مندرجات کا رخ کریں

پہیلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

پہیلی یا چیستان یا معما یا بجھارت اس جملے یا کلام کو کہتے ہیں جو ذو معنی ہو یا اس کے معانی کو الفاظ کی اوٹ میں قصداً اس غرض سے مخفی رکھا گیا ہو کہ مخاطب کی بوجھ بآسانی نہ بتا سکتے، اس کی صورت استفہامیہ بھی ہو سکتی ہے۔[1] اس طرح پہیلی کی لازمی طور پر دو قسمیں ہو جاتی ہیں۔ اول وہ جس کا تعلق رعایت لفظی کوننڈرم (conundrum) سے ہے دوسری قصہ طلب یعنی اشیا کی وہ خیالی تشریح اور کیفیت جس پر پہیلی کا وجود قائم ہو۔ اسے انگریزی میں انگما (enigma) کہتے ہیں۔ یہ آخری صورت پہیلی کی دقیق اور پرانی ساخت ہے۔[2] پہیلی نظم میں بھی کہی جا سکتی ہے اور نثر میں بھی۔[3]

اردو میں امیر خسرو کی پہیلیاں [en] مشہور ہیں اور اردو میں سب سے پہلے پہیلی کہنے کا سہرا بھی امیر خسرو کے سر ہے۔[4]

نام

[ترمیم]

پہیلی کو فارسی میں چیستان، عربی میں لغز، انگریزی میں رڈل (Riddle)، دکھنی میں مسلا (عربی مسئلہ)، سنسکرت میں پرہلیکا اور ہندی میں بھی اسے پہیلی کہتے ہیں۔ پہیلی سنسکرت پرہلیکا (प्रहेलिका) سے مشتق ہے۔[5] قدیم ہندوستانی ادب میں بعض پہیلیوں کو برہمودے کہا جاتا تھا۔ بعض مقامات پر اسے ”بوجھو“ بھی کہتے ہیں۔[6]

اردو میں پہیلی گوئی

[ترمیم]

اردو اور ہندی میں پہیلی کہنے کا سلسلہ اورنگ زیب عالمگیر کے وقت سے شروع ہوا ہے۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ لشکریوں کے واسطے سے شعرائے دکن کا کلام دہلی پہنچا تو فارسی کے زبان دانوں کو تفریحی کا ایک ذریعہ ہاتھ آیا۔ انھوں نے زبان ہندوی (قدیم اردو) میں بعض ایسے لفظ نکال لیے کہ فارسی میں ان کے بالکل مختلف معنی مقرر تھے۔ ایسے لفظوں کو بول کر وہ لطف لینے لگے۔ انھوں نے الفاظ ذو معنین کے صرف سے اپنے کلام کو بامزه بنانا شروع کر دیا۔ اس طرح فارسی میں ایہام گوئی کا رواج ہوا۔ مرزا قبولؔ اور مرزا گرامیؔ کے شاگردوں اور عقیدت مندوں کا طرہ امتیاز یہی بنا۔ اردو میں بھی ان کے اثر سے ایہام گوئی کا سلسلہ ہوا۔ اسی طرز نے دو سخنوں کی صورت اختیار کی۔ محمد حسین آزادؔ نے آب حیات میں اس کی کئی مثالیں نقل کی ہیں۔ چند یہ ہیں:

  • شکار بچه می باید کرد؟
قوت مغز کو کیا چاہیے؟
جواب ہے ــ بادام
  • سوداگر را چه می باید؟
بوچے کو کیا چاہیے؟
جواب ہے ــ دکان
  • گوشت کیوں نہیں کھایا ؟
ڈوم کیوں نہ گایا؟
جواب ہے ــ گلا نہ تھا۔

