مندرجات کا رخ کریں

پلاٹ (بیانیہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

پلاٹ فکشن کا ماجرا جو واقعات کو ایک منطقی زمانی و مکانی تسلسل میں مربوط کیسے ہوئے ہوتا اور جسے آغاز، وسط اور انجام کے اصول کے تحت اسباب و علل کی موجودگی میں بیان کیا جاتا ہے۔ خیالات کے فنی اظہار میں نظم و ضبط کے پیش نظر پلاٹ نہ صرف فکشن بلکہ شاعری اور دیگر فنون میں بھی مشاہدہ کیا جا سکتا لیکن عموماً یہ اصطلاح نثری بیانیہ صنف کہانی ہی سے متعلق سمجھی جاتی ہے۔

پلاٹ اپنی در و بَست سے قاری یا ناظر میں دلچسپی پیدا کرتا ہے۔ اس کی زمانی و مکانی تحدید سے تین سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اور اب کیا ہو گا اور کیوں؟ ارسطو نے المیے کے عناصر مسدسہ میں ایک پلاٹ بھی شمار کیا ہے۔ ان کے خیال میں پلاٹ المیے کا اولین اصول اور اس کی روح ہے۔ یہ کسی عمل کی نقل اور واقعات کی تنظیم ہے جو آغاز، وسط اور انجام کے تسلسل سے مکمل ہوتی ہے۔ ارسطو کے مطابق پلاٹ کے واقعات کی تنظیم سے ایک بھی واقعہ حذف کر دینے سے اس کی اکائی یا تکمیل متزلزل ہو جاتی ہے۔ یہ خوب منظم پلاٹ واقعات کے غیر منظم مجموعے کی فنی پیش کش سے کہیں معیاری ہوتا ہے۔ اس بنیاد پر ارسطو نے مفرد اور مرکب پلاٹ کی تقسیم بھی کی اور کردار کے مقابلے میں پلاٹ پر زور دیا ہے۔

پلاٹ کا یہ کلاسک نظریہ المیے کے زوال اور طربیے اور ناول کے عروج سے خاصا متاثر ہوا جس کے نتیجے میں پلاٹ کے تعلق سے متعدد خیالات رائج ہو گئے ہیں۔ نئے دور میں ای ایم فارسٹر نے ایسپکٹس آف ناول میں لکھا ہے کہ پلاٹ زمانی تسلسل اور اسباب و علل کے پیش نظر واقعات کا بیان ہے

”بادشاہ مر گیا اور ملکہ بھی مر گئی“

ایک کہانی ہے مگر

”بادشاہ مر گیا اور اس کے غم میں ملکہ بھی مر گئی“

پلاٹ ہے۔ تحیر و اسرار کو فارسٹر نے پلاٹ کی اہم خصوصیت قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مشرق و مغرب میں پلاٹ کے متعلق کئی نظریات پائے جاتے ہیں۔ عہد حاضر میں جدید فکشن یا جدید بیانیہ شاعری میں پلاٹ یا کسی منظّم فنی اظہار کے تصور کو قابل قبول نہیں سمجھا جاتا۔ ایٹی تھیٹر اینٹی ناول اور پاپ آرٹ پلاٹ سے شعوری انحراف کی نمایاں مثالیں ہیں۔[1]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. سلیم شہزاد (1998)۔ فرہنگ ادبیات (پہلا ایڈیشن)۔ مالیگاؤں: منظر نما پبلشرز۔ ص 192–193