چینیاں والی مسجد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یہ زمانہ قدیم کی عمارتوں کی یادگار ہے اور اندرون شہر کے محلہ چابک سواراں میں واقع ہے۔اسکی ایک دیوار حویلی سعد اللہ خان المشہور میاں خاں کے ساتھ لگتی ہے۔مغلوں کے ٓاخری دور میں اس مسجد کے قریب ہی نواب شاہ نواز خاں پسر نواب زکریا خاں نے اپنا فیل خانہ اور ٓادینہ بیگ نے اپنی حویلی بنوائی تھی مگر اب انکا کوئی نشان باقی نہیں۔ مسجد نہایت وسیع صحندار ہے تینوں محرابیں اسکی مسجد وزیر خان کی محرابوں کی طرحکانسی کار منقش ہیں۔مسجد میں نقش و نگار نہیات خوش رنگ ھیں ۔زمین بسنتی اور حروف لاجوردی ہیں۔ دور سنگھ میں اسے بہت نقصان پہنچایا گیا۔

اس مسجد کے بانی کا نام سرفراز خان تھا جسے افراز خان بھی کہتے ہیں۔ اس نے اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں اس کی بنیاد رکھی، یہ مسجد اہل حدیث فرقہ کے قبضے میں ہے، اور ٓاباد ہے۔اس کے ساتھ لڑکیوں کا مدرسہ قائم کیا گیا ہے جس کا نام مدرسہ بنات المسلمین ہے۔ 1747ء میں جب احمد شاہ ابدالی نے پنجاب پر حملہ کیا تو مولانا شہریار اس مسجد کے امام تھے، مولوی عبداللہ الغزنوی بھی کچھ عرصہ یہاں رہے تھے۔ انکے بعد انکے فرزند مولوی عبدالواحد غزنوی بھی جید وعالم اور صالح بزرگ تھے۔ وہ ساری عمر اس مسجد کے امام رھے تھے۔ 1931ء کے بعد سے آپ کے پوتے مولوی داؤد غزنوی المولوی عبدالجبار اس مسجد میں خدمت انجام دیتے رہے۔

حوالہ جات[ترمیم]