پیلی واسکٹ والوں کی تحریک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پیلی واسکٹ والوں کی تحریک
Gilets jaunes protests
ManifGiletsJaunesVesoul 17nov2018 (cropped).jpg
پیلی واسکٹ والوں کے ایک مظاہرے کا منظر
تاریخ 17 نومبر 2018 – جاری ہے
مقام Flag of France.svg فرانس (بشمول رے یونیوں)
وجوہات
اہداف
  • ایندھن اور گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی[9]
  • معیار زندگی میں بہتری
  • موجودہ فرانسیسی صدر اور اس کی حکومت کا خاتمہ
  • کٹوتیوں کی بدنام پالیسی کا خاتمہ
  • محنت کشوں اور متوسط طبقے کے سامنے حکومت کا احتساب اور جواب دہی
  • طریقہ کار احتجاجات، سول نافرمانی کی تحریک، رکاوٹیں، ٹریفک جام، ٹریفک کیمروں کی توڑ پھوڑ، جھڑپیں[10][11] وندالیت،[12] آتش زنی[13][14] اور لوٹ مار[15]
    صورتحال جاری، 10 دسمبر 2018ء تک[16]
    حاصل مراعات ڈیزل اور پٹرول مصنوعات پر حکومتی ٹیکس چھ ماہ کے لئے موخر [16]
    تعداد
    287,710 مظاہرین (فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق)[17]
    متاثرین
    اموات 4 شہری (فرانس)[18]
    زخمی 1000+ شہری
    ~ 200+ ذخمی پولیس افسران

    پیلی واسکٹ والوں کی تحریک (انگریزی: Yellow vests movement)، (فرانسیسی: Mouvement des gilets jaunes،تلفظ: [ʒilɛ ʒon]) فرانس کی ایک احتجاجی تحریک ہے جو 17 نومبر 2018ء کو شروع ہوئی اور جلد ہی ہمسایہ ممالک (مثلاً اٹلی (اطالوی: gilet gialliبلیجیئم اور نیدرلینڈز (ولندیزی: gele hesjes) میں پھیل گئی۔

    ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، مصارف زندگی کے بڑھتے اخراجات اور حکومتی ٹیکس اصلاحات جیسے مسائل کا ناپسندیدہ بوجھ محنت کشوں اور درمیانے طبقے (خاص طور پر وہ دیہی اور نیم شہری علاقوں[5][19]) پر مسلسل ڈالا جا رہا ہے[20][21][22]۔ ان مشکلات کا حل اور فرانسیسی صدر کے استعفے کے مطالبات شامل ہیں۔

    یہ تحریک فرانس کے شہروں میں بہت نظر آ رہی ہے، لیکن احتجاج میں دیہی علاقوں کو غیر معمولی طور پر متحرک پایا گیا ہے۔ پیلے رنگ کے واسکٹ کو ایک علامت کے طور پر منتخب کیا گیا تھا کیونکہ 2008ء کے بعد سے تمام کمرشل گاڑی چلانے والوں کو قانون کے تحت پیلی رنگ کی جیکٹ پہننا لازمی قرار دیا جا چکا ہے جس کی وجہ سے یہ عکس انداز جیکٹس وسیع پیمانے پر سستے دستیاب ہیں[9]۔

    پس منظر[ترمیم]

    1980ء کی دہائی سے، فرانسیسی حکومت نے ڈیزل انجنوں کی پیداوار میں سبسڈی فراہم کرنا شروع کی ہے[23]۔ تجارتی بنیادوں پر گاڑیوں پر اضافی قدری محاصل میں کمی کی وجہ سے فرانس میں ڈیزل گاڑیوں کی طلب میں اضافہ ہوا[24]۔

