پھولن دیوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
پھولن دیوی
مناصب
رکن لوک سبھا   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
1996  – 1998 
حلقہ مرزا پور 
رکن لوک سبھا   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
1999  – 25 جولا‎ئی 2001 
حلقہ مرزا پور 
معلومات شخصیت
پیدائش 10 اگست 1963  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اتر پردیش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 25 جولا‎ئی 2001 (38 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نئی دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
رہائش اتر پردیش
سنت رویداس نگر ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
دیگر نام بینڈٹ کوئن
جماعت سماج وادی پارٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
شوہر پتی لال
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،ڈاکو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

ہندوستان کی چمبل وادی کی مشہور ڈاکو اور سیاستدان ۔اترپردیش میں پیدا ہوئیں۔پھولن دیوی کا شمار انیس سو اسّی کی دہائی میں سب سے خطرناک ڈاکوؤں میں ہوتا ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتیوں کا بدلہ لینے کے لیے مبینہ طور پر اعلیٰ ذات کے 22 ہندو افراد کا قتل کیا ۔

عمر قید[ترمیم]

پھولن دیوی نے 1983میں اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا اور 1994 تک وہ جیل میں رہیں۔

=سیاسی زندگی[ترمیم]

1994میں پھولن دیوی نے لوک سبھا کی رکنیت حاصل کی۔ 1998 میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد اگلے سال ایک بار پھر وہ رکن پارلیمان بنی ۔

پھولن دیوی پر فلم[ترمیم]

مشہور ہدایت کار شیکھر کپور نے پھولن دیوی کی زندگی پر مبنی فلم ’بینڈ کوین‘ بنا کر انہیں ایک لافانی کردار بنا دیا تھا۔

قتل[ترمیم]

پھولن دیوی کو ان کی رہائش گاہ کے سامنے جب وہ اپنی گاڑی سے اتر رہی تھیں، تین نقاب پوشوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ پھولن دیوی اس وقت بھارتی پارلیمان کی رکن تھیں۔ شمشیر سنگھ رانا کو دہلی میں پھولن دیوی کے قتل کے کچھ ہی روز بعدگرفتار کر لیا گیا اور پولیس کے مطابق اس نے اقرارِ جرم بھی کر لیا۔

شمشیر سنگھ کا کہنا تھا کہ اس نے پھولن دیوی کے ہاتھوں 1981 کے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اعلیٰ ذات کے بائیس افراد کی ہلاکت کا بدلہ لیاہے۔

پھولن دیوی نے اس قتل کے عام کے متعلق کہا تھا کہ کہ انہوں نے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے ہاتھوں اپنے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کا بدلہ لیا ۔

حوالہ جات[ترمیم]