پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مختصر خاندانی حالات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اہل تشیع[ترمیم]

پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اہواز، بابل یا عراق کے ایک "قریہ“ میں طوفان نوح سے 1081 سال بعد پیدا ہوئے جب آپ کی عمر 86 سال کی ہوئی تو آپ کے یہاں بطن جناب ہاجرہ سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے اور 90 سال کی عمر میں جناب سارہ سے حضرت اسحاق متولد ہوئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دونوں بیویوں کو ایک جگہ رکھنا مناسب نہ سمجھ کر سارہ کو مع اسحاق شام میں چھوڑا اور ہاجرہ کو مع اسماعیل حجاز کے شہر مکہ میں بحکم خدا پہنچا آئے۔ اسحاق کی شادی شام میں اور اسماعیل کی مکہ میں قبیلہ جرہم کی ایک لڑکی سے ہوئی۔ اس طرح اسحٰق کی نسل شام میں اسماعیل علیہ السلام کی نسل مکہ میں بڑھی۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر 100 سال کی ہوئی اور جناب ہاجرہ کا انتقال بھی ہو گیا تو آپ مکہ تشریف لائے اور اسماعیل علیہ السلام کی مدد سے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ موّرخین کا کہنا ہے کہ یہ تعمیر ہجرت نبوی سے 2793 سال قبل ہوئی تھی۔ انھوں نے ایک خواب کے حوالہ سے بحکم خدا اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کرنا چاہا تھا جس کے رد عمل میں خدا نے دنبہ بھیج کر فرمایا کہ تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا۔ ابراہیم علیہ السلام سنو! ہم نے تمہارے فدیہ (اسماعیل) کو ذبح عظیم امام حسین علیہ السلام سے بدل دیا ہے۔ موّرخین کا کہنا ہے کہ یہ واقع حضرت آدم علیہ السلام کے دنیا میں آنے کے 3435 سال بعد کا ہے۔ اس کے بعد چند باتوں میں آپ کا امتحان لیا گیا جس میں کامیابی کے بعد آپ کو درجہ امامت پر فائز کیا گیا۔ آپ نے خواہش کی کہ یہ عہدہ میری نسل میں مستقر کر دیا جائے۔ ارشاد ہوا بہتر ہے لیکن تمہاری نسل میں جو ظالم ہوں گے وہ اس سے محروم رہیں گے۔ آپ کا لقب خلیل اللہ تھا اور آپ اولوالعزم پیغمبر تھے۔ آپ صاحبِ شریعت تھے اور خدا کی بارگاہ میں آپ کا یہ درجہ تھا کہ خاتم الانبیاء کو آپ کی شریعت کے باقی رکھنے کا حکم دیا گیا۔ آپ نے 175 سال کی عمر میں انتقال فرمایا اور مقام قدس جلیل (خلیل الرحمٰن) میں دفن کیے گئے وفات سے قبل آپ نے اپنا جانشین حضرت اسماعیل کو قرار دیا۔

موّرخین فرنگ کا کہنا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ولادت جناب مسیح سے 1911 سال قبل ہوئی تھی۔ حضرت اسماعیل کے یہ خصوصی امتیازات ہیں کہ

  • (1) انھیں کی وجہ سے مکہ آباد ہوا
  • (3) حجِ کعبہ کی عبادت کا آغاز ہوا۔ 10 ذالحجہ کو عید قربان کی سنت جاری ہوئی۔

آپ کا انتقال 137 سال کی عمر میں ہوا۔ اور آپ حجر اسماعیل (مکہ) کے قریب دفن ہوئے۔ آپ نے 12 فرزند چھوڑے۔ آپ کی وفات کے بعد خانہ کعبہ کی نگرانی و دیگر خدمات آپ کے فرزند ہی کرتے رہے۔ ان کے فرزندوں میں قیدار کو نمایاں حثیت حاصل تھی۔ غرض کہ اولاد حضرت اسماعیل مکّہ معظّمہ میں بڑھتی اور نشو و نما پاتی رہی۔ یہاں تک کہ تیسری صدی عیسوی میں ایک شخص فہر نامی پیدا ہوا جو انتہائی باکمال تھا۔ اس فہر کی نسل سے پیغمبرِ اسلام متولد ہوئے۔ علامہ طریحی کا کہنا ہے کہ اسی فہر یا اس کے دادا نضر بن کنانہ کو قریش کہا جاتا ہے۔ کیونکہ بحر الہند سے اُس نے ایک بہت بڑی مچھلی شکار کی تھی جس کو قریش کہا جاتا تھا اور اسے لا کر مکہ میں رکھ دیا تھا جسے لوگ دیکھنے کے لیے دُور دُور سے آتے تھے۔ لفظ فہر عبرانی ہے اور اس کے معنی پھتر کے ہیں اور قریش کے معنی قدیم عربی میں “سوداگر“ کے ہیں۔[1]

  1. چودہ ستارے، صفحہ 35،36 (مؤلف سید نجم الحسن کراروی) ناشران امامیہ کتب خانہ مغل حویلی اندرون موچی دروازہ لاہور