    2018ء کے دوران میں پٹرول (SP95-E10) کی قیمت میں جنوری میں 1.4682 €/L سے نومبر کے آخری ہفتے میں 1.4305 €/L ہوگئی[25]۔ پٹرول اور ڈیزل ایندھن کی قیمتوں میں، اکتوبر 2017ءاور اکتوبر 2018ءکے درمیان میں بالترتیب 15٪ تا23 فیصداضافہ ہوا[26]۔ گزشتہ سال کے دوران میں تقسیم کاروں کے لئے پٹرول کی عالمی مارکیٹ کی خریداری کی قیمت میں 28 فیصد اضافہ ہوا۔ ڈیزل کے لئے، 35 فیصد، تقسیم کی قیمت 40 فیصد بڑھ گئی۔اس قیمت میں اضافی قدری محاصل بھی شامل ہے، ڈیزل ٹیکس میں ایک سال میں 14 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے اور پیٹرول پر ٹیکس 7.5فیصد اضافہ ہوا۔2018ء میں ڈیزل پر 7.6 سینٹ فی لیٹر اور 3.98 سینٹ پٹرول ٹیکس میں اضافہ کیا گیا جبکہ یکم جنوری 2019ء سے ڈیزل پر 6.5 سینٹ اضافے اور پیٹرول پر 2.9 سینٹ اضافہ کی منصوبہ بندی کی گئی[27][28]۔

    ایندھن کی فروخت پر ٹیکسز کی تفصیل کچھ ہوں ہے؛

    • توانائی کی مصنوعات پر گھریلو کھپت ٹیکس، جو تیل کی قیمت پر کی بجائے اس کے حجم کے لحاظ سے عائد کیا جا تا ہے۔ ادا کردہ ٹیکس کا ایک حصہ علاقائی حکومتوں کو جاتا ہے، جبکہ دوسرا حصہ قومی حکومت کو ادا کیا جاتا ہے۔ 2014 سے حفری ایندھن کی کھپت کو کم کرنے کی کوشش میں اس ٹیکس میں کاربن جزو شامل کیا گیا جس میں ہر سال اضافہ ہوا ہے۔ ڈیزل اور پٹرول پر ٹیکس میں توازن پیدا کرنے کے لئے 2017 اور 2018 میں ڈیزل پر ٹیکس میں تیزی سے اضافہ کیا گیا۔
    • قدرے محاصل ٹیکس، بشمول TICPE کل ٹیکس کو چھوڑ کر حاصل قیمت کی رقم پر شمار کیا جاتا ہے۔ 2000 سے 2014ء تک 19.6 فیصد شرح سے اضافہ ہونے کے بعد 2014 میں اس کی شرح 20٪ مستحکم رہی ہے۔

    ایندھن کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کی تحریک میں بنیادی طور پر وہ افراد شامل ہیں، جنہیں TICPE کی جزوی یا مجموعی معافی سے فائدہ ہوتا ہے[29][30]۔مظاہرین اڈور فلپ کی دوسری حکومت پر تنقید کر رہے ہیں اور انہیں کاربن ٹیکس کے نفاذ کے بعد ایندھن کی لاگت میں اضاف ذمہ دار قرار دیا ہے۔[31]

    صدر میکون نے ابتدائی نومبر میں خصوصی سبسڈی اور مراعات کی پیشکش کرتے ہوئے ان کے خدشات کو ختم کرنے کی کوشش کی[32]۔صدر میکرون کو فرانسکو اولیندے کے دور حکومت کے تحت نافذ شدہ پالیسیوں کو توسیع دینے کی وحہ سے مظاہرین کے غصے کا سامنا ہے[33]۔

    دیگر غیر یونین احتجاجات[ترمیم]

    پٹرول کی قیمتوں پر ٹیکس کے خلاف فرانس میں پہلی مرتبہ 1931ء میں لیل شہر میں مظاہرے ہوئے۔ ٹیکس میں اضافے کے خلاف تحریک نے 1950ء کی دہائی کے " پاڈوادیزم " کو ابھارا، جس نے درمیانی طبقات کو متحرک کرتے ہوئے ٹیکس مخالف بغاوت کو جنم دیا۔ 1970 ء میں ‘سست روی تحریک" بھی شروع کی گئی۔ جولائی 1992میں ، پوائنٹس پر مبنی اجازت نامے کے متعارف کروانے کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے اس تحریک کو دوبارہ زندہ کیا گیا تھا[34]۔

    اقتصادی اصلاحات[ترمیم]

    مظاہرین کا دعوی ہے کہ ایندھن کے ٹیکس کا مقصد بڑے کاروبار کے لئے ٹیکسز میں کی کمی کو فروغ دینا ہے اس کے ساتھ ساتھ بعض دانشوروں جیسے ڈینیا کوللت ختب نے دعوی کیا کہ اس کی بجائے اخراجات کاٹ دیں[35][36]۔ میکون نے کہا کہ انتظامیہ کے معاشی اصلاحاتی پروگرام کا مقصد عالمی معیشت میں فرانس کی مسابقت بڑھانا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایندھن ٹیکس کا مقصد حفری ایندھن کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہے[37]۔ بہت سے پیلی جیکٹس مظاہرین بنیادی تنخواہوں میں کمی اور زائد توانائی کی قیمتوں کی وجہ سے اقتصادی مشکلات کی وجہ سے احتجاجات میں سرگرم عمل ہیں[38]۔

