چھاپ تلک سب چھینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
"چھاپ تلک سب چھینی"
امیر خسرو  کا سنگل
صنفقوالی
مصنفینامیر خسرو

چھاپ تلک سب چھینی 14وی صدی کے صوفی سنت امیر خسرو کی ایک غزل ہے جو برج بھاشا میں لکھی گئی تھی۔ اکثر قوالی کی طرح گایا جاتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مشہور گایکوں نے یہ گانا گایا جیسے نصرت فتح علی خان، صابری بردرز[1] ، عابدہ پروین[2] اور استاد راحت فتح علی خان۔

تاریخ[ترمیم]

تصوف میں، بہت لوگ اللہ کے پیار کی جگہ میں لڑکیوں کے پیار اور شرابوں[3][4] کے بارے میں لکھتے تھے۔ یہ گانا ویسا ہے: زیادہ تر گانا ایک لڑکی کے پیار کے بارے میں ہے (موہے سہاگن کینی رے/موسے نیناں ملائیکے) اور شراب کے بارے میں بھی بولتا (پریم بھٹی کا مدھوا پلائیکے) مگر گانے کا اصلی مطلب اللہ کا پیار ہے (خسرو نظام کے بل بل جائے)۔

لفظ[ترمیم]

چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نیناں ملائیکے بات اگم کہہ دینی رے موسے نیناں ملائیکے پریم بھٹی کا مدھوا پلائیکے متوالی کر لينی رے موسے نیناں ملائیکے

گوری گوری بياں، ہری ہری چوڑیاں بياں پکڑ ہر لينی رے موسے نیناں ملائیکے بل بل جاؤں میں تورے رنگ رجوا آپ کی سی رنگ دينھی رے موسے نیناں ملائیکے

خسرو نظام کے بل بل جائے موہے سہاگن کر دینی رے موسے نیناں ملائیکے چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نیناں ملائیکے بات عجب کہہ دینی رے موسے نیناں ملائیکے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "چھاپ تلک (صابری بردرز)". YouTube (بزبان برج بھاشا). 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  2. "چھاپ تلک (راحت فتح علی خان اور عابدہ پروین)". YouTube (بزبان برج بھاشا). 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  3. "Love and the Metaphors of Wine and Drunkenness in Persian Sufi Poetry" (بزبان انگریزی). 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  4. "What was Rumi talking about?". Al Jazeera (بزبان انگریزی). 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ.