پنجابی شیخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پنجابی شیخ
A Khattri nobleman, in 'Kitab-i tasrih al-aqvam' by Col. James Skinner, aka Sikandar (1778-1841).jpg
کتاب تصریح الاقوام میں ایک معزز کھتری شخص کی تصویر از کرنل جیمز اسکنر (1778ء-1841ء)
کل آبادی
(10 ملین)
گنجان آبادی والے علاقے
 بھارت پاکستان یورپ ریاستہائے متحدہ کینیڈا آسٹریلیا دبئی سعودی عرب برطانیہ
زبانیں
پنجابیانگریزیاردو
مذہب
Allah-green.svg اسلام 100%
متعلقہ نسلی گروہ
جنوبی ایشیا میں شیوخکھتریKamboj/Kamboh/Kambojaمسلمان راجپوتلوہارآرائیں

پنجابی شیخ (اردو: پنجابی شيخ) جنوبی ایشیا کے شیوخ کی ایک ممتاز شاخ ہے۔ جنوبی ایشیا میں اسلام کی آمد کے بعد جن ہندوستانی الاصل اعلیٰ ذاتوں نے اسلام قبول کیا، ان میں سے بہت سے خاندان اور قبیلوں نے شیخ کا لقب اپنایا۔ شیخ (عربی اور پنجابی: شيخ ) ایک عربی لفظ ہے جس کے معانی قبیلہ کے بزرگ، معزز اور قابل احترام بوڑھے آدمی یا عالم کے ہوتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں یہ لفظ ایک نسلی لقب کے طور پر استعمال ہوتا ہے جسے عموماً مسلم تجارت پیشہ خاندان استعمال کرتے ہیں۔

آغاز[ترمیم]

جنوبی ایشیا میں مسلم حکمرانی کے آغاز 713ء سے مسلمان سرکاری افسر، فوجی، تاجر، سائنس دان، ماہرین تعمیرات، اساتذہ، متکلمین اور صوفیا عالم اسلام کے مختلف علاقوں سے سفر کر کے   جنوبی ایشیا کی مسلم قلمرو میں داخل ہوئے اور یہیں آباد ہو گئے۔ بعد ازاں کچھ اعلیٰ ذاتوں (برہمن اور کھتری) نے پنجاب کے علاقے میں اسلام قبول کیا اور شیخ کا لقب اختیار کیا، ایسے افراد پنجابی شیخ کہلاتے ہیں۔ ان پنجابی شیوخ میں بیشتر افراد شہری ہیں البتہ مغربی اضلاع میں کچھ خاندان ایسے ہیں جو اپنی زمینوں پر کاشتکاری کرتے ہیں۔ ان کے اصل پیشے کاروبار، تجارت اور عوامی خدمت ہیں۔ پنجاب میں عموماً انہیں ماہر اور ذہین تاجر کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔ بارہویں صدی کے اوائل میں بہت سے راجپوت خاندان بھی مسلمان ہوئے تھے جنہیں اعزازی طور پر مسلم حکمرانوں یا پیروں نے شیخ کا لقب دیا تھا۔ راجپوتوں میں شیخ راجپوتوں ہی نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔ ایک اور مثال خواجہ شیخ کی ہے جن میں دو برادریاں چنیوٹ اور قانون گوہ شیخ ہیں۔

سنہ 1947ء میں تقسیم ہند سے قبل کھتری ذات کے لوگ پنجاب کے تمام اضلاع میں رہتے تھے، تاہم ان میں زیادہ تر خاندان مغربی اضلاع میں آباد تھے۔ کھتری، راجپوت، گجر اور گکھر وغیرہ کے بہت سے خاندان مسلمان ہو گئے تھے۔ صدیقی، قریشی شیوخ اور عباسی برادریاں انہی نو مسلم خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ تمام برادریاں پنجاب میں پنجابی گو شیخ کہلاتی ہیں اور سندھ میں سندھی گو شیخ۔ صدیقی شیوخ اس وقت بھی بھارت کے شمالی علاقوں بالخصوص اترپردیش اور ہریانہ میں بکثرت آباد ہیں جبکہ بہار، مغربی بنگال اور حیدرآباد میں کچھ خاندان پائے جاتے ہیں۔

سرسوت برہمن بھی اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے ناموں کے ساتھ شیخ کا لقب استعمال کرنے لگے۔

