پیر سید غلام محی الدین گیلانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پیر سید غلام محی الدین گیلانی
Babuji Golra Sharif.jpg
لقب پیر، جگت پیر 
دیگر نام بابو جی گولڑہ شریف 
ذاتی
پیدائش دسمبر 1891
گولڑہ شریف 
وفات 22 جون 1974
گولڑہ شریف 
مذہب اسلام
دیگر نام بابو جی گولڑہ شریف 
مرتبہ
مقام گولڑہ شریف
پیشرو پير مہر علی شاہ 
جانشین سید غلام معین الدین گیلانی اور سید شاہ عبدالحق گیلانی 

پیر سید غلام محی الدین گیلانی عرف بابو جی (پیدائش دسمبر 1891) ایک صوفی عالم اور روحانی بزرگ تھے۔ آپکا تعلق گولڑہ شریف، پاکستان سے تھا۔ آپ پير مہر علی شاہ صاحب کے اکلوتے فرزند تھے۔ وہ آپکو پیار سے "بابو" بلایا کرتے تھے۔ آپ 37 تک برس دربار گولڑہ شریف کے سجادہ نشین رہے۔[1]

پیدائش[ترمیم]

پیر سید غلام محی الدین گیلانی نظامی المعروف قبلہ بابو جی گولڑی پیر سید مہر علی شاہ گولڑی کے اکلوتے فرزند ارجمند اور جانشین ہیں۔ ولادت باسعادت دسمبر 1891ء بمطابق 1308ھ یا 1309ھ میں گولڑہ شریف وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں ہوئی۔ جب بیٹے کی پیدائش ہوئی تو دستور زمانہ کے مطابق خوشخبری پیر مہر علی شاہ کو سنائی گئی تو کہنے والے نے کہا حضور مبارک ہو تو پیر صاحب نے فرمایا کہ میں نے مبارک کے لفظ سے سمجھا کہ شاید مجھے خدا مل گیا۔ بعد ازاں فرمایا کہ ہر شخص کو اولاد نرینہ کی خوشخبری ہوتی ہے لیکن مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ہمارے گھر میں ایک اللہ اللہ کرنے والی روح کا ورود ہوا ہے۔

تعلیم وتربیت[ترمیم]

غلام محی الدین گیلانی کی تعلیم وتربیت اپنے والد ماجد کے زیرسایہ علم و فضل کے گہوارے میں ہوئی۔ چونکہ والد صاحب نے روز ازل سے ہی جان لیا تھا کہ یہ نونہال گلشن نبوت اس دور قحط الرجال میں رشد و ہدایت کا مرکز ومحور بنے گا اس لیے آپ کو ظاہری و باطنی علوم سے مزین کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ فرمایا۔ یوں تو سادات کا گھرانہ اخلاق حسنہ کا ایک مکمل نمونہ ہوتا ہے اور انہیں شرح صدر ابتداً ہی حاصل ہوتا ہے اور ان کا سینہ علوم ظاہری و باطنی کا خزینہ ہوتا ہے مگر آپ اس لحاظ سے بہت خوش قسمت ہیں کہ تعلیم و تربیت اور پرورش خود حضور پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے فرمائی تھی اور اس کے علاوہ وقت کے جید علمائے کرام قرأ حضرات اور عارفین نے بھی خصوصی توجہ کے ساتھ تعلیم تربیت پر زور دیا۔

مشاہیر اساتذہ کرام[ترمیم]

غلام محی الدین گیلانی نے علم قرأت و تجوید استاذ القرأ قاری عبدالرحمن جونپوری سے حاصل کیا تھا جو اس زمانے کے مشہور قرأ میں سے تھے اور اپنے فن کے یگانہ روزگار تھے۔ جونیور اور دیگر اضلاع میں انہی کے دم قدم سے فن تجوید کی روشنی پھیلی تھی۔ دیگر علوم دینیہ کی تحصیل مولانا محمد غازی سے کیا۔ حضور تاجدار گولڑہ نے بھی آپ کی تعلیم و تربیت پر خصومی اور کڑی نظر رکھی۔ حضر ہو یا سفر کی حالت میں بھی توجہ خاص میں کمی نہ آنے دی۔

