پہلا آیئنی دور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سلطنت عثمانیہ کا پہلا آئینی دور ( عثمانی ترکی زبان: مشروطيت؛جدید ترکی: Birinci Meşrutiyet Devri ) دستوری بادشاہت کا دور تھا جس کی بنیاد عثمانی آئین قانون اساسی (جس کا مطلب عثمانی ترکی میں بنیادی قانون ) تھا ، یہ نوجوانان عثمانیہ کے ارکان نے لکھا تھا ، اس کاآغاز23 دسمبر 1876 کوہوا اور 14فروری 1878 تک جاری رہا۔ [1] [2] نوجوانان عثمانیہ(جوان عثمانی) تنظیمات سے مطمئن نہیں تھے وہ اس کے بجائے یورپ کی طرح کی آئینی حکومت

چاہتے تھے۔ [3] آئینی دور کا آغاز سلطان عبد العزیز کے تخت سے اترنے کے بعد ہوا ۔ عبدالحمید دوم نئے سلطان بنے۔ [4] اس آئینی دور کا اختتام عثمانی پارلیمنٹ(مجلس شوری) کی معطلی اور سلطان عبد الحمید دوم کے دستور،جس میں

انہوں نے اپنی مطلق العنان بادشاہت بحال کرلی تھی، کے نفاذ پر ہوا۔

احمد وفیق پاشا اور اسحاق پاشا دونوں نے پہلی عثمانی مجلس عمومی(پارلیمنٹ) کی صدارت کی

پہلے آئینی دور میں جماعتی نظام نہیں تھا ۔ اس وقت ، عثمانی پارلیمنٹ (جسے عثمانی سلطنت کی مجلس عمومی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) کو سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے قیام کا مقام نہیں بلکہ عوام کی آواز سمجھا جاتا تھا۔

مجلس عمومی کے لئے انتخابات عارضی انتخابی ضوابط کے مطابق ہوئے تھے۔ پارلیمان ( سلطنت عثمانیہ کی مجلس عمومی ؛ عثمانی ترکی زبان: مجلسِ عمومی.) دو حصوں پر مشتمل تھی: ایوان زیریں کی کی دو ایوانی مقننہ مجلس مبعوثان (عثمانی ترکی زبان: مجلسِ مبعوثان) تھی ، جبکہ ایوان بالا مجلس اعیان (عثمانی ترکی زبان: ھیاتِ اعیان) تھی. نائبوں(ڈپٹی) کا ابتدائی انتخاب صوبوں کی انتظامی کونسلوں (جسے "مجلس عمومی " بھی کہا جاتا ہے) نے کیا تھا۔

صوبوں میں مجلس عمومی کے قیام کے بعد ، ممبران نے دارالحکومت میں مجلس مبعوثان تشکیل دینے کے لئے اسمبلی سے نائبین کا انتخاب کیا۔ مجلس کے 115 ممبران تھے جو سلطنت میں ملت کی تقسیم کی عکاسی کرتے تھے۔ دوسرے انتخابات میں ، 69 مسلم ملت کے نمائندے اور46 دیگر ملتوں( یہودی ، يونانی فنار ، آرمینیائی ) کےنمائندے تھے۔

دوسرا ادارہ مجلس اعیان کا تھا ، جن کے ارکان کا انتخاب سلطان نے کیا تھا۔ مجلس اعیان میں صرف 26 ارکان تھے۔ یہ باب عالی کی جگہ لینے کیلئے بنایا گیا تھا ،وزیر اعظم مجلس اعیان کا اسپیکر بن گیا۔

1877 سے 1878 کے درمیان دو انتخابات ہوئے ۔

پہلی مدت ، 1877[ترمیم]

ضیا پاشا ، پہلی عثمانی مجلس عمومی (پارلیمنٹ) کے رکن۔

قریبی جنگ کے بارے میں ارکان کا رد عمل بہت مضبوط تھا ، اور انہوں نے سلطان عبد الحمید ثانی کو روس-ترکی جنگ (1877– 1878) کا حوالہ دیتے ہوئے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔

دوسری مدت ، 1878[ترمیم]

پہلی عثمانی پارلیمنٹ کے رکن واسو پاشا ۔

مجلس عمومی کی دوسری مدت محض چند روزہ ہی تھی ، کیونکہ بلقان ولایت کے ارکان کی ابتدائی تقریروں کے بعد ، عبدالحمید ثانی نے سماجی بدامنی کا حوالہ دیتے ہوئے مجلس عمومی (پارلیمنٹ) کو تحلیل کردیا تھا۔

عثمانی آئینی(دستوری) دور
1876 کا عثمانی آئین
1877 میں افتتاحی تقریب
1870 میں مجلس عمومی کا اجلاس

نمایاں افراد[ترمیم]

  • محمد رشدی پاشا
  • احمد وفیق پاشا
  • حسین اونی پاشا
  • مدحت پاشا
  • سلیمان پاشا

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Meclis-i Mebusan (Mebuslar Meclisi)". Tarihi Olaylar. 
  2. "Meclis-i Mebusan nedir? Ne zaman kurulmuştur?". Sabah. 19 January 2017. 
  3. A History of the Modern Middle East. Cleveland and Buntin p.78
  4. "Constitutional Period in the Ottoman Empire." Constitutional Period in the Ottoman Empire. N.p., n.d. Web. http://www.istanbul.com/en/explore/info/constitutional-period-in-the-ottoman-empire