چینی کانا پھوسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چینی کانا پھوسی
اصناف بچوں کا کھیل
کھلاڑیوں کی تعداد تین یا اس سے زیادہ شرکاء
وقت درکار برائے ترتیب کچھ نہیں
دورانیہ کھیل صارفین کی جانب سے طے کیا جاتا ہے
موقع تصادف اوسط
مہارت درکار گفتگو، سماعت

چینی کانا پھوسی (انگریزی: Chinese whispers) ایک ایسا کھیل ہے جس میں بچوں کی ذہانت، ان کی سمجھ اور ان میں گفت و شنید کی صلاحیتوں کا جانچا جاتا ہے اور نیز انہیں ان میں بہتری اور سدھار کے مواقع تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس کھیل میں کم از کم تین یا اس سے زائد شرکاء ہوتے ہیں۔ یہ ایک منظم بچوں کا کھیل ہے۔ کھیل کی شروعاتی تیار میں کچھ بھی در کار نہیں ہوتا اور نہ کھیل کے لیے کچھ خاص آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھیل کے مثبت انجام پانے یا کچھ فرق نمایاں ہونے کے امکانات مساوی مساوی ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ زیادہ فرق گفتگو اور سماعت میں زیادہ کھلاڑیوں کی موجودگی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کم کھلاڑیوں کی موجودگی میں ممکن ہے کہ کھیل بعینہ مطلوبہ نتیجے کے اوپر ہی ختم ہو۔ اس کھیل میں بچوں کی گفتگو، سماعت اور پیامات کی اخاذی کا عملًا امتحان لیا جاتا ہے۔

کھیل کی منظر کشی[ترمیم]

اس کھیل میں اولًا ایک بچہ کسی دوسرے شخص کے کان میں دھیرے کوئی پیام دیتا ہے۔ پیام وصول کنندے کو اپنے آگے والے کو وہی پیام بعینہ و بنا کم و کاست کان میں پہنچانا ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ آخری بچے تک جاری رہتا ہے۔ سب سے آخر بچے کو وصول کردہ پیام بہ آواز بلند کہنا ہوتا ہے۔ مثلًا پہلے بچے کو یہ پیام ملتا ہے:

دو بلیاں چار چوہوں کے پیچھے دوڑ رہی تھیں۔ پھر ان دونوں نے ایک ایک چوہا پکڑ لیا۔

اگر آخری بچہ پیام کو اسی طرح بیان کرے تو پتہ چلے گا کہ پیام ٹھیک سے پہنچایا گیا ہے۔ اگر اس میں کچھ فرق ہو تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ سب بچے یا ان میں سے کچھ نے اپنا بھی دماغ دوڑایا ہے۔ مثلًا ایک مسخ شدہ پیام یوں ہو سکتا ہے:

دو بلیاں اور چار چوہوں کے ایک ساتھ دوڑ رہے تھے۔ پھر دو بلیاں پیچھے رہ جاتی ہیں اور دو چوہے مقابلہ جیت جاتے ہیں۔

اس پیام میں کہیں نہ کہیں بلیوں کے چوہوں کے پکڑنے کے لیے بھاگنے کو سرے سے نظر انداز کرتے ہوئے محض کھیل اور دوڑ کا مقابلہ بنا دیا گیا ہے۔

چاڈ جے تھیئیلے کے مطابق ایک کھیل کا ایک اہم مقصد یہ بتانا ہے کہ صرف منہ زبانی روانہ پیامات ہمیشہ بھروسے کے قابل نہیں ہوتے۔ درحقیقت اگر معلومات ماخذ سے نہ ملے تو اس بات کا کافی قوی امکان ہے کہ پیام صحیح نہ ہو۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]