پنجاب، بھارت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(پنجاب (بھارت) سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ضد ابہام صفحات کے لیے معاونت دیگر استعمالات کے لیے پنجاب دیکھیے۔
ریاست پنجاب
اوپر سے نیچے: ہرمندر صاحب، قلعہ مبارک، گاندھی بھون، واہگہ سرحد، جلیانوالا باغ یادگار
عرفیت: پانچ دریاؤں کی سرزمین
بھارت میں مقام
بھارت میں مقام
پنجاب کا نقشہ
پنجاب کا نقشہ
متناسقات (چندی گڑھ): 30°47′N 75°50′E / 30.79°N 75.84°E / 30.79; 75.84متناسقات: 30°47′N 75°50′E / 30.79°N 75.84°E / 30.79; 75.84
ملک بھارت
بنیاد 1 نومبر 1966 (1966-11-01)
دارالحکومت چندی گڑھ
سب سے بڑا شہر لدھیانہ
اضلاع |22
حکومت
 • گورنر کپتان سنگھ سولانکی
 • چیف منسٹر پرکاش سنگھ بادل (شرومنی اکالی دل)
 • پنجاب قانون ساز اسمبلی یک ایوانیت (117 نشستیں)
 • پارلیمانی حلقے 13
 • عدالت عالیہ عدالت عالیہ پنجاب و ہریانہ
رقبہ
 • کل 50,362 کلو میٹر2 (19,445 مربع میل)
درجہ بلحاظ رقبہ 20ویں
بلند ترین مقام 550 میل (1,800 فٹ)
پست ترین مقام 150 میل (490 فٹ)
آبادی (2011)[1]
 • کل 27,704,236
 • درجہ بلحاظ آبادی بھارت کی ریاستیں بلحاظ آبادی
 • کثافت 550/کلو میٹر2 (1,400/مربع میل)
زبانیں
 • سرکاری پنجابی زبان
 • دیگر ہندی، انگریزی
 • علاقائی ماجھی، مالوی، ڈوگری، باگڑی
منطقۂ وقت بھارتی معیاری وقت (یو ٹی سی+05:30)
آیزو 3166 رمز آیزو 3166-2:IN
انسانی ترقیاتی اشاریہ Increase2.svg 0.679 (medium)
ایچ ڈی آئی درجہ 9th (2005)
خواندگی 76.68%
ویب سائٹ پنجاب حکومت

^† ہریانہ کے ساتھ مشترکہ دارالحکومت

علامات - پنجاب
نشان Lion Capital of Ashoka with Wheat stem (above) and Crossed Swords (below)
زبان پنجابی زبان
رقص بھنگڑا، گدا
جانور Blackbuck
پرندہ باز[2]
درخت شیشم
دریا سندھ
کھیل Kabaddi (Circle Style)

پنجاب بھارت کی ایک ریاست ہے جسے عام طور پر مشرقی پنجاب یا بھارتی پنجاب کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس کی سرحدیں مغرب میں پاکستان کے صوبہ پنجاب، شمال میں جموں و کشمیر، شمال مشرق میں ہماچل پردیش، جنوب میں ہریانہ، جنوب مشرق میں چندی گڑھ اور جنوب مغرب میں راجستھان سے ملتی ہیں۔

ریاست کا کل رقبہ 50 ہزار 362 مربع کلومیٹر جبکہ آبادی 2000ء کے مطابق 24,289,296 ہے۔ بھارتی پنجاب کا دارالحکومت چندی گڑھ ہے جو پڑوسی ریاست ہریانہ کا بھی دارالحکومت ہے۔ دیگر بڑے شہروں میں بھٹینڈہ، امرتسر، جالندھر، لدھیانہ اور پٹیالہ شامل ہیں۔

