چندر شیکھر آزاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چندر شیکھر آزاد
(ہندی میں: चन्द्रशेखर आज़ाद ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Chandra Shekhar Azad 1988 stamp of India.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (متعدد زبانیں میں: Chandrashekhar Tiwari ویکی ڈیٹا پر پیدائشی نام (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 23 جولا‎ئی 1906[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 27 فروری 1931 (25 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الہ آباد  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات شوٹ  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات خود کشی  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ انقلابی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک تحریک آزادی ہند  ویکی ڈیٹا پر تحریک (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

چندر شیکھر آزاد (انگریزی: Chandra Shekhar Azad، ہندی= चन्द्रशेखर आज़ाद)، (اس آڈیو کے متعلق /t͡ʃʌnd̪ɾʌːɑːd/)، پیدائش: 23 جولائی، 1906ء - وفات: 27 فروری، 1931ء) ہندوستان کے مشہور انقلابی اور تحریک آزادی ہند کے مجاہد تھے۔ وہ کاکوری ڈکیتی میں رام پرساد بسمل کے ساتھ شامل تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

چندر شیکھر آزاد 23 جولائی، 1906ء کو موضع پھلورہ، ضلع جھبوا، مدھیہ پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ دادا ابتدا سے موضع بدرکا ضلع اناؤ، اترپردیش کے باشندے تھے۔ بنارس سنسکرت کالج اور بعد ازاں کاشی ودیا پٹھ کے طالبِ علم رہے۔ 1921ء کی تحریک عدم تعاون میں شریک ہوئے۔ انہیں 15 برس کی عمر میں گرفتار کر لیا گیا[2] اور بید کی 15 ضربوں کی زا دی گئی۔ رہا ہونے پر انہیں کمسن مجاہد کے نام سے خوش آمدید کہا گیا۔ 1922ء میں ہندوستانی انقلابی پارٹی میں شامل ہوئے۔ سوشلسٹ ریپلکن فوج کے رکن تھے۔انہوں نے متعدد انقلابی معرکوں میں حصہ لیا جن جن میں کاکوری میل ڈکیتی کا واقعہ بہت مشہور ہوا۔ اس واقعہ کے بعد پولیس نے انہیں مفرور قرار دے دیا۔ پولیس ان کی ٹوہ میں لگ گئی۔ ان کی گرفتاری کے لیے بیس ہزار روپیہ کے انعام کا اعلان کیا گیا۔ کئی سال تک روپوش رہے۔ 8 ستمبر 1928ء کو دہلی میں انقلابی پارٹی کے ایک اجلاس میں شریک ہوئے۔ ان کو ہندوستان کی سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن کے ملٹری ڈویژن کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ لالہ لاجپت رائے کی موت کا انتقام لینے کی غرض سے انہوں نے لاہور میں مشہور انقلابی بھگت سنگھ اور شیو رام راج گرو کے تعاون سے برطانوی پولیس سپریٹنڈنٹ جے اے اسکاٹ کو قتل کرنے کی سازش منظم کی۔ اسکاٹ بچ گیا، لیکن اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ پولیس جے پی سانڈر ہلاک ہو گیا۔ انہوں نے 18 اپریل 1929ء کو دہلی مرکزی قانون ساز اسمبلی میں بم اور اشتہار پھینکنے کا منصوبہ بنایا۔ تقریباً دو سال وہ پولیس کی گرفتاری سے بچنے میں کامیاب رہے۔ ایک ساتھی کی غداری کی وجہ سے 27 فروری 1931ء کو الہٰ آباد کے الفریڈ پارک میں پولیس نے انہیں گھیر لیا۔ انہوں نے دونوں ہاتھوں میں پستول لیے ہوئے ایک بڑی پولیس پارٹی کا تن تنہا ڈٹ کر مقابلہ کیا، پولیس کے کئی سپاہیوں اور برطانوی پولیس سپریٹنڈنٹ ناٹ پادر اور ہندوستانی پولیس آفیسر بشیشور سنھ کو ہلاک کر دیا۔ پولیس مقابلے میں ایک بازو اور پاؤں گولیوں سے چھلنی ہو جانے کے بعد وہ شہید ہو گئے۔[3][4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Chandrasekhar-Azad — بنام: Chandrasekhar Azad — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. شہیدانِ آزادی (جلد اول)، چیف ایڈیٹر: ڈاکٹر پی این چوپڑہ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، 1998ء، ص 21
  3. شہیدانِ آزادی (جلد اول)، ص 22
  4. چندر شیکھر آزاد، دائرۃالمعارف برطانیکا آن لائن