پروشوتم لکشمن دیش پانڈے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پروشوتم لکشمن دیش پانڈے
Suresh Joshi with P L Deshpandey (cropped).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 8 نومبر 1919  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 12 جون 2000 (81 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
پونے[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی ساورتی بائی پھالے پونہ یونیورسٹی
گورنمنٹ لا کالج، ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد فاضل القانون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف،  فلم ہدایت کار،  اداکار،  نغمہ ساز،  شاعر،  منظر نویس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان مراٹھی زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت دور درشن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
مہاراشٹر بھوشن اعزاز (1996)
مہاراشٹر بھوشن اعزاز (1996)
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن  (1990)
سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ  (1967)
پدم شری اعزاز برائے ادب و تعلیم (1966)
ساہتیہ اکیڈمی اعزاز  (1965)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

پروشوتّم لکشمن دیش پانڈے (پیدائش: 8 نومبر 1919ء - وفات: 12 جون 2000ء) ایک مقبول مراٹهی مصنف، ڈراما نگار، اداکار، اِسکرپٹ نویس اور سنگیت ہدایت کار تھے۔ انہیں مہاراشٹر کی محبوب اور ہر دلعزیز شخصیت کہا جاتا تھا۔ مشہور مصنف اور شاعر وامن منگیش دربھاشی عرف ترویدی دیش پانڈے کے دادا تھے اسی طرح ستیش دربھاشی ماموں زاد بھائی ہیں۔

"گُڑ کی گنپتی" یا "سب کچھ" جیسے مشہور فلموں اور ڈراموں میں دیش پانڈے کی اداکاری میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ دیش پانڈے معلم، مصنف، اداکار، گلوکار، ڈراما نگار، شاعر، ہارمونیم آرٹسٹ، سنگیت ہدایت کار، مقرر اور بہت سی صلاحیتوں کے حامل تھے۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے ڈراموں اور ٹیلی ویژن کے دیگر شعبوں کے کئی محاذوں پر کامیابی حاصل کی۔

حالات زندگی[ترمیم]

ممبئی کے گاؤں دیوی میں پیدا ہونے والے پروشوتم لکشمن عرف بھائی نے پونے کے فرگیوسن کالج اور سانگلی کی ولنگڈن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے سنہ 40ء کی دہائی میں اُنہوں نے اسکول میں معلم کی حیثیت سے کا رہائے نمایاں انجام دیے۔ وہ سنہ 1946ء میں سنیتا بائی سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔

مراٹھی ادب اور موسیقی میں پروشتم لکشمن نے عظیم کارنامے انجام دیے۔ آکاش وانی اور دور درشن ان کے معترف رہے، وہ ایک امن پسند شخص تھے، اسی طرح اُنہوں نے کئی موسیقار کے نغموں کو عام بھی کیا۔ 12 جون، 2000ء کو 81 سال کی عمر میں پونے میں ان کی وفات ہوئی۔

بچپن اور تعلیمی زندگی[ترمیم]

پروشوتم لکشمن دیش پانڈے کے والد اڈوانی کاغذ کمپنی میں دیڑھ سو روپیے کی تنخواہ پر پھیری (گاؤں دیہات جا کر سامان فروخت کرنا) کرتے تھے، پھیری کرنے والوں کو کھانے کا بھتّا دیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ جبکہ وہ پھیری پر کولہاپور میں تھے انہوں نے اپنی بہن کے ہاں کھانا کھایا تو اس دن کا بھتّا نہیں لیا، ایسے بَھلے اور نیک گھرانے میں پروشوتم لکشمن پیدا ہوئے۔

پروشوتم لکشمن دیش پانڈے نوعمری سے ہی تندرست تھے، عمر کے دوسرے برس ہی وہ پانچ سال کے بچوں کی طرح لگتے تھے، نیز انتہائی ذہین و فطین تھے، ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتے تھے۔ انہیں صحتمند رہنے کے لیے گھر والے پیسے دیتے تھے لیکن یہ پیسے اُن کے نصیب میں نہیں تھے، دادا کی تحریرہ کردہ اور اپنی تیار کی ہوئی دس پندرہ سطریں انہوں نے اپنی عمر کے پانچویں برس ہی میں اسکول میں گرجدار آواز میں سنائی، ایسی تقریریں سات برس چلتی رہیں، عمر کے بارہویں سال سے پروشوتم لکشمن نے خود لکھنا شروع کیا اور اداروں کو تحریریں لکھ لکھ کر دینے لگے۔

اپنے گھر میں پروشوتم لکشمن کو مطالعہ اور ریڈیو سننے کا خوب موقع ملا، ان کے گھر موسیقی کی نشست ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے اپنے گھر ہی میں پیانو بجانا سیکھ لیا تھا۔ ایک دفعہ تلک مندر میں بال گندھرو آئے، اس موقع پر پروشوتم لکشمن نے انہیں پیانو بجا کر سُنایا، بال گندھرو نے حوصلہ افزائی کی اور بہترین موسیقی پر شاباشی اور نیک تمنائیں ظاہر کیں۔ لوگوں کی گفتگو کے انداز اور مذاکرات کے اہم نکات چُن کر پروشوتم لکشمن ان چنندہ اجزا کی نقل کرتے تھے، اسی لیے جب گھر میں کوئی مہمان آتا تو ان کی والدہ یہ چاہتی کہ پروشوتم آس پاس نہ ہو تو بہتر ہے۔ پروشوتم لکشمن دیش پانڈے کی والدہ کا تعلق کاروار سے، والد کا کولہاپور سے اور ان کی بہن کا تعلق کوکن سے تھا، اسی بنا پر ان کے گھر میں نوع نوع کے پکوان پکتے تھے، اسی باعث پروشوتم لکشمن کھانوں کے شوقین ہوئے۔

