پنڈاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دیہاتی پنڈاریوں سے بچنے کے لیے خود کو جلاتے ہوئے، 1815ء

پِنڈاری یا مفت کے ساتھی (مراٹھی: पेंढारी ؛ ہندی: piṇḍārī, पिण्डारी / पिंडारी) ان مسلمان گھڑ سواروں کو کہا جاتا تھا جو مغل فوجیوں سے بھڑ کر انہیں مراٹھا حکمرانوں کے لیے قید کرتے تھے۔ یہ ان فوجوں کا اہم حصہ تھے اور اٹھارویں صدی میں غارت گری کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔[1] یہ لوگ سبھی مراٹھا زیر نگین علاقوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ انہیں مراٹھا سرداروں کی حوصلہ افزائی اور تحفظ حاصل تھا جن کی فوجوں کے لیے یہ لوگ ساز و سامان کی سربراہی کا کام کرتے تھے۔[2] یہ لوگ کئی مسلمان قبائل پر مشتمل تھے جن کا واحد مقصد لوٹ مار اور غارت گری تھا۔[2] یہ لوگ اٹھارہویں صدی میں سامنے آئے جب مغلیہ سلطنت بکھر رہی تھی اور مرہٹے بیشتر ہندوستان پر قابض تھے۔[2] پنڈاری لوگ خود کے منتخب سردار کے ساتھ منطم تھے اور ہر گروہ کسی نہ کسی مراٹھا سردار سے جڑا تھا۔ اہم خصوصیت یہ تھی کہ یہ لوگ بلا معاوضہ کام کرتے تھے۔ تاہم خدمات کے صلے میں انہیں لوٹ مار اور غارت گری کا اختیار حاصل تھا۔[2]

اشتقاقیات[ترمیم]

پنڈار لفظ ممکنہ طور پر پِنڈیا سے ماخوذ ہے جو ایک نشہ آور مشروب ہے یا پندھار،[3] ایک گاؤں نمر میں یا پینڈا سے ،[4] جو وہ چارہ ہے جو پنڈار لے کر پھرتے تھے۔ ایک اور ممکنہ ماخذ پِنڈا پڑنا (قریب ساتھ چلنا) یا پِنڈا بسنے (قریب چپکے رہنا) ہے[5]

متبادل املا پِنڈارا، پِنڈارہ یا پینڈھاری ہو سکتا ہے۔

ظہور[ترمیم]

جب مراٹھوں کی باضابطہ افواج سر آرتھر ویلیسلے کی فوجی مہم کی وجہ سے 1802-04 میں شکست خوردہ ہوگئیں، پنڈاروں نے مالوہ کو اپنا صدرمقام بنایا، جس کے لیے انہیں سندھیا اور ہولکر جیسے مراٹھا شاہی خاندانوں کا خاموش تحفظ حاصل ہوا۔ یہ لوگ ہر سال نومبر کے مہینے میں جمع ہوتے تھے اور برطانوی علاقوں میں جاکر لوٹ مار اور غارت گری کرتے تھے۔ مچھلی پٹنم میں کیے گئے چھاپہ مار حملے ان لوگوں نے 339 گاؤں تباہ کیے، 682 اشخاص کا قتل کیا یا انہیں زخمی کیا، 3600 کو اذیتیں پہنجائی اور اپنے ساتھ ڈھائی لاکھ پاؤنڈ مالیت کا سامان لے لیا۔ 1808-09 میں ان لوگوں نے گجرات کو تباہ کیا اور 1812ء میں مرزاپور کو۔ 1814ء میں عددی اعتبار سے یہ غارت گروں کی تعداد 25,000 سے 30,000 گھڑ سوار تھی۔

پنڈاریوں سے لڑائی[ترمیم]

ایسٹ انڈیا کمپنی کے کورٹ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بعد فرانسس روڈون ہیسٹنگز نے فیصلہ کیا کہ پنڈاریوں کا خاتمہ کیا جائے۔ اس کی منظوری ستمبر 1816ء میں ملی اور ہیسٹنگز نے اپنا منصوبہ 1817ء کے اخیر میں پیش کیا۔ ابتدا میں اس نے ہندوستان کے کئی حکمرانوں سے مفاہمت کی اور پھر ایک فوجی منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ وہ یہ تھا کہ پنڈاریوں کا گھیراؤ کیا جائے۔ اس منظم مہم کو پنڈاری جنگ کا نام دیا گیا، جو تیسری انگریز مراٹھا جنگ بنی۔

یہ ایک وسیع فوجی منصوبہ تھا؛ یہ کہ پنڈاریوں پر شمال اور مشرق میں بنگال سے حملہ کیا جائے، مغرب میں گجرات سے حملہ کیا جائے اور جنوب میں دکن سے۔ ہیسٹنگز نے 120,000 افراد اور 300 توپ خانوں اس کام میں مشغول کیا اور پنڈاریوں کا صفایا مقصد بنایا۔ کمان میں شمالی افواج، جس میں 4 ڈیویژن شخصی نگرانی میں، دکن کی ٹکڑی کی کمان تھامس ہیسلوپ کے ہاتھ میں تھی جبکہ سر جان میلکم ان کے سرکردہ نائب تھے۔ یہ ٹکڑیاں تیزی سے چلنے لگی اور جنوری 1818ء تک پنڈاریوں کو مالوہ اور چمبا سے نکال دیا گیا۔

