چھینک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چھینکنے سے متعلق ایک کارٹون
ایک چھینکنے والے زیبرا کی تصویر، جس سے اس مرض سے جانوروں کے متاثر ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے چھینکنے اور کھانسنے میں احتیاطی تدابیر و ہدایات

سائنسی تحقیق کے مطابق چھینک (انگریزی: Sneeze) ناک کے اندر موجود بیکٹیریا اور وائرس باہر نکال دیتی ہے اور انسانی جسم جراثیم سے پاک ہو جاتا ہے۔چھینک کے ساتھ ہی لوگ آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے سینے سے بھی فاسد مادہ منہ اور ناک کے راستے پورے زور کے ساتھ جسم سے باہر خارج ہوتی ہے۔ اس دوران انسانی سانس چند لمحوں کیلئے رک جاتی ہے۔[1]

جہاں تک چھینکنے کے دوران پلکیں جھپکنے کا سوال ہے، اس کے لیے سائنس دان ایک عصب کو ہی ذمیدار بتاتے ہیں۔ یہ عصب، جسے انگریزی میں ٹرائجیمنل نرو کہتے ہیں، نظام تنفس کا وہ حصہ ہوتی ہے جو چہرے، آنکھ، ناک، منھ اور جبڑے پر گرفت رکھتی ہے۔ دراصل چھینکنے کے دوران گرفت ہٹانے کا دماغی پیام کی وجہ سے یہ عصب آنکھوں تک بھی پہنچا دیتی ہے اور اس کے رد عمل میں ہی انسانی پلکیں جھپک جاتی ہیں۔ یعنی کہ چھینکنے کے وقت پلکوں کے جھپکنے کا کوئی خاص مطلب ہے نہیں۔ اس لئے ضرورت پڑنے پر اس سے جڑے اوہام کو چھوڑتے ہوئے لوگوں کو جب بھی بھی چھینکنے کے لیے چھیکنا ہو، بس رومال تھام کر چھینکنا چاہیے۔[2] بے لگام چھینکنے سے جراثیم کے ہر جگہ پہنچنے سے بیماریاں اور وبائیں تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]