پنجاب کشیدگی، 1907ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

1906ء میں صوبہ پنجاب میں کولونائزیشن بل نافذ کیا گیا جس کی وجہ سے 1907ء میں پنجاب میں کشیدگی کا ماحول بن گیا۔ مورخین اسی تحریک کو پنجاب میں تحریک آزادی ہند کی ابتدا مانتے ہیں۔ اس تحریک کے اہم لیڈروں میں لالہ لاجپت رائے، ہیت ٹھکر اور دیگر تھے۔

کولونائزیشن بل[ترمیم]

1906ء میں کولونائزیشن بل پاس ہوا۔ اس سے قبل 1900ء میں پنجاب زمین کا بل علاقہ میں کشیدگی کا باعث بن چکا تھا۔ نئے بل کی رو سے اگر کسی شخص کی موت ہوگئی اور اس کا کوئی وارث نہیں ہے تہ اس جائیداد حکومت کے قبضہ میں آجائے گی۔ حکومت کو اختیار رہے گا کہ وہ کسی عوامی یا نجی ادارے کو وہ زمین فروخت کر سکتی ہے۔ یہ بل علاقہ سماجی حالات کے یکسر خلاف تھا لہذا لوگوں نے اس کی خوب مخالفت کی۔

اشتعال[ترمیم]

لالہ لاجپت رائے نے اس بل کے خلاف پرزور آواز اٹھائی۔ سب سے پہلے فیصل آباد میں تحریک کی ابتدا ہوئی اور مظاہرہ کیا گیا کیونکہ فیصل آباد کے چیناب کالونی کو اس بل سے سب سے زیادہ نقصان ہونا تھا۔ پہلے مظاہرے میں عوام نے حکومت کو میمرونڈم پیش کئے کہ بل پر نظر ثانی کی جائے۔ مظاہرے میں شدت اختیار کرتی گئی اور لوگوں نے خفیہ تنظیمیں تشکیل دینا شروع کیں جیسے انجمن محبات وطن غیرہ۔ انجمن محابن وطن کے بانی اجیت سنگھ تھے۔ یہ ایک جاٹ سکھ تھے جن کو لالا لاجپت رائے کا تعاون حاصل تھا۔ اس مظاہرہ میں راولپنڈی کے ریلوے کے ملازمین نے بھی شرکت کی۔ مظاہرہ دن بہ دن بڑھتا گیا اور حکومت نے لالہ لاجپت رائے اور اجیت سنگھ کو گرفتار کرلیا۔

جاٹ پلٹن کی بغاوت[ترمیم]

1907ء میں تقسیم بنگال کے بعد جاٹ پلٹن نے بغاوت کردی اور بنگال کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے بنگال کے مظاہرین کے ساتھ حکومت کے خزانہ کو پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ حکومت نے اس بغاوت کو کچل دیا اور کئی جاٹ فوجیوں کو طویل قید کی سزا ہوئی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Haryana Samvad، Jan 2018.