بیشتر آبادی سکھ مت کی پیروکار ہیں۔

زراعت پنجاب میں سب سے بڑی صنعت ہے۔[3] دیگر بڑی صنعتوں میں سائنسی آلات، زرعی اجناس، بجلی کا سامان، مالیاتی خدمات، مشینی اوزار، کھیلوں کا سامان، نشاستہ، کھاد، سائیکل، لباس اور سیاحت شامل ہیں۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

پنجاب فارسى زبان كے دو لفظوں پنج بمعنی پانچ (5) اور آب بمعنی پانی سے مل کر بنا ہے۔ یوں اس کا مطلب پانچ دریاؤں کی سرزمین لیا جاتا ہے۔[4] ان پانچ درياؤں كے نام ہيں: ستلج، بیاس، راوی، چناب اور دریائے جہلم۔یونانی اسے تاریخی طور پھن ٹھاپی سیمیا (Pentapotamia) کہتے تھے، ایک پانچ مرتکز دریاؤں کا اندرون ڈیلٹا۔[5] نام پنجاب بھارت کے وسطی ایشیائی ترکیائی فاتحین کی طرف سے علاقے کو دیا گیا۔ اور اور ترک-منگول مغلوں میں مقبول رہا۔[6][7][8]

تاریخ[ترمیم]

مزید دیکھئے: خطۂ پنجاب

قدیم تاریخ[ترمیم]

پنجاب میں سکھ[ترمیم]

ستلج ریاست[ترمیم]

سکھ سلطنت[ترمیم]

سکھ سلطنت برصغیر میں ایک اہم طاقت تھی جو کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت کے تحت ابھری۔جس نے 1799ء میں لاہور پر قبضہ کر لیا اور پنجاب کے ارد گردعلاقوں پر سلطنت قائم کی۔ سلطنت 1799ء سے 1849ء تک قائم رہی۔

صوبہ پنجاب (برطانوی ہند)[ترمیم]

برطانوی راج کے دوران میں پنجاب برطانوی ہند کا ایک صوبہ تھا۔1849ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اسے برطانوی ہندوستان میں شامل کیا۔ پنجاب برطانوی ہندوستان میں شامل ہونے والے آخری علاقوں میں سے ایک ہے۔یہ پانچ ڈویژنز لاہور، دہلی، جالندھر ،راولپنڈی، ملتان اور بہت سی نوابی ریاستوں پر مشتمل تھا۔

آزادی اور بعد آزادی[ترمیم]

موجودہ پنجاب کی تشکیل[ترمیم]

حکومت اور سیاست[ترمیم]

بھارت کے دیگر صوبوں کی طرح صوبہ پنجاب کا سربراہ بھی ایک گورنر ہوتا ہے جسے مرکزی حکومت کے مشورے سے صدر بھارت منتخب کرتا ہے۔ جبکہ صوبے کا وزیر اعلی حکومت کا سربراہ ہوتا ہے، بیشتر انتظامی اختیارات اسی کے پاس ہوتے ہیں۔ چندی گڑھ شہر صوبہ پنجاب کا دار الحکومت ہے اور یہیں |ودھان سبھا (قانون ساز اسمبلی) اور سیکریٹریٹ بھی موجود ہیں۔ نیز چندی گڑھ صوبہ ہریانہ اور بھارت کی متحدہ عملداری کا بھی دار الحکومت ہے۔ چندی گڑھ میں واقع پنجاب و ہریانہ عدالت عالیہ کا دائرہ کار پورے صوبہ پر محیط ہے۔[9]

پنجاب کی موجودہ قانون ساز اسمبلی یک ایوانی ہےجس میں 117 ارکان ہیں۔ عام حالات میں اسمبلی کی کل مدت پانچ سال ہوتی ہے۔[10]

ذیلی تقسیم[ترمیم]

Districts of Punjab along with their headquarters, before 2007

انتظامیہ ذیلی تقسیم[ترمیم]

ریاست پنجاب 22 اضلاع پر مشتمل ہے، جو تحصیلوں اور بلاک میں تقسیم ہیں۔

معیشت[ترمیم]

