پہلی اینگلو مرہٹہ جنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پہلی اینگلو مرہٹہ جنگ
بسلسلہ اینگلو مرہٹہ جنگیں
Maratha British Treaty.JPG
دیوار پر بنی پہلی اینگلو مرہٹہ جنگ میں انگریزوں کی سپر اندازی کی خیالی تصویر۔ یہ دیواری تصویر فتح کی یادگار (وِجے استمبھ) کا حصہ ہے جو وڑگاؤں ماول (قومی شاہراہ-4، مالی نگر، وڑگاؤں ماول، پونے) میں نصب ہے۔
تاریخ1775–1782
مقامپونے
نتیجہ

مرہٹہ فتح[1][2]

محارب

Flag of the United Kingdom.svgسلطنت برطانیہ

Flag of the British East India Company (1707).svg برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی
Flag of the Maratha Empire.svg مرہٹہ سلطنت
کمانڈر اور رہنما

Flag of the United Kingdom.svg وارن ہیسٹنگز[2] Flag of the British East India Company (1707).svg کرنل کیٹنگ

Flag of the British East India Company (1707).svg تھامس وائینڈھیم گوڈارڈ[2]

Flag of the Maratha Empire.svg مہادجی شندے[2] Flag of the Maratha Empire.svg نانا فڈنویس Flag of the Maratha Empire.svg مادھو راؤ اول[2]

Flag of the Maratha Empire.svg ہری پنت پھڑکے
طاقت

93,000 ٹولیاں[2][4] کُل

23 کشتیاں[2]
لگ بھگ 146,000 ٹولیاں[2][4] کُل 14 کشتیاں[2]
ہلاکتیں اور نقصانات
~34,000 مرے یا زخمی ہوئے[2][4] ~26,000 مرے یا زخمی ہوئے[2][4]

پہلی اینگلو مرہٹہ جنگ (1775ء – 1782ء) ہندوستان میں مرہٹہ سلطنت اور برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان میں لڑی جانے والی تین جنگوں میں سے پہلی جنگ ہے۔ اس جنگ کی ابتدا معاہدہ سورت سے ہوئی اور معاہدہ سال بائی پر اس کا اختتام ہوا۔

پس منظر[ترمیم]

سنہ 1772ء میں مادھو راؤ پیشوا کی وفات کے بعد ان کے بھائی ناراین راؤ مرہٹہ سلطنت کے پیشوا بنے۔ ناراین راؤ (10 اگست 1755ء – 30 اگست 1773ء) مرہٹہ سلطنت کے پانچویں پیشوا تھے جو نومبر 1772ء سے اگست 1773ء میں اپنے قتل تک اس منصب پر فائز رہے۔ ان کا قتل ناراین راؤ کے چچا رگھوناتھ راؤ کے اشارے پر ہوا تھا۔ قتل کے بعد ان کی بیوہ گنگابائی کے بطن سے ایک لڑکا پیدا ہوا جو تخت کا قانونی وارث تھا۔ نوزائیدہ بچے کا نام سوائی مادھو راؤ رکھا گیا۔ نانا فڈنویس کی قیادت میں بارہ مرہٹہ سرداروں نے اس نوزائیدہ بچے کو پیشوا بنایا اور خود نائب السلطنت کے طور پر کام کرتے رہے۔

رگھوناتھ راؤ کسی صورت منصب پیشوائی سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں تھے چنانچہ جب انہوں نے یہ صورت حال دیکھی تو بمبئی کے انگریزوں سے مدد کے طالب ہوئے اور 6 مارچ 1775ء کو معاہدہ سورت پر دستخط کیے۔ اس معاہدہ کی رو سے رگھوناتھ راؤ نے سالسیٹ اور وسائی-ویرار کے علاقے انگریزوں کے حوالے کر دیے اور ساتھ ہی سورت اور بھڑوچ کے اضلاع کی دیوانی بھی ان کے سپرد کر دی۔ بدلے میں انگریزوں نے اپنے پچیس سو سپاہی بھیجنے کا وعدہ کیا۔ برٹش کلکتہ کاؤنسل نے معاہدہ سورت کو مسترد کر دیا نیز اسے کالعدم کرنے اور ریجنسی کے ساتھ نیا معاہدہ تشکیل دینے کے لیے کرنل اپٹن کو پونہ روانہ کیا۔ چنانچہ معاہدہ پورندر (1 مارچ 1776ء) کے ذریعہ معاہدہ سورت کو منسوخ کر دیا گیا، رگھوناتھ راؤ کو سپاہی نہیں دیے گئے لیکن سالسیٹ اور بھڑوچ اضلاع کی دیوانی بدستور انگریزوں کے پاس رہی۔ تاہم حکومت بمبئی نے اس نئے معاہدہ کو بھی نامنظور کرکے رگھوناتھ راؤ کو پناہ دینے کا اعلان کیا۔

سنہ 1777ء میں نانا فڈنویس نے مغربی ساحل پر فرانسیسیوں کو ایک بندرگاہ عنایت کی جو کلکتہ کاؤنسل کے معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ چنانچہ انگریزوں نے اس خلاف ورزی کی پاداش میں پونہ پر چڑھائی کر دی۔

مزید پڑھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Encyclopedia of the Peoples of Asia and Oceania: M to Z، Barbara A. West, 509
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د The First Anglo-Maratha War, 1774–1783: A Military Study of Major Battles، M. R. Kantak
  3. Edgar Thorpe؛ Showick Thorpe۔ Concise General Knowledge Manual۔ Pearson Education India۔ صفحہ 49۔ آئی ایس بی این 978-81-317-5512-9۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 نومبر 2012۔
  4. ^ ا ب پ ت Encyclopedia of the Peoples of Asia and Oceania: M to Z

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • Beck, Sanderson. India & Southeast Asia to 1800 (2006) "Marathas and the English Company 1701-1818" online۔ Retrieved Oct. 1, 2004.
  • Gordon, Stewart. Marathas, marauders, and state formation in eighteenth-century India (Oxford University Press, 1994)۔
  • Gordon, Stewart. "The Marathas," in New Cambridge History of India, II.4, (Cambridge U Press, 1993)۔
  • Seshan, Radhika. "The Maratha State: Some Preliminary Considerations." Indian Historical Review 41.1 (2014): 35-46. online

آن لائن مآخذ[ترمیم]

ماقبل 
اینگلو مرہٹہ جنگیں مابعد 
دوسری اینگلو مرہٹہ جنگ