پکلہاؤب

پِکلہاؤب یا پِکلہاؤبَین جسے پِکل ہیلم بھی کہتے ہیں، ایک منفرد قسم کا چمڑے یا اسٹیل کا فوجی ہیلمٹ ہے جس کے اوپر ایک نوک یا مِیخ ہوتی ہے۔ اِسے 19ویں صدی کے وسط سے لے کر پہلی جنگ عظیم تک پروشیائی اور جرمن فوجوں نے بڑے پیمانے پر استعمال کیا تھا۔

اگرچہ یہ عام طور پر پروشیائی فوج سے وابستہ ہے، جس نے اسے 1842-43 میں اپنایا،[1] اس عرصے کے دوران ہیلمٹ کی دوسری فوجوں نے بڑے پیمانے پر نقل کی۔ یہ آج بھی سویڈن، چلی اور کولمبیا جیسے بعض ممالک کی فوجوں میں رسمی لباس کے طور پر پہنا جاتا ہے۔
پہلی جنگ عظیم
[ترمیم]١٩١٤ سے پہلے اور اس کے دوران پیادہ فوج کے لیے تیار کیے گئے تمام ہیلمٹ چمڑے سے بنے ہوتے تھے۔ جیسے جیسے جنگ آگے بڑھی، جرمنی کے چمڑے کے ذخائر کم ہوتے گئے۔ جنوبی امریکا، خاص طور پر ارجنٹائن سے بڑے پیمانے پر درآمدات کے بعد، جرمن حکومت نے دوسرے مواد سے بنے متبادل پکلہاؤبین کی پیداوار شروع کی۔ ١٩١٥ میں، کچھ پکلہاؤبین پتلی شیٹ اسٹیل سے تعمیر کیے جانے لگے۔ تاہم، جرمن ہائی کمان کو اس سے بھی زیادہ تعداد میں ہیلمٹ تیار کرنے کی ضرورت تھی، جس کی وجہ سے پکلہاوبین کی تعمیر کے لیے دباؤ والے فیلٹ اور یہاں تک کہ کاغذ کا استعمال کیا گیا۔ پکلہاؤب ١٩١٦ میں موقوف کر دیے گئے تھے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Richard Knotel (1980)۔ Uniforms of the World۔ ص 129۔ ISBN:0-684-16304-7
- پروشیائی فوج
- پہلی جنگ عظیم میں جرمن فوجی سازوسامان
- 19 ویں صدی کا فیشن
- 1840ء کی دہائی کا فیشن
- 1850ء کی دہائی کا فیشن
- 1860ء کی دہائی کا فیشن
- 1870ء کی دہائی کا فیشن
- 1880ء کی دہائی کا فیشن
- 1890ء کی دہائی کا فیشن
- 1900ء کی دہائی کا فیشن
- 1910ء کی دہائی کا فیشن
- جرمن عسکری وردیاں
- جرمنی کی عسکری تاریخ
- جرمن الفاظ و عبارتیں
- جرمنی کے ہتھیار
- جرمن ملبوسات