چھؤ رقص
"چھَؤُ" پیش کرنے والے فنکار | |
| صنف | نیم بھارَتی شاستریہ رقص |
|---|---|
| ابتدا | مغربی بنگال، جھارکھنڈ، اوڑِشہ، بھارَت |
چھَؤُ (Chhau) ایک نیم شاستریہ بھارَتی رقص ہے جس میں رزمی اور لوک روایات شامل ہیں۔[1]یہ رقص تین اندازوں میں پایا جاتا ہے، جن کے نام اُن مقامات پر رکھے گئے ہیں جہاں یہ پیش کیے جاتے ہیں؛ یعنی مغربی بنگال کا پورولیا چھَؤُ، جھارکھنڈ کا سرائے قِلعہ چھَؤُ اور اوڑِشہ کا مئیُؤربھَنج چھَؤُ۔
یہ رقص لوک رقص کے تہوارانہ موضوعات کے تحت پیش کیے جانے والے رزمی فنون، کرتب بازی اور اتھلیٹِک مظاہروں کی جشن منانے والی صورتوں سے لے کر ایک باقاعدہ ترتیب یافتہ رقص تک پھیلا ہوا ہے، جس میں مذہبی موضوعات شامل ہوتے ہیں جو شَئیوَہ مت، شکتی مت اور وَئیشنوَہ مت میں ملتے ہیں۔ مختلف اندازوں میں پوشاکیں بدلتی رہتی ہیں اور پورولیا اور سرائے قِلعہ میں کردار کی شناخت کے لیے نقاب استعمال کیے جاتے ہیں۔ چھَؤُ رقّاصوں کے ذریعے پیش کی جانے والی کہانیاں، ہندو مہاکاویوں جیسے، رامائیَنہ اور مہابھارَتہ، پورانوں اور دیگر بھارَتی اداب سے ماخوذ ہیں۔[2][3]
یہ رقص روایتی طور پر صرف مردوں پر مشتمل گروہ کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے، علاقائی طور پر خاص طور پر ہر سال بہار کے موسم میں منایا جاتا ہے اور یہ ایک ہم آہنگی پسند رقص کی شکل ہو سکتی ہے جو شاستریہ ہندو رقص اور قدیم علاقائی قبائلی روایات کے امتزاج سے اُبھری۔[3]یہ رقص مختلف سماجی و اقتصادی پس منظر رکھنے والے افراد کو تہوارانہ اور مذہبی جوش و خروش کے ساتھ یکجا کرتا ہے۔[3]

- ↑ Williams 2004، صفحہ 83-84, is a semi-classical Indian dance with martial, tribal and folk origins. The other major classical Indian dances are: Bharatanatyam, Kathak, Kuchipudi, Kathakali, Odissi, Manipuri, Satriya, Yaksagana and Bhagavata Mela
- ↑
- ^ ا ب پ Claus 2003، صفحہ 109-110