چندی گڑھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
چندی گڑھ
Chandigarh
شہر اور متحدہ عملداری
Gandhi Bhawan at Punjab University.jpg Rock Garden, Chandigarh-statues.jpg
Open Hand monument, Chandigarh.jpg Chandigarh hockey stadium.JPG
چندی گڑھ
عرفیت: خوبصورت شہر[کس کے مطابق؟]
بھارت میں چندی گڑھ کا مقام
بھارت میں چندی گڑھ کا مقام
متناسقات: 30°45′N 76°47′E / 30.75°N 76.78°E / 30.75; 76.78متناسقات: 30°45′N 76°47′E / 30.75°N 76.78°E / 30.75; 76.78
ملک  بھارت
قیام
متحدہ عملداری††
1 نومبر 1966
حکومت
 • قسم متحدہ عملداری بلدیہ
 • ایڈمنسٹریٹر VP Singh Badnore
 • ناظم شہر Asha Kumari Jaswal[2]
 • سینئر ڈپٹی میئر Rajesh Kumar Gupta[2]
 • نائب مئیر Anil Dubey[2]
رقبہ
 • شہر اور متحدہ عملداری 114 کلو میٹر2 (44 مربع میل)
رقبہ درجہ چونتیسواں
بلندی 350 میل (1,150 فٹ)
آبادی (2011)
 • شہر اور متحدہ عملداری 960,787[1]
 • درجہ انتیسواں
 • کثافت 8,428/کلو میٹر2 (21,830/مربع میل)
 • میٹرو 1,054,686[3]
زبان
 • دفتری انگریزی زبان
 • اضافی عہدیدار کوئی نہیں
زبانیں[4]
منطقۂ وقت بھارتی معیاری وقت (UTC+5:30)
ڈاک اشاریہ رمز 160XXX
ٹیلی فون کوڈ +91-172-XXX-XXXX
آیزو 3166 رمز آیزو 3166-2:IN
گاڑی رجسٹریشن CH-01 to CH-04
خواندگی 86.05%
ویب سائٹ chandigarh.nic.in

The city of Chandigarh comprises all of the union territory's area.
††under Section 4 of the Punjab Reorganisation Act, 1966۔

علامات - چندی گڑھ
نشان Open Hand Emblem
جانور ہندوستانی خاکستری نیولا[5]
پرندہ Indian grey hornbill
پھول Dhak
درخت آم
Chandigarh in India (disputed hatched).svg

چندی گڑھ بھارت کے صوبے پنجاب کا ایک شہر ہے۔ یہ شہر شمالی ہندوستان کی دو ریاستوں پنجاب اور ہریانہ کے دارالحکومت کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ چندی گڑھ کا مطلب ہے "چندی کا قلعہ"۔ چندی گڑھ کا نام ایک قدیم چندی مندر سے جوڑا جاتا ہے۔ چندی گڑھ کا مطلب "خوبصورت شہر" بھی لیا جاتا ہے۔2001ء کی مردم شماری کے مطابق چندی گڑھ میں شامل موہالی، پنچکلا اور زرقپور سیمت اس کی آبادی 1,165,111 ہے۔ شہر میں ہریانہ، انبالہ، پنچکلا، موہالی، پٹیالہ اور روپڑ کے اضلاع شامل ہیں۔ یہ شہر ہندوستان کا پہلا منصوبہ بند طریقہ سے آبادکردہ شہر ہے۔ چندی گڑھ نہ صرف ایک شہر، دارالحکومت ہے بلکہ اسے ہندوستان کی Union Territory کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ اس اعتبار سے یہ شہر براہ راست ہندوستان کی مرکزی حکومت کے زیر انتظام آتا ہے۔

اشتقاقیات[ترمیم]