پنڈاریوں کو چو طرف سے گھیرلیا گیا جو بنگال، دکن اور گجرات سے ہیسٹبگز کی قیادت میں جمع ہوئے تھے۔ سندھیا مغلوب ہو گئے اور گوالیار کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے مجبور ہو گئے کہ وہ پنڈاریوں کے صفائے میں مدد کریں گے جنہیں وہ اب تک مدد کرتے آئے تھے۔ چونکہ پنڈاری اپنی لوٹ کا ایک حصہ مراٹھا قائدین، پونے کے پیشوا، ناگپور کے بھونسلے راجا اور اندور کی ہولکر زمینی فوج کو جاتا تھا، ان لوگوں نے فردًا فردًا ہتھیار اٹھائے، مگر یہ سب انفرادی طور پر ہار گئے۔ پنڈاریوں نے خود کم ہی مزاحمت کی۔ تین طاقتور چتھے تین قائدین کی کمان میں تھے جن کے نام کریم خان پنڈاری، چیٹو پنڈاری اور واصل محمد پنڈاری تھے۔

کریم خان پنڈاری نے دیگر پنڈاری قائدین کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ وہ اس کے ساتھ مل کر ایک دفاعی منصوبے میں شامل ہوں۔ مگر پنڈاری قائدین کے اختلافات، خاص طور پر چیٹو پنڈاری نے کسی بھی متحدہ کوشش کے امکان کو موہوم بنا دیا، حالانکہ انگریزوں سے جنگ درپیش تھی۔ انگریزوں کی آمد کے ساتھ ہی کریم خان اور واصل محمد گوالیار پہنچے۔ چیٹو پنڈاری ہولکر افواج سے جا ملا۔ پنڈاریوں کے پیچھے ہٹنے کے دوران کئی واقعات ہوئے اور باوجود شکست دینے کے، انگریز ضرب خاتم دینے میں ناکام رہے۔ بالآخر سبھی پنڈاری اپنے اڈوں میں پہنچے جو جنوب میں تھے۔ انگریزوں نے ان کا تعاقب کیا۔ دسمنر کے اواخر میں جسونت راؤ بھاؤ کی دعوت پر کریم خان پنڈاری نے شمال میں ہولکر کے خیمے میں دوڑ آیا، جبکہ چیٹو پنڈاری کوٹہ سے جوار اور بیانا کے بیچ کے علاقے میں آیا۔ انگریز افواج ہر طرف سے گھیر چکے تھے۔ چیٹو اور کریم خان پنڈاری نرمدا میں اپنے ٹھکانے کی طرف بڑھنے لگے۔ چیٹو انگریز فوجوں سے بھاگ کر گھاٹوں کی طرف روانہ ہوا۔ وہ بھوپال گیا اور وہاں کے نواب کے توسط سے انگریزوں سے مفاہمت کی کوشش کی۔ مگر انگریزوں نے اس منصوبے کو فضول گردانتے ہوئے نامنظور کیا۔ دوسری جانب کریم خان پنڈاری کا بھی خوب تعاقب کیا گیا۔ فروری 1819ء تک بیش تر پنڈاری انگریزوں کے آگے خود کو سپرد کر چکے تھے۔ نامدار خان ایک ایسے ہی قائد تھے جس نے اسی سال 3 فروری کو گھٹنے ٹیکا۔ کریم خان پنڈاری نے جان میلکم کے رو بہ رو 15 فروری ہتھیار ڈال دیے۔ دیگر قائدین نے ان مثالوں کی تقلید کی۔ صرف چیٹو پنڈاری گرفتاری سے بچتا رہا۔ مگر اسے بھی جنگل کا رخ کرنا پڑا جب اس کے ساتھیوں نے اسے ترک کیا۔ فروری کے اختتام تک اس کے جسم کو انگریزوں کے آگے پیش کیا گیا؛ اس پر شیر نے حملہ کر کے اسے ختم کر دیا تھا۔

جان جارج[ضدابہام درکار][کون؟] نے پنڈار قائدین اور ان کے خاندانوں کے شمالی ہند میں گورکھپور میں بسنے کا انتظام کیا۔ ان خاندانوں کو وظائف اور زمین دی گئی۔ کسی پنڈاریوں کے احیاء کے امکان سے بچنے کے لیے انگریزوں نے صرف نامدار خان کو، جو کریم خان کا بھتیجا تھا، اجازت دی کہ وہ بھوپال میں بسے جو پنڈاریوں کا قدیم گڑھ تھا۔

عوامی تہذیب میں[ترمیم]

کنفیشنز آف اے تھگ ناول میں ٹھگ امیر علی اور اس کے ساتھی 4,000 پنڈاریوں کی ٹولی میں شامل ہوتے ہیں جس کا قائد چیٹو (چیتو) ہے، تاکہ اطراف کے گاؤں کو لوٹا جا سکے۔ چیتو کا انجام ناول کے آگے حصے میں پس منظری حیثیت رکھتا ہے۔

پنڈاریوں کی ایک جھلک سلمان خان کی اداکاری والی بالی وڈ فلم ویر میں دیکھنے کو ملی۔ ایک اور پیش کش تیلگو فلم باہوبلی 2: دی کنکلوژن میں دیکھی گئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Pindari"۔ Encyclopædia Britannica۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 جولا‎ئی 2016۔
  2. ^ ا ب پ ت Historical studies and recreations, Volume 2-By Shoshee Chunder Dutt; pg 340
  3. Central Provinces (India)۔ Nimar (انگریزی زبان میں)۔ Printed at the Pioneer Press۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. North Indian Notes and Queries (انگریزی زبان میں)۔ Pioneer Press۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. Central India؛ Charles Eckford Luard۔ The Central India State Gazetteer Series (انگریزی زبان میں)۔ Thacker, Spink۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

بیرونی حوالہ جات[ترمیم]

PD-icon.svg اس مضمون میں ایسے نسخے سے مواد شامل کیا گیا ہے جو اب دائرہ عام میں ہے: ہیو چشولم (ویکی نویس.)۔ دائرۃ المعارف بریطانیکا۔ کیمبرج یونیورسٹی پریس۔