چینائی ایکسپریس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چنائی ایکسپرس
Chennai Express.jpg
ہدایت کار روہت شیٹھی
تحریر ساجد فرہاد (مکالمے)، کے- سباش( تامل مکالمے)
منظر نویس یونس سجا ول
روبن بھٹ
ستارے شاہ رخ خان
دیپیکا پڈوکون
پروڈکشن
کمپنی
ریڈ چلیز انٹرٹینمنٹ
تاریخ اشاعت
8 اگست 2013
دورانیہ
141 دقیقہ
ملک انڈیا
زبان ہندی

چنائی ایکسپریس بالی وڈ کی 2013ء میں بننے والی فلم ہے جو ابتک کی بھارتی فلموں میں سب سے زیادہ کامیاب فلم ہے۔ یہ فلم آٹھ اگست 2013 کو جاری ہوئی- شاہ رخ خان اور دیپیکا پڈوکون کا اس فلم میں اہم کردار ہے-

کہانی[ترمیم]

راہول مٹھائی والا (شاہ رخ خان) ایک چالیس سالہ کنوارا تھا جو بمبئی میں رہتا تھا-اس کے والدین اس کے بچپن میں ہی ایک ایکسِڈنٹ میں مر چکے تھے- اس وقت وہ محض آٹھ سال کا تھا - والدین کے انتقال کے بعد سے اس کے دادا ،دادی نے ہی اسے پالا تھا - دادا کی ایک سو ویں سالگرہ سے پہلے راہول کے دو دوست اسے دعوت دیتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ گو -آ (علا قہ کا نام) چلے-راہول ان کی دعوت قبول کر لیتا ہے-اسی دوران اس کے دادا کا انتقال ہو جاتا ہے- انتقال کے بعد راہول کی دادی اسے بتاتی ہیں کہ اس کے دا دا کی خو ہش تھی کہ ان کی استھیاں ( ہندی لفظ بمعنی مردے کی راکھ) آدھی دریائےگنگا اور آدھی رمیش وارم میں بہادی جا ئیں - پھر دادی اسے کہتی ہیں کہ گنگا میں تو وہ خود بہا دیں گی مگر رمیش وارم میں تم بہا دینا- راہول دادی سے راکھ لے لیتا ہے اور دوستوں کے پاس جاتا ہے تو اس کے دوست اسے کہتے ہیں کہ وہ اس راکھ کے لیے ان کے ساتھ کا پہلے سے طے شدہ پروگرام منسوخ مت کرے - آخر طے یہ پاتا ہے کہ یہ راکھ وہ گو - آ میں ہی کہیں دفن کر دیں گے- مگر عین وقت پر راہول کی دادی اسے چھوڑنے کے لیے اسٹیشن آجا تی ہیں - مجبورا راہول دادی کو مطمئن کرنے کے لیے چنائی ایکسپریس کا ٹکٹ خرید لیتا ہے اور دوستوں کو فون پر کہہ دیتا ہے کہ وہ اگلے اسٹیشن پر اتر کر ان کے ساتھ آن ملے گا-اسٹیشن پر اترتے وقت راہول اپنے دادا کی استھیاں لینا بھول جاتا ہے-سو وہ دوبارہ ٹرین پر چڑھ کر استھیاں لے لیتا ہے-جب وہ اترنے لگتا ہے تو دیکھتا ہے کہ ایک نوجوان لڑکی بھا گتے ہوئے اس آہستہ آہستہ چلتی ٹرین پرچڑھنا چاہ رہی ہے- راہول اسے ہاتھ دے کر ٹرین پر چڑھالیتا ہے اور اس کے پیچھے آتے ہوئے چار اور بندوں کو بھی ٹرین پر چڑھا لیتا ہے-اس وقت تک ٹرین اتنی تیز ہو چکی ہوتی ہے کہ راہول کا اترنا ناممکن ہو چکا ہوتاہے-
اب راہول ٹرین میں اس لڑکی سے فلرٹ کرنے لگتا ہے-لڑکی کو ہندی صحیح سے نہیں آتی ہوتی-وہ دونوں ہندی فلمی گانوں کے ذریعے باتیں کرتے ہیں- لڑکی اسے بتا تی ہے کہ اس کے بعد آنے والے جن چار بندوں کو راہول نے چڑھا یا تھا وہ اسے(لڑکی کو )اغوا کرنے کی کو شش میں ہیں -راہول یہ سب سن کر ان غنڈوں سے نظر بچا کر اس لڑکی کو اپنا موبائل دیتا ہے مگر غنڈے اس موبائل کو ٹرین سے باہر پھینک دیتے ہیں- پھر راہول ٹکٹ چیکر کو یہ سب بتاتا ہے مگر غنڈے اسے بھی ٹرین سے نیچے ایک دریا میں پھینک دیتے ہیں- مجبورا راہول چپ چاپ اپنی سیٹ پر بیٹھ جا تا ہے - پھرلڑکی اسے بتاتی ہے کہ یہ غنڈے دراصل اس کے رشتہ دار ہی ہیں اور اسے واپس گھر لے کر جا رہے ہیں- اس کا باپ ایک طاقتور تامل سردار ہے اور لڑکی کی مرضی کے خلاف اپنے ایک رشتہ دار تنگا بیلی سے اس کی شادی کرانا چاہ رہا ہوتا ہے-سو لڑکی گھر سے بھاگ جاتی ہے - باتوں باتوں میں راہول کو یہ بھی پتا چل جاتا ہے کہ اس لڑکی کا نام مینا لوچنی (دیپیکا پڈوکون) ہے -
مینا راہول کواپنے علاقے میں لے جا تی ہے اور اپنے باپ سے اس کا تعارف ایک اپنے ایک لوور( محبت کرنے والا) کے طور سے کراتی ہے- اس تعارف کی خبر پورے گاؤں کو ہو جاتی ہے اور اڑتے اڑتے یہ خبر تنگا بیلی تک بھی پہنچ جاتی ہے جو طیش میں آ کر راہول کو مقابلے کا چیلنج دے دیتا ہے- تنگا بیلی کے ڈیل ڈول سے خوفزدہ راہول عین مقابلے کے وقت وہاں سے فرار ہو کر پولیس اسٹیشن چلا جاتا ہے-