زمانہ طالب علمی[ترمیم]

آپ نے حصول علم کے لیے دور دراز مقامات کے سفر بھی کیے اور اس دوران فی زمانہ کو بھی برداشت کیا۔ آپ اپنے ساتھی طلبہ کے ساتھ انتہائی خندہ پیشانی سے پیش آتے۔ ہرسائی سے محبت و شفقت فرماتے۔ ایثارکا یہ عالم تھا کہ آپ کو جو رقم گھرسے خرچ کے لیے ملتی آپ وہ تمام کی تمام اپنے ساتھی طلبہ میں تقسیم فرما دیتے اور خود کئی کئی وقت کا فاقہ فرما کر وقت گزارتے مگر کسی کو محسوس نہ ہونے دیتے حالانکہ آپ ایک صاحب حیثیت اور اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ گھر میں آرام و آسائش کی تمام تر سہولتیں موجود ہیں۔ گھر کے آرام انتظام و اہتمام اور مدرسے کے انتظام و اہتمام میں خاصا فرق ہوتا ہے مگر آپ نے ان تمام صعوبتوں کو خنداں پیشانی سے برداشت کیا اور اپنے ساتھی طلبہ سے اس قدر ہم آہنگی پیدا کی کہ انہیں بھی اپنے اور بیگانے سے بے خبر کر دیا۔ آپ کا معمول تھا کہ جمعرات کی شام کو چند طلبہ ساتھیوں کے ہمراہ کی نواحی بستی میں چلے جاتے اور وہیں کسی مسجد میں شب بسر کرتے اور اپنے ساتھی طلبہ کے ہمراہ ہی روکھی سوکھی روٹی کے ٹکڑے عام طلبہ کی طرح گداگری کر کے جمع کرتے اور مسجد میں لے آ تے اور اپنے ساتھی طلبہ کے ہمراہ تناول فرما کر بارگاہ خداوندی میں سجدہ شکر بجا لاتے۔ رفتہ رفتہ لوگوں کو پتہ چلنا شروع ہو گیا کہ روکھے سوکھے ٹکڑے کس کے نورعین کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ چنانچہ ٹکڑوں کی بجائے پرلطف کھانے سامنے آنے شروع ہو گئے۔ آپ نے جب دیکھا کہ ہمارا راز کھل گیا ہے تو آپ نے اپنا طرز زندگی بدل ڈالا- زمانہ طالب علمی آپ کی فکر و نظر کا یہ عالم تھا کہ علمی بات ہو یا فنی کسی کام سے متعلق ہو یا کھیل سے آپ اس کی گہرائی تک پہنچتے۔

تاجدار گولڑہ کی پیشین گوئی[ترمیم]

ملک سلطان محمد ٹوانہ صاحب فرماتے ہیں کہ آپ نے صغری میں ایک مبارک خواب دیکھا جسے سن کر حضرت تاجدار گولڑہ پیر مہر علی شاہ نے فرمایا کہ ہم کو بھی اسی عمر میں ایک ایسا ہی خواب نظر آیا لیکن غلام محی الدین کا خواب ہمارے اس خواب سے فوقیت لیے ہوئے ہے۔

ریلوے انجن سے شغف[ترمیم]

