پطرس بخاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پطرس بخاری
پطرس بخاری.jpg
پیدائش سید احمد شاہ بخاری1 اکتوبر 1898 (1898-10-01)ءپشاور، موجودہ پاکستان
وفات 5 دسمبر 1958 (1958-12-05)ءنیو یارک، ریاستہائے متحدہ امریکہ
آخری آرام گاہ نیو یارک، ریاستہائے متحدہ امریکہ
قلمی نام پطرس
پیشہ مصنف، شاعر، معلم، سفارت کار اور خطیب
قومیت پاکستان کا پرچمپاکستانی
نسل سید، شاہ
تعلیم ایم اے (انگریزی)
مادر علمی گورنمنٹ کالج لاہور، کیمبرج یونیورسٹی
صنف مزاح نگاری، افسانہ نگاری، تنقید، شاعری
نمایاں کام پطرس کے مضامین
اہم اعزازات ہلالِ امتیاز،

دستخط

سید احمد شاہ پطرس بخاری (انگریزی: Patras Bokhari) (پیدائش: یکم اکتوبر 1898ء - وفات: 5 دسمبر 1958ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مزاح نگار، افسانہ نگار، مترجم، شاعر، نقاد، معلم، برطانوی ہندوستان کے ماہر نشریات اور پاکستان کے سفارت کار تھے۔ پطرس کے طنزیہ و مزاحیہ مضامین کا مختصر مجموعہ پطرس کے مضامین پاکستان اور ہندوستان میں اسکولوں سے لے کر جامعات تک اردو نصاب کا حصہ ہے۔ ان کا شمار متحدہ ہندوستان میں نشریات کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پطرس اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے مستقل مندوب کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ پطرس انگریزی کے پروفیسر تھے اور انگریزی میں اتنی قابلیت تھی کہ انہوں نے امریکہ کی جامعات میں انگریزی پڑھائی، اور وہیں وفات پائی اور دفن ہوئے۔

حالات زندگی[ترمیم]

پیدائش و ابتدائی تعلیم[ترمیم]

پطرس بخاری یکم اکتوبر 1898ء میں پشاور، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید اسد اللہ شاہ بخاری پشاور کے ایک معروف وکیل خواجہ کمال الدین کے منشی تھے[1][2]۔

اس زمانے کے رواج اور خاندانی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے پطرس بخاری کو گھر پر ناظرہ قرآن پاک پڑھایا گیا۔ فارسی کی تعلیم ضروری خیال کی جاتی تھی اسی لئے "صفوۃ المصادر" کے ذریعے فارسی زبان کے قواعد کی باقاعدہ تعلیم دی گئی۔ دینی اور ثقافتی بنیاد فراہم کرنے کے بعد والد نے آنے والے دور کے تقاضوں کو بھانپتے ہوئے دوستوں اور خیر خواہوں کے اعتراضات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نو سالہ پیر احمد شاہ (پطرس بخاری) کو انگریزی تعلیم کے لئے مشن اسکول پشاور میں داخل کرادیا۔ مشن اسکول میں داخل ہوتے ہی انہوں نے انگریزی نظمیں زبانی یاد کرنا شروع کردیں۔ اس زمانے میں انگریزی کے استاد انگریز ہوتے تھے جو بچوں کے تلفظ کا خاص خیال رکھتے تھے۔ احمد شاہ کی آواز، انگریزی لہجے اور خوبصورت تلفظ کے سبب ان کی انگریزی نظم خوانی پر اساتذہ خصوصی توجہ دیتے تھے۔ اس طرح انگریزی ادب سے مانوسیت نے دلی لگاؤ کی کیفیت پیدا کردی[3]۔ مشن ہائی اسکول میں تعلیم کے اعلیٰ معیار سے پورا پورا فائدہ اُٹھایا اور 1913ء میں پندرہ برس کی عمر میٹرک میں اعلیٰ نمبروں سے کامیابی حاصل کی[4]۔

والد صاحب نے انہیں 1914ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ دلوا دیا جہاں وہ ابتدا میں شرمیلے، کم گو اور ہوشیار طالبِ علم کی حیثیت سے اُبھرے [4] جہاں انہوں نے 1916ء سے 1922ء تک تعلیم حاصل کی۔

اعلیٰ تعلیم[ترمیم]

پطرس بخاری 26-1925ء میں اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان گئے۔ انہوں نے انگریزی ادب میں اعلیٰ ترین سند کے لئے کیمبرج یونیورسٹی کا انتخاب کیا اور کیمبرج یونیورسٹی کے عمانویل کالج میں انگریزی ادب میں TRIPOS کی سند اول درجے میں حاصل کی اور عمانویل کالج کے سینئر اسکالر منتخب ہوئے۔ وہ جنوبی ایشیا کے دوسرے طالبِ علم تھے جس نے انگریزی ادب میں اول درجے میں سند حاصل کی[5]۔

ملازمت[ترمیم]

گورنمنٹ کالج لاہور[ترمیم]

بخاری صاحب نے ملازمت کا آغاز 1922ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے لیکچرار کی حیثیت سے کیا اور 1935ء تک منسلک رہے۔ گورنمنٹ کالج سے اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان گئے تھے، واپسی پر انہیں ٹریننگ کالج میں انگریزی کا استاد مقرر کردیا گیا۔ کچھ عرصے بعد آپ کا تقرر گورنمنٹ کالج لاہور میں بطور لکچرارہو گیا۔ انتظامیہ نے بخاری صاحب کی صلاحیتوں سے پورا پوارا انصاف کیا۔ انہیں پراکٹر (نگران طلباء) مقرر کیا جس کا کام طلبا میں نظم و ضبط برقرار رکھنا تھا۔ انہوں نے اس ذمہ داری کو بڑی چابک دستی اور احتیاط سے نبھایا۔ وہ طلباء کو سزا نہیں دیتے تھے۔ سرزنش کا ان کا اپنا انداز تھا۔

آپ کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اُس وقت کے گورنر نے آپ کو گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبۂ انگریزی کی صدارت پر فائز کیا۔ یاد رہے پطرس بخاری پہلے مسلمان صدر شعبۂ انگریزی تھے۔ Prof. E. Dickenson کی سبکدوسی کے بعد 1 مارچ 1947ء کوپطرس نے گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل کا عہدہ سنبھالا جہاں 1950ء تک خدمات انجام دیتے رہے[6]۔

