چوکیدار چور ہے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

چوکیدار چور ہے (انگریزی: Chowkidar Chor Hai) ایک سیاسی نعرہ تھا، جسے بھارت کی اہم سیاسی جماعت کانگریس نے سیاسی مہم کے طور پر 2019ء کے عام انتخابات سے قبل تقریباَ ڈیڑھ برس سے جاری رکھا تھا۔بھارت کا سپریم کورٹ بھی ان کی اس مہم کو نہیں روکا یا دوسرے لفظوں میں روکنے سے انکار کیا کانگریس کے قائد راہل گاندھی نے سپریم کورٹ کو وضاحت دی تھی وہ کسی معاملے پر اپنا موقف تبدیل نہیں کررہے ہیں۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بی جے پی اس کا سیاسی استعمال کررہی ہے ۔ وہ جان بوجھ کر انتخابی فائدہ کے لئے اس معاملے کا استعمال کررہی ہے جب کہ یہ ایک محض سیاسی مہم ہے۔[1]


سماجی میڈیا[ترمیم]

بھارتی عوام کو ’’ اچھے دن ‘‘ کا خواب دکھانے والے لیڈر نے آیا ملکی سیاست کواب’ چوکیدار‘۔ ‘چور ‘تک ہی محیط کررکھا ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے لئے شروع کردہ انتخابی مہم میں اب یہ دو لفظ ’ چوکیدار ‘ اور ’ چور ‘ کی گونج سنائی دی تھی۔ کچھ مبصرین نے اسےافسوسناک بات کہی ہے کہ قومی سطح کی اعلیٰ سیاسی ذمہ داری ادا کرنے کی دوڑ میں شامل قائدین ایک دوسرے کے خلاف سوشیل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ایک طرف ’’ میں بھی چوکیدار ‘‘ ہیش ٹیاگکے ساتھ مہم شروع کی گئی ہے تو دوسری طرف ’’ چوکیدار چور ہے ‘‘ کے نعرہ کے ذریعہ عوام کو رجھا رہے تھے۔ ٹویٹر پر سب سے زیادہ لائیک کیا جانے والا حکمراں پارٹی بی جے پی کا نعرہ بھی ابھر سامنے آیا کہ ’’ میں بھی چوکیدار ‘‘ ، جبکہ صدر کانگریس راہل گاندھی کا مقبول عام نعرہ’ چوکیدار چور ہے‘‘ کو بھی ڈیجیٹل دنیا میں زبردست جگہ مل رہی تھی۔ عوام کو درپیش مسائل اور ملک کے حالات کو مدنظر رکھ کر چلائی جانے والی انتخابی مہم میں اب نیا رجحان پیدا دیکھا گیا۔ ایک دوسرے کے خلاف اُنگلیاں اُٹھانا سیاسی پارٹیوں کا روایتی طریقہ ہوا کرتا تھا لیکن نعرہ بازی کا گھٹیا چلن عام کردیا گیا[2]۔

پاکستان پر اثر[ترمیم]

پاکستان میں عمران خان ان کی حکومت کے ارکان مقننہ کی خرید فروخت کے ذریعے گرائے جانے خلاف کے حامی پاکستانی فوج کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے 2022ء میں 'چوکیدار چور ہے' کے نعرے لگانے لگے تھے۔ صوبہ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پاک فوج کے خلاف 'چوکیدار چور ہے' کے نعرے پر زور انداز میں لگائے۔ [3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]