زمانہ طفولیت سے ہی آپ کو ریلوے انجن سے خصوصی شغف تھا۔ اس زمانے میں ریلوے ڈرایور عموماً انگریز ہوا کرتے تھے جو آپ کی خوش اخلاقی اور معصومیت کی وجہ سے آپ کی ذات والا صفات سے بے حد مانوس ہو گئے تھے۔ ان ڈرائیوروں نے آپ کا شوق پورا کرنے کے لیے آپ کو انجن چلانا بھی سکھا دیا تھا۔ آپ کا شوق اس قدر بڑھا کہ اکثر راتیں گولڑہ شریف کے ریلوے اسٹیشن پر ہی گزار دیتے تھے۔ اکثر گھر میں بھی فرصت کے اوقات میں اس کھیل میں مصروف رہتے۔ یہاں تک کہ اپنی بیٹھک کی چھت پر ریلوے سگنل کی طرح ایک سگنل آویزاں کرادیا تھا۔ جب کوئی ریل گاڑی رات کے وقت گولڑہ شریف کے اسٹیشن سے گزرتی تو آپ کے جاننے والے ریلوے انجن ڈرائیور انجن کی سیٹی بجا دیتے تھے۔ جس کی آواز سن کر آپ اپنی بیٹھک کا سگنل کرادیا کرتے تھے۔ ریلوے انجن کی سیٹی کی آواز سے ہی آپ کا درد مند دل متاثر ہوتا اور رقت طاری ہوجاتی تھی۔ اس کھیل کی وجہ سے شب بیداری کی عادت پڑ گئی۔ آپ کی اس خصوصی وابستگی کو دیکھتے ہوئے بہت سے وابستگان نے نشت گاہ کی زینت کے لیے انجنوں کی تصاویراور نقشے بنا بنا کر پیش کیے۔ جناب شاہ عبدالولی گوالیاری نے تو ایک ماڈل انجن جس میں کوئلے کی بجائے مٹھائی اور پانی کی بجائے شربت بھرا ہوا تھا۔ آپ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ بہت محظوظ ہوئے۔ آپ کی دلچسپی کو دیکھ کر حضور تاجدار گولڑہ نے آپ کو بابو جی کا خطاب عطا فرمایا جو اس قدر مقبول و معروف ہوا کہ آج زمانے کا زمانہ آپ کو قبلہ بابو جی کے نام سے پکارتا ہے۔ ایک مرتبہ کی بے تکلف دوست نے آپ سے عرض کیا کہ حضور کیا کالے کلوٹے انجن پرآپ کا دل آیا ہے اور کسی بھونڈی شکل والی شے کو اپنے محبوب بنایا ہے۔ آپ نے جواب میں جواب دیا کہ مجھے اس کی چار ادایں پسند ہیں

  1. اس میں جتنی زیادہ آگ ڈالو اتنا ہی تیز چلتا ہے
  2. وفاداراتنا ہے کہ خواہ اس کے ساتھ فرسٹ کلاس کا ڈبہ لگا دو یا مال گاڑی کا چکھڑا جہاں خود جائے گا اپنے ساتھیوں کو بھی وہیں لے جائے گا
  3. خود جلتا ہے مگر دوسروں کو نفع پہنچاتا ہے۔ یعنی منزل مقصود پر پہنچا دیتا ہے۔
  4. استقامت اتنی کہ متعین راه (لائن) پر ہی چلتا ہے بے راہ روی اختیار نہیں کرتا۔

اجازت بیعت و ارشاد[ترمیم]

علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کے فوراً پیر مہر علی شاہ نے آپ کو ان تمام صفات میں کمال و اکمل قرار دیتے ہوئے آپ کو بیعت و ارشاد کے لیے اجازت عطا فرائی۔ جن دنوں پیر مہر علی شاہ ایام علالت میں تھے آپ نے ان سے پاک پتن شریف حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے مزار پر انوار پر حاضری کے لیے اجازت مانگی تو حضور تاجدار نے اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر کوئی بندہ بیعت کے لیے اخلاص سے اصرار کرے تو بیعت لے لیا کرو۔ آپ نے عرض کیا حضوراگر بیعت لینے کے لیے اہلیت ضروری ہے تو بندے میں یکسر اس کا فقدان ہے اور اگر روٹی کمانا مقصود ہے تو حضورغوث الاعظم اور آپ کی جوتیوں کا صدقہ مجھے اس معاملہ میں کوئی محتاجی نہیں۔ رب تعالی کا فضل واحسان ہی کافی ہے اور وقت بڑی عزت و آبرو سے گزرتا ہے دوسرا یہ کہ یہ بھی تو آپ ہی کا ارشاد گرامی ہے کہ بیت لینے کا استحاق اس شخص کو حاصل ہے جس کی نظر اعیان ثابتہ تک ہو جب کہ میں تو ظاہری نظر کے لیے بھی عینک كا محتاج ہوں۔ حضرت تاجدار گولڑہ نے ارشاد فرمایا کہ دوسرے لوگ کون سے ولیوں کی اولاد ہیں۔ آپ نے عرض کیا حضور میں دوسروں کی نسبت کچھ نہیں کہہ سکتا صرف اپنا حال عرض کررہا ہوں۔ حضور تاجدار گولڑہ نے کچھ دیر سکوت فرمانے کے بعد تیسری مرتبہ اپنا حکم صادر فرمایا تو آپ نے عرض کیا ایک شرط پر تعمیل حکم ہوسکتی ہے کہ آپ وعدہ فرمائیں جس شخص کو میں اپنے ہاتھ پر بیعت کروں گا اس کے ذمہ دار آپ ہوں گئے۔ یہ شرط سن کر پیر مہر علی شاہ نے فرمایا کہ ذمہ داری جن کی ہے وہی ذمہ دار ہوں گے میں بے چارہ ذمہ داری اٹھانے والا کون ہوں۔ اس پر آپ نے عرض کیا کہ اگر آپ ہی اس معاملے میں بے چارگی کا اظہار فرما رہے ہیں تو پھر میرا کیا حال ہوگا۔ میں کس طرح یہ بارگراں اٹھا سکتا ہوں۔ آپ کی یہ بات سن کر حضور تاجدار گولڑہ نے کچھ دیر سکوت فرما کر ارشاد فرمایا اچھا جو تمہارے ہاتھ پر بیعت ہوگا اس کا ذمہ دار میں ہوں گا۔

