پلاو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پلاو
Pilaf
Afghan Palo.jpg
قابلی پلاؤ، افغانستان کا قومی پکوان
متبادل نامPela, Pilav, Pallao, Pilau, Pelau, Pulao, Pulaav, Palaw, Palavu, Plov, Palov, Polov, Polo, Polu, Kurysh, Fulao, Fulaaw, Fulav, Fulab
کھانے کا دورمرکزی
علاقہ یا ریاستبلقان، کیریبین، جنوبی قفقاز، وسط ایشیا، مشرقی افریقا، مشرقی یورپ، لاطینی امریکا، مشرق وسطی، اور جنوبی ایشیا
درجہ حرارتگرم
بنیادی اجزائے ترکیبیچاول، یخنی، مصالحہ, گوشت، سبزی, خشک میوہ

پلاو (برطانوی انگریزی ہجے: pilau؛ امریکی انگریزی ہجے: Pilaf) ایک چاولوں کا پکوان ہے جسے یخنی، مصالحہ جات اور دیگر اجزا جیسے سبزیاں یا گوشت شامل کر کے بنایا جاتا ہے۔ [1][2]

خلافت عباسیہ کے دور میں چاول پکانے کا یہ طریقہ کار پہلے ہندوستان، ہسپانیہ اور پھر وسیع تر دنیا میں پھیلتا جلا گیا۔ [3][note 1]

پلاو اور اسی طرح کے پکوان بلقان، کیریبین، جنوبی قفقاز، وسطی ایشیا، مشرقی افریقا، مشرقی یورپ، لاطینی امریکا، مشرق وسطی اور جنوب ایشیائی کھانوں میں عام ہیں۔ یہ افغانستان، آرمینیا، آذربائیجان، بنگلہ دیش، چین (خاص طور پر سنکیانگ میں)، قبرص، جارجیا، یونان (خاص طور پر کریٹ میں)، بھارت، پاکستان، عراق (خاص طور پر کردستان میں)، ایران، اسرائیل، [4] قازقستان، کینیا، کرغزستان، نیپال، رومانیہ، روس، تنزانیہ (خاص طور پر زانزیبار میں)، تاجکستان، [5] ترکی، [6] ترکمانستان، یوگنڈا اور ازبکستان [7][8] میں ایک بنیادی غذا اور ایک مشہور ڈش ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Oxford English Dictionary 2006b.
  2. Merriam-Webster Unabridged Dictionary 2019.
  3. ^ ا ب Roger 2000، صفحہ 1143.
  4. Gil Marks. Encyclopedia of Jewish Food. Houghton Mifflin Harcourt, 2010. آئی ایس بی این 9780544186316
  5. Marshall Cavendish. World and Its Peoples. Marshall Cavendish, 2006, p. 662. آئی ایس بی این 9780761475712
  6. Navy Bean Stew And Rice Is Turkey's National Dish turkishfood.about.com
  7. Bruce Kraig, Colleen Taylor Sen. Street Food Around the World: An Encyclopedia of Food and Culture. ABC-CLIO, 2013, p. 384. آئی ایس بی این 9781598849554
  8. Russell Zanca. Life in a Muslim Uzbek Village: Cotton Farming After Communism CSCA. Cengage Learning, 2010, p. 92 92–96. آئی ایس بی این 9780495092810