آپ کے شاگردوں میں فیض احمد فیض، ن م راشد، کنہیا لال کپور، اقبال سنگھ، الطاف قادر، حفیظ ہوشیار پوری، حنیف رامے اور پروفیسراشفاق علی خان بطور خاص شامل ہیں۔

آل انڈیا ریڈیو[ترمیم]

1936ء میں جنوبی ایشیا میں ریڈیو کے باقاعدہ قیام نے بخاری صاحب کی انتظامی اور فن کارانہ صلاحیتوں کو جِلا بخشی اور انہوں نے تعلیم کے شعبے کو خیرباد کہہ کر ایک ایسے میدان میں خدمت کو ترجیح دی جس کے امکانات لامحدود تھے۔ ریڈیو میں لائق اور با صلاحیت عملے کے انتخاب کے لیے مرکزی حکومت نے جو بورڈ تشکیل دیا تھا اس میں صوبہ پنجاب کے نمائندے کی حیثیت سے بخاری صاحب کو نامزد کیا گیا تھا۔ بورڈ کے اجلاس میں بخاری صاحب نے اپنی لیاقت، انگریزی میں صلاحیت، اردو ادب اور فنونِ لطیفہ میں مہارت سے ریڈیو کے کنٹرولرنیونل فیلڈن کو بہت متاثر کیا۔ اسی بورڈ میں بخاری صاحب کے چھوٹے بھائی ذوالفقارعلی بخاری کا بھی انتخاب ہوا۔ نیونل فیلڈن نے دو ایک ماہ کے بعد ہی محسوس کیا کہ ریڈیو کے بڑھتے ہوئے کام سے تنہا عہدہ برآ ہونا ممکن نہیں۔ اسی لیے نیونل فیلڈن نے وائسرائے لارڈ لنلتھگو سے جو رشتے میں اس کے ماموں تھے براہِ راست بخاری صاحب کی تقرری کے احکامات حاصل کروا لیے اور حکومتِ پنجاب سے انہیں فوری طور پر ریڈیو میں شمولیت کی اجازت طلب کی۔ پطرس بخاری ڈپٹی کنٹرولر کے عہدے کا چارج لینے آئے تو معلوم ہوا کہ ابھی یہ اسامی حکومت نے منظور نہیں کی ہے۔ لہذا انہیں دو ماہ کے لیے دلی اسٹیشن کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے جون 1936ء میں ڈپٹی ڈائریکٹر کا چارج سنبھالا۔ 1939ءمیں پطرس کو ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔

ابھی ریڈیو کے کام کا آغاز ہی ہوا تھا کہ بخاری کا نیونل فیلڈن سے اختلاف شروع ہوگیا۔ اس کا آغاز اختلافِ رائے سے ہوا اور پھر ذاتی نوعیت اختیار کر گیا۔ اسی دوران جنگِ عظیم شروع ہونے سے قبل ہی نیونل فیلڈن بیمار ہو کرانگلستان چلا گیا اور بخاری اس کی جگہ قائم مقام کنٹرولر مقرر کردیے گئے اور 1940ء میں مستقل کنٹرولر مقرر کیے گئے۔ یہ عہدہ فروری 1943ء کو ڈائریکٹر جنرل میں تبدیل کردیا گیا۔

بخاری صاحب نے سب سے پہلے انڈین براڈکاسٹنگ سروس کا نام آل انڈیا ریڈیو منظور کروایا جس کی انگریزی تخفیف شدہ شکل AIR ہے۔ انہوں نے ریڈیو کا شناختی نغمہ بھی منتخب کیا جو آج بھی پورے ہندوستان میں گونج رہا ہے۔ اس کے بعد بخاری کا ریڈیائی زبان کے مسئلے سے سابقہ پڑا۔ نیونل فیلڈن نے تو صرف حکومت کا یہ حکم سنا دیا کہ قومی پروگراموں کی زبان "ہندوستانی" ہو گی۔ اس طرح 1 جنوری 1936ء کو انڈین براڈکاسٹنگ سروس دلی اسٹیشن کا افتتاح ہوا تو گویا زبان کے سلسلے میں بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا گیا۔ سیاسی حلقوں میں الزام تراشیوں کا بازار گرم ہو گیا۔ ریڈیو کی زبان پر اخبارات میں، مرکزی اسمبلی میں اور سیاسی جلسوں میں اعتراضات کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ پطرس بخاری نے حواس مجتمع رکھے، حوصلہ نہیں ہارا اور سب سے پہلے زبان کے مسئلے کے سیاق و سباق سے آگاہی کے لیے چھ تقاریر کا ایک سلسلہ نشر کیا۔ مقررین میں بابائے اردو مولوی عبدالحق، راجندر پرشاد (بعد میں ہندوستان کےپہلے صدر ہوئے)، ڈاکٹر تارا چند (الہ آباد یونیورسٹی)، ڈاکٹر ذاکر حسین (بعد میں ہندوستان کے صدر ہوئے)، پنڈت برج موہن دتا تریا کیفی (اردو ادیب اور دانشور) اور ڈاکٹر آصف علی (سیاسی قائد) جیسی بلند مرتبت، لائق اور صاحبِ رائے شخصیات شامل تھیں۔ اس سلسلۂ تقاریر میں بخاری نے یہ جدت بھی کی کہ انگریزی کی ایک عبارت، اس کا وہ ترجمہ جو ریڈیو سے نشر ہوا اور خالص ہندی ترجمہ بھی مقررین کو بھیجا کہ وہ اس پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔ ان کی رائے ریڈیائی زبان کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ان تقاریر کی نشر و اشاعت کے بعد بخاری صاحب کو برطانوی حکومت کے ساتھ ساتھ کانگریس کی بھی سرپرستی حاصل ہو گئی جو اس زمانے میں بیشتر صوبوں میں حکمران تھی۔ موزوں الفاظ کے فوری طور پر استعمال کے لیے ایک ایسی فرہنگ کی ضرورت تھی جس کے الفاظ نہ اردو کے ہوں نہ ہندی کے بلکہ ہندوستانی (عوام فہم) ہوں۔ اسے مرتب کرنے کے لیے چراغ حسن حسرت اور ایچ دت "سیانا" کو بطور ماہر مقرر کیا۔ اس فرہنگ پر نظرثانی کے لیے ڈاکٹر دوونشنی اور ڈاکٹر رفیق الدین پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی۔ یہ فرہنگ چار سال میں مکمل ہوئی اور 1944ء میں لطیفی پریس نئی دلی سے شائع ہوئی۔