    بنیاد اور تنظیم[ترمیم]

    پیلے رنگ کی واسکٹ جو کہ تحریک کی پہچان ہے ۔

    سین اے مارن محکمہ کی ایک عورت نے مئی 2018 میں چینج ڈاٹ آرگ ویب سائٹ پر ایک محضر شروع کی جس کو اکتوبر کے وسط تک 300،000 دستخط وصول ہوئے۔ اس درخواست کے متوازی اسی محکمے کے دو افراد نے 17 نومبر کو "تمام سڑکوں کو روکنے" کے لیے ایک فیس بک تقریب شروع کی اور اس طرح ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج شروع ہوا اور یہ تیزی سے پھیل گیا۔ یہ بتاتے ہوئے کہ یہ اضافہ ٹیکس میں اضافے کا نتیجہ تھا، اس گروہ نے وائرل کی ویڈیوز میں سے ایک نے پیلے رنگ کی جیکٹوں کا استعمال شروع کیا[39]۔

    فرانس کے سکالر بیٹریس جبینل کے مطابق، موجودہ تحریک جائل جینس اور بونٹس راجز تحریکوں (جس نے 2013 میں ایک نئے ٹیک ٹیکس کی مخالفت کی تھی) کے درمیان مماثلت پر بات کرتے ہوئے لکھا کہ بونٹس راجز کی ناکامی کا ذمہ دار "حقیقی رہنماؤں، جیسے کارائی وار کے میئر، برٹنی کے عظیم مالک " تھے تاہم حالیہ پیلے رنگ کی جیکٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے۔موجودہ تحریک کا کوئی رہنما نہیں بلکہ یہ خودارادی طور پر آگے بڑھ رہی ہے۔ غیر رسمی رہنما ابھرتے ہیں لیکن فوری طور پر پیلے رنگ جیکٹس کی طرف سے تشدد کے ساتھ مسترد کر دیاجاتا ہے[40]۔ جان لیچ فیلڈ کے مطابق، تحریک میں سے مروجہ سیاست دانوں کے خلاف یہاں تک نفرت کا اظہار کیا جاتا ہر کہ اگر کوئی ان میں سے بھی سیاست دانوں کی طرح رویہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہو تو اسے بھی اپنی صفوں سے نکال دیا جاتا ہے[41]۔ پیلے رنگ کی جیکٹ تحریک کسی مخصوص سیاسی جماعت یا ٹریڈ یونین سے منسلک نہیں ہے اور اس سے زیادہ تر سوشل میڈیا سے پھیل گئی ہے[42]

    احتجاج[ترمیم]

    17 نومبر[ترمیم]

    مظاہروں کا آغاز 17 نومبر 2018 کو ہوا جس نے فرانس بھر میں 300،000 سے زائد لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، مظاہرین نے رکاوٹوں کی تعمیر اور سڑکوں کو روکنے کے ساتھ آگے بڑھے[43]۔ جان لچ فیلڈ کے مطابق،یہ احتجاج نہیں تھا بلکہ یہ ایک بغاوت ہے[44]۔

    17 نومبر کو احتجاج کا ایک منظر

    سڑکوں کے علاوہ مظاہرین نے دس ایندھن ذخائر کو بھی بند کر دیا[45]۔ احتجاج کے اس دن، احتجاج میں شریک ایک 63 سالہ پنشنر لی پون ڈی ڈی بیویسیسن کو تیز رفتار گاڑی نے کچل دیا۔ رکاوٹ کو توڑ کر گزرنے کی کوشش کرنے والی وین نے ایک موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار دی جو کہ موقع پر مارا گیا[46]۔ 21 نومبر تک، 585 شہری زخمی ہوئے، سولہ شدید زخمی، اور 115 پولیس افسران شدید زخمی ہوئے[47]۔

