پولس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پولُس
غیر یہودیوں کا رسول
Bartolomeo Montagna - Saint Paul - Google Art Project.jpg
مقدس پولس بارٹولومیو مونٹگنا کی مصوری
ذاتی تفصیلات
پیدائشی نام طرسوس کا ساؤل[1][2][3]
پیدائش [4]
طرسوس، کلکیہ، رومی سلطنت[5]
وفات 67ء[6]
ممکنہ طور پر روم میں، رومی سلطنت[6]
بزرگی
تہوار 25 جنوری (مقدس پولس کا تبدیلی کا یوم تہوار)
10 فروری (مالٹا میں مقدس پولُس کے جہاز کی تباہی کا یوم تہوار)
29 جون (مقدس پطرس اور مقدس پولُس کا یوم تہوار)
30 جون (چند مسیحی فرقوں کی جانب سے منایا جانے والا سابقہ ”سولو“ یوم تہوار)
18 نومبر مقدس پولُس اور پطرس کے لیے باسلیکا کو وقف کرنے کا یوم تہوار)
احترام در تمام مسیحیت
قداست  قبل کانگریگیشن
منسوب خصوصیات تلوار
سرپرستی رسالت؛ فقہا؛ غیر یہودی مسیحی

مقدس پولس یا پولوس (عربی: بولس، فارسی/اردو:پولوس، انگریزی:پول، Paul)، یسوع مسیح (اسلامی نام عیسیٰ) کے رسول اور مسیحی علمِ الٰہیات کے مبلغ اور مفسر، عہد نامہ جدید کے کئی اہم خطوط کے مصنف۔ پولوس کا شمار مسیحیت میں مسیح کے بعد سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان کی آخری زندگی کے متعلق اختلاف ہے، کہ ان کی موت کیسے ہوئی۔ ساؤل کے نام سے بھی مشہور ہی یسوع کے ہم عصر تھے اگرچہ انکی کبھی آپس میں ملاقات نہیں ہوئی انھوں نے یروشلم میں ممتاز یہودی عالم گملی ایل سے تعلیم حاصل کی۔ وہ ابتدا میں کٹر یہودی تھا لیکن ایک خواب کے ذریعے مسیحی ہو گیا۔ یسوع مسیح کے بعد مسیحی تبلیغ میں انکا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

پولوس کے بارے میں معلومات کا ماخذ بائبل میں شامل کتاب رسولوں کے اعمال اور اس کے اپنے خطوط ہیں۔ پولوس رومی صوبہ کلِکیہ تَرسُس میں پیدا ہوا [7] پولوس کا عبرانی نام ’’شاول‘‘ تھا [8] وہ بنیامن کے قبیلہ سے تھا اور یہودی فیقہ (فریسی) بھی تھا، [9] شریعت موسوی اور یہودی فقہ کی تعلیم گملی ایل نامی یہودی فقہ کے اُستاد سے پائی [7]

تبدیلیِ ایمان[ترمیم]

پولوس اولاً یسوع مسیح کے حواریوں کو مسیحِ موعود کے نام کی منادی کرنے کے سبب نہ صرف ستایا کرتا تھا بلکہ یہودی فقہ کی کونسل سے ان کے خلاف فتوٰی حاصل کرکے ان کے قتل کی سازشوں میں سرگرم تھا۔ اسی طرح کا ایک فتوٰی اس نے دمشق کے عبادت خانوں کے خلاف حاصل کیا اور ان کو دمشق سے یروشلیم لانے کے لیے نکلا اور دمشق کی راہ میں مسیحی روایات کے مطابق یسوع مسیح نے اس پر ظاہر ہوکر اس کو غیر اقوام کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کیا۔[10][11]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Saint Paul, the Apostle, original name Saul of Tarsus from Encyclopædia Britannica Online Academic Edition"۔ global.britannica.com۔ اخذ کردہ بتاریخ July 2014۔ 
  2. [Acts 9:11] This is the place where the expression "Saul of Tarsus" comes from.
  3. "Saul of Tarsus"۔ biblestudytools.com۔ اخذ کردہ بتاریخ July 2014۔ 
  4. Peter and Paul . In the Footsteps of Paul . Tarsus . 1. PBS. Retrieved 2010–11–19.
  5. [Acts 22:3]
  6. ^ 6.0 6.1 Harris, Stephen L. Understanding the Bible. Palo Alto: Mayfield. 1985. ISBN 978-1-55934-655-9
  7. ^ 7.0 7.1 اعمال 22:3
  8. "Saint Paul, the Apostle, original name Saul of Tarsus from Encyclopædia Britannica Online Academic Edition". global.britannica.com. Retrieved July 2014.
  9. فلپیوں 3:5
  10. اعمال 1:9-22
  11. اعمال 4:22-16