چراغ تلے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اردو مزاح نگاری کی تاریخ میں مشتاق احمد یوسفی کا فن توجہ اور سنجیدہ توجہ کا حامل ہے۔ کیونکہ ان کا فن محض وقت گزاری کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ عمل ہے۔ بقول احسن فاروقی:

” وہ مزاح کو محض حماقت نہیں سمجھتے اور نہ محض حماقت ہی سمجھ کو پیش کرتے ہیں بلکہ اُسے زندگی کی اہم حقیقت شمار کرتے ہیں۔“

ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کے مطابق :

"ہم اردو مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں۔"

ابن انشاء بھی مشتاق یوسفی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ، ” اگر مزاحیہ ادب کے موجودہ دور کو ہم کسی نام سے منسوب کر سکتے ہیں تو وہ یوسفی ہی کا نام ہے۔“

ہر بڑا فنکار اپنے عہد کے لیے نئے پیمانے متعین کرتا ہے اور پہلے سے موجودہ روایت کی از سرنو تشکیل کرتا ہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ بڑا ادب خود کسوٹی بن جاتا ہے۔ اور اس کسوٹی پر بعد میں آنے والوں کی تخلیقات کو پرکھا جاتا ہے۔ بلا شبہ یوسفی اپنے عہد کی ایک ایسی ہی کسوٹی ہے۔ جس میں نہ صرف یہ کہ پہلے سے موجود روایت جمع روایات جمع ہو گئی ہیں بلکہ جدید اسلوب سے انہوں نے اس کی خوبصورت تشکیل بھی کی ہے۔ انھوں نے ”چراغ تلے“ ،”خاکم بدہن“، ”زرگزشت“ اور ” آب گم “ کی صورت میں اردو ادب کو مزاح کے بہترین نمونوں سے نوازا۔

اپنے ان تخلیقات میں یوسفی اول سے آخر تک لوگوں سے پیار کرنے والے فنکار نظر آتے ہیں اور اس سے بڑھ کر ایک تخلیق کار کی کامیابی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ جھنجلاہٹ میں مبتلا نہیں ہوتا۔ بلکہ ہنس ہنس کر اور ہنسا کر زندگی کو گلے لگاتا ہے۔ اس طرح وہ زندگی کو نئے زاویہ نظر سے دیکھتا بھی ہے اور قاری کو بھی دکھاتا ہے۔ لیکن صرف ہنسنے اور ہنسانے کا عمل مزاح نگاری نہیں کہلاتا۔ اس کے لیے لہجے کی ظرافت، عظمت خیال اور کلاسیکی رچائو کے ساتھ مہذب جملوں کی ضرورت ہے۔ اگر مزاحیہ ادب کی روایت کو بغور دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مزاح نگاری نے وقت کی آواز بن کر سچا کردار ادا کیا ہے۔ مرزا غالب، فرحت اللہ بیگ، رشید احمد صدیقی، پطرس بخاری، مجید لاہوری، کرنل محمدخان، شفیق الرحمن اور ابن انشاءوغیر ہ کی تخلیقات میں معاشرے کی ناہمواریوں کا پہلو کبھی نظر انداز نہیں ہوا۔ یوسفی بھی اس صف میں نظر آتے ہیں۔ کہ انہوں نے مزاحیہ نثر میں بدنظمی کا شائبہ تک پیدا نہیں ہونے دیا۔

چراغ تلے کا فن[ترمیم]

چراغ تلے یوسفی کی پہلی کاوش ہے۔ لیکن اس سے انداز ہ لگایا جا سکتا ہے کہ باقی تصانیف کسی پائے کی ہونگی۔ اُن کی تخلیقات کو اسلوب کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس نتیجے پر بہ آسانی پہنچا جا سکتا ہے کہ انہوں نے فرانسیسی، برطانوی اور امریکی مزاح نگاروں کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ اس طرح ان کی تخلیقات مشرقی اور مغربی روایت کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ عالمی ادب پر نظر رکھنے والے بخوبی آگاہ ہیں کہ انگریزی ادب کے مزاح نگار واقعہ نگاری اور منظر کشی سے مزاحیہ اسلوب حاصل کرتے ہیں۔ جبکہ فرانسیسی مزاح نگار الفاظ سے کھیلنے کی خصوصیت رکھتے ہیں۔ یوسفی نے انگریزی، فرانسیسی اور مشرقی روایات کے امتزاج سے ایک نئے رنگ کو جنم دیا ہے۔