جنگِ عظیم دوم شروع ہوتے ہی ستمبر 1939ء میں دلی کو محکمۂ خبر کا مرکز بنا دیا گیا۔ حکومت نے آل انڈیا ریڈیو کے صدر دفتر کو اپنی عمارت میں، پارلیمنٹ اسٹریٹ پر منتقل کیا اور 1943ء میں ریڈیو ایک مستقل محکمہ بنا دیا گیا۔ جنگ کے شرو ع ہوتے ہی دشمن کی نشریات سننے پر پابندی لگا دی گئی لیکن سرکاری محکموں کی اطلاع اور دشمن پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے شملہ میں ایک مانیٹرنگ اسٹیشن قائم کیا گیا جس کی رپورٹ روزانہ متعلقہ محکموں کو خفیہ خطوط کے ذریعے فراہم کی جاتی تھی۔ جنگ کے دوران بخاری صاحب کی خدمات کو حکومت کی سطح پر سراہا گیا اور انہیں( Companion of the Indian Empire (CIE کا خطاب دیا گیا۔ جنوبی ایشیا میں نشریات کی بنیاد رکھنے اور اسے فروغ دینے میں بخاری صاحب کی خدمات کو فراموش کرنا ممکن نہیں ہے۔

حکومت پاکستان نشریات کے محاذ پر بخاری کے تجربے سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہتی تھی اسی لیے بخاری صاحب کو 14 اکتوبر 1947ء سے کل وقتی مشیر مقرر کرکے ریڈیو فریکوئنسی کی تقسیم کی پہلی کانفرنس میں ریڈیو کے وفد کا سربراہ بنا کر بھیجا گیا۔ یہ کانفرنس میکسیکو سٹی میں اپریل 1949ء تک جاری رہا۔ اس کانفرنس میں اے عزیزانجینئر سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے والد بھی شریک تھے۔ افتتاحی اجلاس میں بخاری صاحب نے اپنی فی البدیہہ تقریر سے دھاک بٹھا دی[7]۔ میکسیکو میں قیام کے دوران بخاری صاحب نے ہسپانوی زبان سیکھی اور چار ماہ بعد ہی ہسپانوی زبان بلاتکلف بولنے لگے، اخبارات پڑھنے لگے اور وہاں کی تہذیب وثقافت کا مطالعہ کیا۔ میکسیکو کے تاثر کے بارے میں سالک صاحب کو اپنے خط میں ذکر کرتے ہیں کہ[8]،

میکسیکو مجھے بے حد پسند آیا۔ پہاڑی ملک ہے۔ آب و ہوا بھی خوشگوار ہے، لوگ رنگین طبع، با اخلاق، رنگین مزاج ہیں--- موسیقی، ناچ اور سواری کے بے حد شوقین ہیں، گفتگو میں آپ، جناب، حضور وغیرہ کثرت سے استعمال کرتے ہیں--- پچاس سال سے یہاں ایک نئی نیشنلزم بروئے کار آرہی ہے جو اپنے آپ کو صرف میکسیکو سے وابستہ کرتی ہے۔

چھ ماہ بعد کانفرنس ختم ہوا اس دوران پاکستان کے پہلے وزیر اعظم، لیاقت علی خان نے امریکہ اور کینیڈا کا دورہ کیا۔ تقاریر لکھنے کے لیے بخاری صاحب کو بھی ساتھ لے لیا۔ یہ تقاریر"Pakistan Heart of Asia" کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہو چکی ہیں[9]۔

اقوامِ متحدہ[ترمیم]

پطرس بخاری اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل داگ ہیمرشولڈ کے ساتھ

بخاری صاحب کو 1 اگست 1949ء کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل مندوب مقرر کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب ہندوستان کشمیر کا تنازعہ لے کر اقوام متحدہ میں گیا تھا۔ فلسطین کا مسئلہ اقوامِ متحدہ میں گرما گرم بحثوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ تیونس کی آزادی کا معاملہ اقوامِ عالم کے لیے اہمیت اختیار کرچکا تھا[8]۔

پطرس بخاری اقوامِ متحدہ میں

بخاری صاحب افتادِ طبع کے ہاتھوں مجبور ہوکراس ماحول سے کنارہ کرنے لگے اور سفارت کاری میں اپنی خداداد ذہانت سے پورا پورا فاعدہ اٹھانے کے لیے سخت محنت کرتے۔ انہیں اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں اور چھوٹی بڑی کمیٹیوں میں مختلف موضوعات پر تقریر یں کرنی پڑتی تھیں۔ ان کی تقریر کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے کینیڈا کے اخبار نے لکھا کہ ان کی تقریر تمام سیاستدانوں کے لیے ایک سبق کی حیثیت رکھتی ہے کہ تقریر میں کس قسم کی زبان استعمال کرنی چاہیے، انگریزی سیکھنی ہے تو بخاری سے سیکھئے۔ ان کی سب سے اہم تقریر 4 اپریل 1952ء کو سلامتی کونسل میں تیونس کی آزادی کے مسئلے پرفرانس کے خلاف گیارہ نکاتی شکایت پر تھی جس نے انہیں عرب اور ایشیائی ممالک کے قابلِ اعتماد ترجمان کی حیثیت عطا کردی۔ بخاری کی اس خدمت کو تیونس نے بھی تسلیم کیا اور اظہارِ عقیدت کے لیے وہاں پتھر کا ایک چھوٹا سا مینار بخاری کی یادگار کے طور پر تعمیر ہوا[10]۔ نومبر 1953ء میں اقوامِ متحدہ کی ایڈہاک کمیٹی نمبر 3 کے اجلاس میں نسلی امتیاز کی پالیسی کو اخلاقی لحاظ سے قابلِ مذمت قرار دیا۔ 19 دسمبر 1953ء کو فلسطین کے پیچیدہ مگر اہم مسئلے پر بحث کرتے ہوئے تین بڑوں کے رویئے پر طنز کے تیر برسائے۔ اسی طرح دریائے اردن کے تنازع پر ایک مدلل و مؤثر تقریر کی۔ 28 فروری 1954ء کو ایک اجلاس میں پاکستان کے لیے فوجی امداد کے موضوع پر پُرمغز باتیں کیں اور اسے جنگ کے بعد بین الاقوامی تعاون کی اہم مثال قرار دیا۔