    فرانس کے سمندر پار علاقہ رے یونیوں میں بھی احتجاجات منعقد ہوئے، جہاں صورتحال کشیدہ رہی اور فسادات سے خراب ہوگئی۔ مظاہرین کی جانب سے سڑکوں تک رسائی کو روکنے کے بعد تین دن تک جزیرے کے اسکول بند کردیےگئے۔ 21 نومبر کو صدر مکون نے جزیرے میں تشدد کو پرسکون کرنے کے لئے فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیا[48]۔

    24 نومبر[ترمیم]

    پیرس میں مظاہروں کے ساتھ پچھلے ہفتے کشیدگی بڑھ گئی ہے، وزارت داخلہ نے 24 نومبر کو چیمپئن مریس میں جمع ہونے کی اجازت دی[49]۔مظاہرین نے فرانس بھر میں 106،000 افراد [50]کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ جن میں سے صرف پیرس میں 8000 خواتین تھیں۔ مظاہرین نے سڑکوں پر آگ لگائی، سڑکوں پر مبنی اشاروں کو توڑ دیا گیا اور رکاوٹوں کو تعمیر کیا[51]۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لئے آنسو گیس اور پانی کے کینن سے استعمال کی۔

    26 نومبر کو ایک اہلکار نے اندازہ کیا کہ دو پچھلے دنوں کے دوران میں پیرس میں ہونے والے فسادات میں 1.5 لاکھ یورو نقصان ہوا۔ صفائی اور مرمت کے کام میں مدد کے لئے دو سو اضافی کارکنوں کو تفویض کیا گیا تھا[52]۔

    یکم دسمبر "ایکٹ III"[ترمیم]

    ایک دسمبر کے لئے "ایکٹ 3 - میکرون حکومت چھوڑو“ نامی احتجاج کا اہتمام کیا گیا[53]۔

    تحریک میں خواتین کی بڑھی تعداد بھی شامل ہے۔

    1-2 دسمبر کو مارسئی، پیرس ( A6 ) ہائی وے پر ٹریفک کو لیون کے شمال میں روک دیا گیا تھا[54]۔

    مارسئی میں، جہاں 5 نومبر کو ایک عمارتوں کی تباہی اور اردگرد علاقوں سے افراد کو نکالنے کا عمل دیکھا گیا۔ ایک 80 سالہ الجزائر خاتون اپنی دکان کا شٹر بند کرتے وقت پولیس کی جانب سے آنسو گیس کنٹینر لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہو گئی اور جس نے سرجری کے دوران میں دم توڑ دیا[55]۔تیسرے ہفتے کے اختتام پر ایرس بائی پاس پر ایک وین کو رکاوٹ کو توڑتے سے روکتے وقت ایک دوسرا موٹر سائیکل ہلاک ہوا۔

    1 دسمبر کو احتجاج کے دوران میں پیرس میں 100 سے زائد کاریں جلا دی گئیں، اور آرکی ڈی ٹرراومہ کو تباہ کیا گیا۔اگلی صبح پیر کو پیرس میئر این ہیڈلگو نے جائیداد کے نقصانات کا 3-4ملین یورو کا اندازہ لگایا[56]۔

    8 دسمبر[ترمیم]

    حکومت کی تعلیمی اصلاحات کے خلاف طلباء مظاہرہ[ترمیم]

    میکرون کی تعلیی اصلاحات اور بیسکالوریٹ (ایک سیکنڈری اسکول چھوڑنے والے امتحان )میں مجورزہ تبدیلی کے منصوبہ کے خلاف فرانس بھر کے شہروں میں طلباء نے احتجاج کیا۔ طلباء نے خدشے کا اظہار کیا کہ ان اصلاحات سے شہریوں، قصبوں اور دیہاتی علاقوں کے طالب علموں کے درمیان میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی کے مواقعے مزید عدم مساوات کا شکار ہو جائیں گے[57]۔

    6 دسمبر کو، 140 سے زائد طالب علم کو متیس لا لا جولی میں ایک اسکول کے باہر سے گرفتار ہوئے۔ بڑے پیمانے پر گرفتار طلبہ کی بندھے ہوئے ہاتھوں کی ویڈیو نے مزید بغاوت کو جنم دیا۔ فرانسیسی تعلیم کے وزیر جین مائیکل بلنک نے کہا کہ اگرچہ یہ منظر سے "مشکوک" تھا لیکن اسے "سیاق و نسق میں" دیکھنا ضروری ہے[58]۔ اسی دن، فرانس بلیو نے رپورٹ کیا کہ سینٹ ایٹیینے "محاصرہ" میں تھا۔ اس وجہ سے سینٹ ایٹیین کے میئر کے پہلے ٹویٹ پھر پریس ریلیز کے مطابق،علاقے میں پولیس نفری میں اضافہ کے لئے پڑوسی لیون کے روشنیوں کے تہوار کو منسوخ کر دیا جائے[59]۔

