پہلی افیونی جنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پہلی افیونی جنگ
First Opium War
بسلسلہ افیونی جنگیں
Destroying Chinese war junks, by E. Duncan (1843).jpg
برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کا بحری حملہ
تاریخ18 مارچ 1839 – 29 اگست 1842[1]
(3 سال، 5 ماہ، 1 ہفتہ اور 4 دن)
مقامچین
نتیجہ برطانوی فتح، معاہدہ نانکنگ
سرحدی
تبدیلیاں
جزیرہ ہانگ کانگ برطانیہ کے حوالے
محارب

 متحدہ مملکت

چنگ خاندان
کمانڈر اور رہنما
طاقت

19٬000+ troops:[2]

37 ships:[2]

200٬000 فوجی (بشمول Bannermen)
ہلاکتیں اور نقصانات
69 ہلاک[2]
451 زخمی[2]
Nearly 300 فارموسا میں قتل ہا ہلاک
18٬000–20٬000 ہلاک اور زخمی2 (اندازا)[2]

1 Comprising 5 troop ships، 3 brigs, 2 steamers، 1 survey vessel، and 1 hospital ship۔

2 Casualties include Manchu bannermen and their families who committed mass suicide at the Battle of Chapu and Battle of Chinkiang۔[3][4]

پہلی افیونی جنگ (First Opium War) (چینی: 第一次鸦片战争) جسے اینگلو چینی جنگ (Anglo-Chinese War) بھی کہا جاتا ہے، برطانیہ اور چین کے کوئن خاندان کے مابین لڑی جانے والی جنگوں کا ایک سلسلہ تھا۔ فوری طور پر مسئلہ یہ تھا کہ چینی انتظامیہ نے کینٹین میں افیون کی تجارت پر پابندی عائد کردی تھی اور مجرموں کو دوبارہ افیون کی تجارت کرنے پر سزاموت کی دھمکی دی تھی۔ برطانوی حکومت نے اقوام عالم میں آزاد تجارت اور مساوات کے اصولوں پر اصرار کیا اور تاجروں کے مطالبات کی حمایت کی۔ برطانوی نیوی نے تکنیکی طور پر اعلی بحری جہازوں اور ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے چینیوں کو شکست دی، اور پھر انگریزوں نے ایک معاہدہ کیا جس کے تحت مغربی طاقتوں کو علاقہ مل گیا اور چین کے ساتھ تجارت کا آغاز ہوا۔

متحدہ مملکت اور چنگ خاندان کے درمیان میں سفارتی تعلقات، تجارت اور چین میں غیر ملکی شہریوں کے لیے انصاف کی انتظامیہ پر ان متضاد نقطہ ہائے نظر کی وجہ سے ہوئی۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Le Pichon, Alain (2006)۔ China Trade and Empire۔ Oxford University Press. pp. 36–37. ISBN 0-19-726337-2.
  2. ^ ا ب پ ت ٹ Martin, Robert Montgomery (1847)۔ China: Political, Commercial, and Social; In an Official Report to Her Majesty's Government۔ Volume 2. London: James Madden. pp. 80–82.
  3. Rait, Robert S. (1903)۔ The Life and Campaigns of Hugh, First Viscount Gough, Field-Marshal۔ Volume 1. p. 265.
  4. John Makeham (2008). China: The World's Oldest Living Civilization Revealed. Thames & Hudson. صفحہ 331. ISBN 978-0-500-25142-3. 6 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  5. Tsang, Steve (2007)۔ A Modern History of Hong Kong۔ I.B.Tauris. p. 3–13, 29. ISBN 1-84511-419-1.

بیرونی روابط[ترمیم]