شہزادی عابدہ سلطان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(پرنسز عابدہ سلطان سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نواب بھوپال، بیگم بھوپال
عابدہ سلطان بیگم
نواب بھوپال، بیگم بھوپال
معلومات شخصیت
پیدائش عابدہ سلطان
28 اگست 1913ء
بھوپال، ریاست بھوپال، برٹش راج،
موجودہ مدھیہ پردیش، بھارت
وفات 11 مئی 2002ء (عمر: 88 سال شمسی)
کراچی، سندھ، پاکستان
مدفن کراچی، سندھ، پاکستان
مذہب سنی اسلام
والد نواب حمید اللہ خان
والدہ میمونہ سلطان
خاندان نواب بھوپال
نسل شہریار خان

شہزادی عابدہ سلطان (پیدائش: 28 اگست 1913ء – وفات: 11 مئی 2002ء) ریاست بھوپال کے آخری حکمران نواب حمید اللہ خان کی بڑی بیٹی اور آخری ولی عہد تھیں۔

بھارتی ریاست بھوپال کی آخری ولی عہد اور پاکستان کی سابق سفیر۔پرنسز عابدہ سلطان ہندستان کی ریاست بھوپال کے آخری حکمران نواب حمیداللہ خان کی تین صاحبزادیوں میں سب سے بڑی تھیں، اور اپنے والد کے حکمران بننے کے بعد انیس سو اٹھائیس میں ریاست کی ولی عہد مقرر کی گئیں۔ انہوں نے اپنا بچپن اپنی دادی بھوپال کی آخری خاتون حکمران سلطان جہان بیگم کے زیر تربیت گزارا، جنہیں وہ ہمیشہ ’سرکار امّاں‘ پکارتی تھیں۔ پرنسز عابدہ سلطان کو ریاست کی حکمرانی کی پوری تربیت دی گئی تھی اور انیس سو تیس میں وہ اپنی والد کی چیف سکریٹری مقرر ہوئیں، اور بعد میں کابینہ کی صدر۔

پرنسز عابدہ سلطان بر صغیر کی پہلے خاتون تھیں جنہوں نے ہوا بازی سیکھی اور انیس سو بیالیس میں باقاغدہ پائلٹ لائسنس حاصل کیا۔ وہ ایک منجھی ہوئی شکاری بھی تھیں اور ریاست کے اہم مہمانوں کو شیر کے شکار پر لے جایا کرتیں۔

وہ ہندوستان کی خواتین کی اسکوائش چیمپین تھیں اور ہاکی اور ٹینس کے مقابلوں میں بھی شریک ہوئیں۔ ان کی شادی نواب صاحب کوربائی سے ہوئی اور ایک بیٹا ہوا لیکن کچھ ہی عرصے بعد دونوں نے اپنی اپنی ریاستوں میں علاحدہ زندگیاں گزارنی شروع کر دیں

تقسیم ہند کے تین سال بعد انیس سو پچاس میں پرنسز عابدہ سلطان بھوپال کی ریاست کا حق ترک کر کے اپنے اکلوتے بیٹے شہریار محمد خان کے ساتھ ولایت کے راستے پاکستان منتقل ہو گئیں۔

پاکستان میں عابدہ سلطان نہایت سادگی سے رہنے لگیں۔ کراچی کے ملیر علاقے میں انہوں نے اپنا گھر بنایا اور بیشتر کام وہ خود کرتیس تھیں۔ شان اور دکھاوے سے بہت پرہیز کرتی تھیں، جب کسی نے ان سے کہا کہ ان کو اپنی ذاتی گاڑی پر ریاست کی خاص لال نمبر پلیٹ لگانی چاہیے تو کہنے لگیں کہ جب ریاست ہی نہیں ہے تو اتنے انداز اور نخرے کیوں؟

پرنسز عابدہ سلطان برازیل میں پاکستان میں کی سفیر بھی رہیں، لیکن صرف اٹھارہ ماہ بعد وہ سفارت سے چھوڑ کر پاکستان واپس آگئیں۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ سرکاری نوکری میں انہوں نے اتنی بدعنوانی دیکھی کہ ان سے برداشت نہ ہو سکا۔ پرنسز عابدہ سلطان نے انیس سو چونسٹھ کے صدارتی انتخاب میں ایوب خان کے خلاف محترہ فاطمہ جناح کی حمایت کی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے حال میں اپنی آپب یتی ’ایک شہزادی کی یاد داشتیں‘ کے عنوان سے مکمل کی تھی۔

شہزادی عابدہ سلطان پاکستان کے سابق سکریٹری خارجہ اور برطانیہ اور فرانس میں سابق سفیر شہریار محمد خان کی والدہ تھیں۔ کراچی میں ان کا انتقال ہوا۔