پنجاب کی جی ڈی پی ₹3.17 لاکھ کروڑ (امریکی$47 بلین) ہے۔ پنجاب بھارت میں سب سے زیادہ زرخیز علاقوں میں سے ایک ہے۔ خطہ گندم اگانے کے لیے مثالی ہے۔ چاول، گنا، پھل اور سبزیاں بھی کثرت سے پیدا ہوتے ہیں۔ بھارتی پنجاب بھارت کا اناج گھر یا بھارت کی روٹی کی ٹوکری کہلاتا ہے۔[11] یہ بھارت کی کپاس کا 10.26 فیصد، بھارت کی گندم کا 19.5٪ اور بھارت کے کل چاول کا 11٪ پیدا کرتا ہے۔

نقل و حمل[ترمیم]

پنجاب میں عوامی نقل و حمل کے لیے بسیں، آٹو رکشے، بھارت ریلوے اور پاکستان کے ساتھ منسلک سمجھوتہ ایکسپریس بین الاقوامی ریلوے وغیرہ ذرائع نقل و حمل استعمال کیے جاتے ہیں۔ ریاست میں کثیر ٹرانسپورٹیشن سسٹم کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے۔

فضائی

پنجاب میں چھ شہری ہوائی اڈے ہیں۔ امرتسر میں سری گرو رام داس جی بین الاقوامی ہوائی اڈا اور اجیت گڑھ میں چندی گڑھ بین الاقوامی ہوائی اڈا یہ دو پنجاب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے ہیں۔ دیگر ہوائی اڈوں میں:

ریلوے

ریاست کے تقریبا تمام بڑے اور چھوٹے شہر ریلوے کے ذریعے منسلک ہیں۔ امرتسر جنکشن پنجاب کا مصروف ترین ریلوے اسٹیشن ہے، اس سے ریاست کے تمام بڑے شہروں کی ریلوے منسلک ہے۔

مذہب[ترمیم]



Circle frame.svg

پنجاب، بھارت میں مذہب، (2011)

  سکھ مت (58%)
  ہندومت (38.5%)
  اسلام (1.9%)
  مسیحیت (1.3%)
  دیگر اور لامذہب (0.60%)

سکھ مت پنجاب کا بڑا مذہب ہے جو پنجاب کی کل آبادی کے 58٪ عوام کا مذہب ہے، دوسرے درجہ پر ہندو مت ہے جس کے پیروکاروں کی تعداد 38.5٪ ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے، اور سکھ مذہب کے آغاز سے قبل، ہندومت پنجابی لوگوں کا بنیادی مذہب تھا۔[12] سکھ مقدس مقامات میں سب سے مقدس مقام، ہرمندر صاحب، پنجاب کے شہر امرتسر میں واقع ہے اور اس کی نگران کمیٹی شرومنی گوردوارہ پربندک کمیٹی بھی امرتسر ہی میں ہے۔

مسلمان 1.93٪ ہیں، جو زیادہ تر ملیر کوٹلہ میں ہیں۔ مسلم اکثریت کے ساتھ یہ واحد شہر دیگر میں لدھانہ شہر میں مسلمان آباد ہیں۔ دیگر مذاہب میں جیسے مسیحیت 1.3٪ فیصد، بدھ مت 0.12٪ اور جین مت 0.12٪ فیصد آبادی کا مذہب ہے۔

زبان[ترمیم]

گرمکھی رسم الخط میں لکھی جانے والی پنجابی زبان ریاستی سرکاری زبان ہے۔ پنجابی دنیا کی دسویں سب سے زیادہ بولی جانے والی اور ایشیا کی پانچویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔

تعلیم[ترمیم]

