پیٹر کا اصول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دی پیٹر برنسپل کا سر ورق (1970ء کا پین بکس ایڈیشن)

پیٹر کا اصول (انگریزی: Peter principle) نظامت کا ایک تصور ہے، جسے لارینس جے پیٹر (ڈاکٹر پیٹر) نے وضع کیا۔ اس اصول کے مطابق جیسے جیسے لوگ کسی ادارے میں اپنی سابقہ کار کردگی کی بنیاد پر اعلٰی مراتب طے کرتے ہیں، وہ عروج پاکر "نااہلیت کی سطح" کو پہنچ جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، ایک ملازم جو کسی سابقہ عہدے پر عمدہ کام کرنے کی وجہ سے ترقی پاتا ہے، وہ اسی طرح دیگر مناہج اس وقت تک طے کر سکتا ہے جب تک کہ وہ مزید صلاحیتوں کا مظاہرہ نہ کر سکے، کیوں کہ ایک عہدے کی صلاحیتیں ضروری نہیں کہ دوسرے عہدے میں کار آمد ثابت ہوں۔ اس تصور پر سیر حاصل بحث 1969ء کی کتاب دی پیٹر پرنسپل میں کی گئی تھی، جسے ڈاکٹر پیٹر اور ریمنڈ ہل نے لکھا تھا۔[1]

عملی طور پر پیٹر کے اصول کا مظاہرہ[ترمیم]

تجارت و کاروبار اور حکومت و غیر منافع بخش اداروں میں کئی بار اس بات کو دیکھا گیا کہ جو شخص ایک مخصوص عہدے پر جس خوبی اور خوش اسلوبی سے کام کر رہا ہوتا ہے، وہ مزید کسی اور آگے کے عہدے پر اتنی خوب صورتی سے کام نہیں کر سکا ہے۔ مثلًا ایک ویب ڈیزائنر، جس کا کام ایک ویب سائٹ کو ترتیب دینا، اس میں کئی فنی امور کا بہترین انداز میں شامل کرنا، بین الصفحات ربط درست رکھنا، میل سرور بنانا وغیرہ۔ وہ شخص ان کاموں میں اپنے کمال کا مظاہرہ کرتا ہے اور اس طرح سے وہ ادارے کے انتظامیہ کے نزدیک ایک حرکیاتی اور عمدہ ترتیب کار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ان باتوں کی وجہ سے ادارہ اس شخص کا عہدہ بڑھا کر اسے انٹرنیٹ ٹکنالوجی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کا عہدہ دیا جاتا ہے۔ اس عہدے میں ادارے میں نہ صرف انٹرنیٹ کی سربراہی کو باقاعدہ بنانا اور اس کی درکار شرائط کی پابندی سے نگرانی کرنا، بلکہ ادارے میں انٹرانیٹ اور ایکسٹرانیٹ کی بھی اسی طرح کی دیکھ ریکھ کرنا ہے۔ ایسی صورت میں یہ بہت ممکن ہے کہ ایک ویب ڈیزائنر اتنی بہتر کار کردگی نہ دکھا پائے۔[2] یہ صلاحیتوں اور انجام دہی کی کمی دراصل پیٹر کے اصول کا مظاہرہ ہے، اس کا حاصل یہی ہے کہ اس شخص کی ایک ذاتی صلاحیت ہے جس میں وہ عمدہ کر سکتا ہے اور اس کے آگے اس کے کام میں وہ کرشماتی صفات نہیں دیکھے جا سکتے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Peter principle". Business Dictionary. اخذ شدہ بتاریخ مئی 22, 2018. 
  2. How the Peter Principle Works