پریہار
پریہار (پڈھیار، پرتیہار، پڑھیار یا پرہار) بنیادی طور پر ایک راجپوت شاہی قبیلہ ہے۔
تعارف اور وجہ تسمیہ
[ترمیم]پریہار(جسے پڑھیار یا پرتیہار بھی کہا جاتا ہے) راجپوتوں کا ایک نہایت قدیم اور معزز قبیلہ ہے، جس کا شمار راجپوتوں کے چار **اگنی کل** (آگ سے پیدا ہونے والے) قبائل میں ہوتا ہے [1]۔ لفظ "پریہار" سنسکرت کے لفظ **"پرتیہارا"** (Pratihara) کی بگڑی ہوئی شکل ہے، جس کے لغوی معنی "دربان"، "چیمبرلین" یا "دروازے کا محافظ" (Guardian of the gate) کے ہیں [2]۔ روایات کے مطابق جب اس نسل کا جدِ امجد ابو پربت (ماؤنٹ ابو) پر آگ کے کنڈ سے برآمد ہوا تو اسے دربان کی ذمہ داری سونپی گئی، اسی مناسبت سے یہ پریہار کہلائے [3]۔
تاریخی پس منظر اور اقتدار
[ترمیم]تاریخی مآخذ کے مطابق پریہاروں کا قدیم مسکن راجستھان میں **منڈوور** (Mandawar) تھا، جو عرصہ دراز تک ان کا دار الحکومت رہا [4]۔ پریہار خاندان نے 1129ء سے 1211ء تک **گوالیار** پر حکومت کی اور ان کی حکومت کا خاتمہ التمش کے ہاتھوں ہوا [5]۔ منڈوور میں ان کے اقتدار کا خاتمہ اس وقت ہوا جب چوندہ (Chonda) کی قیادت میں راٹھوروں نے دھوکے سے انھیں وہاں سے بے دخل کر دیا [6]۔ 12ویں صدی میں پریہار، دہلی کے چوہان بادشاہ پرتھوی راج کے طاقتور باج گزار (Vassals) تھے اور ان کا ایک سردار پندیر (Pundir) لاہور کی سرحد کا محافظ تھا [7]۔ [8] پڑھیار یا پریہار قبیلہ برصغیر کے مختلف حصوں میں آباد ہے:
- **پنجاب (پاکستان):** پنجاب میں پریہاروں کی نمائندگی زیادہ تر **پڑھیار جٹوں** (Parhar Jats) کی صورت میں ملتی ہے، جو خاص طور پر ڈیرہ غازی خان، ملتان اور منٹگمری (ساہیوال) میں آباد ہیں [9]۔
- اتر پردیش (اودھ): ضلع اناؤ (Unao) میں ان کی **چوراسی** (84 دیہات پر مشتمل علاقہ) مشہور ہے جس کا مرکز سکندر پور ہے [10]۔ الہ آباد، غازی پور اور بندیل کھنڈ میں بھی ان کی بڑی بستیاں موجود ہیں [11]۔
- راجستھان و وسطی ہند: مالوہ اور مارواڑ ان کے قدیم مراکز رہے ہیں۔ ریاست **جگنی** (Jagni) کے سربراہ اب بھی خود کو پریہار راجا جھجھار سنگھ کی اولاد بتاتے ہیں [12]۔
- قبائلی ڈھانچہ اور شاخیں**
پریہار قبیلہ 12 بڑی شاخوں یا خاندانوں میں تقسیم ہے (The Tribes and Castes of the North-Western Provinces and Oudh, Vol. 4, p. 136)۔ غازی پور کے پریہار خود کو **نروولیا** (Narauliya) کہتے ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گوالیار کے قریب نروال سے آئے تھے (The Tribes and Castes, Vol. 4, p. 136)۔ پنجاب میں پڑھیار جٹوں کی تین ذیلی شاخیں بتائی جاتی ہیں: **ڈانگر**، **ناچنا** اور **ماہپا** (ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، صفحہ 118)۔
مخالف یا مختلف رائے