    فرانس سے باہر احتجاجات[ترمیم]

    گارڈین کے کم وائلر کے مطابق، اس احتجاج نے اٹلی میں حکومت حمایتی تحریک کی حوصلہ افزائی کی، اخبار نے ایک اطالوی آرگنائزر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہم فرانسیسی گیت جیوسس سے متاثر ہوئے ہیں […] تاہم ہم فرانس کے برعکس، ہماری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم یورپ کے خلاف احتجاج کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ یورپ اب اطالوی سیاست میں مداخلت نہ کرے[60]۔"

    برسلز میں فسادات کے دوران مظاہرین کی جانب سے پولیس پر ربڑ کی گولیاں، اور پتھر پھینکے گئے، پولیس نے پانی کے کینن سے جواب دیا، اس دوران میں 60 گرفتاریاں عمل میں لائیں گئی[61]۔والونیا میں 16 نومبر 2018 کے دوران میں کئی تیل ڈپوز بند کردیئے گئے ہیں، تاہم برسلز میں روسی لوکیلو ڈپو کو بند کرنے کے لئے مظاہرین کی کوششوں کو فوری طور پر پولیس نے ناکام بنا دیا۔اب تحریک 2019 میں ملکی وفاقی انتخابات کے لئے نئی پارٹی بنانے کے لئے کام کر رہی ہے[62][63]۔

    1 دسمبر کو-، نیدرلینڈز کے شہروں میں "پیلی واسکٹ" پہنے تھوڑی سی تعداد میں مظاہرین نے احتجاج کیا۔ 4 دسمبر کو، ڈووری پارٹی کے رہنما بوشکو اوبرادویکی نے 8 دسمبر کو سربیا میں بلند ایندھن کی قیمتوں کے خلاف مظاہروں کا اعلان کیا[64]۔ جرمنی میں علامتی طور پر تارکین وطن کے گروپوں برانڈ نبرگ گیٹمیں مظاہرے کئے گئے[65]۔

    5 دسمبر کو، عراق کے شہر بصرہ میں پیلی جیکٹ سے متاثر ہو کراحتجاج کیا گیا، مبینہ طور پر حکومت کی جانب سے ان پر گولیاں برسا کر انہیں منتشر کیا گیا۔

    ردعمل[ترمیم]

    نومبر 2018ء کے آخر کی رائے شماری سے پتہ چلتا ہے کہ اس تحریک کو فرانس میں 73٪ سے 84٪ تک وسیع پیمانے پر حمایت حاصل ہے۔1 دسمبر کے واقعات کے بعد منعقد ہونے والے رائے شماری کے مطابق فرانس کے لوگوں کی 72 فیصد نے اس کی حمایت کی اور 85 فی صد عوام پیرس میں تشدد کے خلاف ہے[66][67]۔

    مظاہرین نے ٹرکوں خاص طور پر نشانہ بنایا۔ دو مزدور یونین، سی جی ٹی اور ایف او نے اتوار کو ٹرک ڈرائیورز کو ہڑتال شروع کرنے کا کہا لیکن انہوں نے 7 دسمبر کو حکومت اور اپنی رکنیت سے مشورہ کرنے کے بعد واپس بلا لیا[68]۔

    وزیر داخلہ کرسٹوفر کاسٹنٹر نے 2017 صدارتی انتخاب میں میکرون مخالف امیدوار ماری لی پین پر ان احتجاجات کی سازش کا الزام لگایا اور 24 نومبر کو تشدد کے بعد اس کی نیشنل پارٹی نے مبینہ طور پر لوگوں کو شانزے لیزے پر جانے کے لئے زور دیا[69]۔ میری لی پین نے جواب دیا کہ شانزے لیزے پر لوگوں کو جانے کی اجازت دینا حکومت کی ذمہ داری تھی اور وزیر داخلہ کو تحریک کو بدنام کرنے کے لئے کشیدگی کو بڑھانے کا ذمہ دار قرار دیا[70]۔