پطرس بخاری نیویارک ٹائمز یوتھ فورم میں

پطرس نے 17 اپریل 1954ء کو نیو یارک ٹائمز کے یوتھ فورم سے خطاب کیا جس کا موضوع تھا جارحانہ جنگوں کے خاتمے کی ضرورت۔ ان تقریروں نے ان کی علمیت، انگریزی زبان و ادب پر دسترس اور حسِ مزاح کی دھاک بٹھا دی۔ نیو یارک ٹائمز، کرسچین سائنس مانیٹر، نیویارک ڈیلی، شکاگو ٹریبون نے بخاری کو اقوام متحدہ کے بہترین مقرروں میں شمار کیا۔ اقوام متحدہ میں تعینات نامہ نگاروں نے انہیں سب سے زیادہ خوش بیان اور فصیح و بلیغ مقرر قرار دیا[11]۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ کے بعد اقوامِ متحدہ کے اس وقت کےسیکریٹری جنرل داگ ہیمرشولڈ نے پطرس بخاری کو اقوامِ متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل انچارج تعلقات عامہ کے عہدے کے لیے منتخب کر لیا۔ جس پر بھارت نے سخت احتجاج کیا لیکن اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل داگ ہیمرشولڈ نے تمام اعتراضات کو رد کرتے ہوئے ان کی تقرری کی منظوری دی۔ بخاری صاحب کی تقرری بخاری صاحب کے ساتھ پاکستان کے لیے ایک اعزاز تھا جو پھر کسی پاکستانی کو حاصل نہیں ہو سکا۔

ادبی و فنی خدمات[ترمیم]

ادبی زندگی کا آغاز[ترمیم]

پطرس بخاری نے اپنی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز سول اینڈ ملٹری گزٹ سے کیا۔ وہ عموماً تنقیدی مضامین لکھتے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے Peter Watkins کا قلمی نام اختیار کیا تھا۔ یہ ایک لحاظ سے مشن اسکول پشاور کے ہیڈ ماسٹر سے قلبی تعلق کا اظہار تھا۔ جس کے لفظ "پیٹر" کے فرانسیسی تلفظ نے پیر احمد شاہ کو پطرس بنا دیا۔ اس وقت سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر M.E. Hardy تھے جو بخاری کو ایک کالم کا سولہ روپیہ معاوضہ ادا کرتے تھے جس کی قدر اس زمانے میں تین تولہ سونے سے زائد تھی[12]۔

پطرس قلمی نام[ترمیم]

پطرس بخاری نے پطرس کا قلمی نام سب سے پہلے رسالہ کہکشاں کے ایک سلسلۂ مضامین یونانی حکماء اور ان کے خیالات کے لئے استعمال کیا۔ بخاری کی تحریریں پطرس کے نام سے اپنے زمانے کے مؤقر رسائل و جرائد میں شائع ہوتی تھیں۔ ان کی بیشتر تحریریں کارواں، کہکشاں، مخزن، راوی اور نیرنگِ خیال میں اشاعت پذیر ہوئیں۔

اردو ادیب[ترمیم]

1945ء میں جے پور میں PEN (اہلِ قلم کی بین الاقوامی انجمن) کا سالانہ اجلاس ہوا جس میں بخاری صاحب نے جو اس وقت آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹرجنرل تھے ایک نہایت فکر انگیز مقالہ بعنوان "ہمارے زمانے کا اردو ادب" پیش کیا۔ اس اجلاس میں معروف انگریزی ادیب E.M. Foster، مس سروجنی نائیڈو، جواہر لعل نہرو، رادھا کرشنن، صوفیا واڈیا، ملک راج آنند اور کتنے ہی مشاہیرِ علم و ادب شریک تھے۔ رشید احمد صدیقی کا بیان ہے کہ[13]

مقالہ پڑھا تو دھوم مچ گئی۔ اردو اور ہندوستان کی دیگر زبانوں کے ادیبوں کے ایک بنیادی مسئلے کو پہلی بار نہایت وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا تھا--- انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ادیب مادری زبان اور انگریزی زبان کے درمیان معلق ہوکر رہ گئے ہیں۔ یہ ذولسانی کشمکش ان کے فکر و نظر کو فطری رنگ میں جلوہ گر ہونے نہیں دیتی۔

تنقید نگاری[ترمیم]

پطرس بخاری کی تنقید کسی خاص صنف تک محدود نہیں تھی۔ وہ نظم و نثر تمام اصنافِ ادب کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے پر قادر تھے۔ بخاری صاحب نے ڈراما، افسانہ اور ادب پرتنقیدی مضامین لکھے۔ تنقید کے سلسلے میں پطرس کے مقالوں کی تعداد کم ہے۔ انہوں نے دیباچوں اور تقریظوں میں بھی اپنی تنقیدی صلاحیتوں کا پوری طرح اظہار کیا ہے۔

تراجم[ترمیم]

پطرس بخاری انگریزی زبان کے رموز، انداز اور مزاج سے اچھی طرح واقف تھے۔ انہوں نے اپنی اس صلاحیت کو ترجموں میں بڑی چابکدستی سے استعمال کیا۔ انہیںاردو میں اظہار پر بھی پوری قدرت حاصل تھی اسی لیے ان کے اردو تراجم کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ ترجمے کو میکانکی نہیں بلکہ تخلیقی عمل مانتے تھے۔ پطرس بخاری کے ترجموں میں افسانے بھی ہیں، ڈرامے بھی، فلسفیانہ مضامین بھی ہیں اور اوپیرا بھی۔ اس تنوع نے ان کی ترجمہ نگاری کی صلاحیتوں کی تمام جہتوں کو اجاگر کیا ہے۔ بخاری نے ترجموں کے لیے جن اہلِ قلم کی نگارشات کا انتخاب کیا اس سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں ہے کہ اس انتخاب میں ان کے اندر چھپا ہوا "استاد" نمایاں ہے۔ ان ترجموں کا مقصد یہ نظر آتا ہے کہ پڑھنے والے عام افراد مغربی ادب کے شہ پاروں سے آشنا ہو جائیں اور طلبہ میں بھی مزید مطالعے کا شوق بیدار ہو، دیگر صاحبِ علم میں ترجمہ کرنے کا ذوق پیدا ہو۔ بخاری کی ان کوششوں سے اردو میں روز افزوں ترجموں کے دور کا آغاز ہوا[14]۔