اُن کے مضامین میں موضوعات اور لفظیات دونوں کو یکساں حیثیت حاصل ہے۔ اُن کا انداز بیاں معنویت سے بھر پور ہے مختلف الفاظ و تراکیب اور اشعار کی جابجا پیروڈی، محاورات کا برجستہ استعمال ان کے انداز کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ فرائیڈ نے ظرافت کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہSense in non sense

یوسفی کی تمام تحریریں اس بات کی عکاس ہیں۔ بے تکی بات سے تُک کی بات نکالنا مزاح نگار کا منصب ہے اور یوسفی اس منصب پر پورے اترتے ہیں۔ اپنی پہلی کتاب چراغ تلے کی اشاعت کے بعد بھی یوسفی اردو ادب میں ایک صاحب اسلوب مزاح نگار کے طور پر جانے پہچانے گئے۔ ”پڑیے گر بیمار“، ” چارپائی اور کلچر “، ”کرکٹ“، ”جنونِ لطیفہ“ ،اور ”کافی “ وغیرہ جیسے مضامین ارد و نثر میں کم کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ چراغ تلے کے مضامین کو یوسفی صاحب بجا طور پر کھٹ مٹھے مضامین قرار دیے ہیں۔ کیونکہ اُن کی ان تخلیقات میں مختلف ذائقوں کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اردو، فارسی، عربی، انگریزی، فرانسیسی اور ہندی زبانوں کے مطالعے نے انہیں کئی نازک مرحلوں پر سہارا دیا ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ یوسفی نے اپنی پہلی کتاب کے ساتھ اسلوب کی تازگی اور مواد کی قدرت کی بدولت قاری اور نقاد کے دلوں میں گھر کر لیا ہے۔ آئیے اس کتاب کے چند بہترین مضامین کا جائزہ لیتے ہیں۔

پہلاپتھر[ترمیم]

چراغ تلے بارہ کھٹے مٹھے مضامین کا مجموعہ ہیں اور اگر مقدمہ کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے تو تو یہ مضامین تیرہ ہو جاتے ہیں۔ اس کا پہلا مضمون جس کی سرخی ” پہلا پتھر “ ہے خود اپنی کتاب پر مقدمہ لکھنے اور اپنے آپ کو روشناس کرانے کا بالکل اچھوتا انداز ہے۔ صحیح معنوں میں مزاج نگار وہی ہوتا ہے جو خلوص اور کشادہ دلی کے ساتھ اپنی ذات پر بھی اپنی ہی ظرافت کو آزما سکے۔ ہنسی ہنسی میں یوسفی نے اپنے متعلق کچھ نہ بتاتے ہوئے بہت کچھ بتا دیا ہے۔ اپنی کتاب کے مقدمے میں اپنی ذات کو موضوع بناتے ہوئے نہایت شگفتہ بیان کے ساتھ کام لیا گیا ہے۔ مزاح پر اُن کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ اُن کے عیب بھی ہنر معلوم ہوتے ہیں۔ سوالاً جواباً انہوں نے کچھ اس انداز میں اپنا تعارف کرایا ہے کہ قاری نہ صرف محظوظ ہوتا ہے بلکہ ان کی حسِ مزاح کا قائل بھی ہو جاتا ہے۔ مقدمے میں اپنے خدوخال کی طرف کچھ ایسے عمدہ انداز میں اشارہ کرتے ہیں کہ بے اختیار ”ہنسی “ کو تحریک ملتی ہے۔

” اوور کوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں۔ عرصے سے مثالی صحت رکھتا ہوں۔ اس لحاظ سے کہ جب لوگوں کو کراچی کی آب و ہوا کو برا ثابت کرنا مقصود ہو تو اتما م حجت کے لیے میری مثال دیتے ہیں۔

پڑئیے گر بیمار[ترمیم]