    اگرچہ صدر میکون نے اس بات کا اصرار کیا تھا کہ ایندھن ٹیکس میں اضافہ منصوبے کے مطابق ہو گا تاہم 4 دسمبر کو حکومت نے اعلان کیا کہ ٹیکس کے نفاذ کو روک دیا جائے گا[71]۔ وزیر اعظم اڈارڈ فلپ کے الفاظ میں "کوئی ٹیکس بھی قومی اتحاد کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا"[72]۔

    حوالہ جات[ترمیم]

    1. Yeni Şafak۔ "'Yellow vest' protests spread to Netherlands"۔ Yeni Şafak۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 دسمبر 2018۔ 
    2. "L'Allemagne se connecte au phénomène des "gilets jaunes""۔ Rfi.fr (Franch زبان میں)۔ 28 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 دسمبر 2018۔ 
    3. "Gilets jaunes : la Belgique et la Bulgarie ont elles aussi leurs Gilets jaunes"۔ Lci.fr (French زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 دسمبر 2018۔ 
    4. "France's 'Yellow Jackets' inspire protesters in Iraq"۔ NBCnews (en زبان میں)۔ دسمبر 5, 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ دسمبر 5, 2018۔ 
    5. ^ ا ب "Aux sources de la colère contre l'impôt"۔ Le Monde Diplomatique (fr زبان میں)۔ دسمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 دسمبر 2018۔ 
    6. "Les radars, cibles privilégiées des Gilets jaunes" (fr زبان میں)۔ دسمبر 3, 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ دسمبر 5, 2018۔ 
    7. "Les « gilets jaunes » ciblent la suppression de l’ISF, « péché originel » de Macron" (fr زبان میں)۔ دسمبر 4, 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ دسمبر 5, 2018۔ 
    8. "la mondialisation a enfanté des gilets jaunes"۔ Atlantico.fr (fr زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 دسمبر 2018۔ 
    9. ^ ا ب "The Yellow Vests: Who they are and why their tax protest is a big deal"۔ The Mercury News۔ 20 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 نومبر 2018۔ 
    10. Adam Nossiter (2 دسمبر 2018)۔ "‘Yellow Vests’ Riot in Paris, but Their Anger Is Rooted Deep in France"۔ The New York Times۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 دسمبر 2018۔ 
    11. "Hundreds arrested as police clash with 'Yellow Vest' protesters in Paris"۔ France24۔ AP, Reuters۔ 2 دسمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 دسمبر 2018۔ 
    12. Cecilia Rodriguez (2 دسمبر 2018)۔ "Riots In Paris: 'Yellow Vests' Violence, Vandalism And Chaos Hitting Tourism"۔ Forbes۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 دسمبر 2018۔ 
    13. "Almost 100 injured during French fuel protests"۔ Irish Times۔ 2 دسمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 دسمبر 2018۔ 
    14. "Yellow vest protesters clash with police in Paris, in pictures"۔ The Telegraph۔ 1 دسمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 دسمبر 2018۔ 
    15. "The violence, burning and looting wasn't just in Paris on Saturday"۔ The Local۔ 3 دسمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 دسمبر 2018۔ 
    16. ^ ا ب "Gilets Jaunes protests in France to continue despite fuel tax U-turn"۔ The Guardian۔ 4 دسمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 دسمبر 2018۔ 
    17. "Gilets jaunes – Le ministre de l'Intérieur indique que le pics de manifestants s'est élevé à 282710 manifestants, atteint vers 17 heures"۔ France Info (fr زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 نومبر 2018۔ ۔
    18. "France fuel protests: 80-year-old woman killed in her home"۔ BBC۔ 3 دسمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 دسمبر 2018۔ 
    19. "We're With the Rebels"۔ The Jacobin (en زبان میں)۔ 30 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 دسمبر 2018۔ 
    20. "« Gilets jaunes » : anatomie d’une journée de colère"۔ Le Monde.fr (fr-FR زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 نومبر 2018۔ 
    21. Kim Willsher (16 نومبر 2018)۔ "'Gilets jaunes' protesters threaten to bring France to a standstill"۔ the Guardian (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 نومبر 2018۔ 
    22. Saphora Smith (27 نومبر 2018)۔ "The Champs-Élysées in Paris became a blazing battleground. Here's why."۔ NBC News (en-US زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 دسمبر 2018۔ 
    23. "Prix des carburants : l'essence à son plus bas de 2018, le diesel poursuit aussi sa baisse"۔ LCI۔ 
