پیما کھانڈو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پیما کھانڈو
Pema Khandu in July 2016.jpg 

مناصب
وزیر اعلیٰ اروناچل پردیش (9 )   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
آغاز منصب
17 جولا‎ئی 2016 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نبام ٹوکی 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 21 اگست 1979 (40 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ٹوانگ ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش تاوانج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب بدھ مت
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

پیما کھانڈو (ہندی: पेमा खांडू) ایک بھارتی سیاست دان جو ریاست اروناچل پردیش کے جولائی 2016ء سے وزیر اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے دو مرتبہ سیاسی جماعتیں تبدیل کی ہیں؛ ستمبر میں انڈین نیشنل کانگریس سے پیپلز پارٹی آف اورناچل پردیش،[1] پھر دسمبر 2016ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔[2] پہلے وہ سابق وزیر اعلیٰ نبام ٹوکی کی حکومت میں وزیر سیاحت اور شہری ترقی و آبی وسائل تھے۔[3]

تعلیم[ترمیم]

پیما کھانڈو نے ہندو کالج (دہلی یونیورسٹی) سے تعلیم حاصل کی ہے۔[4]

نجی زندگی[ترمیم]

وہ سابق وزیر اعلیٰ ڈورجی کھانڈو، جو 30 اپریل 2011ء کو توانگ کے حلقے کے دورے کے دوران میں ہیلی کاپٹر حادثے میں فوت ہو گئے تھے، کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی والد کی وفات کے بعد آسمان سے باتیں کرنے لگی اور وہ ریاست کی کابینہ میں نوجوان ترین وزیر بنے۔ وہ مذہباً بُدھ ہیں۔[5]

سیاسی زندگی[ترمیم]

والد کی وفات کے بعد، پیما کھانڈو کو ریاستی حکومت میں کابینہ وزیر برائے فروغِ آبی وسائل و سیاحت کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔[6][7] وہ اسمبلی میں 30 جون 2011ء کو اپنے والد کے اسمبلی حلقے 'مکتو' سے انڈین نیشنل کانگریس کے امیدوار کے طور پر بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے۔[8][9] سنہ 2005ء میں وہ اروناچل پردیش کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری اور سنہ 2010ء میں توانگ ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی کے صدر بنے۔[3] وہ 16 جولائی 2016ء کو نبام ٹوکی کی جگہ کانگریس قانون ساز جماعت لیڈر منتخب ہوئے تھے۔[10]

پیما 2014ء کے اروناچل پردیش قانون ساز اسمبلی انتخابات میں بلا مخالفت مکتو سے دوبارہ منتخب ہوئے تھے۔[11] پیما کھانڈو نے ایک سالہ طویل سیاسی بحران کے بعد سینتیس سال کی عمر میں 17 جولائی 2016ء کو اروناچل کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔

16 ستمبر 2016ء کو وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو کی قیادت میں حکمران جماعت کے 43 ارکان اسمبلی نے انڈین نیشنل کانگریس سے برگزشتہ ہو کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی آف اروناچل پردیش (پی پی اے) میں شمولیت اختیار کر لی۔[12]

21 ستمبر 2016ء کو پی پی اے کے صدر نے پیما کو معطل کر دیا اور پیما کھانڈو سمیت 6 ارکان اسمبلی کی معطلی کے بعد تکام پریو کو نیا وزیر اعلیٰ نامزد کیا۔[13][14][15]

دسمبر 2016ء میں پیما نے اسمبلی میں ثابت کیا کہ پی پی اے کے 47 میں سے 33 ارکان نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور بی جے پی کے پہلے ہی 11 ایم ایل اے تھے، 33 کی شمولیت اور 2 آزاد ارکان اسمبلی کی حمایت کے بعد اب تعداد 45 ہو گئی ہے۔ وہ اروناچل پردیش میں گیگونگ اپانگ کے بعد بی جے پی کے دوسرے وزیر اعلیٰ ہیں۔[16][17]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Times of India" 16/9/16
  2. "Arunachal gets full-fledged BJP govt as Pema Khandu, 32 others join saffron party"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. ^ ا ب "Arunachal Pradesh Chief Minister Nabam Tuki: Cabinet Minister Profile"۔ اروناچل پردیش سیایم۔ 2 مارچ 2015۔ مورخہ 14 مئی 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 اپریل 2015۔
  4. "The Arunachal Times – Archives"۔ اروناچل ٹائمز۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-04-01۔
  5. "Why Arunachal now worries Congress"۔ انڈین ایکسپریس۔ 22 جولائی 2016۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. "New council of ministers formed in Arunachal Pradesh"۔ Dnaindia.com۔ 20 مئی 2011۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 اپریل 2015۔
  7. [1] [مردہ ربط]
  8. "The Assam Tribune Online"۔ Assamtribune.com۔ 1 جولائی 2011۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 اپریل 2015۔
  9. "Form 21E : Return of Election : Uncontested"۔ Eci.nic.in۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 اپریل 2015۔
  10. "Pema Khandu will be the youngest chief minister"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اگست 2016۔
  11. "Arunachal Pradesh : General Election" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Ceoarunachal.nic.in۔ مورخہ 2 اگست 2014 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 اپریل 2015۔
  12. "Congress loses Arunachal two months after it got it, 43 of 44 MLAs defect"۔ 17 ستمبر 2016۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  13. "After Pema Khandu's suspension, Takam Pario likely to be new Chief Minister of Arunachal Pradesh – Times of India"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  14. "Takam Pario likely to be Arunachal CM in 2017 after PPA suspends Pema Khandu, 6 MLAs – Firstpost"۔ www.firstpost.com۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  15. "Takam Pario, the richest Arunachal MLA, may replace Pema Khandu as CM"۔ 30 دسمبر 2016۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  16. "In Arunachal, CM Pema Khandu wins musical chairs game for BJP"۔ 1 جنوری 2017۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  17. "Arunachal: Shifting to BJP, Pema Khandu drops 3 ministers, 2 advisors, 5 parliamentary secretaries"۔ 3 جنوری 2017۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
سیاسی عہدے
ماقبل 
نبام ٹوکی
وزیر اعلیٰ اروناچل پردیش
17 جولائی 2016ء - موجود
مابعد 
برسر منصب