چراغ تلے میں ”پڑئیے گر بے مار“ ایسا مضمون ہے جو یوسفی کے مزاح کی نمائندہ تحریر کہلایا جا سکتا ہے۔ اپنے اردگرد کے ماحول کا اتنا عمیق ادراک اور مشاہدہ ایسی خصوصیات ہیں۔ جس نے یوسفی کی تحریروں کو قاری کے لیے مانوس بنا دیا ہے۔ ہمارے مشرقی معاشرے میں ”عیادت“ کو آنے والے مریض کو کیسے کیسے تنگ کرتے ہیں اور مریض کو چاروناچار خوش اخلاقی کا مظاہرہ بھی کرنا ہوتا ہے۔ اس کی تفصیل باریک بینی سے بیان کی ہے۔ لیکن یہ تفصیل سیدھی سادی اور سپاٹ نہیں بلکہ ایک پھلجھڑی کی مانند ہے۔ جس کی چمک سے قاری کی آنکھیں چند ھیا جاتی ہے۔ اپنے ماحول سے اُس کا یہ عالم ہے کہ حقیقت کے بیان میں اگر مبالغے سے بھی کام لیتے ہیں تو درست معلوم ہوتا ہے۔ مثلاً اس مضمون میں ہر شخص کی ناقص طبعی معلومات کے بارے میں لکھتے ہیں:

” سنا ہے کہ شائستہ آدمی کی پہچان یہ ہے کہ اگر آپ اُس سے کہیں کہ مجھے فلاں بیماری ہے تو وہ کوئی آزمودہ دوا نہ بتائے۔ شائستگی کا یہ سخت معیار صحیح تسلیم کر لیا جائے تو ہمارے ملک میں سوائے ڈاکٹروں کے کوئی اللہ کا بندہ شائستہ کہلانے کا مستحق نہ نکلے۔“

یادش بخیر[ترمیم]

اس طرح ” یادش بخیر “ چراغ تلے کا ایک اور دلچسپ مضمون ہے۔ عام زندگی میں ہمار ی ملاقات ایسے کئی بزرگوں سے ہوتی ہے جن کے لیے وقت رک چکا ہوتا ہے۔ اوروہ سمجھتے ہیں کہ جتنی تہذیبی ترقی اور زندہ دلی ان کے دور میں تھی وہ آج ممکن ہی نہیں۔ کیونکہ اُن کا خیال ہے کہ وہ ساری باتیں اُن کی جوانی کی ساتھ ہی رخصت ہو گئی ہیں۔ اس مضمون میں ”آغا چاکسوی“ ایک بھرپور کردار ہے جو ماضی پرست ہے۔ جو زندگی کو 25 سال پرانی ڈگر پر چل کر دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ ماضی میں زندہ رہنا پسند کرتے ہیں اور ماضی کے واقعات کی راکھ کرید کر اس سے چنگاری برآمد کرنا چاہتے ہیں۔

”سامنے دیوار پر آغا کی ربع صدی پرانی تصویر آویزاں تھی جس میں وہ سیاہ گائون پہنے، ڈگری ہاتھ میں لیے یونیورسٹی پر مسکرا رہے تھے۔“

قدیم نصاب کے بارے میں آغا صاحب کا خیال تھا کہ:

” ہمارے بچپن کی کتابیں اتنی آسان ہوتی تھیں کہ بچے تو بچے والدین بھی سمجھ لیا کرتے تھے۔“

چارپائی اور کلچر[ترمیم]

یوسفی کا سب سے بلند پایہ مضمون ”چارپائی اور کلچر“ ہے۔ جسے اردو ادب میں خاص مقام حاصل ہے۔ دراصل یوسفی نے چارپائی کے ذریعے ہمارے پوری ثقافت کو سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ اُن کا کمال یہ ہے کہ ایک معمولی چیز چارپائی کے ذریعے ہماری نشست و برخاست سے لے کر ہمارے روزمرہ کے رویوں تک ہر بات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ فنی لحاظ سے ”چارپائی اور کلچر“ میں صورت واقعہ کو خوبی سے برتا گیا ہے۔ اور قاری ہر سطر پر برجستگی کا قائل ہو جاتا ہے۔ اور آخری حصہ تو اتنا متاثر کن ہے کہ قاری دم بخود ہو کر رہ جاتا ہے۔ کیونکہ یوسفی کی گرفت انسانی نفسیات پر اتنی مضبوط ہے کہ ہر شخص اُن کے مزاح میں اپنا شخصی حصہ ڈھونڈھنے لگتا ہے۔

