پسندیدہ ملک (سیاست)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بین الاقوامی اقتصادی تعلقات اور بین الاقوامی سیاست میں پسندیدہ ملک ایسی حیثیت یا سلوک کا درجہ ہے جو ایک ملک بین الاقوامی تجارت میں کسی دوسرے ملک کو دیتا ہے۔ پسندیدہ ملک کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک کو دوسرے ممالک سے الگ کچھ خصوصی تجارتی رعایتی سلوک کیا جائے۔ تجارتی رعایت میں کم محصول اور بلند حصہ رسد شامل ہیں۔ جس ملک کو نہایت رعایتی حیثیت حاصل ہو اس ملک کو وعدہ کند ملک کی طرف سے کسی دوسرے ملک کی نسبت کم تجارتی فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔

نہایت رعایت ملک کا فائدہ عموماً بڑے ممالک (جن کی پیداوار زیادہ اور لاگت کم ہو) کو ہوتا ہے۔ جبکہ چھوٹے ممالک کی اپنی صنعت تباہ ہو جاتی ہے اور وہ ان بڑے ممالک کی منڈیاں بن کر رہ جاتے ہیں۔

بھارت نے 1996ء میں پاکستان کو یہ حیثیت دینے کا اعلان کیا، جبکہ پاکستان میں زرداری حکومت نے بھارت کو یہ حیثیت 2011ء میں دینے کا عندیہ دیا۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Parliament bypassed over MFN status to India: Nisar"۔ پاک ٹریبیون۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 اکتوبر 2011۔
  2. مبارک زیب خان۔ "Confusion over MFN status for India"۔ ڈان۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