مندرجات کا رخ کریں

پہنچی وہاں پہ خاک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
پہنچی وہاں پہ خاک
میک مِلن ایڈیشن، 1929ء کا سرورق
مصنفتھامس ہارڈی
اصل عنوانThe Return of the Native
مترجمصباحت مشتاق (اردو)
ملکبرطانیہ
زبانانگریزی
صنفناول
ناشربیلگریویا
تاریخ اشاعت
2019ء (اردو ترجمہ)
تاریخ اشاعت انگریری
1878ء
طرز طباعتمجلد و غیر مجلد
ریختہ ای بکسپہنچی وہاں پہ خاک

پہنچی وہاں پہ خاک (اصل عنوان: دی ریٹرن آف دی نیٹو) انگریزی ادیب تھامس ہارڈی کا چھٹا شائع شدہ ناول ہے۔ یہ سب سے پہلے لندن کے ماہنامہ رسالے ’بیلگریویا‘ میں شائع ہوا، یہ رسالہ اپنی سنسنی خیز تحریروں کے لیے مشہور تھا اور اسے 9 جنوری سے 19 دسمبر 1878ء تک بارہ ماہوار اقساط میں پیش کیا گیا۔ ناول کے متنازع موضوعات کے باعث ہارڈی کو ناشر تلاش کرنے میں کچھ دشواری کا سامنا کرنا پڑا تاہم تبصرے اگرچہ ملی جلی آرا پر مشتمل تھے مگر زیادہ تر مثبت تھے۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہ ناول ہارڈی کے سب سے زیادہ مقبول اور نہایت معزز و معتبر سمجھے جانے والے ناولوں میں شامل ہو گیا۔[1] سنہ 2019ء میں صباحت مشتاق نے اپنے ایم فل مقالے میں اس ناول کا مکمل ترجمہ ”پہنچی وہاں پہ خاک“ کے نام سے پیش کیا۔[2]

کہانی کا خلاصہ

[ترمیم]

ناول کی منظر نگاری انگلینڈ کے پہاڑی علاقے ویسکس میں کی گئی تھی۔ یہ ایک نوجوان لڑکے کی کہانی ہے جس کا نام کلائم یوبرائٹ تھا۔ کلائم نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ پیرس میں ہیروں کی دکان میں منیجر کی حیثیت سے گزارا لیکن فطری مزاج میں ٹھہراؤ کے فقدان کے باعث اس نے وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا جہاں اس کی ملاقات ہیروئن یوسٹشیا وائی سے ہوئی جو خوب صورت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہونے کے ساتھ اعلیٰ خاندان سے بھی تعلق رکھتی تھی اور اپنے اعلیٰ حسب نسب پر احساس تفاخر کے باعث اس کو یہ دیہاتی علاقہ ناپسند تھا۔ کلائم کے ساتھ اس کی پہلی ملاقات ایک روایتی احتجاج میں ہوئی تھی اور پہلی ملاقات میں ہی کلائم اس کے دام الفت کا اسیر ہو گیا۔ کلائم اپنی والدہ کی مخالفت کے باوجود یوسٹشیا سے شادی کر لیتا ہے کیوں کہ اس کی والدہ اس کی شادی اس کی خالہ زادے کرنا چاہتی تھی جو ڈیمن ویلڈیو سے محبت کرتی ہے۔ ڈیمن ویلڈیو ایک شاطر اور عیار شخص ہے جو تھامسِن یوبرائٹ سے کم اور اس کی دولت سے زیادہ دلچسپی لیتا ہے۔ یوسٹشیا اور کلائم کی شادی نانا اور والدہ کی مخالفت کے باعث کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہوتی۔ مزید براں کلائم کی بصارت میں کمزوری کے باعث حالات مزید تلخ اور دشوار ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب ویلڈیو تھامسِن کے ساتھ ساتھ یوسٹشیا کو دوبارہ اپنے دام الفت کا اسیر بنانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے جو کبھی اس کی محبوبہ رہی تھی۔ وہ تھامسِن کا شوہر ہونے کے باوجود یوسٹشیا کی جانب مائل ہو جاتا ہے۔ جو کلائم اور یوسٹشیا کی شادی کے تابود میں آخری کیل ثابت ہوتا ہے۔ اس دوران کلائم کی والدہ تمام رنجشیں بھلا کر بیٹے اور بہو سے ملاقات کی خاطر جب ان کے گھر جاتی ہے تو بد قسمتی سے ویلڈیو وہاں پر موجود ہوتا ہے۔ اس کی موجودگی کو صیغہ راز میں رکھنے کے لیے یوسٹشیا دروازہ نہیں کھولتی اور مجبوراً اس کی والدہ کو واپس جانا پڑتا ہے۔ راستے میں ایک اور بد قسمتی اس کا انتظار کرتی ہے۔ اس کو ایک پہاڑی سانپ ڈس لیتا ہے جو اس کی ناگہانی موت کا باعث بنتا ہے۔ ناول کا ہیرو کلائم چلا جاتا ہے۔ جب کہ ضمنی ہیروئن یوسٹشیا اور ضمنی ہیرو ویلڈیو پانی میں ڈوب کر جان دے دیتے ہیں۔ یوں ایک ایسی کہانی جس کا آغاز محبت کے لطیف جذبات سے ہوتا ہے اس کا بھیانک انجام ہوتا ہے۔ اس کا اختتام ہارڈی کے باقی ناولوں کی طرح ہوتا ہے۔ ہارڈی فطرت کو ایک ظالم اور بے رحم قوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ناول کی ہیروئن اور ضمنی ہیرو بے رحم دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو جاتے ہیں اور ہارڈی یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان تقدیر کے سامنے بے بس ہے۔ فطرتی عوامل زلزے، قحط اور سیلاب اس کے ہاتھ میں ایسے طاقت ور ہتھیار ہیں جن کی مدد سے وہ کام لیتا ہے۔[3]

اخذ

[ترمیم]

مجنوںؔ گورکھپوری نے اس ناول سے متاثر ہو کر اور اس کے نمونے پر اپنا ناولٹ ”بازگشت“ لکھا۔ یہ ناولٹ 1929ء میں رسالے ’نگار‘ مسلسل شائع ہوا۔[4]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Oxford Reader's Companion to Hardy (Norman Page, editor). Oxford, England: Oxford University Press, 2001, pp. 375–7.
  2. صباحت مشتاق (جنوری 2019)۔ "متن کا ترجمہ "پہنچی وہاں پہ خاک""۔ تھامس ہارڈی کے ناول ”ریٹرن آف نیٹو“ کا اردو ترجمہ مع تحقیقی و تنقیدی مطالعہ۔ اسلام آباد: نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز: 26–346
  3. صباحت مشتاق؛ نازیہ یونس (2022)۔ ""The Return of the Native" کے تناظر میں تھامس ہارڈی بطور ناول نگار"۔ جہانِ تحقیق۔ لاہور: اسٹوڈنٹس کنسلٹنسی ہوم۔ ج 5 شمارہ 2: 367
  4. مجنوںؔ گورکھپوری (جون 1988)۔ "خود نوشت"۔ ماہنامہ قومی زبان۔ کراچی۔ ج 59 شمارہ 6: 23