بخاری صاحب نے مندرجہ ذیل تخلیقات کو اردو کا جامہ پہنایا،

  1. مارخم (افسانہ) از رابرٹ لوئیس اسٹیونسن
  2. گونگی جورو (ڈراما) فرنسیسی مصنف فرانسس رابیلے
  3. صید و صیاد (افسانہ) ماخوذ از فرانسہ
  4. تائیس (رومان) از اناطول فرانس
  5. سیب کا درخت (افسانہ) از جان گالزوردی
  6. نوعِ انسانی کی کہانی (دنیا کی ابتداء) از ہینڈرک فان لون 522 صفحات کی مکمل کتاب
  7. بچے کا پہلا سال از برٹرینڈ رسل 407 صفحات کی مکمل کتاب
  8. دیہات میں بوائے اسکاؤٹ کا کام (مکھیوں کا بادشاہ) از ایف ایل برین 200 صفحات کی مکمل کتاب

شاعری[ترمیم]

بخاری کو شاعری اور شاعرانہ ذوق ورثے میں ملا تھا۔ والد خود بھی شاعر تھے۔ گورنمنٹ کالج میں مشاعروں کی صدرات پطرس بخاری کی ذمہ داری تھی۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے بیان کے مطابق کالج کے مشاعروں میں وہ نہ صرف صدارت کرتے بلکہ دادِ سخن بھی دیتے، خود شعر بھی سناتے۔

بخاری نے سنجیدگی سے نہیں محض تفریح کے لئے کبھی کبھی شعر کہے ہیں۔ اس میں نظمیں اور غزلیں دونوں شامل ہیں۔ بچوں کے لئے بھی مختصر اور خوبصورت سی نظم نقوش کے پطرس نمبر میں شامل ہے، انہوں نے فارسی میں بھی شعر کہے ہیں۔ پطرس کا ایک شعر ملاحظہ ہو،

میں خم کے سایے میں سر گوشیاں کروں ایسی کہ تیرے لب مری ہر بات کو نبات کریں

افسانہ نگاری[ترمیم]

ڈرامے سے وابستگی اور تھیٹر کی چاٹ نے بخاری کی تقریباً ہر تحریر میں افسانوی انداز پیدا کر دیا ہے۔ ان کے طبع زاد مضامین میں افسانہ پن ہر جگہ نمایاں ہے۔ برستے ہوئے مینہ کی ایک گنگناتی بوند کا اثربیان کرتے ہیں،

مینہ موسلادھار برس رہا ہے۔ ندی نالے چڑھے ہوئے ہیں۔ ہر طرف شام کی سی تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ درخت اور پودے ایک دھلی ہوئی تصویر کی طرح اپنی سبزی میں زیادہ سبز اور اپنی پاکیزگی میں زیادہ صاف نظر آ رہے تھے۔ پھول اور پرندے، نغمہ کی نکہت، رنگ و بو سب شاداں معلوم ہوتے ہیں۔ اے میری آرزؤں کی ملکہ میرا دل اداس ہے۔

مکتوب نگاری[ترمیم]

بخاری کے خطوط ان کی طرزِ تحریر کے آئینہ دار ہونے کے سبب خاص نوعیت کے بھی ہیں۔ زبان سادہ اور بیانیہ ہے۔ ان میں ادبی موضوعات بھی ہیں، خاندانی امور بھی۔ دوستوں سے شکوے، ملازمت کے دکھڑے، سب کچھ ہے جو ایک انسان کی زندگی میں پیش آسکتا ہے۔ فیض احمد فیض کی بیٹی منیزہ ہاشمی کو اقوامِ متحدہ میں بیٹھ کر لکھتے ہیں کہ،

میں تمہیں خط اپنے دفتر سے لکھ رہا ہوں جو اقوامِ متحدہ کے سیکریٹریٹ کی عمارت میں دسویں منزل پر واقع ہے۔ اس عمارت کی اڑتیس منزلیں ہیں ایک مستطیل سا بنا رہی ہیں۔ سمجھو دور سے ایسے لگتی ہے جیسے ماچس کی ڈبیا اپنے کناروں پر کھڑی ہو۔

بخاری نے جنہیں خطوط لکھے یا جن سے ان کی خط و کتابت تھی ان کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ خطوط کے مجموعوں کے مطابق سب سے زیادہ خطوط عبدالمجید سالک کے نام ہیں جن سے پطرس بخاری کو عقیدت تھی[15]۔

مزاح نگاری[ترمیم]

پطرس بخاری کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی مزاح نگاری کو تمسخر اور طنز سے آلودہ نہیں ہونے دیتے۔ ان کے مزاح میں شوخی اور لطافت کی پاکیزہ آمیزش ہے۔ اس میں اتنی تلخی نہیں کہ طنز بن جائے اور اتنی کھلی ظرافت بھی نہیں کہ متانت سے گر جائے۔ ان کا لطیف مزاح ان کے انوکھے زاویۂ نظر سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ مزاح پطرس کی غیر معمولی ذہانت، عمیق مشاہدہ کی عادت اور شگفتہ طرز بیاں کی قوت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

ایک بڑا مزاح نگار ہونے کے لیے ایک بڑی شخصیت بھی درکار ہوتی ہے اور پطرس بلاشبہ ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بلحاظ منصب بڑے اور اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے اور ان عہدوں کی گونا گوں مصروفیات کی وجہ سے انھیں بہت کم فرصت ملتی کہ وہ ادبی مشاغل کی طرف توجہ دیتے۔ اگرچہ انہوں نے بہت کم لکھا ہے لیکن جو لکھا وہ خوب لکھا اور معیاری و بلند مرتبہ ہے۔ ان کی تحریریں بھی خالص ادبی مزاح کے بہترین نمونے ہیں۔ قاری کی حسِ مزاح کو بیدار کر کے چھوٹی چھوٹی باتوں سے ظرافت کی کلیاں کھلاتے چلے جاتے ہیں ، ان کے ہاں طنز کی گہرائی کہیں نظر نہیں آتی، وہ صرف گدگداتے، چٹکیاں لیتے اور ہنساتے ہیں۔ یہی ان کی مزاح نگاری کی خصوصیات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پروفیسررشید احمد صدیقی کہتے ہیں کہ

اگر ہم ذہن میں کسی ایسی محفل کا نقشہ جمائیں، جہاں تمام ملکوں کے مشاہیر اپنے اپنے شعر و ادب کا تعارف کرانے کے لیے جمع ہوں تو اردو کی طرف سے بالاتفاق کس کو اپنا نمائندہ منتخب کریں گے؟ یقیناً بخاری کو۔ بخاری نے اس قسم کے انتخاب کے معیار کو اتنا اونچا کر دیا ہے کہ نمائندوں کا حلقہ مختصر ہوتے ہوتے معدوم ہونے لگا ہے۔ یہ بات کسی وثوق سے ایسے شخص کے بارے میں کہہ رہا ہوں، جس نے اردو میں سب سے کم سرمایہ چھوڑا ہے، لیکن کتنا اونچا مقام پایا۔