” لوگ رات بھرنہ صرف ایک دوسرے کی جان و مال بلکہ چال چلن کی بھی چوکیداری کرتے رہتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں تو پھر آپ ہی بتائیے کہ رات کو آنکھ کھلتے ہی نظر سب سے پہلے پاس والی پرکیوں جاتی ہے۔“

یوسفی کے ہاں مزاح کے تمام حربے ہمیں ملتے ہیں اور دوسری طرف اُن کے اسلوب نے اُن کے مزاح کو مزید چار چاند لگا دیے ہیں چراغ تلے سے اُن کے فن کا جائزہ لیتے ہیں،

صورت واقعہ[ترمیم]

پطرس بخاری کا خاص حربہ صورت واقعہ ہے اور مغربی ادب سے گہری واقفیت اور دلچسپی کی بناءپر انہوں نے اس حربے کو خوبی سے برتا ہے لیکن یوسفی بھی اُن سے کسی طرح کم نہیں۔ انہوں نے اس حربے کو لفظوں کی تکرار سے چار چاند لگا دیے ہیں۔ وہ اس حربے کا استعمال اس طرح کرتے ہیں کہ بات صاف چھپتی بھی نہیں اور سامنے آتی بھی نہیں۔ مثلاً کرکٹ والے مضمون میں صورت واقعہ کا استعمال کچھ اس طرح کرتے ہیں۔

” اس کی کلائی کے ایک ادنیٰ اشارے، انگلیوں کی ایک خفیف سی حرکت پر گیند ناچ ناچ اُٹھتی اور تماشائی ہر گیند پر کرسیوں سے اُٹھ اُٹھ کر داد دیتے اور داددے کر باری باری ایک دوسرے کی گود میں بیٹھ بیٹھ جاتے ۔“

پیروڈی[ترمیم]

اردو نثری ادب میں ابولکلام آزاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جب اپنی نثر میں اشعار کا استعمال کرتے ہیں تو وہ اتنا برمحل ہوتا ہے کہ قاری محسوس کرتا ہے کہ جیسے یہ اشعار اُس نثر کے لیے کہے گئے ہیں یوسفی بھی اشعار کے استعمال میں یکتا ہیں۔ اشعار چاہے اصلی صورت میں ہو یا تحریف کی شکل میں دونوں صورتوں میں اُن کی ذہنی رسائی قاری کو محضوظ کرتی ہے۔ اور قاری اُن کے انتخاب کا قائل ہو جاتا ہے۔ مثلاً مرغیوں کی گھر میں آمد پر یوسفی کو اپنا گھر اپنا نہیں لگتا تو لکھتے ہیں۔

یہ گھر جو میرا ہے تیر ا نہیں
پر اب گھر یہ تیرا ہے میرا نہیں

اور اگر پیروڈ ی دیکھنا ہو تو جابجا ایسی تحریف پیش کی گئی ہیں کہ یوسفی نے اس دقیق حربے کو ہر بدنظمی سے بچائے رکھا ہے۔

نہ کوئی خندہ رہا اور نہ کوئی خندہ نواز

بریکٹ[ترمیم]

یوسفی کاایک خاص حربہ بریکٹ ہے جسے انہوں نے انگریزی ادب سے لیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ انگریزی ادب پر ایک عرصے تک ڈرامے کا راج رہا ہے۔ اس لیے آج بھی بریکٹ وضاحت کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ یوسفی نے اس حربے کو خاص طور پر اپنایا ہے اور جملے کی اصل جان اور مفہموم بریکٹ میں بند کرکے پیش کیا گیا ہے۔ مثلاً کرکٹ میں لکھتے ہیں، ” لیکن دوسرے اوور میں بولر نے گیند ایسی کھینچ ماری کہ مرزا کے سر سے ایک آواز (اور منہ سے کئی!) نکلی۔“

انشائیہ[ترمیم]