شادی خانہ آبادی[ترمیم]

آپ کی شادی خانہ آبادی کی تقریب 1910ء میں ہوئی ۔ اس تقریب میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ عوام وخواص کے علاوہ جید علمائے کرام، مشائخ عظام کثرت سے شامل ہوئے۔ حضرت سید محمد صاحب دیوان پاک پتن، حضرت خواجہ محمود تونسہ شریف، حضرت خواجہ ضیاء الدین سیال شریف، حضرت میاں شیر محمد شرقپور شریف، حضرت پیر سید جماعت علی شاہ اور حافظ جماعت علی شاہ ثانی علی پورشریف ضلع ناروال خصوصی مہمانوں میں سے تھے۔ خطبہ نکاح بعد نماز ظہر حضرت اجی جی صاحب کے مزار شریف کے قریب پڑھا گیا۔ آپ کی شادی پر سید پیر مہر علی شاہ نے ارشاد فرمایا کہ اولاد کی شادی کی خوشی تو ہر والدین کو ہوتی ہے تا ہم مجھے اس بات کی زیادہ خوشی ہوئی ہے کہ اس بہانے سے اتنی ذی وقار شخصیتیں یہاں جمع ہو گئی ہیں۔ احباب سے ملاقات اور ان کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا اور حضرت اجی جی صاحب کی یہ وصیت کہ غلام محی الدین شاہ کی شادی بڑے اہتمام سے کرنا بھی پوری ہو گئی۔

حج بیت اللہ شریف اور زیارات مقدسہ[ترمیم]

آپ نے اپنی ظاہری حیات مبارکہ میں بیس (20) سے زیادہ حج کیے اور مدینہ شریف میں حضور علیہ السلام کے مزار پرانوار کی بار ہا زیارت سے مشرف ہوئے اور اس موقع پر آپ کی کیفیت دیدنی ہوا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ نجف اشرف، کربلائے معلی، کاظمین شریفین، بغداد شریف، قونیہ شریف، ترکی، مزار شریف، ہرات شریف (افغانستان)، مصر، شام، بیت المقدس، ہندوستان اور دوسرے ممالک میں مختلف مقبولان حق کے مشاہدات مبارکہ کی زیارت کے لیے متعدد سفر کیے اور خصوصاً حضرت مولانا روم اور شہنشاہ بغداد حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کی ذات سے تو آپ کو انتہا درجے کی عقیدت و محبت تھی کہ بار بار حاضری دیتے تھے۔ تقسیم ہند سے قبل تقریبا ہر سال اجمیر شریف اور ہندوستان کے دیگر مزارات کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تھے لیکن تقسیم ہند کے بعد یہ معمول کم ہو گیا البتہ بعد میں بھی چند مرتبہ اجمیر شریف کی حاضری کی سعادت حاصل کی۔