چندی گڑھ کا نام مقامی دیوی چنڈی کے نام اور اس کے مندر پر پڑا تھا۔ یہ دیوی پاروتی کا جنگجو اوتار ہے۔ چنڈی دیوی شوالیک پہاڑیوں کی مقامی دیوی تھی اور اس کی قوت مانی جاتی تھی۔ شوالیک پہاڑیاں ہمالیہ کی جنوب ترین پہاڑیاں ہیں۔[6] مشرقی پنجاب میں اس شہر کا نام چنڈی گڑھ بلایا جاتاـ

تاریخ[ترمیم]

1947 میں برصغیر کی تقسیم میں جب بھارت اور پاکستان معرض وجود میں آئے تو پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ چنانچہ لاہور پاکستانی پنجاب کا دارالحکومت بننے کے بعد ہندوستانی پنجاب کو ایک نئے دارالحکومت کی ضرورت تھی۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے ایک نیا شہر بنایا گیا۔ جواہر لال نہرو کے نئے شہر کمیشن، اور یہ لے کوربوزیہ کی طرف سے بنایا گیا تھا

تصویروں میں چندی گڑھ[ترمیم]

موسم[ترمیم]

آب ہوا معلومات برائے چندی گڑھ
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
اوسط بلند °س (°ف) 20.4
(68.7)
23.1
(73.6)
28.5
(83.3)
34.5
(94.1)
38.3
(100.9)
38.6
(101.5)
34.0
(93.2)
32.8
(91)
33.1
(91.6)
31.8
(89.2)
27.3
(81.1)
22.1
(71.8)
30.38
(86.67)
اوسط کم °س (°ف) 6.1
(43)
8.3
(46.9)
13.4
(56.1)
18.9
(66)
23.2
(73.8)
25.4
(77.7)
24.0
(75.2)
23.3
(73.9)
21.8
(71.2)
17.0
(62.6)
10.5
(50.9)
6.7
(44.1)
16.55
(61.78)
اوسط بارش مم (انچ) 46.6
(1.835)
33.9
(1.335)
29.3
(1.154)
11.3
(0.445)
24.2
(0.953)
112.6
(4.433)
276.3
(10.878)
282.8
(11.134)
179.0
(7.047)
41.6
(1.638)
6.7
(0.264)
18.9
(0.744)
1,063.2
(41.86)
اوسط بارش ایام 3.8 3.9 2.6 2.4 2.5 7.1 12.9 13.3 6.1 1.9 1.3 1.9 59.7
ماخذ: عالمی ماحولیاتی ادارہ[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "http://www.censusindia.gov.in/2011-prov-results/paper2/prov_results_paper2_indiavol2.html". Office of the Registrar General & Census Commissioner, India. اخذ کردہ بتاریخ 26 مارچ 2012. [مردہ ربط]
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 "BJP’s Asha is city Mayor". The Tribune (Chandigarh). Tribune News Service. 12 جنوری 2017. Archived from the original on 25 جنوری 2017. http://archive.is/YYYFv۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 جنوری 2017. 
  3. "Provisional Population Totals, Census of India 2011; Urban Agglomerations/Cities having population 1 lakh and above". Office of the Registrar General & Census Commissioner, India. اخذ کردہ بتاریخ 26 مارچ 2012. 
  4. "Report of the Commissioner for linguistic minorities: 50th report (جولائی 2012 to جون 2013)" (PDF). Commissioner for Linguistic Minorities, Ministry of Minority Affairs, Government of India. اخذ کردہ بتاریخ 2 جنوری 2017. 
  5. Service، Tribune News (12 اکتوبر 2015). "Corbusier’s creation". http://www.tribuneindia.com/news/trends/corbusier-s-creation/142344.html. اخذ کردہ بتاریخ 13 اکتوبر 2015. 
  6. "CII". cii.in. اخذ کردہ بتاریخ 11 جولائی 2017ء. 
  7. World Weather Information Service-Chandigarh، عالمی ماحولیاتی ادارہ، Retrieved 29 ستمبر 2012.