چھ نکات کی تحریک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

چھ نکات کی تحریک جو پاکستانی ابلاغ میں شیخ مجبیب کے چھ نکات سے معروف ہے مشرقی پاکستان میں ایک بنگالی رہنما شیخ مجیب الرحمان کی سیاسی تحریک تھی۔ یہ چھ نکاتی ایجنڈے پر مشتمل مطالبات تھے جنکا مقصد بظاہر مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان کے استحصال سے بچانا تھا۔ 1966 میں کئی بنگالی جماعتوں کا اتحاد ہوا اور اسی نکات پر مزید خودمکتاری مانگی گئی۔ اس چھ نکات کو بنگلہ دیش کی آذادی کی ابتدا قرار دیا جاتا ہے۔

چھ نکات[ترمیم]

مجیب کے مشہور زمانہ چھ نکات جن کی بنیاد پر اس نے الیکشن لڑا تھا

  • 1۔قرارداد لاہور کے مطابق آئین کو حقیقی معنوں میں ایک فیڈریشن کی ضمانت دیتے ہوئے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منتخب مقننہ کی بالا دستی اور پارلیمانی طرز حکومت پر مبنی ہونا چاہیے۔
  • 2۔وفاقی حکومت صرف دو محکمے یعنی دفاع اور امور خارجہ اپنے پاس رکھے گی، جب کہ دیگر محکمے وفاق کی تشکیل کرنے والی وحدتوں میں تقسیم کر دیے جائیں گے۔
    • (الف) ملک کے دونوں بازوئوں میں دو علاحدہ مگر باہمی طور پر تبدیل ہو جانے والی کرنسی متعارف کرائی جائے… یا
    • (ب) پورے ملک کے لیے ایک ہی کرنسی رائج کی جائے، تا ہم اس کے لیے موثر آئینی دفعات کی تشکیل ضروری ہے تا کہ مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان کو رقو مات کی ترسیل روکی جا سکے۔ مشرقی پاکستان کے لیے علاحدہ بینکنگ ریز روز قائم اور الگ مالیاتی پالیسی اختیار کی جائے۔
  • 4۔محاصل اور ٹیکسوں کی وصولی کے اختیار کو وفاق کی وحدتوں کے پاس رکھا جا ئے۔ مرکز کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہونا چاہیے تا ہم فیڈریشن وفاقی وحدتوں کے ٹیکسوں میں حصے دار ہو گی تا کہ وہ اپنی ضروریات پور ی کر سکے۔ ایسے وفاقی فنڈز پورے ملک سے جمع ہونے والے ٹیکسوں کے طے شدہ فیصد تناسب پر مشتمل ہوں گے۔
    • (الف) دونوں بازوئوں میں زرمبادلہ کی آمدنی کے لیے دو علاحدہ اکائونٹس ہونے چاہیں اور
    • (ب) مشرقی پاکستان کی آمدنی کومشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی آمدنی کو مغربی پاکستان کے کنٹرول میں ہونا چاہیے۔
    • (ج) مرکز کی زر مبادلہ کی ضروریات، دونوں بازوئوں کو مساوی طور پر یا کسی طے شدہ تناسب کے مطابق پوری کرنا ہوں گی۔
    • (د)ملکی مصنوعات کی دونوں بازوئوں کے درمیان میں آزادانہ نقل و حمل پر کوئی ڈیوٹی عائد نہیں کی جائے گی۔
    • (ہ)آئین کی رو سے وفاقی وحدتوں کو یہ اختیارات حاصل ہوں گے کہ وہ غیر ممالک میںتجارتی مشن کے قیام کے ساتھ تجارتی معاہدے نیز تجارتی تعلقات قائم کرسکیں۔
  • 6۔مشرقی پاکستان کے لیے ملیشیا یا ملٹری فورس کا قیام۔