جبکہ ایک دوسرے نقاد کا کہنا ہے کہ

پطرس بخاری نے اپنی ظرافت کا مواد زندگی سے لیا ہے۔ زندوں سے مواد کوئی زندہ دل ہی لے سکتا ہے جس نے زندگی کو محسوس کیا ہے اور برتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جس نے انسانوں میں رہ کران کی ذہنی اور عملی حرکات کے ایک ایک پہلو کو ہمدردی سے دیکھا ہو، زندگی سے یہ لگاؤ غالب کے بعد پطرس کے یہاں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ ایک نے ناکامیوں سے کام لیا بلکہ مشکلوں کو آسان کر لیا تھا اور دوسرے کے سر اتنا کام آ پڑا کہ نمٹ نہ سکا۔ غالب اور پطرس کا نام اسی وجہ سے ساتھ ساتھ لیا گیا ہے کہ دونوں بلند پایہ مزاح نگار ہیں۔ غالب کو مرنے کی فرصت نہ تھی اور پطرس کو جینے کی فرصت نہ مل سکی۔ ایک کو اپنے مزاح نگار ہونے کا علم نہ ہو سکا اور دوسرے کو لوگوں نے احساس بھی کرا دیا تو کوئی اثر نہ ہوا۔ ایک نے اپنی شخصیت کا اظہار شاعری میں کیا مگر اس کے دامن کو تنگ پا کر خطوط کا سہارا لیا لیکن دوسرے نے محض چند مضامین، خطوط، تراجم اور تقاریر پر اکتفا کیا۔ مختصراً یہ کہ پطرس کا مختصر سرمایہ مزاح، ظرافت کے بڑے بڑے کارناموں پر بھاری ہے۔ اتنا مختصر رخت سفر لے کر بقائے دوام کی منزل تک پہنچنا بڑی اہمیت کی بات ہے۔

پطرس نے خوجی، حاجی بغلول اور چچا چھکن جیسے کوئی مزاحیہ کردار تخلیق نہیں کیے لیکن انسانی سیرت میں جہاں بھی انہوں نے کوئی کمزوری محسوس کی اس کی گرفت کی ہے اور مزاحیہ انداز میں اس کا خاکہ اڑایا ہے۔ وہ کسی کردار کی خامیوں کو مزاحیہ رنگ میں اس طرح اجاگر کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کے لیے لطف کا سامان مہیا کر دیتے ہیں لیکن اس میں بھی ہمدردانہ انداز پایا جاتا ہے۔ "مرید پور کا پیر" میں جب لیڈر تقریر کرنے کھڑا ہوتا ہے اور پرچہ گم ہو جانے کی وجہ سے تقریر نہیں کر پاتا تو پطرس اس کا مضحکہ اڑانے کی بجائے اس سے ہمدردی کرنے لگتے ہیں۔

پطرس مذاق ہی مذاق میں کام کی باتیں کہہ جاتے ہیں۔ چاہے "لاہور کا جغرافیہ" ہو، "میبل اور میں" ہر جگہ ان کا ذہن ایک ہی لفظ کے گرد گھومتا ہے۔ وہ ہے مقصدیت۔

پطرس کے مضامین بخاری صاحب کی مزاحیہ طبیعت کے آئینہ دار ہیں اور یہ مضامین ہمیشہ دلچسپی سے پڑھے جاتے رہیں گے۔ ان کے دوسرے مضامین میں بھی عام آدمی کے مشاہدے اور تجربات کی باتیں کی گئی ہیں۔ اسی طرح صاحب مذکور کے مضامین ہیں۔ وہ عمومیت ہے جو انھیں دوسرے مزاح نگاروں مثلاً رشید احمد صدیقی اور فرحت اللہ بیگ وغیرہ سے جدا کرتی ہے۔ رشید صاحب علی گڑھ کی فضا سے باہر نہیں نکلتے اورفرحت اللہ بیگ دلی اور حیدرآباد کے ماحول کے اسیر رہتے ہیں۔ اس لیے ان کا مزاح عام آدمی اور خاص آدمی سبھی کے لیے دلچسپی اورخوش دلی کی چیز ہے۔ القصہ مختصر یہ کہ پطرس بخاری دور جدید کے بہت بڑے شگفتہ اور مزاح نویس ہیں۔ اگرچہ انہوں نے بہت کم لکھا۔ تاہم جو کچھ بھی لکھا، خوب لکھا۔ [16]

فنِ تقریر[ترمیم]

انہوں نے تقریر کرنے کا فن کسی سے سیکھا نہیں تھا لیکن الفاظ کے استعمال کا سلیقہ انہیں آتا تھا۔ آواز دلکش تھی۔ تلفظ نہایت عمدہ، لہجے میں اعتماد اور خلوص تھا، اندازِ بیان میں وہ خوبی تھی کہ ہر شخص ان کے استدلال کی رو میں بہہ جاتا تھا۔ سنجیدہ سے سنجہدہ موضوع میں بھی شگفتہ بیانی کے شگوفی فضا کو بوجھل ہونے نہیں دیتے تھے۔

اقوامِ متحدہ میں بخاری کی تقریروں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ خواہ وہ جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے یا سلامتی کونسل میں یا کسی کمیٹی میں، اچھی تقریر کے شائقین وہاں پہنچ جاتے۔ گیلریاں صحافیوں کے علاوہ خود اقوامِ متحدہ کے کارکنوں سے بھر جاتیں۔ انگریزی پر ان کی قدرت، الفاظ کا انتخاب، اندازِ خطابت اور طرزِ استدلال میں وہ خوبیاں تھیں جنہوں نے سب کو گرویدہ بنا رکھا تھا۔ اس سلسلے میں ان کی تیونس کے مسئلہ پر تقریر ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تقریر نے تیونس کے مسئلے کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بھی بنایا اور خود بخاری صاحب کی خطابت کو دنیا بھر کے اخباروں نے دل کھول کر سراہا[17]۔

صحافت سے دلچسپی[ترمیم]