چراغ تلے کے سارے مضامین میں انشائیے کا رنگ موجود ہے یعنی بات سے بات پیدا کی گئی اور مزاح تخلیق کیا گیا ہے۔ جس کا تعلق ہمارے گرد و نواح سے ہیں۔ ان مضامین کو پڑھنے کے بعد قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ مضامین کے خالق کا رشتہ اپنی مٹی اور ثقافت سے بہت گہرا ہے اس کی شخصیت تہذیبی رچائو کی حامل ہے اور یہی ایک ایسا حوالہ ہے جو یوسفی کی تحریروں کی قدروقیمت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

خالص مزاح کے حوالے سے یوسفی پطرس کے نزدیک ہے اور طنز و مزاح کی آمیزش کے وقت رشید احمد صدیقی سے قربت کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کی ذہنی آبیاری کا ماخذ ایک ہے۔ یعنی علی گڑھ اور انگریزی ادب اس سلسلے میں ڈاکٹر انور سدید کا یہ کہنا بجا معلوم ہوتا ہے، ”یوسفی کے ہاں رشید احمد صدیقی اور پطرس کے مزاح کی ترقی یافتہ شکل ملتی ہے۔“

موضوع پر عبور[ترمیم]

کسی بھی فنکار کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ جس موضوع پر قلم اُٹھائے اُس کو باریک بینی کے ساتھ جانتا ہو۔ اور ہر جہت کا احاطہ کرنے پرقادر ہو۔ اگر ایسا ہوگا تو تب تحریر میں گہرائی پیدا ہو سکتی ہے۔ یوسفی ایسی ہی موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں۔ ذکر چاہے ”کافی “ کا ہو۔ چاہے ”کرکٹ“، ”جنون لطیفہ“ چارپائی یا مرغیوں کی نسلیں، کافی کے ذائقے، کرکٹ کی باریکیاں، بوڑھوں کی نفسیات اور اور حسین ماضی کا تذکرہ، بیمار کی عیادت کرنے والے، مردم آزاد، سبھی کا تذکرہ ان کی نفسیات جاننے کے بعد کرتے ہیں۔ اس لیے نقاد وثوق سے کہتے ہیں کہ یوسفی اپنے موضوعات سے متعلق ہر قسم کی معلومات رکھتے ہیں لیکن وہ اپنی تخلیقات میں معلومات کو اس طرح نہیں برتتے کہ قاری ے ہ محسوس کرے کہ وہ اپنی علمیت جھاڑ رہے ہیں بلکہ وہ رواں دواں انداز میں بیان کرتے چلے جاتے ہیں اور قاری کو ایک دیرپا مزاح سے محظوظ کرتے ہیں۔

مجموعی جائزہ[ترمیم]

مختصر یہ کہ مشتاق احمد یوسفی کے اسلوب کی خصوصیت اس کی خیال آفرینی، فکر انگیزی اور لطافت و شگفتگی ہے جو اسے دوسرے مزاح نگاروں سے ممتاز کر سکتی ہے۔ ان کے ہاں پطرس کی ظرافت، رشید احمد صدیقی کے جملے بازی، کنہیا لال کپور کا طنز اور شوکت تھانوی و عظیم بیگ چغتائی کا مزاح ضرور ملتا ہے۔ لیکن بنظر انصاف دیکھا جائے تو یوسفی ایسا فنکار ہے جس نے اپنی دنیا آپ پیدا کی ہوئی ہے۔ وہ اقلیم مزاح کا بے تاج بادشا ہ ہے اور اس کی سلطنت میں کسی غیر کا دخل نہیں ہے۔

ڈاکٹر اسلم فرخی یوسفی کے بارے میں لکھتے ہیں: ” اردو طنز و مزاح میں ایک ایسی نئی اور بھر پور آواز کا اضافہ ہوا ہے جو الگ سے پہچانی جا سکتی ہے۔ جس کی طنازی اور دلفریبی دونوں قابل ذکر ہیں۔ یوسفی طرز بیان، ادبیت، ذہانت اور برجستگی میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ با ت میں سے بات پیدا نہیں کرتے، بلکہ بات خود کو ان سے کہلوا کرایک طرح کی طمانیت اور افتخار محسوس کرتی ہی۔“