پھولن دیوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
پھولن دیوی
फूलन देवी
Phoolan Devi.jpg
رکن بھارتیہ سنساد (11ویں لوک سبھا)
عہدہ سنبھالا
1996–1998
حلقہ مرزا پور
رکن بھارتیہ سنساد (13ویں لوک سبھا)
عہدہ سنبھالا
1999–2001
حلقہ مرزا پور
پھولن دیوی
Image illustrative de l'article پھولن دیوی
پھولن دیوی

معلومات شخصیت
پیدائش 10 اگست 1963  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اتر پردیش   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 25 جولا‎ئی 2001 (38 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نئی دہلی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات قتل   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بھارتی
دیگر نام بینڈٹ کوئن
جماعت سماج وادی پارٹی
شریک حیات پتی لال
عملی زندگی
پیشہ ڈاکو ( بینڈٹ), سیاست دان
متاثر شخصیات سیما پریہار

ہندوستان کی چمبل وادی کی مشہور ڈاکو اور سیاستدان ۔اترپردیش میں پیدا ہوئیں۔پھولن دیوی کا شمار انیس سو اسّی کی دہائی میں سب سے خطرناک ڈاکوؤں میں ہوتا ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتیوں کا بدلہ لینے کے لیے مبینہ طور پر اعلی ذات کے 22 ہندو افراد کا قتل کیا ۔

عمر قید[ترمیم]

پھولن دیوی نے 1983میں اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا اور 1994 تک وہ جیل میں رہیں۔

=سیاسی زندگی[ترمیم]

1994میں پھولن دیوی نے لوک سبھا کی رکنیت حاصل کی۔ 1998 میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد اگلے سال ایک بار پھر وہ رکن پارلیمان بنی ۔

پھولن دیوی پر فلم[ترمیم]

مشہور ہدایت کار شیکھر کپور نے پھولن دیوی کی زندگی پر مبنی فلم ’بینڈ کوین‘ بنا کر انہیں ایک لافانی کردار بنا دیا تھا۔

قتل[ترمیم]

پھولن دیوی کو ان کی رہائش گاہ کے سامنے جب وہ اپنی گاڑی سے اتر رہی تھیں، تین نقاب پوشوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ پھولن دیوی اس وقت بھارتی پارلیمان کی رکن تھیں۔ شمشیر سنگھ رانا کو دہلی میں پھولن دیوی کے قتل کے کچھ ہی روز بعدگرفتار کر لیا گیا اور پولیس کے مطابق اس نے اقرارِ جرم بھی کر لیا۔

شمشیر سنگھ کا کہنا تھا کہ اس نے پھولن دیوی کے ہاتھوں 1981 کے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اعلیٰ ذات کے بائیس افراد کی ہلاکت کا بدلہ لیاہے۔

پھولن دیوی نے اس قتل کے عام کے متعلق کہا تھا کہ کہ انہوں نے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے ہاتھوں اپنے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کا بدلہ لیا ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Manju Jain (2009). Narratives of Indian cinema. Primus Books. صفحہ۔164.