والد کی وفات کے بعد پروشوتم لکشمن موسیقی اور دیگر فنون کی تعلیم و تدریس میں لگ گئے، وہ اسکول میں رہتے ہوئے نغمہ سرائی کرتے اور نغموں کو سُر میں ڈھالتے۔ کالج ہی کے زمانے میں انہوں نے راجا بڑھے کی نظم " میرے محبوب جا" کو سُر اور تال عطا کی، آج یہ نغمہ مراٹھی نغموں میں امتیازی مقام رکھتا ہے۔ گ د مڈگُلکر اور بھیم سین جوشی کی لکھی اور گائی ہوئی "اندرائینی کاٹھی لا" نظم کو پروشوتم لکشمن نے لہجہ و اسلوب عطا کیا اور یہ نغمے آج تک زندہ ہیں۔ کالج میں رہتے ہوئے پروشوتم لکشمن گویّوں کے ساتھ رہتے تھے، پروشوتم پیانو بجاتے ان کے بھائی رما کانت طبلچی تھے نیز ان کے ایک اور بھائی مدھوکر گولوالکر سارنگ بجاتے تھے، ملے ہوئے 15 روپیے تینوں آپس میں تقسیم کر لیا کرتے تھے۔ پارلے تلک کالج سے تعلیم مکمل کر کے وہ ممبئی کے اسمٰعیل یوسف کالج سے انٹر پاس ہوئے اور سرکاری لا کالج سے انہوں نے ایل ایل بی کی، کلکٹر کچہری اور انکم ٹیکس شعبے میں لمبے عرصہ تک خدمات انجام دی اور پھر پونے لوٹ آئے۔ اس سے پہلے وہ پٹرول اور راشننگ آفس میں کلرک کی حیثیت سے رہے اور اورئینٹیل ہائی اسکول میں معلم رہے، پونے آنے کے بعد انہوں نے فرگیوسن کالج سے بی اے پھر ایم اے کی تعلیم مکمل کی۔

مصنف اداکار اور ڈراما نگار کی حیثیت سے[ترمیم]

سنہ 1937ء سے پروشوتم لکشمن چھوٹے موٹے ڈراموں میں حصہ لینے لگے، اسی سال انہوں نے اننت کانوکر کے "پے جار" کے ساتھ کام کیا۔ سنہ 1944ء میں پروشوتم لکشمن نے اپنی بنائی ہوئی پہلی تصویر "بھٹیا ناگپور کر" کی نمائش کی، اسی اثنا میں پروشوتم لکشمن کی لکھی ہوئی "ستیہ کتھا" سے "جن اور گنگا کماری" کی دلچسپ کہانی ناظرین کی توجّہ کا مرکز بنی اور پروشوتم لکشمن مصنف بن گئے۔

فرگیوسن میں رہتے ہوئے پروشوتم لکشمن دیش پانڈے نے چنتامنی کولہٹکر کی "للت کلا کُنج" اور "ناٹیا نکیتن" ڈراما کمپنیوں سے اپنی اداکاری کی شروعات کی اور پروشوتم لکشمن اداکار بن گئے۔ سنہ 1947ء میں پروشوتم لکشمن نے "تُکا مہنو آتا" اور "بے چارے سوبھدر" یہ دو ڈرامے لکھے اور اس طرح پروشوتم لکشمن ڈراما نگار بن گئے۔

فلمی زندگی[ترمیم]

سنہ 1947ء سے سنہ 1954ء تک وہ اداکاری کرتے رہے۔ "وندے ماترم" "دودھ بھات" اور "گڑ کی گنپتی" میں انہوں نے مختلف الجہات اداکاری کی اور کامیاب ہوئے، یعنی فلموں کی کہانیاں، نغمے، اداکاری اور دیگر تمام کردار پروشوتم لکشمن تنہا کرتے تھے۔ سنہ 1947ء میں مو۔ گ. رگنوکر کی فلم کبیر کے لیے نغمہ لکھا اور نغمہ نگار بن گئے، فلم کے نغمے انہوں نے ہی گائے تھے اور اب وہ بہترین گلوکار ہوچکے تھے۔ وندے ماترم میں پروشوتم لکشمن اور ان کی بیوی سنیتا بائی کا مرکزی کردار تھا۔ پروشوتم لکشمن گلوکار کے ساتھ ساتھ ہیرو بھی تھے، اس اداکاری کی بدولت پروشوتم لکشمن فلمی دنیا میں ہیرو بن گئے۔ پروشوتم لکشمن دیش پانڈے کا ڈراما "دیو باپّا" ڈراموں کی دنیا میں ممتاز قرار پایا، اسی طرح "ناچ رے مورا" جیسے دلکش نغمے آج تک بچوں کے پسندیدہ نغموں میں سے ایک ہے۔ "پُڑھچَں پاؤل" ڈرامے میں انہوں نے "کرشنا مہارا" کا کردار ادا کیا اور بہترین اداکار قرار پائے۔

حوالہ جات[ترمیم]