ریڈیو سے تعلق ہونے کے سبب بخاری کو ذرائع ابلاغ سے خصوصی دلچسپی تھی۔ اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی اور اقوامِ متحدہ کی ملازمت کے دوران صحافت سے زیادہ صحافیوں سے سے ان کا واسطہ رہا۔ صحافت سے دلچسپی نے پیشہ ورانہ رنگ اختیار نہیں کیا۔ محض دوست نوازی تک محدود رہا۔

تخلیقاتِ بخاری[ترمیم]

پطرس کی تخلیقات زیادہ تر متفرق مضامین، مقالوں، دیباچوں اور تقریروں کی صو رت میں مختلف رسالوں میں بکھری ہوئی ہیں۔ تاہم ان کی زندگی میں صرف پطرس کے مضامین ہی شایع ہو سکی۔

اب تک جوتصانیف منصۂ شہود پر آچکیں ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں،

  1. پطرس کے خطوط (خطوط کا مجموعہ جو نا مکمل ہے)
  2. افسانے، ڈرامے اور ناولٹ
  3. خطباتِ پطرس (تقاریرکا نا مکمل مجموعہ)
  4. تنقیدی مضامین
  5. تخلیقاتِ پطرس
  6. اقوامِ متحدہ میں تقاریر کا مجموعہ (انگریزی)

اسلوب[ترمیم]

پطرس بخاری سویرے جو کل آنکھ میری کھلی میں رقمطراز ہیں،

اب جو ہم کھڑکی میں سے آسمان کو دیکھتے ہیں تو جناب ستارے ہیں، کہ جگمگا رہے ہیں! سوچا کہ آج پتہ چلائیں گے، یہ سورج آخر کس طرح سے نکلتا ہے۔ لیکن جب گھوم گھوم کر کھڑکی میں سے اور روشندان میں سے چاروں طرف دیکھا اور بزرگوں سے صبح کاذب کی جتنی نشانیاں سنی تھیں۔ ان میں سے ایک بھی کہیں نظر نہ آئی، تو فکر سی لگ گئی کہ آج کہیں سورج گرہن نہ ہو؟ کچھ سمجھ میں نہ آیا، تو پڑوسی کو آواز دی۔ "لالہ جی!۔۔۔ لالہ جی؟"

جواب آیا۔ "ہوں۔"

میں نے کہا "آج یہ کیا بات ہے۔ کچھ اندھیرا اندھیرا سا ہے؟"

کہنے لگے "تو اور کیا تین بجے ہی سورج نکل آئے؟"

تین بجے کا نام سن کر ہوش گم ہوگئے، چونک کر پوچھا۔ "کیا کہا تم نے؟ تین بجے ہیں۔"

کہنے لگے۔ "تین۔۔۔ تو۔۔۔ نہیں۔۔۔ کچھ سات۔۔۔ ساڑھے سات۔۔۔ منٹ اوپر تین ہیں۔"

میں نے کہا۔ "ارے کم بخت، خدائی فوجدار، بدتمیز کہیں کے، میں نے تجھ سے یہ کہا تھا کہ صبح جگا دینا، یا یہ کہا تھا کہ سرے سے سونے ہی نہ دینا؟ تین بجے جاگنا بھی کوئی شرافت ہے؟ ہمیں تو نے کوئی ریلوے گارڈ سمجھ رکھا ہے؟ تین بجے ہم اُٹھ سکا کرتے تو اس وقت دادا جان کے منظور نظر نہ ہوتے؟ ابے احمق کہیں کے تین بجے اُٹھ کے ہم زندہ رہ سکتے ہیں؟ امیرزادے ہیں، کوئی مذاق ہے، لاحول ولاقوة۔

پطرس بخاری اپنے ایک شاہکار مضمون کتے میں یوں رقمطراز ہیں،

علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا سلوتریوں سے دریافت کیا ۔ خود سرکھپاتے رہے لیکن کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کا کیا فائدہ ہے--- کہنے لگے وفادار جانور ہے اب جناب اگر وفادری اس کا نام ہے تو شام کے سات بجے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم لئے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے ہی چلے گئے تو ہم لنڈورے ہی بھلے۔

لاہور کا جغرافیہ میں لکھتے ہیں کہ،

لاہور لاہور ہے اگر اس پتے سے آپ کو لاہور نہیں مل سکتا تو آ پ کی تعلیم ناقص اور آپ کی ذہانت فاتر ہے۔

پطرس بخاری اپنے ایک شاہکار مضمون مرحوم کی یاد میں میں یوں رقمطراز ہیں،

جب دوستی پرانی ہو گئی ہو تو گفتگو کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی اور دوست ایک دوسرے کی خاموشی سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔
آخر کار بائسیکل پر سوار ہوا۔ پہلا ہی پاؤں چلایا تو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی مردہ اپنی ہڈیاں چٹخا چٹخا کر اپنی مرضی کے خلاف زندہ ہو رہا ہو۔۔۔ زنجیر ڈھیلی ڈھیلی تھی۔ میں جب کبھی پیڈل پر زور ڈالتا، زنجیر میں ایک انگڑائی سی پیدا ہوتی جس سے وہ تن جاتی اور چڑ چڑ بولنے لگتی۔ پھر ڈھیلی ہو جاتی۔

پچھلا پہیہ گھومنے کے علاوہ جھومتا بھی تھا۔ یعنی ایک تو آگے کو چلتا تھا، دوسرا دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کو بھی حرکت کرتا تھا۔ چنانچہ سڑک پر جو نشان پڑتا جاتا تھا، اسے دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے کوئی مخمور سانپ لہرا کے گزر گیا ہے۔

ناقدین کی آراء[ترمیم]

پروفیسررشید احمد صدیقی کہتے ہیں کہ

اگر ہم ذہن میں کسی ایسی محفل کا نقشہ جمائیں، جہاں تمام ملکوں کے مشاہیر اپنے اپنے شعر و ادب کا تعارف کرانے کے لیے جمع ہوں تو اردو کی طرف سے بالاتفاق کس کو اپنا نمائندہ منتخب کریں گے؟ یقیناً بخاری کو۔ بخاری نے اس قسم کے انتخاب کے معیار کو اتنا اونچا کر دیا ہے کہ نمائندوں کا حلقہ مختصر ہوتے ہوتے معدوم ہونے لگا ہے۔ یہ بات کسی وثوق سے ایسے شخص کے بارے میں کہہ رہا ہوں، جس نے اردو میں سب سے کم سرمایہ چھوڑا ہے، لیکن کتنا اونچا مقام پایا۔

ممتاز نقاد اور افسانہ نگار ڈاکٹر سلیم اختر، پطرس بخاری کے مزاح کے بارے میں کہتے ہیں[18]،