دینی و ملی خدمات[ترمیم]

دین و ملت کی خدمت کے اہم فریضہ کی جو مستحکم بنیاد حضرت پیر سید مہر علی شاہ نے رکھی تھی اس کی تعمیر وترقی میں ایک جانشین کی حیثیت سے آپ نے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ آستانہ عالیہ پر تمام علوم دینیہ کی تحصیل کے لیے قائم شده جامعہ غوثیہ میں ساٹھ ستر طلبہ کے قیام و طعام اورتعلیمی ضروریات اور مدرسین کی کفالت کا مکمل انتظام تھا۔ تقریباً چھ ہزار مطبوعہ اور قلمی کتب پر مشتمل کتب خانہ دارالافتاء اور پیر مہر علی شاہ کی تصانیف کی اشاعت اور اعراس مبارکہ کے علاوہ محرم الحرام، میلاد شریف اور معراج شریف وغیرہ کی تقریبات پر اہل سنت و جماعت کے مسلک کی ترویج و اشاعت کے لیے علمائے کرام کی تقاریر اور محفل سماع کا آپ نے باقاعدہ انتظام فرما رکھا تھا۔ حضور تاجدار گولڑہ کے زمانے میں بڑا اجتماع بڑی گیارہویں شریف کے حوالے سے ربیع الثانی کی نو سے گیارہ کو ہوتا تھا۔ اس وقت حاضرین کی تعداد ہزاروں میں ہوتی مگر آپ کے زمانے میں تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی تھی۔ اس سالان عرس کے علاوہ حضور پیر مہر علی شاہ کا سالانہ عرس مبارک 29 صفر کو کراتے۔ عرس کے دوسرے دن چادر چڑھائی جاتی۔ بارہ ربیع الاول شریف کو رات بھر میلاد شریف کی محفل بڑے اہتمام کے ساتھ منعقد کی جاتی۔ اول شب سے درود شریف کی محفل ہوتی آدھی رات کے وقت تقریریں اور نعت خوانی ہوتی تھی۔ حضور علیہ السلام کی عین ولادت باسعادت کے وقت قيام وسلام ہوتا تھا اور ایک سو ایک گولوں کی سلامی دی جاتی جس کا منظر عجیب روح پرور ہوا کرتا تھا۔

ملی خدمات[ترمیم]

قیام پاکستان کے زمانہ میں آپ مسلم لیگ کی حمایت میں پیش پیش رہے۔ 1947ء 1948ء میں جہاد کشمیر کے موقع پر مجاہدین اور مہاجرین کی ہرمکن نقد وجنس سے بھر پور امداد کی۔ 1956ء میں تحریک ختم نبوت کے موقع پر آپ نے بھر پور کردار ادا کیا۔ ستمبر 1965ء کی جنگ میں آپ نے ذاتی طور پر مجاہدین و مہاجرین کی امداد فرمائی اور اپنے متوسلین کو بھی خاص طور پر اس جہاد میں حصہ لینے کی ترغیب دی اور تاکید فرمائی اور خلاف معمول ومشرب اس موقع پر ریڈیو پاکستان سے اپنے عقیدت مندان کے لیے تقریری ریکارڈ کرائی جو 16 ستمبر 1965ء کوریڈیو پاکستان سے نشر کی گئی۔

وصال[ترمیم]

اسباب[ترمیم]

قیام پاکستان کے بعد ابتدائی سالوں میں حکومتی اہلکاروں کی غلط پلاننگ اور عوام کے مسائل کی طرف توجہ نہ دینا آپ کے دکھ کا باعث تھی۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہوا تو آپ کے قلب پر گہرا اثر ہوا۔ آپ آخری عمر میں کافی بار نقاہٹ اور کمزوری کے پرزور حملے ہوئے۔

بیماری[ترمیم]