    24. "Diesel : les raisons d'une " exception culturelle " française"۔ Les Echos (fr زبان میں)۔ 10 اپریل 2014۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 دسمبر 2018۔ 
    25. "Prix des carburants : l'essence à son plus bas de 2018, le diesel poursuit aussi sa baisse"۔ LCI۔ 
    26. "Prix à la pompe: la part du brut, la part des taxes"۔ Le Point (French زبان میں)۔ AFP۔ 16 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 دسمبر 2018۔ 
    27. "'Shame' on Paris protesters, says Macron"۔ BBC News۔ 25 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 نومبر 2018۔ 
    28. "Macron stands by fuel taxes"۔ Energy Reporters۔ 28 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 دسمبر 2018۔ 
    29. "Furious French drivers to block roads in fuel price protest, but are they right to?"۔ The Local۔ 30 اکتوبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 دسمبر 2018۔ 
    30. "Lettre ouverte au Premier Ministre Edouard PHILIPPE"۔ OTRE (French زبان میں)۔ 20 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 دسمبر 2018۔ 
    31. "French fuel protests leave 1 dead, dozens injured"۔ CNN۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 نومبر 2018۔ 
    32. "Emmanuel Macron promet des aides pour le chauffage et le carburant"۔ Le Figaro (fr زبان میں)۔ 6 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 دسمبر 2018۔ 
    33. "French fuel protests leave 1 dead, dozens injured"۔ CNN۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 نومبر 2018۔ 
    34. "Opération escargot contre le permis à point"۔ Archives-imagesplus.tv (French زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 نومبر 2018۔ 
    35. Richard Lough؛ Simon Carraud (4 دسمبر 2018)۔ "France's Macron hunts for way out of 'yellow vest' crisis"۔ Reuters (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 دسمبر 2018۔ 
    36. Gregory Viscusi (3 دسمبر 2018)۔ "Macron Fights on Two Fronts as French, German Risks Collide"۔ Bloomberg News۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 دسمبر 2018۔ 
    37. "Emmanuel Macron promet des aides pour le chauffage et le carburant"۔ Le Figaro (fr زبان میں)۔ 6 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 دسمبر 2018۔ 
    38. "‘Yellow Vests’ Riot in Paris, but Their Anger Is Rooted Deep in France"۔ New York Times (en زبان میں)۔ دسمبر 2, 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ دسمبر 7, 2018۔ 
    39. "Chi sono i 'gilet gialli'، la versione francese dei Forcone"۔ Vice (it زبان میں)۔ 20 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 دسمبر 2018۔ 
    40. "Qui sont les gilets jaunes?"۔ Franceculture.fr (French زبان میں)۔ 14 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 دسمبر 2018۔ 
    41. Kim Willsher (3 دسمبر 2018)۔ "Never before have I seen blind anger like this on the streets of Paris"۔ the Guardian (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 دسمبر 2018۔ 
    42. Vivienne Walt (30 نومبر 2018)۔ "'There Is an Atmosphere of Civil War.' France's Yellow Jackets Are Driving Fury at Macron"۔ Time۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 دسمبر 2018۔ 
    43. "LATEST: French police dislodge fuel protesters as movement wanes (for now)"۔ The Local (en زبان میں)۔ 20 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 نومبر 2018۔ 
    44. "ANALYSIS: The savage violence in Paris was not a protest, it was an insurrection"۔ The Local۔ 2 دسمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 دسمبر 2018۔ 
    45. "France's 'yellow vest' protesters block access to fuel depots"۔ France 24۔ 19 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 نومبر 2018۔ 
    46. "Chi sono i 'gilet gialli'، la versione francese dei Forcone"۔ Vice (it زبان میں)۔ 20 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 دسمبر 2018۔ 
    47. "« Gilets jaunes » : barrages, casse et « sévérité » promise par l’Etat : le point sur la journée de mercredi" (French زبان میں)۔ Le Monde۔ 21 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 دسمبر 2018۔ 
    48. "French troops deployed amid protests on Reunion island"۔ ABC News (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 نومبر 2018۔ 
    49. "French troops deployed amid protests on Reunion island"۔ ABC News (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 نومبر 2018۔ 
