پھنسیاں اور چھالے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
پھنسیاں اور چھالے
مترادفسردی کا زخم، بخار کے چھالے
نچلے ہونٹ کی ہرپس لیبیلیس
تلفظ
اختصاصمتعدی بیماری(طبی)
علاماتپانی والے چھالے جو پھٹ کرچھوٹے السر بنتے ہیں، بخار، سوجن لمف نوڈس[1]
دورانیہ2–4 ہفتے[1]
وجوہاتہرپس سمپلیکس وائرس براہ راست رابطے سے پھیلتا ہے[1]
خطرہ عنصرمدافعتی افعال میں کمی, تناؤ، سورج کی روشنی[2][3]
تشخیصی طریقہعلامات کی بنیاد پر, پی سی آر, وائرل کلچر[1][2]
معالجہعکلوویر , والیسی کلوویر, پیراسیٹامول (اسیٹامائنوفن), ٹاپیکل لڈوکین[1][2]
تعدد60–95فیصد (بالغ)[4]

ہرپس سمپلیکس جسے پھنسیوں اور چھالے کے عارضے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،ایک وائرل انفیکشن ہے جو ہرپس سمپلیکس نامی وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ [1] انفیکشن کو جسم کے متاثرہ حصے کی بنیاد پر درجہ بند کیا جاتا ہے۔ [5] اورل ہرپس میں چہرہ یا منہ متاثر ہوتا ہے۔ [5] جس کی وجہ سے جھرمٹ کی صورت میں چھوٹے چھالے ہو سکتے ہیں جنہیں سردی کے زخم یا بخار کے چھالے کہتے ہیں بعض صورتوں میں یہ صرف گلے میں خراش کا سبب بن سکتے ہیں ہے۔ [2] [6] جننانگ ہرپس ، جسے عام طور پر ہرپس کے نام سے جانا جاتا ہے، اس عارضہ کی علامات کم ہوتی ہیں کبھی کبھار پانی والے چھالے ہو سکتے ہیں جو پھٹ کر چھوٹے السر بن ہوجاتے ہیں۔ [1] جو عام طور پر دو سے چار ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ [1] چھالوں کے ظاہر ہونے سے پہلے سنسناہت یا چبھتا ہو ا درد ہو سکتا ہے۔ [1] فعال بیماری کے ادوار کے بعد کچھ دور بغیر کسی علامات کے بھی آتے ہیں۔ [1] عارضے کا پہلا دور اکثر شدیدنوعیت کا ہوتا ہے جس کے دوران بخار، پٹھوں میں درد، سوجن لمف نوڈس اور سر درد ہو سکتا ہے۔ [1] وقت گزرنے کے ساتھ، فعال بیماری کا تعدد اور شدت میں کمی ہوتی جاتی ہیں۔ [1] ہرپس سمپلیکس کی وجہ سے ہونے والے دیگر عوارض میں ہرپیٹک وائٹلو جس میں انگلیاں شامل ہوتی ہیں، [7] آنکھ کی ہرپس ، [8] دماغ کا ہرپس انفیکشن ، [9] اور نوزائیدہ بچوں کا ہرپس شامل ہیں۔ [10]

ہرپس سمپلیکس وائرس کی دو اقسام ہیں،، ٹائپ 1 (HSV-1) اور ٹائپ 2 (HSV-2)۔ [1] HSV-1 زیادہ تر منہ کے ارد گرد انفیکشن کا جبکہ HSV-2 عام طور پر اعضائے مخصوصہ کے انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔ یہ وائرس جسمانی رطوبتوں یا کسی متاثرہ فرد کے زخموں کے ساتھ براہ راست رابطے سے پھیلتے ہیں۔ [1] علامات موجود نہ ہونے کے باوجود بھی اس کی منتقلی ہو سکتی ہے۔ [1] جننانگ ہرپس کو جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کے طور پر درجہ بند کیا جاتا ہے۔ [1] بچے کی پیدائش کے دوران یہ بچے میں بھی پھیل سکتا ہے۔ [1] انفیکشن کے بعد، وائرس حسی اعصاب کے ساتھ عصبی خلیوں میں منتقل ہوتے ہیں، جہاں وہ زندگی بھر رہتے ہیں ۔ [2] دوبارہ ہونے میں یہ وجوہات شامل ہو سکتی ہیں: مدافعتی فعل میں کمی ، تناؤ اور سورج کی روشنی۔ [2] [3] اورل اور جننانگ ہرپس کی تشخیص عام طور پر موجودہ علامات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ [2] تشخیص کی تصدیق وائرل کلچر یا چھالوں کے سیال میں ہرپس ڈی این اے کا پتہ لگا کر ہو سکتی ہے۔ [1] وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز کے لیے خون کی جانچ پچھلے انفیکشن کی تصدیق کر سکتی ہے لیکن یہ نئے انفیکشن میں منفی ہو گی۔ [1]

