظام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ آلہ اسے کہا گیا ہے جو رضاکارانہ طور پر چلتے ہوئے(زمین, پانی، آگ، ہوا، آسمان وغیرہ) کوایک دائرے میں رکھ کر چلائے. [3] ان عناصر سے بنائے جانے والےمختلف آلات کے الگ الگ احوال ہیں۔ جیسے: - (1) خود کار طریقے سےچلنے والا، (2) ایک بار چلادینے سے مسلسل چلتا رہنے والا، (3) دورسےخفیہ طاقت کے ذریعہ چلایا جانے والا۔اور (4) دقت اور پریشانی کے ساتھ چلایا جانے والا۔ بھوج نے آلہ جات تیار کرنے والی کچھ چیزوں کی تفصیلات بھی دی ہیں۔ میکانکی ہاتھی چنگھاڑتااور چلتاہوا محسوس ہوتاہے. 'شوک' جیسےپرندے بھی تال کے مطابق رقص کرتے اور پاٹھ کرتے تھے، پتلا، ہاتھی، گھوڑے، بندر وغیرہ بھی تال کے مطابق رقص کرتے ہوئے دلچسپ لگتے تھے۔ اس وقت ایک مشینی پتلابنایا گیا تھا.وہ پتلا وہ بات کہہ دیتا تھاجو بادشاہ بھوج کہنا چاہتے تھے۔

راجا بھوج کی وفات[ترمیم]

سنہ 1055عیسوی کے کچھ ہی پہلے گنگوئ دیو کے بیٹے کرن نے گجرات کے چالکیے بھیم پرتھم کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا اور مالوہ پر مشرق اور مغرب کی طرف سے حملہ کر دیا بھوج اپنی سلطنت بچانے کا انتظام کر ہی رہا تھا کہ بیماری سے اچانک اس کی موت ہو گئی اور ریاست آسانی سے حملہ آوروں کے قبضہ میں چلی گئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://libris.kb.se/katalogisering/fcrtng6z43850zb — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018 — شائع شدہ از: 18 ستمبر 2012
  2. विजयेन्द्र कुमार माथुर 1990، صفحہ۔ ३१९.