چیچہ وطنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چیچہ وطنی
Jungle in Punjab.JPG
 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
تقسیم اعلیٰ ساہیوال ضلع  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
متناسقات 30°19′N 72°25′E / 30.32°N 72.42°E / 30.32; 72.42  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 87754 (2017)  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فون کوڈ 040  ویکی ڈیٹا پر (P473) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
جیو رمز 1181163  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

چیچہ وطنی پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک شہر ہے جو ضلع ساہیوال میں لاہور سے 200 کلو میٹر مغرب میں جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔

قومی شاہراہ (N-5) اس شہر کے درمیان سے گزرتی ہے اور اس کو لاہور، اسلام آباد، پشاور، کراچی اور پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں سے ملاتی ہے۔

چیچہ وطنی ریلوے اسٹیشن پاکستان ریلویز کی کراچی تا پشاور مرکزی ریلوے لائن پر چیچہ وطنی کے درمیان میں واقع ہے۔ یہاں تمام ایکسپریس ٹرینیں رکتی ہیں۔

چیچہ وطنی کی تاریخ

پرانا شہر جو انگریز دورسے پہلے آباد تھا اس کا نام پرانی چیچہ وطنی ہے۔ جو جی ٹی روڈ سے تقریباً تین کلومیٹر دور شمال میں ہے۔ موجودہ چیچہ وطنی شہر بعد میں آباد کیا گیا جو بلاکز اور کشادہ سڑکوں پر مشتمل شہر ہے۔ شہر کے تمام دیہات جدید دور کی کالونیوں کی طرز پر نقشے کے تحت بنے ہوئے ہیں۔ انگریز دور میں ان علاقوں کو باقاعدہ نقشوں کی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا۔ انگریز نے اس علاقے میں ہندوستان کے سکھوں اور ہندووں کو لا کر بسایا گیا تھا جسکا ثبوت انکی عبادت گاہوں کی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ چیچہ وطنی شہر کا ایک محلہ جسکو آج بھی گاو شالہ کہا جاتا ہے جو کہ ہندووں کے مقدس جانور گائے کی وجہ سے رکھا گیا تھا۔ انگریز نے کاشتکاری کے لیے بہترین نہری نظام اس علاقہ میں پھیلایا جس کی بدولت اس علاقہ کی زمین پنجاب کی سب سے زرخیز زمین ہے۔

تقسیم ہند تقسيم ہند ۱۹۴۷ میں ہوئی جس کے نتیجہ میں یہ شہر پاکستان کے حصہ میں آ گیا اور ہندووں اور سکھوں کو ہندوستان جانا پڑا ہندو اور سکھوں کے جانے کے بعد انکے مذہبی مقامات مندر اور گرودوارے ویران ہونے کی وجہ سے انکو سکولوں وغیرہ کی شکل دے دی گئی ہے۔ تحصیل اور یونین کونسلیں

اس میں 37 یونین کونسلیں ہیں۔ اس شہر کی سڑکیں کشادہ ہیں -چیچہ وطنی کے مشہور دیہات میں چک نمبر 110 بارہ ایل قابل ذکر ہے۔رائے محمد مرتضی اقبال خان اور راے حسن نواز خان (پی ٹی آیی) کا تعلق بھی اسی گاوں سے ہے۔ 

دیگر چکوک جو شہر کے نزدیک ہیں درج ذیل ہیں ۔ چکنمبر 109 بارہ ایل ،چکنمبر 40 بارہ ایل، چکنمبر 39بارہ ایل، وغیرہ۔

منڈی مویشیاں چیچہ وطنی

نیلی بار کی مشہور گائے اور اعلی نسل کی زیادہ دودھ دینے والی بھینسیں یہاں پائی جاتی ہیں ۔ اس شہر میں ہر ماہ پاکستان کی سب سے بڑی منڈی مویشیاں لگتی ہے۔ دور دور سے لوگ گاے بھینسیں اور دوسرے جانور بیچنے اور خریدنے آتے ہیں۔

مشہور شخصیات

شہنشاہ غزل فخر چیچہ وطنی جناب مہدی حسن مرحوم کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔ اس کے علاوہ دلدار پرویز بھٹی مرحوم بھی اسی شہر کے فرزند تھے (استر جون)عیسائي نرس- مولانا اعظم طارق (شھید) - شازیہ ہدایت (اتھلیٹ ) راے علی نواز- راے احمد نواز- راے حسن نواز خان۔ رائے محمد مرتضی اقبال (MNA ) ملک اقبال احمد خان لنگڑیال۔ملک نعمان اقبال لنگڑیال (MPA )چوھدری زاہد اقبال -چوھدری ولی محمد جٹ - چوھدری صادق آرائيں۔ چوھدری طفیل۔ چوھدری حنیف - چوھدری ارشد۔ چوھدری سجاد احمد چیمہ۔ اور چوھدری جاوید ظفر شامل ہیں

چیچہ وطنی کا جنگل

چیچہ وطنی کا جنگل پاکستان کا دوسرا بڑا خود آباد کیا گیاجنگل ہے۔ جنگل کا کل رقبہ 9000 ایکڑ پر مشتمل ہے۔ 1857 کی جنگ آزادی میں مقامی لوگوں نے انگریز کے خلاف اسی جنگل میں محاذ کھولے رکھا۔ محکمہ جنگلات پاکستان کا ہیڈ آفس اسی جنگل میں ہے۔ اس جنگل کی بدولت چیچہ وطنی کی آب و ھوا بہت ہی شاندار ہے۔ یہاں چھوٹی جنگلی حیات کثیر تعداد میں پائی جاتی ہیں البتہ بڑے جانور شیر چیتے ہاتھی ہرن وغیرہ ناپید ہیں۔ اس جنگل کو جنگ عظیم کے قیدیوں سے لگوایا گیا۔ . [7]

  1.   ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"صفحہ چیچہ وطنی في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2020ء.