پنجاب میں تعلیم کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پنجاب میں بھارت کے بے شمار مشہور تعلیمی ادارے، اسکول، کالج اور جامعات موجود ہیں جبکہ پنجاب زرعی جامعہ دنیا کی بلند پایہ زرعی جامعات میں شمار کی جاتی ہے۔ پنجاب میں اعلیٰ تعلیم کے بہت سے ادارے موجود ہیں (جن کی فہرست ذیل میں درج ہے)۔ ان اداروں میں عہد حاضر کے تمام شعبے فنون لطیفہ (arts)، بشریات (humanities)، سائنس، انجینئری، طب، قانون اور کاروبار کے نصاب گریجویٹ اور مابعد گریجویٹ کی سطح تک پڑھائے جاتے ہیں۔ مختلف شعبوں میں اعلیٰ تحقیق کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ پنجاب زرعی یونیورسٹی (Punjab Agricultural University) زراعت کے میدان میں دنیا کی اہم اور مستند ترین جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ اس یونیورسٹی نے 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں پنجاب کے سبز انقلاب میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Census of India, 2011. Census Data Online, Population.
  2. "State Bird is BAAZ". http://www.dayandnightnews.com/2011/05/baaz-is-back-as-punjabs-state-bird/. 
  3. "Punjab". Overseas Indian Facilitation Centre. اخذ کردہ بتاریخ 8 September 2011. 
  4. Singh، Pritam (2008). Federalism, Nationalism and Development: India and the Punjab Economy. London; New York: Routledge. p.3. ISBN 0-415-45666-5. https://books.google.com/books?id=mQLDcjhNoJwC&printsec=frontcover. 
  5. "WHKMLA : History of West Punjab". zum.de. 
  6. Canfield، Robert L. (1991). Turko-Persia in Historical Perspective. Cambridge, United Kingdom: Cambridge University Press. p.1 ("Origins"). ISBN 0-521-52291-9. 
  7. خطا در حوالہ: حوالہ بنام Ghandi_2013 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  8. Shimmel، Annemarie (2004). The Empire of the Great Mughals: History, Art and Culture. London, United Kingdom: Reaktion Books Ltd.. ISBN 1-86189-1857. 
  9. "Jurisdiction and Seats of Indian High Courts". Eastern Book Company. اخذ کردہ بتاریخ 2008-05-12. 
  10. "Punjab Legislative Assembly". Legislative Bodies in India. National Informatics Centre, Government of India. اخذ کردہ بتاریخ 2008-05-12. 
  11. Welcome to Official Web site of Punjab, India Archived 17 اپریل 2007 at the وے بیک مشین
  12. Service، Tribune News (26 August 2015). "Migration may have led to decline in Sikh count". tribuneindia.com. اخذ کردہ بتاریخ 26 August 2015. 

مزید مطالعہ[ترمیم]

  • Radhika Chopra. Militant and Migrant: The Politics and Social History of Punjab (2011)
  • Harnik Deol. Religion and Nationalism in India: The Case of the Punjab (Routledge Studies in the Modern History of Asia) (2000)
  • Harjinder Singh Dilgeer, Encyclopedia of Jalandhar, Sikh University Press, Brussels, Belgium (2005)
  • Harjinder Singh Dilgeer, SIKH HISTORY in 10 volumes, Sikh University Press, Brussels, Belgium (2010–11)
  • J. S. Grewal. The Sikhs of the Punjab (The New Cambridge History of India) (1998)
  • J. S. Grewal. Social and Cultural History of the Punjab: Prehistoric, Ancient and Early Medieval (2004)
  • Nazer Singh. Delhi and Punjab: Essays in history and historiography (1995)
  • Tai Yong Tan. The Garrison State: Military, Government and Society in Colonial Punjab, 1849–1947 (Sage Series in Modern Indian History) (2005)
اولین مآخذ
  • J. C. Aggarwal and S. P. Agrawal, eds. Modern History of Punjab: Relevant Select Documents (1992)
  • R. M. Chopra, " The Legacy of The Punjab ", 1997, Punjabee Bradree, Calcutta.

بیرونی روابط[ترمیم]