پطرس ہر معاملے میں خود اپنا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔ اسی خصوصیت نے ان کے مزاح سے طنز کی زہرناکی کو ختم کرکے خالص اور سُتھرے مزاح کو جنم دیا۔

ممتاز نقاد ڈاکٹر محمد احسن فاروقی کہتے ہیں،

میری نگاہ میں پکا ہیومرسٹ تھا۔ اردو کا واحد ہیومرسٹ۔ بلکہ وحدہ لاشریک ہیومرسٹ۔

نیو یارک ٹائمز، مورخہ 7 دسمبر 1958ء اداریہ[19]،

کبھی کبھی ہمیں کسی ایسی ہستی کی موجودگی کا یقین ہوجاتا ہے جو ہمارے تخیلات کو عمل کی دنیا میں لے آتی ہے۔ ابھی ابھی ہمیں پاکستان کے سفیر پروفیسر احمد شاہ بخاری کی بے وقت موت کی شکل میں ایسی ہی ایک شخصیت کے ضیاع کا سامنا ہوا ہے جنہوں نے اقوام متحدہ میں رئیس شعبہ اطلاعات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں وہ صحیح معنوں میں عالمی شہری تھے۔

داگ ہیمرشولڈ (سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ) کہتے ہیں[20]،

قدرتی طور پر میرے ليے لازم ہے کہ احمد بخاری کے اوصاف و کمال کے بارے میں جو کچھ میں نے کہا ہے اسے چند لفظوں میں سمیٹ کر یہ بیان کروں کہ ان کی یہ خصوصیات ایک سیاسی سفیر کی حیثیت میں کس طرح ظاہر ہوتیں اور اپنا اثر ڈالتی تھیں۔ یہ کام میں جیقس برزون (Jacques Barzun) کی تازہ تصنیف "دی ہاؤس آف انٹی لیکٹ" کا ایک اقتباس پیش کرکے بخوبی انجام دے سکتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں حکمت عملی (سفارت) کا تقاضا ہے کہ دوسرے کے افکار و اذہان سے آگاہی حاصل ہو یہ انشاء پرداز کا بھی ایک امتیازی وصف ہے مگر اس سے دوسرے درجے پر کہ وہ دوسروں کے دلائل کا جواب کس ہوشمندی اور واضح استدلال کے ساتھ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک 'حاضر دماغ' سفیر اور ایک 'پریشان خیال' سفیر اصلاح میں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

احمد بخاری حقیقت میں ان اوصاف پر پورے اترنے والے سفیر تھے جو مندرجہ بالا اقتباس میں بیان کئے گئے ہیں۔

اعزازات[ترمیم]

تیونس میں پطرس بخاری یادگار روڈ
پطرس بخاری ڈاک ٹکٹ

1945ء میں برطانوی سرکار نے آپ کو( Companion of the Indian Empire (CIE سے نوازا۔ آپ کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے 1951ء - 1954ء تک اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے پہلے مستقل مندوب کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔[21]

2003ء میں حکومت پاکستان نے پطرس بخاری کی ادبی وثقافتی، تعلیمی، سفارتی خدمات کے صلے میں ہلالِ امتیاز کے اعزاز سے نوازا۔

اقوامِ متحدہ میں تیونس کی آزادی کی حمایت میں کی گئی خدمات کے سلسلے میں حکومت تیونس نے آپ کے اعزاز میں سڑک کا نام پطرس بخاری کے نام پر رکھا۔[21]

پاکستان پوسٹ نے1 اکتوبر 1998ء میں پطرس بخاری کی گرانقدر ادبی، تعلیمی، ثقافتی اور سفارتی خدمات کے صلے میں آپ کے سو سالہ جشن پیدائش کے یادگار کے موقع پر 5 روپے کا یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔[22]

وفات[ترمیم]

پطرس بخاری: آخری آرام گاہ

بخاری صاحب کے دل میں پیدائشی خرابی تھی۔ عمر کے ساتھ ساتھ دیگر عوارض بھی زور پکڑتے گئے۔ دل کے دورے بار بار پڑنے لگے۔ وہ اکثر بے ہوش ہوجاتے۔ کمزوری بڑھتی گئی مگر دفتر جانا نہ چھوڑا۔ ڈاکٹر دل کی حالت دیکھتے اورمکمل آرام کا مشورہ دیتے لیکن بخاری دل کی گھبراہٹ سے ڈرتے اور دفتر کا رخ کرتے۔

ڈاکٹروں نے انہیں بستر پر آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن 4 دسمبر 1958ء کو ڈاکٹروں کے مشوروں کو پسِ پشت ڈال کربستر سے اُٹھے اور کمرے میں ٹہلنا شروع کردیا، تھوڑی دیر کے بعد بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ صبح چھ بجے سورج طلوع ہونے سے پہلے دنیائے اُردو کےعظیم مزاح نگار 5 دسمبر 1958ء کو نیویارک امریکا میں وفات پا گئے۔ آپ کو نیویارک کے Kensico Cemetery,Valhalla میں سینکڑوں مداحوں ، دوستوں اور سفارتی نمائندوں کی موجودگی میں قبر میں اُتار دیا گیا[23][1]۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

پطرس کے متعلق ویب سائٹ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 ص 156، پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء
  2. پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص12
  3. پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص13
  4. ^ 4.0 4.1 پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص14
  5. پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص16-17
  6. http://www.gcu.edu.pk/GCUHistory/index.htm
  7. پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص46
  8. ^ 8.0 8.1 پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص48
  9. پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص47
  10. پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص49-50
  11. پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص50-51
  12. پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص80-78
  13. تنقیدی مضامین ص12، مطبوعہ مکتبۂ اردو ادب لاہور
  14. پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص91-90
  15. پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص99-100
  16. اخبارِ اردو، شمارہ اکتوبر 2012ء، ادارہ فروغ قومی زبان، اسلام آباد
  17. پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص105-106
  18. پطرس بخاری: شخصیت اور فن، عبدالحمید اعظمی، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، 2006، ص101
  19. پطرس بخاری ویب، خراج تحسین
  20. پطرس بخاری ویب، خراج تحسین
  21. ^ 21.0 21.1 پطرس بخاری ویب، اعزازات
  22. پاکستان پوسٹ آفیشل ویب، حکومت پاکستان
  23. پطرس بخاری ویب، سوانح