    50. Kim Willsher (24 نومبر 2018)۔ "French 'gilets jaunes' protests turn violent on the streets of Paris"۔ The Guardian (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 نومبر 2018۔ 
    51. "'Shame' on Paris protesters, says Macron"۔ BBC News۔ 25 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 نومبر 2018۔ 
    52. Kim Willsher (26 نومبر 2018)۔ "Macron: Paris protest 'battle scenes' could hurt France's image"۔ the Guardian (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 نومبر 2018۔ 
    53. "Gilets Jaunes: Protesters warn of ports disruption"۔ Connexionfrance.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 دسمبر 2018۔ 
    54. "Gilets jaunes à Lyon : mobilisation sur le TEO, l'A6 fermée vers Lyon"۔ Lyon Capitale (fr زبان میں)۔ 2 دسمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 دسمبر 2018۔ 
    55. "« Sang sur les mains »۔ À Marseille, des milliers de manifestants en colère réclament la démission du maire"۔ OuestFrance (fr زبان میں)۔ 15 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 دسمبر 2018۔ 
    56. "ANALYSIS: The savage violence in Paris was not a protest, it was an insurrection"۔ The Local۔ 2 دسمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 دسمبر 2018۔ 
    57. "French government fears 'major violence'"۔ BBC News۔ 6 دسمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 دسمبر 2018۔ 
    58. "Douze interpellations à Saint-Etienne en marge des manifestations lycéennes"۔ France Bleu (fr زبان میں)۔ دسمبر 6, 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ دسمبر 8, 2018۔ "La ville est en état de siège depuis ce jeudi matin avec la manifestation des lycéens dans toute la ville." 
    59. "Saint-Étienne demande encore l'annulation de la Fête des lumières à Lyon"۔ Lyon Capitale (fr زبان میں)۔ دسمبر 7, 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ دسمبر 8, 2018۔ "Le maintien d'une manifestation telle que la fête des Lumières à Lyon nécessitera, par la force des choses, une mobilisation importante des moyens de police au détriment du maintien de l'ordre dans les autres villes de la Région (Gaël Perdriau)" 
    60. Kim Willsher (26 نومبر 2018)۔ "Macron: Paris protest 'battle scenes' could hurt France's image"۔ the Guardian (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 نومبر 2018۔ 
    61. "‘Yellow jacket’ tax protests spread: billiard balls vs. water cannons"۔ The Mercury News (en زبان میں)۔ 30 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 دسمبر 2018۔ 
    62. "Des «gilets jaunes» créent un mouvement politique pour les prochaines élections fédérales"۔ Le Soir (fr زبان میں)۔ 18 نومبر 2018۔ 
    63. "En Belgique, un mouvement de « gilets jaunes » se cherche un débouché politique"۔ Le Monde.fr (fr-FR زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 نومبر 2018۔ 
    64. "Irak, Serbie, Allemagne… les Gilets jaunes essaiment au-delà de nos frontières"۔ Le Parisien (fr زبان میں)۔ دسمبر 6, 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ دسمبر 8, 2016۔ 
    65. "En Allemagne, l’extrême droite revêt l’uniforme des « gilets jaunes »"۔ Le Monde (fr زبان میں)۔ دسمبر 3, 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ دسمبر 8, 2016۔ 
    66. "The yellow jackets are a reminder Emmanuel Macron rules only one version of France"۔ New Statesman (en زبان میں)۔ 28 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 دسمبر 2018۔ 
    67. Vivienne Walt (30 نومبر 2018)۔ "'There Is an Atmosphere of Civil War.' France's Yellow Jackets Are Driving Fury at Macron"۔ Time۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 دسمبر 2018۔ 
    68. "Lettre ouverte au Premier Ministre Edouard PHILIPPE"۔ OTRE (French زبان میں)۔ 20 نومبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 دسمبر 2018۔ 
    69. Kim Willsher (24 نومبر 2018)۔ "French 'gilets jaunes' protests turn violent on the streets of Paris"۔ The Guardian (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 نومبر 2018۔ 
    70. Kim Willsher (24 نومبر 2018)۔ "French 'gilets jaunes' protests turn violent on the streets of Paris"۔ The Guardian (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 نومبر 2018۔ 
    71. "France Freezes Fuel Tax Hike In Face Of Yellow Vest Protests"۔ NPR۔ 4 دسمبر 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 دسمبر 2018۔