چغتائی خان
ظاہری ہیئت
| |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| (منگولی میں: ᠴᠠᠭᠠᠲᠠᠢ) | |||||||
| معلومات شخصیت | |||||||
| پیدائش | 22 دسمبر 1183ء منگولیا | ||||||
| وفات | سنہ 1242ء (58–59 سال)[1][2] المالک | ||||||
| والد | چنگیز خان [1][2] | ||||||
| والدہ | بورتے | ||||||
| بہن/بھائی | |||||||
| خاندان | بورجگین ، چنگیز خاندان | ||||||
| مناصب | |||||||
| خان (منگول سلطنت) | |||||||
| برسر عہدہ 18 اگست 1227 – 1 جولائی 1242 | |||||||
| |||||||
| دیگر معلومات | |||||||
| پیشہ | خان (منگول سلطنت) | ||||||
| درستی - ترمیم | |||||||
چغتائی خان - (Mongolian: Цагадай, Tsagadai) چنگیز خان کا بیٹا تھا۔
حکومت
[ترمیم]چغتائی خان کی زندگی میں ماوراالنہر، قازقستان، کاشغر اور ترکستان کے علاقے اس کی تحویل میں تھے۔ اس نے اپنے باپ کی وصیت کے مطابق اپنے وزیر اعظم قراچار نوئیاں سے اپنی بیٹی توکل خانم کی شادی کر کے رشتہ داری قائم کی اور اپنے علاقوں کا انتظام سپرد کر کے خود اوکتائی خان کے پاس سکونت اختیار کر لی اور امور سلطنت میں ہاتھ بٹاتارہا۔ المالیق چغتائیوں کا پایہ تخت تھا۔
موت
[ترمیم]چغتائی خان کی موت شکارگاہ میں ایک بازگشتہ تیر پینکنے سے ہوئی۔ یہ تیر اس کی پشت پہ لگا اور مہلک ثابت ہوا۔ یہ واقعہ 1241ء میں اوکتائ خان کی موت سے 6 ماہ پیشتر پیش آیا۔
حوالہ جات
[ترمیم]قاضی محمد اقبال چغتائی : وسط ایشیا کے مغل حکمران۔ چغتائی ادبی ادارہ، لاہور۔ 1983ء۔ صفحہ 32-33۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]زمرہ جات:
- 1183ء کی پیدائشیں
- 22 دسمبر کی پیدائشیں
- 1242ء کی وفیات
- بانی فرماں روا
- بورجگین
- تاریخ وسطی ایشیا
- تیرہویں صدی کی شخصیات
- تیرہویں صدی کی منگولیائی شخصیات
- تیرہویں صدی میں ایشیا کے بادشاہ
- چنگیز خان کی اولاد
- خانان چغتائی خان
- خانان
- شہنشاہوں کے بیٹے
- منگول اقوام
- منگول سلطنت کی تاریخ
- منگولی خان
- منگولیا میں تیرہویں صدی
- 1241ء کی وفیات
- 1180ء کی دہائی کی پیدائشیں
- ایشیا میں بانی فرماں روا