پہلی مثال میں ایک سوال اور ایک جواب فارسی میں ہے۔ دوسری میں صرف ایک سوال فارسی ہے اور تیسری میں سوال اور جواب سب اردو میں ہیں۔ اسے ”دو سخنہ“ کا نام دیا گیا۔ دو سخنوں نے لطیفہ اور بذلہ سنجی کی راہ دکھائی۔ اسی بذلہ سنجی نے پہیلیاں کہنے کا شوق پیدا کر دیا۔ پہیلی کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ اول وہ جن میں جواب موجود ہوتا ہے۔ ثانیاً وہ جن کے لفظوں میں جواب موجود نہیں ہوتا۔ صرف قرائن اور اشارے ہوتے ہیں۔ جو اب غور و فکر کے بعد تلاش کرنا ہوتا ہے۔ پہیلی کہنے والوں نے اکثر الفاظ ذو معنين کا استعمال کیا ہے۔ وہ صنعت ایہام سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پہیلی کہنے کے لیے ہی نہیں سمجھنے کے لیے لفظیات پر اچھی نظر ہونی ضروری ہے۔ عام طور سے پہیلی کا مقصد تفریح و تفنن ہی رہا ہے اس لیے بیشتر پہیلی کہنے والوں نے روزمرہ اور بول چال کی زبان کا استعمال کیا ہے۔ ممکنہ طور پر اسی سبب پہیلی کو نظم و نثر کی دوسری اصناف کی طرح علمی یا ادبی حیثیت حاصل نہیں ہو سکی اور ممکن ہے کہ اسی وجہ سے اکثر اہل علم نے اپنے کلام میں پہیلیوں کو شامل نہ کیا ہو۔[3]

مکرنی

[ترمیم]

مُکْری یا مُکَرْنی یا کہہ مکرنی ایک قسم کی پہیلی جس میں ایک بات کہہ کر اس سے مکر جاتے ہیں اور دوسرا مطلب بیان کرتے ہیں، گویا ایک ہی پہیلی کے دو جواب ہوتے ہیں اور دونوں صحیح ہوتے ہیں۔[7] مکرنی کی ایجاد امیر خسرو نے کی اور وہ سب سے پہلے مکرنی گو ہیں اور دوسرے شان الحق حقی ہیں۔[8]

معما

[ترمیم]

معما کلام میں اشارہ، لفظی یا دلالتِ حرفی کے ذریعے کوئی نام یا عبارت وضع کرنا مثلا جرأت کے متعلق انشاؔ کا مشہور معما:

سر مونڈی نگوڑی گجراتن

لفظ گجراتن کا سر اور پاؤں (گ اور ن) خارج کر دیں تو جرأت باقی رہ جاتا ہے۔

معما بھی اقسامِ چیستان میں سے ہے لیکن دونوں کے درمیان فرق صرف اتنا ہے کہ چیستاں ایک کلمہ سوالیہ ہے جس میں مطلوب و مقصود اصل شے ہوتی ہے اور معمے میں شاعر کا مدعا اور مطمح نظر صرف نام ہوتا ہے۔[9]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. فرمان فتح پوری، مدیر (1992)۔ اردو لغت تاریخی اصول پر۔ کراچی: اردو لغت بورڈ۔ ج 4۔ ص 399۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-10-24
  2. سید یوسف بخاری دہلوی (1978)۔ ہماری پہیلیاں (دوسرا ایڈیشن)۔ ادب منزل، پاکستان چوک۔ ص 37
  3. ^ ا ب محمد انصار اللہ (1987)۔ سید محمد آکر (مدیر)۔ "ہندی، اردو پہیلیاں"۔ مجلۂ تحقیق۔ کلیہ علوم اسلامیہ و شرقیہ، پنجاب یونیورسٹی (پاکستان)۔ ج 8 شمارہ 1–4: 55–56
  4. محمد انصار اللہ (1987)۔ سید محمد آکر (مدیر)۔ "ہندی، اردو پہیلیاں"۔ مجلۂ تحقیق۔ کلیہ علوم اسلامیہ و شرقیہ، پنجاب یونیورسٹی (پاکستان)۔ ج 8 شمارہ 1–4: 53
  5. سید یوسف بخاری دہلوی (1978)۔ ہماری پہیلیاں (دوسرا ایڈیشن)۔ ادب منزل، پاکستان چوک۔ ص 34
  6. عنوان چشتی (1977)۔ اردو شاعری میں جدیدیت کی روایت۔ نئی دہلی: اردو سماج، جامعہ نگر۔ ص 69
  7. فرمان فتح پوری، مدیر (1992)۔ اردو لغت تاریخی اصول پر۔ کراچی: اردو لغت بورڈ۔ ج 15۔ ص 446۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-10-25
  8. گیان چند جین (1989)۔ ادبی اصناف (پہلا ایڈیشن)۔ گاندھی نگر: گجرات اردو اکادمی۔ ص 80
  9. سید یوسف بخاری دہلوی (1978)۔ ہماری پہیلیاں (دوسرا ایڈیشن)۔ ادب منزل، پاکستان چوک۔ ص 33، 34