مندرجات کا رخ کریں

پولیقراطیس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
پولیقراطیس
(قدیم یونانی میں: Πολυκράτης)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 574 ق مء   ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 522 ق مء [1]  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سارد   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات سزائے موت   ویکی ڈیٹا پر  (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان ،  طاغوت [2]  ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان قدیم یونانی   ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پولیقراطیس، جسے فُلُقراط بھی کہا جاتا ہے، جزیرۂ ساموس کا حکمران (طاغیہ) تھا، جس نے تقریباً 535 تا 515 قبل مسیح حکومت کی۔ اس نے غریب شہریوں کو عطیات دے کر عوام میں مقبولیت حاصل کی۔ بعد ازاں اس نے ہیرا کے تہوار سے فائدہ اٹھایا، جو شہر کی فصیل سے باہر منایا جاتا تھا اور تقریباً 535 قبل مسیح میں ساموس پر اپنی حکمرانی قائم کر لی۔

حکومت

[ترمیم]

پولیقراطیس نے ابتدا میں اپنے دونوں بھائیوں، پینٹاگنوتوس اور سیلوسون، کے ساتھ مشترکہ طور پر حکومت کی، لیکن بعد میں انھیں اقتدار سے ہٹا کر خود ساموس کا واحد حکمران بن گیا۔ اس نے ایک ایسی ریاست قائم کی جس نے جزیرے کی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ پولیقراطیس نے یونانی ریاست کے لیے بحری طاقت کی اہمیت کو بخوبی سمجھا۔ اس نے تقریباً دو سو جنگی جہازوں پر مشتمل ایک مضبوط بحری بیڑا تیار کیا اور یوں بحیرۂ ایجیئن کا طاقت ور حکمران بن گیا۔ اس دوران اس نے سمندری قزاقی کی متعدد کارروائیاں بھی کیں، جن کی وجہ سے پورے یونان میں اس کی بدنامی پھیلی، لیکن اس کا اصل مقصد جزائرِ ایجیئن اور ایونیا کے ساحلی شہروں پر اپنی بالادستی قائم کرنا تھا۔ اس کی فتوحات کی مکمل تفصیلات معلوم نہیں، تاہم یہ معلوم ہے کہ اس نے ناکسوس کے حکمران لیگدامیس کے ساتھ اتحاد قائم کیا اور جزیرہ رینیا دیوتا اپولو کے مقدس مقام ڈیلس کے نام وقف کیا۔ اس نے ایشیائے کوچک کے ساحل سے تعلق رکھنے والی دو بڑی بحری طاقتوں، میلیتوس اور لیسبوس، کے اتحاد کو بھی شکست دی۔ [3][4]

پولیقراطیس نے مصر کے فرعون آماسیس دوم کے ساتھ اتحاد کیا تاکہ ساموس کی فروغ پاتی ہوئی بیرونی تجارت کو مزید وسعت دی جا سکے۔ مؤرخ ہیروڈوتس کے مطابق، آماسیس نے بعد میں اس اتحاد کو ختم کر دیا کیونکہ اسے اندیشہ تھا کہ دیوتا پولیقراطیس کی مسلسل کامیابیوں سے حسد کریں گے اور اس پر اور اس کے اتحادیوں پر مصیبت نازل ہوگی۔ تاہم زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ اتحاد خود پولیقراطیس نے توڑا۔ جب کمبوجیہ دوم نے 525 قبل مسیح میں مصر پر حملہ کیا تو پولیقراطیس نے اس کی مدد کے لیے ایک بحری دستہ بھیجا، لیکن اس کے ملاح، جو اس کے سیاسی مخالفین میں سے تھے، مصر پہنچنے سے پہلے ہی واپس ساموس لوٹ آئے اور اس کے خلاف بغاوت کر دی۔ اگرچہ پولیقراطیس کو بحری جنگ میں شکست ہوئی، لیکن اس نے شہر کی فصیلوں پر باغیوں کا حملہ ناکام بنایا اور بعد ازاں اسپارٹا اور کورنتھ کی مشترکہ فوج کے محاصرے کا بھی کامیابی سے مقابلہ کیا۔

وہ تقریباً 515 قبل مسیح تک اقتدار میں رہا۔ اسی دوران فارسی صوبہ لیدیا کے گورنر اورویتیس نے، جو ساموس کو طاقت کے زور پر فتح کرنے میں ناکام رہا تھا، جھوٹے وعدوں کے ذریعے پولیقراطیس کو ایشیائے کوچک آنے پر آمادہ کیا، جہاں اسے گرفتار کرکے مصلوب کر دیا گیا۔ سیاسی اور تجارتی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ پولیقراطیس نے ساموس میں بڑے پیمانے پر عوامی تعمیراتی منصوبے بھی شروع کیے۔ اس نے ایک نہر، ایک بند اور دیوی ہیرا کے لیے ایک عظیم الشان معبد تعمیر کروایا۔ اس کے محل کی عظمت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ بعد میں رومی شہنشاہ کالیگولا نے اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ پولیقراطیس نے بیرونِ ملک سے فن کاروں اور اہلِ علم کو بھی اعلیٰ معاوضوں پر اپنے دربار میں مدعو کیا۔ اس نے ایتھنز سے اپنے زمانے کے مشہور طبیب دیموسیدیس کو بڑی تنخواہ پر بلایا۔ وہ ادب کا بھی سرپرست تھا، اس نے ایک کتب خانہ قائم کیا اور شاعر انکریون سے اس کی گہری دوستی تھی، جس نے اپنی کئی نظموں میں اس کی مدح کی۔ تاہم فلسفی فیثاغورس نے اس کی مطلق العنان حکومت سے بچنے کے لیے ساموس چھوڑ دیا۔ [5] .[6] .[7][8]

تصویری نمائش

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. مدیر: اطالوی دائرۃ المعارف ادارہ — عنوان : Dizionario di Storia — تاریخ اشاعت: 2011 — تاریخ ڈکشنری شناخت کنندہ: https://www.treccani.it/enciclopedia/policrate_(Dizionario-di-Storia) — بنام: Policrate — اخذ شدہ بتاریخ: 5 ستمبر 2023
  2. عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/132258900 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
  3. Carty (2005) 109-13
  4. Elizabeth Irwin (2009)۔ "Herodotus and Samos: Personal or Political?"۔ The Classical World۔ ج 102 شمارہ 4: 395–416۔ DOI:10.1353/clw.0.0115۔ S2CID:154603346
  5. John P. Barron (1964)۔ "The Sixth-Century Tyranny at Samos"۔ The Classical Quarterly۔ ج 14 شمارہ 2: 210–229۔ DOI:10.1017/S0009838800023764۔ JSTOR:637725۔ S2CID:170412189
  6. IG XII.6.2 561
  7. Graham J. Shipley (1987)۔ A History of Samos, 800-188 BC۔ Oxford: Oxford University Press۔ ص 40–1 & 69۔ ISBN:9780198148685
  8. Carty (2015) 23-66.