تمام مسلم راجپوت جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا، شیوخ کہلاتے ہیں۔ نیز چونکہ مغل حکمرانوں نے بعض راجپوت خواتین کو اپنے حرم میں شامل کر لیا تھا اس لیے بعض موقع پر راجپوت اپنے ناموں کے ساتھ مغل بھی لگاتے تھے لیکن حقیقت میں یہ شیوخ ہی کہلائے۔

اسماعیلی شیخ[ترمیم]

ہندو برہمن، چھتری، ٹھاکر، رانا، راٹھوڑ، بھٹی (ذات)، چوہان اور راجپوتوں کے دیگر اشرافیہ طبقوں نے اسماعیلی پیروں کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا تھا۔ اسماعیلی پیروں نے ان نو مسلموں کو پنجاب کا موروثی لقب شیخ عطا کیا۔ نیز عرب اور ایران سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمانوں میں جن افراد نے اسماعیلی مذہب اختیار کیا اور وہ پہلے سے سید تھے، انہیں بھی اپنی ذات تبدیل کرنا پڑی۔ کیونکہ اسماعیلی مذہب کے مطابق محض امام ہی سید ہو سکتا ہے۔ چنانچہ صدیوں تک شیوخ کو ہندو اور مسلم دونوں کے درمیان عزت و وقار اور مرتبہ ملتا رہا۔ البتہ خوجا برادری کے برعکس پنجاب کے اسماعیلی شیوخ زیادہ مشہور نہیں ہوئے۔

خواجہ شیخ[ترمیم]

کھتری قوم کے افراد نے جب اسلام قبول کیا تو اپنا لقب خواجہ شیخ اختیار کیا۔ اس برادری کے بہت سے تاجر پیشہ مسلمانوں نے جنوبی ایشیا میں ممتاز مقام حاصل کیا۔ تجارت پیشہ ارورا اور کھوکھرین نامی ایک چھوٹی برادری اپنے آپ کو کھتری کہلاتی ہیں لیکن درحقیقت اپنی اصل، تاریخ، تمدن اور زبان میں یکسر مختلف ہیں۔ ارورا اور کھوکھرین برادریاں ملتانی اور سرائیکی زبانیں بولتی ہیں۔

قانون گوہ شیخ[ترمیم]

قانون گوہ شیوخ پنجاب کے تمام اضلاع میں آباد ہیں۔ ان کے مختلف خاندان ہیں، ان کے آبا واجداد مسلم دور حکومت میں قانونی منصب دار تھے اس لیے یہ قانون گو کے نام سے معروف ہوئے۔

صدیقی اور قریشی شیخ[ترمیم]

صدیقی اور قریشی بھی شیوخ ہیں جو پنجاب میں آباد ہیں۔ یہ قبیلے بھارت کے شمالی علاقوں اترپردیش، ہریانہ، بہار اور مغربی بنگال میں بھی آباد ہیں۔ ان کی مادری زبان اردو ہوتی ہے، البتہ بعض خاندان پنجابی زبان بھی بولتے ہیں۔

کشمیری شیخ[ترمیم]

شاعر مشرق علامہ اقبال

کشمیری شیخ ایک برادری ہے جو کشمیر اور پنجاب کے متفرق اضلاع میں آباد ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے درمیان اس برادری نے کشمیر سے ہجرت کی تھی۔ علامہ اقبال کا تعلق اسی برادری سے تھا، ان کے دادا شیخ رفیق نے انیسویں صدی کے اوائل میں کشمیر سے سیالکوٹ ہجرت کی تھی۔

اس قبیلہ کے بعض معروف افراد کے نام درج ذیل ہیں:

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Denzil Ibbetson، ایڈورڈ ڈگلس میکلاگن، ایچ۔ اے۔ روز، " A Glossary of The Tribes & Casts of The Punjab & North West Frontier Province"، 1911، صفحہ 502 جلد II
  2. Wendy Doniger, tr۔ "منو کا قانون", (پینگیوئن بکس، 1991 ) آیات 43-44، باب 10۔
  3. اے ایل باشام " The Wonder That Was India", ( Sidgwick & Jackson, 1967)
  4. ڈی۔ Ibbetson, E.MacLagan، ایچ۔ اے۔ روز، صفحہ 58، جلد I
  5. ابو الفضل، "آئین اکبری"، مترجم H.Blocmann & H.S. Jarrett، (کولکتہ، 1873–94) 3 جلدیں۔، a gazetteer of the Mughal Empire compiled in 1590 AD۔
  6. D. Ibbetson, E.MacLagan، ایچ۔ اے۔ روز، صفحہ 513–514 جلد II

بیرونی روابط[ترمیم]