جنناتی انفیکشن سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ اندام نہانی، اورل اور مقعد کے جنسی عمل سے دور رہنا ہے۔ [1] کنڈوم کا استعمال خطرے کو کم کرتا ہے۔ [1] روزانہ کی اینٹی وائرل دوائیں انفیکشن میں مبتلا افراد کے پھیلاؤ کو کم کر سکتی ہیں۔ [1] اس عارضہ کے لیے کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے [1] اور ایک بار انفیکشن کے بعد، کوئی علاج نہیں ہے. [1] پیراسٹامول (اسیٹامائنوفن) اور ٹاپیکل لڈوکین علامات کو کم کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اینٹی وائرل ادویات جیسے کہ ایکیکلوویر یا ویلاسی کلوویر کے ساتھ علاج علامتی ادوار کی شدت کو کم کر سکتا ہے۔ [1] [2]

HSV-1 یا HSV-2 کی دنیا بھر میں شرح بالغوں میں 60سے 95فیصد کے درمیان ہے۔ [4] HSV-1 عام طور پر بچپن میں ہی منتقل ہو جاتا ہے۔ [1] عمر کے ساتھ ساتھ لوگوں میں دونوں وائرس کی شرح بڑھ جاتی ہیں۔ [4] HSV-1 کی شرح کم سماجی اقتصادی حیثیت کی آبادی میں 70سے 80فیصدکے درمیان اور بہتر سماجی اقتصادی حیثیت کی آبادی میں 40سے 60فیصدکے درمیان ہے۔ [4] ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 536 ملین افراد (آبادی کا 16فیصد) 2003 تک HSV-2 سے متاثر ہوئے تھے عارضہ کی شرح خواتین اور ترقی پزیر دنیا میں زیادہ ہوتی ہے۔ [11] HSV-2 والے زیادہ تر افراد کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ متاثر ہیں۔ [1] یہ نام یونانی: ἕρπης سے ہے herpēs ، جس کے معنی "رینگنا" کے ہیں ، جس میں چھالے پھیلتے ہیں۔ [12] اس نام سے مراد تاخیر نہیں ہے ۔ [13]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق "Genital Herpes – CDC Fact Sheet"۔ cdc.gov۔ December 8, 2014۔ 31 دسمبر 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 دسمبر 2014 
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ R Balasubramaniam، AS Kuperstein، ET Stoopler (April 2014)۔ "Update on oral herpes virus infections."۔ Dental Clinics of North America۔ 58 (2): 265–80۔ PMID 24655522۔ doi:10.1016/j.cden.2013.12.001 
  3. ^ ا ب Elad S، Zadik Y، Hewson I، وغیرہ (August 2010)۔ "A systematic review of viral infections associated with oral involvement in cancer patients: a spotlight on Herpesviridea"۔ Support Care Cancer۔ 18 (8): 993–1006۔ PMID 20544224۔ doi:10.1007/s00520-010-0900-3 
  4. ^ ا ب پ ت P Chayavichitsilp، JV Buckwalter، AC Krakowski، SF Friedlander (April 2009)۔ "Herpes simplex"۔ Pediatr Rev۔ 30 (4): 119–29; quiz 130۔ PMID 19339385۔ doi:10.1542/pir.30-4-119۔ 28 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جولا‎ئی 2020 
  5. ^ ا ب William D. James، Dirk Elston، James R. Treat، Misha A. Rosenbach، Isaac Neuhaus (2020)۔ "19. Viral diseases"۔ Andrews' Diseases of the Skin: Clinical Dermatology (بزبان انگریزی) (13th ایڈیشن)۔ Edinburgh: Elsevier۔ صفحہ: 362–370۔ ISBN 978-0-323-54753-6۔ 04 جون 2022 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مئی 2022 
  6. Mosby (2013)۔ Mosby's Medical Dictionary (9 ایڈیشن)۔ Elsevier Health Sciences۔ صفحہ: 836–37۔ ISBN 9780323112581۔ 06 ستمبر 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  7. Wu, IB; Schwartz, RA (March 2007)
  8. Rowe, AM; St Leger, AJ; Jeon, S; Dhaliwal, DK; Knickelbein, JE; Hendricks, RL (January 2013)
  9. Steiner, I; Benninger, F (December 2013)
  10. Stephenson-Famy, A; Gardella, C (December 2014)
  11. Looker, KJ; Garnett, GP; Schmid, GP (October 2008)
  12. Beswick, TSL (1962)
  13. Vail Reese۔ "Countering Creeping Confusion: A Proposal to Re-Name Herpes Virus TAXONOMY"۔ Online Journal of Community and Person-Centered Dermatology۔ Dr. David Elpern۔ 23 ستمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 ستمبر 2018