چین کی چار عظیم ایجادات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

چین میں ایجاداتِ اربعہ (آسان چینی: 四大发明؛ روایتی چینی: 四大發明) سے مراد وہ اشیاء ہیں جن سے دنیا میں انقلابِ عظیم برپا ہوا۔اِن ایجادات کا تعلق قدیم چین سے ہے اور چینی ثقافت میں اِن چار ایجادات کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے اور اِن ایجادات کو چین اور دنیا کی تاریخ میں سائنس اور ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کرنے کی وجہ سے ایجاداتِ عظیمہ کہا جاتا ہے۔[1] چار اِیجادات سے مراد قطب نما ، [2] بارود،[3] کاغذ سازی [4] اور طباعت [5] ہیں۔اِن چار ایجادات نے عالمی تاریخ میں اور تمدنی ترقی میں گہرے اثرات مرتب کیے۔[6]

منگ سلطنت کے دور میں استعمال کیا جانے والا قطب نما

قطب نما[ترمیم]

حجر مقناطیس اور قطب نما کے ابتدائی آثار چین میں ہان خاندان کے عہد میں یعنی دوسری صدی قبل مسیح سے پہلی صدی کے وسطی زمانے میں ملتے ہیں۔ ہان خاندان کے عہدِ حکومت میں استعمال ہونے والے قطب نما قطب جنوبی کی سمت کا تعین کرتا تھا اور اِسے چینی زبان میں سِینان (sīnán 司南) کہتے تھے۔ اِس سے سمت کا تعین نہیں بلکہ علم رمل اور فال نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ چین میں قطب نما کو بطور مقناطیسی سمت کے تعین کے لیے استعمال کرنے کا ابتدائی ثبوت سونگ خاندان کے عہد میں یعنی 1040ء سے 1044ء کے درمیانی عرصے میں ملتا ہے۔ 1088ء میں سونگ خاندان کے دور میں موجود چینی سائنسدان شین کو نے قطب نما میں مقناطیسی سوئیوں کے استعمال کو ترویج دی اور اِس سے درست سمت کے تعین میں پیچیدہ مسائل کو حل کیا۔ چین میں قدرتی قطب نما بھی تیار کیے جاتے رہے ہیں جن کی مثال یہ ہے کہ چینی ماہرین ارضیات و علم نجوم پانی کو ایک بڑے برتن میں بھر کر اور اُس میں مقناطیسی سوئی رکھ دیتے تھے۔ یہ سوئی شمال یا جنوب کے سمت کا تعین کرتی تھی کہ جس سے وہ سمتوں کے تعین کو آسانی سے حل کرلیتے تھے۔ سونگ خاندان اور یوآن خاندان کے اَدوار میں پانی کے قطب نماؤں کے مقابلے میں خشک قطب نما بھی تیار کیے جاتے رہے لیکن یہ خشک قطب نما جن میں ہوا بھی موجود نہ ہوتی تھی، چین میں بڑے پیمانے پر مقبول نہ ہوسکے اور پانی کے قطب نما اپنی افادیت و اہمیت کے سبب رائج رہے۔ چین کے اِن خشک قطب نماؤں کی اہمیت نویں صدی اور دسویں صدی میں مسلمان سائنس دانوں نے استعمال کیے۔

بارود[ترمیم]

نویں صدی میں چینی کیمیا دانوں انسانوں کے لیے اکسیر حیات کی تلاش میں جب سرگرداں تھے تو اِسی کھوج بِین میں بارود دریافت ہوا۔ [7] سونگ خاندان کے عہد میں بارود کے متعلق حقائق ملتے ہیں۔1044ء میں ووجنگ ژونگیاؤ کی کتب میں اِس کا مفصل تذکرہ ملتا ہے۔ اِس بیان کے مطابق چینی کیمیا دان ستائیس سے پچاس فیصد نائٹریٹ کی مدد سے بارود بنانا جانتے تھے۔[8] بارہویں صدی کے اختتام تک چینیوں نے بارودی مواد کے ساتھ خام لوہے کا استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔ اِسی زمانے میں دنیا کا پہلا خود ساختہ دستی بم (ہینڈ گرینڈ) ایجاد ہوا۔[9]

کاغذ سازی[ترمیم]

کاغذ سازی کی ابتدا بھی چین سے ہوئی۔ کاغذ ساز سے متعلق ابتدائی آثار 868ء میں تصنیف کی گئی ڈائمنڈ سوتر ہے جسے طباعت میں اولین کاوش تصور کیا جاتا ہے۔


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "The Four Great Inventions"۔ China.org.cn۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-11-11۔
  2. "Four Great Inventions of Ancient China -- Compass"۔ ChinaCulture.org۔ مورخہ 2007-04-09 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-11-11۔
  3. "Four Great Inventions of Ancient China -- Gunpowder"۔ ChinaCulture.org۔ مورخہ 2007-08-28 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-11-11۔ External link in |publisher= (معاونت)
  4. "Four Great Inventions of Ancient China -- Paper"۔ ChinaCulture.org۔ مورخہ 2007-10-18 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-11-11۔ External link in |publisher= (معاونت)
  5. "Four Great Inventions of Ancient China -- Printing"۔ ChinaCulture.org۔ مورخہ 2007-08-25 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-11-11۔ External link in |publisher= (معاونت)
  6. "Do We Need to Redefine the Top Four Inventions?". Beijing Review (35). 2008-08-26. http://www.bjreview.com.cn/special/txt/2008-08/26/content_146777.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 2008-11-04. 
  7. Buchanan (2006), p. 42
  8. Needham, V 7, pp. 345
  9. Needham, V 7, pp. 347