چلتا پرزہ (ناول)
| چلتا پرزہ (ناول) | |
|---|---|
| (ہسپانوی میں: La vida de Lazarillo de Tormes) | |
| اصل زبان | ہسپانوی |
| ادبی صنف | پکارسک ناول ، بلڈنگس رومان |
| تاریخ اشاعت | 1554[1] |
| درستی - ترمیم | |
چلتا پرزہ (ہسپانوی: Lazarillo de Tormes، تلفظ: لاثاریو دے طورمیس) ہسپانوی زبان کا 1554ء میں شائع ہونے والا ایک ناول ہے۔ اس کا اصل مصنف نامعلوم ہے، کیوں کہ ناول مذہبی طبقے پر طنز ہے۔ اس کی دستیاب تینوں قدیم اشاعتیں 1554ء کی ہیں، جو الکالا دے ایناریس، بورگوس اور انتورب سے شائع ہوئیں۔ ناول کو یورپ کا پہلا حقیقت پسندانہ ناول کہا جاتا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار ایک عیار لڑکا ہے، جس کا واسطہ بھی ایسے ہی لوگوں سے پڑتا ہے جو کنجوس، مکار یا ظاہر دار ہیں۔ 1559ء میں ناول پر ہسپانوی کلیسیا نے پابندی لگا دی۔ جس سے اس کا مزید چرچا ہوا اور سولہویں صدی میں اس کا یورپ کی کئی بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو کر عوام میں مقبول ہو گیا۔ ”لاثاریو دے طورمیس“ کا اردو زبان میں ترجمہ محمد سلیم الرحمن نے ”چلتا پرزہ“ کے عنوان سے کیا۔
کہانی
[ترمیم]اس ناول کی کہانی ایک بچے کے گرد بُنی گئی ہے جس کی ماں اُس کی کفالت سے بچنے کے لیے اُسے ایک اندھے فقیر کے ساتھ روانہ کردیتی ہے۔ بچہ فقیر کے ساتھ اپنی چستی کے اعتبار سے نہلے پر دہلا ثابت ہوتا ہے۔ اندھے کی جملہ عیاریوں کو اپنی بصیرت سے چت کرتا ہے اور موجود حالات میں زندگی کو اپنے لیے گوارا بناتا ہے۔ اندھے کے بعد لاثاریو کا واسطہ ایک پادری سے پڑتا ہے۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ BVMC work ID: https://data.cervantesvirtual.com/work/11783 — اخذ شدہ بتاریخ: 30 اپریل 2019