زندگی کے آخری ایام آپ نے ہسپتال میں گزارے۔ 11 جون 1974ء کو آپ کو ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ چونکہ آپ کو غدود مثانہ بڑھ جانے سے تکلیف تھی اس لیے ڈاکٹروں نے آپریشن کرنا چاہا لیکن کمزوری کے باعث ارادہ ملتوی کر دیا۔ زندگی کے آخری چند دن سخت تکلیف میں گزارے۔ کمزوری کی وجہ سے گلوکوز کی بوتلیں لگانے کے لیے کئی بار سوئیاں چبھانا پڑی کیونکہ خون کی رگ نہیں ملتی تھی۔ 20 جون کو آپ کی طبیعت میں کمزوری اور نقاہت پیدا ہو گئی اور ہر وقت استغراق کی کفیت طاری رہنے لگی۔ اس کے باوجود تمام نمازیں اشاروں سے چارپائی پر ادا کرتے رہے۔

وصال[ترمیم]

آپ کا وصال بروز ہفتہ 22 جون 1974ء بمطابق 2 جمادی الثانی 1394ھ رات گیارہ بجے ہوا۔ وصال کے وقت آپ کے دونوں صاحبزادے، ڈاکٹر کرنل محمد شفیع، ڈاکٹر شہاب الدین، ڈاکٹر آصف چشتی، غلام مصطفی، راجا غلام سرور، عبد الرزاق مٹھیالوی، ملک غلام ربانی اور سیٹھی محمد اسماعیل پشاوری موجود تھے۔

نماز جنازہ[ترمیم]

آپ کے جسد خاکی کو ایمبولنس کے ذریعے گولڑہ شریف لایا گیا جہاں رات 2 بجے غسل دینے کے بعد حرم سرا میں اہل خانہ کی زیارت کے لیے رکھ دیا گیا۔ راتوں رات پورے ملک سمیت بیرون ملک بھی آپ کے وصال کی خبر ہو گئی۔ اگلے روز 23 جون کو نماز عصر کے بعد آپ کی نماز جنازہ شیخ عبد القادر جیلانی کی اولاد میں سے سابق سفیر عراق اور متولی دربار غوثیہ بغداد شریف کے بھائی کی اقتداء میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں جید علمائے کرام، مشائخ عظام کے علاوہ ساڑھے تین لاکھ افراد نے نماز جنازہ ادا کی۔ بعد ازاں آپ کی تدفین والد گرامی کے پہلو میں کی گئی جہاں آج بھی مزار عوام و خواص کے لیے زیارت گاہ عام ہے۔

اولاد[ترمیم]

آپ کو خداوند قدوس نے ایک بیٹی اور دو فرزند عطا فرمائے۔

  1. غلام معین الدین گیلانی
  2. شاہ عبد الحق گیلانی

ان میں بڑے صاحبزادے حضرت سید غلام معین الدین شاہ گیلانی بڑے لالہ جی کے نام ولقب سے مشہور ہیں جن کی ولادت باسعادت 1920ء میں ہوئی تھی اور دوسرے صاحبزادے حضرت سید شاہ عبدالحق گیلانی چھوٹے لالہ ہی کے لقب سے مشہور ہیں۔ ان کی ولادت با سعادت 1926ء میں ہوئی۔

سیرت و کردار[ترمیم]

آپ انتہائی درجہ کے متقی اور پرہیز گار اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ دل میں کبھی صاحبزادگیت کا گمان پیدا نہ ہونے دیا بلکہ خلق خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ دنیا کی بڑی بڑی شخصیت کبھی بھی آپ کے قلب پراثر انداز نہ ہو سکی۔ دوسری طرف ادنی سے ادنی حثیت کا انسان آپ کی شفقت سے محروم نہ رہ سکا۔ نماز پنجگانہ کی خصوصیت سے اہتمام فرماتے۔ ذکر و فکر اور اپنے اوراد و وظائف کے معمولات میں کبھی کمی نہ آنے دی۔ اپنے شیخ محترم اور والد بزرگوار كے نقش قدم پر چلنے میں اپنی عافیت سمجھتے تھے۔ ہمہ وقت اپنے خواجگان کی طریقت پر عمل پیرا رہتے اور شریعت و طریقت کے اصولوں پر کار بند رہتے۔ بچپن ہی سے آپ میں ولایت و کمالات، رشد و ہدایت اور قیادت کے آثار پائے جانے لگے تھے۔ جن حضرات نے آپ کا بچپن دیکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ نوعمری سے ہی متوجہ الی الحق ہو گئے تھے۔ قیادت نظم و ضبط اور جذب کی جھلکیاں نمایاں ہونے کی تھیں۔