[ترمیم]- نسل کے متعلق اختلاف:** اگرچہ روایتی طور پر انھیں اگنی کل مانا جاتا ہے، لیکن جنرل کنگھم نے بطلیموس (Ptolemy) کے بیان کردہ قبیلے **'Poruaroi'** کو پریہاروں سے تشبیہ دی ہے [13]۔ بعض مورخین (جیسے ونسنٹ اسمتھ) کا خیال ہے کہ پریہار درحقیقت **گوجر** نژاد تھے جو سفید ہنوں کے ساتھ ہندوستان آئے اور بعد میں ہندو معاشرے میں راجپوت کے طور پر جذب ہو گئے [14]۔
- مقامی ماخذ:** ڈاکٹر بکانن کی رائے میں گورکھپور اور شاہ آباد کے پریہار دراصل **بھر** (Bhar) قبیلے سے نکلے ہیں، اگرچہ پریہار خود اس کی سختی سے نفی کرتے ہیں اور خود کو اعلیٰ نسب راجپوت مانتے ہیں [15]۔
مستند مصادر سے اختلاف
[ترمیم]- نسب کا دعویٰ: کشمیر اور اناؤ کے پریہاروں کا دعویٰ ہے کہ وہ کشمیر کے مقام **سری نگر** یا **جگنی** سے ہجرت کر کے آئے ہیں [16]۔ تاہم، راجپوتوں کی مرکزی روایات (جیسے کرنل ٹاڈ کی 'انا لز') انھیں خالص مارواڑ کا قبیلہ قرار دیتی ہیں اور کشمیر سے ان کے نسبی تعلق کی تائید قدیم تاریخی شواہد میں کم ہی ملتی ہے [17]۔
- پاسیوں سے تعلق: بعض لوک روایات میں پڑھیاروں کو **پاسی** (Pasi) قبیلے کی ایک شاخ بتایا جاتا ہے، جس کی وجہ یہ دی جاتی ہے کہ انھوں نے ایک باغ (Bagh) میں پناہ لی تھی، لیکن یہ رائے مستند تاریخی مآخذ اور راجپوت انساب کے ماہرین کے نزدیک غلط اور محض عوامی قصہ گوئی پر مبنی ہے [18]۔
معاشرتی اور مذہبی حالت
[ترمیم]پریہاروں کی اکثریت اب مسلمان ہو چکی ہے، خاص طور پر پنجاب اور اودھ کے علاقوں میں۔ اناؤ کے پریہاروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی قدیم روایات پر سختی سے قائم ہیں اور ان کے ہاں ابھی تک وہ جاہ و جلال موجود ہے جو ایک جنگجو نسل کا خاصہ ہے [19]۔ پنجاب میں یہ لوگ بہترین کاشتکار مانے جاتے ہیں اور جٹ پڑھیاروں کی حیثیت سے زمیندارانہ رتبہ رکھتے ہیں [20]۔
ذیلی تقسیمات اور شاخوں
[ترمیم]اس قبیلے 12 شاخوں کا ذکر آتا ہے مختلف مقامات پر ان کی اہم ذیلی تقسیمات اور شاخوں کا ذکر درج ذیل ہے:
نروولیا
[ترمیم]یہ پریہاروں کی ایک نہایت با اثر شاخ ہے، جس کا نام گوالیار کے قریب واقع 'نروال' سے منسوب ہے [21]۔ غازی پور کے نروولیا راجپوتوں کے مطابق ان کے مورثِ اعلیٰ کھیگول اور منگل دیو تھے [22]۔
ڈانگر
[ترمیم]پنجاب میں پریہار جٹوں کی ایک ذیلی شاخ [23]۔
ناچنا
[ترمیم]پنجاب کے پریہاروں کی دوسری اہم ذیلی شاخ [24]۔
ماہپا
[ترمیم]پنجاب کے پڑھیار جٹوں کی تیسری شاخ [25]۔
پندیر
[ترمیم]بارہویں صدی میں پریہاروں کے ایک طاقتور سردار پندیر کا ذکر ملتا ہے جو لاہور کی سرحد کا محافظ تھا، اسے پریہاروں سے منسلک کیا جاتا ہے [26]۔
بھر
[ترمیم]بھر پریہار: ڈاکٹر بکانن کی رائے میں گورکھپور کے کچھ پریہار دراصل 'بھر' قبیلے سے نکلے ہیں، اگرچہ یہ ایک متنازع رائے ہے [27]۔
مختلف یا مخالف رائے
[ترمیم]تعداد کا اختلاف: جہاں اکثر مصادر 12 شاخوں کا ذکر کرتے ہیں، وہیں کچھ روایات میں کٹھی (Kathi) نسل کے ساتھ اختلاط کے نتیجے میں پریہاروں کی ذیلی شاخوں کی تعداد زیادہ بھی بتائی گئی ہے [28]۔ پاسی (Pasi) ماخذ: ایک عوامی اور لوک روایت میں پریہاروں کو 'پاسی' قبیلے کی شاخ بتایا جاتا ہے، لیکن مستند تاریخی مآخذ اس کی تردید کرتے ہیں اور اسے محض افسانہ قرار دیتے ہیں [29]۔
