پیر فضل دین شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پیر سید فضل دین شاہ قادری کا تعلق گولڑہ شریف کے سادات گیلانیہ سے تھا۔ آپ پیر مہر علی شاہ کے والد ماجد سید نذر دین شاہ کے ماموں تھے۔


سید فضل دین شاہ
ذاتی
پیدائش
وفات(12 ذیقعد 1311ھ بمطابق 1892ء)
مذہباسلام
والدین
  • سید رسول شاہ (والد)
سلسلہقادریہ
مرتبہ
مقامگولڑہ شریف اسلام آباد
پیشروسید رسول شاہ
جانشینسید نذر دین شاہ

تعارف[ترمیم]

پیر سید فضل دین شاہ قادری کا تعلق سادات گیلانیہ سے تھا۔ آپ گولڑہ شریف کے سادات کے سرخیل ہیں۔ آپ کے والد ماجد کا نام سید رسول شاہ تھا۔ آپ پیر مہر علی شاہ کے والد ماجد سید نذر دین شاہ کے ماموں تھے۔ پیر مہر علی شاہ بھی آپ کو ماموں کہے کر پکارتے تھے۔ آپ بلند پایہ ولی کامل اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔


دادا جان کی وصیت[ترمیم]

سید فضل دین شاہ کے دادا جان نے آپ کی پیدائش سے قبل یہ وصیت فرمائی تھی کہ میرے بیٹے سید رسول شاہ کے ہاں خدا کے فضل وکرم سے ایک بیٹا ہوگا۔ اس بیٹے کو اپنے حال پر چھوڑ دینا۔ چنانچہ اسی طرح کیا گیا کہ جب آپ کی ولادت ہوئی اور آپ کچھ بڑے ہوئے تو آپ کے معاملات میں خاندان کے کسی فرد نے دخل نہیں دیا۔ آپ اکثر اسی جگہ پر جا کر بیٹھتے اور محو عبادت رہتے۔ جہاں آج آپ کا مزار ہے۔ اس جگہ سے آپ کو بہت أنس تھا آپ نے تمام عمر اسی جگہ پر گزاری۔

علی المرتضی کی زیارت[ترمیم]

پیر سید فضل دین شاہ کو حضرت علی المرتضی کی خواب میں زیارت بھی نصیب ہوئی تھی۔ ایک دن آپ کومولا علی کرم اللہ وجہ الکریم کی زیارت خواب میں ہوئی تو آپ نے عرض کیا کہ مجھے وہی کلمہ پڑھا دیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو پڑھایا تھا۔ علی المرتضی نے آپ سے فرمایا کہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ۔ پھر آپ نے یہی کلمہ پڑھا۔

مجذوب کی پیشین گوئی[ترمیم]

سائیں علی محمد المعروف مسکین شاہ جنھوں نے فضل دین شاہ کی پرورش آپ کے والد بزرگوار کے وصال کے بعد فرمائی تھی وہ بھی اپنے وقت کے عارف کامل بزرگ تھے۔ انہوں نے ایک دن آپ سے فرمایا تھا کہ الله تبارک و تعالی نے آپ کے لنگر کے لیے 125 روپے یومیہ مقرر فرما دیا ہے اگر اس سے زیادہ ہو گیا تو آپ کی قسمت مگر اس سے کم کسی قیمت پر نہ ہو گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ کی حیات مبارکہ میں آپ کے لنگر کا چرچا زبان زد خاص و عام پر ہے جو آج تک اسی طرح جاری و ساری ہے۔

تصرفات باطنی[ترمیم]

پیر مہر علی شاہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر حج پر جاز مقدس گیا۔ جب میں واپس گولڑہ شریف پہنچا تو سید فضل دین شاہ نے میرے سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات کا خود مجھ سے ذکر کیا اور فرمایا کہ ایک روز میں نے دیکھا کہ تم جہاز میں قبلہ رخ بیٹھ کر فلاں فلاں وظیفہ پڑھ رہے تھے۔ چنانچہ فی الحقیقت میں وہی وظیفہ پڑھ رہا تھا۔ آپ نے تمام عمر مجرد گزاری اور شادی بھی نہ کی

وصال[ترمیم]

سید فضل دین شاہ کا وصال 12 ذیقعد 1311ھ بمطابق 1892ء کو ایک سو آٹھ برس کی عمر میں ہوا۔ آپ کا مزار پیر مہر علی شاہ کے مزار کے شمال جنوب میں مرجع خلائق ہے۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ اولیائے پوٹھوہار مولف مقصود احمد صابری صفحہ 60 تا 62