پولیس اسٹیشن میں تھا نیدار اسے دھوکے سے اسمگلرز کی کشتی میں سوار کرا دیتا ہے اور جب راہول کو اس حقیقت کا علم ہوتا ہے تو اسی وقت پولیس چھا پہ مار دیتی ہے اور راہول کو بھی اسمگلر ہی سمجھا جاتا ہے- مجبورا راہول انہیں اپنی ساری رام لیلا سنا تا ہے - پولیس تصدیق کے لیے راہول کو مینا کے باپ کے پاس لے کر جاتی ہے جہاں وہ کہتا ہے کہ وہ اسے جانتا ہے اور پولیس اسے وہیں چھوڑ کر چلی جاتی ہے-اب راہول اور مینا یہاں سے دوبارہ بھاگتے ہیں اور ایک گاؤں میں پناہ لیتے ہیں مگر کچھ عرصے بعد تنگا بیلی اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہاں بھی پہنچ جاتا ہے - گاؤں والے ان کی خاطر تنگا بیلی کے ساتھیوں سے لڑنے لگ جاتے ہیں اور یہ دونوں یہاں سے بھی بھاگ جاتے ہیں - قصہ مختصر راہول سوچتا ہے کہ اسے اپنے دادا کی استھیاں ضرور رمیش وارم میں بہا دینی چاہیئں - پھر راہول مینا کے ساتھ رمیش وارم جاکر اپنے داداکی استھیاں بہا دیتا ہے - واپسی پر راہول خود مینا کے گاؤں چلاجاتا ہے-مینا اسے روکتی بھی ہے مگر راہول اس کی بات نہیں مانتا اور مینا کو ساتھ لے کر اس کے گا ؤں آجاتا ہے-یہاں راہول پہلے تنگا بیلی کے غنڈؤں سے لڑتا ہے اور آخر میں تنگابیلی سے ایک روایتی فلمی لڑائی لڑتا ہے جس میں شروع میں تو راہول پٹتا ہے مگرآخر میں اپنے زخموں سے چور چور بدن کے ساتھ تنگا بیلی پر حملہ کرتا ہے اور اسے گرا کر قریب پڑی فصل کاٹنے والی درانتی اس کی گردن پر رکھ دیتا ہے - تھوڑی دیر اسی حالت میں رہنے کے بعد راہول تنگا بیلی کو چھوڑ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اب کوئی مزید لڑائی جھگڑا نہیں ہوگا-
اب تنگا بیلی بھی اٹھ کر راہول کے حوصلے اور ہمت کی داد دیتا ہے اور مینا کا باپ بھی مینا کی شادی راہول سے کرنے کا اعلان کر دیتا ہے-

گانے[ترمیم]

نمبر شمار ٹائیٹل گلو کار دورانیہ!
1 1،2،3،4 گیٹ آن دا ڈانس فلور
2
3
4
5
6
7
8
9 لنگی ڈانس یو یو ہنی سنگھ