- ↑ ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، ای ڈی میکلیگن، ایچ اے روز، ترجمہ: یاسر جواد، صفحہ 189، بک ہوم، لاہور، 2014ء
- ↑ A glossary of the tribes and castes of the Punjab and North-West Frontier Province, H.A. Rose, Vol. 1, p. 27, Printed by the Superintendent, Government Printing, Punjab, Lahore, 1911
- ↑ The Tribes and Castes of the North-Western Provinces and Oudh, William Crooke, Vol. 4, p. 134, Office of the Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1896
- ↑ Hindu Tribes and Castes, M.A. Sherring, Vol. 1, p. 153, Thacker, Spink & Co., Calcutta, 1872
- ↑ The Tribes and Castes of the North-Western Provinces and Oudh, Vol. 4, p. 135
- ↑ Hindu Tribes and Castes, Vol. 1, p. 153
- ↑ PANJAB CASTES, Denzil Ibbetson, p. 142, Printed by the Superintendent, Government Printing, Punjab, Lahore, 1916
- ↑ جغرافیائی حدود اور مسکن
- ↑ A glossary of the tribes and castes, Vol. 3, p. 215
- ↑ The Tribes and Castes of the North-Western Provinces and Oudh, Vol. 4, p. 136
- ↑ Hindu Tribes and Castes, Vol. 1, p. 154
- ↑ The Tribes and Castes, Vol. 4, p. 135
- ↑ The Tribes and Castes, Vol. 4, p. 135
- ↑ Tribes and Castes of the Central Provinces of India, R.V. Russell, Vol. 4, p. 458, Macmillan and Co., London, 1916
- ↑ The Tribes and Castes of the North-Western Provinces and Oudh, Vol. 4, p. 135
- ↑ The Tribes and Castes, Vol. 4, p. 136
- ↑ The Tribes and Castes, Vol. 4, p. 135
- ↑ The Tribes and Castes, Vol. 4, p. 139
- ↑ The Tribes and Castes, Vol. 4, p. 136
- ↑ ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، ص 118
- ↑ The Tribes and Castes of the North-Western Provinces and Oudh, Vol. 4, p. 136
- ↑ Hindu Tribes and Castes, Vol. 1, p. 154
- ↑ ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، ای ڈی میکلیگن، ایچ اے روز، ترجمہ: یاسر جواد، صفحہ 118، بک ہوم، لاہور، 2014ء
- ↑ ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، ص 118
- ↑ ذاتوں کا انسائیکلوپیڈیا، ص 118
- ↑ PANJAB CASTES, Denzil Ibbetson, p. 142, Printed by the Superintendent, Government Printing, Punjab, Lahore, 1916
- ↑ The Tribes and Castes of the North-Western Provinces and Oudh, Vol. 4, p. 135
- ↑ The Tribes and Castes, Vol. 4, p. 134
- ↑ The Tribes and Castes of the North-Western Provinces and Oudh, Vol. 4, p. 139