تواضع اور انکسار[ترمیم]

آپ کے مزاج پر تواضع اور انکسار کا بہت غلبہ تھا۔ اپنی تعریف و توصیف قطعا پسند نہ فرماتے تھے آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ لوگ تو جھوٹی تعریف کوقابل فخر سمجھتے ہیں مگر ہمارے نزدیک سچی تعریف بھی ضرر سے خالی نہیں ہوتی۔ اس سے عجب پیدا ہوتا ہے اورنفس کے قوی ہونے کا امکان ہوتا ہے اس کے برعکس نفس کے خلاف بات سے طبیعت میں انکسار اورتوجہ الی اللہ پیدا ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ آپ بمبئی میں حکیم شمس الدین کے ہاں قیام پزیر تھے کہ دوران گفتگو ایک ایسے شخص کا ذکر آ گیا جو آپ کے خاندان سے بغض و عناد رکھتا تھا اس کی گستاخی اس حد تک بڑھ گئی کہ لوگوں میں کہتا پھرتا کہ یہ سادات کا خاندان نہیں ہے۔ حکیم صاحب نے اس کی مذمت شروع کر دی۔ اس پر آپ نے حکیم کو منع فرمایا اور ساتھ ہی فرمایا کہ حکیم کیا خبر ہے کلیم وخبیر ذات اللہ جل شانہ کے نزدیک ہم اہل ہیں یا نہیں؟ . ان کلمات کو سن کرحکیم شمس الدین تڑپ گئے اور خاموش ہو گئے اور بعد میں کسی اور محفل میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ اتنے اعلی ظرف کے مالک ہیں کہ آپ کی مثال نہیں ملتی ۔ مزید فرمایا کہ اگر میں نے حضور پیر مہر علی شاہ کے دست حق پرست پر بیعت نہ کی ہوتی تو میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لیتا۔

اخلاق کریمانہ[ترمیم]

ایک مرتبہ حکیم شمس الدین کے ہاں قیام کے دوران ایک سفید ریش بزرگ آپ سے ملنے آئے اور دعوت طعام کی پیشکش کی۔ اس بزرگ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ قوم کے جولاہے ہیں مگر وہ لوگوں میں اپنے بارے میں مشہور کرتے تھے کہ پیر مہر علی شاہ میرے بھائی ہیں اور انہوں نے اس بات کو بنیاد بنا کر پیری مریدی کا دھندا چمکایا ہوا تھا۔ حکیم اس کے تمام احوال سے واقف تھے۔ اس لیے اس پر برس پڑے اور اسے سرکار کذاب وغیرہ کہنا شروع کر دیا۔ آپ نے حکیم کو روکا اور فرمایا کہ سفید داڑھی کا لحاظ کریں اور انہیں کچھ نہ کہیں بلکہ آپ نے ان کے ان تمام معاملات سے واقف ہونے کے باوجود اپنے آبائی اخلاق کریمانہ سے کام لیتے ہوئے اس کی دعوت طعام قبول کر کے اس کے گھر بھی تشریف لے گئے۔

عفودرگزر[ترمیم]

آپ انتہائی کریم، حلیم الطبع اور درگزر سے کام لینے والے تھے۔ آپ کی طبیعت میں انتقام نام کی چیز بھی نہ تھی۔ آپ پرکئی مرتبہ حملے ہوئے دشمن کے بارے میں علم ہونے کے باوجو تعرض نہیں فرمایا۔ ایک مرتبہ آپ کے پلنگ کے نیچے چھپا ہوا دشمن پکڑا گیا مگر آپ نے فوراً ہی معاف کر دیا۔

وضع داری[ترمیم]

اسی طرح آپ میں وضع داری بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ جس سے ایک مرتب تعلق ہو گیا پھر آپ نے تا دم آخر اسے نبھایا۔ کوئی لاکھ توڑ ے مگر آپ نے اسے جوڑنے ہی کی کوشش کی۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Babuji brief biography"۔
  2. تذکرہ اولیائے پوٹھوہار مولف مقصود احمد صابری صفحہ 84 تا 112